اضافیت اور روشنی کی رفتار

0 123

آئن سٹائن نے چھوٹی عمر سے ہی نیوٹن کو پڑھنا شروع کیا وہ نیوٹن کے نظریہ ثقل کا سے بہت متاثر تھا نیوٹن کا کہنا تھا کہ مادہ کشش ثقل کے اندر متحرک ہے یہی وجہ ہے کہ قوت ثقل کی وجہ سے زمین پر اشیاء حرکت میں ہیں اور سورج کے گرد بھی سارے سیارے اپنے مداروں میں حرکت کرتے ہیں اس کے علاوہ نیوٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ روشنی کی رفتار  کسی بھی سانچے میں FIX نہیں ہے بلکہ یہ رفتار تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ آئن سٹائن نے اس کے ساتھ ساتھ جیمز میکس ول James Clerk Maxwell کو بھی پڑھنا شروع کیا میکس ول کی  روشنی پر تحقیق قابل قدر تحقیق تھا ان کا تحقیقی میدان الیکٹرو میگناٹزم تھا اس کے بقول روشنی ایک برقی لہر ہے اور اس کی رفتار FIX ہے ۔

دونوں سائنستدانوں کے دو مختلف نظریات نے آئن سٹائن کو تشویش میں مبتلا کر دیا یعنی نیوٹن کے بقول روشنی کی رفتار متغیر ہے جبکہ جیمز میکس ول کی تحقیق کے مطابق روشنی کی رفتا مستقل ہے آئن سٹائن نے دونوں نظریات پر غور وفکر شروع کیا اور اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی ٹھان لی کہ درحقیقت روشنی کی رفتار ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے ایک تخیلاتی خاکہ مرتب کیا جس میں اس نے مختلف اشیاء کو سائنسی اصولوں پر پرکھا ۔ یہ تخیلاتی خاکہ کیا تھا ؟ اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتےہیں اس کے لئے ایک مثال سے بات کو بہتر طور سمجھا جا سکتا ہے

زین ہمارا ایک دوست ہے جو ایک ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑا ہے اس کے عقب میں دیوار پر ایک گھڑی نصب ہے اور فٹ پاتھ پر ایک لیمپ پوسٹ ہے اب جیسے ہی لیمپ کی روشنی جلتی ہے تو اس میں سے روشنی کی شعاع باہر نکلتی ہے جس کو ہم C کا نام دیتا ہے ۔

اب اسی مقام سے کچھ شہد کی مکھیاں بھی گزررہی ہوتی ہے جن کو زین دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ ہم یہاں تصور کرتےہیں کہ یہ مکھیاں روشنی کی رفتار سے حرکت کررہی ہیں یعنی دونوں اشیاء لیمپ کی روشنی اور مکھیوں کی حرکت ( ان دونوں کو C تصور کر لیتے ہیں)

مزید تفصیل کے لئے وڈیو دیکھیں

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی