صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی - ایک انٹرویو

انٹرویو: ڈاکٹر اختر شمار

0 528

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ایک محقق ہی نہیں ایک بہترین استاد بھی ہیں۔ آپ

ماہر اقبالیاتکے طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ ابتداء میں آپ نے صحافت کی لیکن آپ کی من پسند مصروفیت درس و تدریس ہی رہی ہے۔  بہت کم ایسے اساتدہ ہوتے ہیں جو اپنے تلامذہ کے لئے پیر و مرشد  کا درجہ رکھتے ہیں ۔ رفیع الدین ہاشمی اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹیکے قابل جید اساتدہ کی ایسی ہی آخری کھیپ میں سے ایک ہیں ۔ ہاشمی صاحب اگرچہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں مگر تاحال علمی ،ادبی اور تحقیقی کاموں میں منہمک ہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے ایک غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ ان سے باتوں باتوں میں ہم نے ان کی ذاتی علمی و ادبی زندگی کے حوالے سے کچھ سوالات کئے ۔ ذیل میں انہی ہی سوالات کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ 


سوال: ڈاکٹر صاحب آپ کا بنیادی تعلق کس خطہء زمین سے ہے، بچپن اور تعلیم کے حوالے سے کچھ ہمارے قارئین کے لئے فرمائیں ۔

جواب: جی ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ، آپ جیسے دوست کبھی آئیں تو دل بہت خوش ہوتا ہے۔اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے۔ میر تعلق مصریال (چکوال) سے ہے۔میرے آباؤ اجداد اسی علاقہ کے رہنے ولے تھے ۔ دادا عالم شاہ ایک دیندار مسلمان تھے، پیشے کے لحاظ سے کاشتکار تھے۔ میرے دادا کے دو بیٹے تھے (1) محبوب شاہ ہاشمی (2) فتح شاہ ہاشمی ۔ دونوں کو انہوں نے دینی تعلیم دلوائی ۔ میرے والد محبوب شاہ ہاشمی بھی ایک درویش صفت انسان تھے جبکہ چچا دیوبند کے فارغ التحصیل تھے ۔ بعد ازاں دونوں بھائی سرگودھا میں طب کے شعبہ سے منسلک رہے۔  میری ولادت مصریال ہی میں یکم اپریل 1934 میں ہوئی۔ بچپن میں گھر پر دینی تعلیم حاصل کی، حفظ قرآن کیا۔ پرائمری کا امتحان ماڈرن پبلک سکول سرگودھا سے پاس کیا جبکہ میٹرک امبالہ مسلم ہائی سکول سے 1954 میں فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ 1960 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا سے ایف اے کے امتحان میں وظیفہ حاصل کیا۔ البتہ بی اے کا امتحان میں نے پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ بی اے کے بعد گورنمنٹ کالج سرگودھا میں داخلہ لیا اور ایک برس بعد اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی مائیگریشن کرالی،یوں میں اپنے حقیقی مادرعلمی سے وابسطہ ہوگیا۔ الحمد للہ میں ایم اے اردو میں درجہ اول حاصل کرنے والا واحد طالب علم تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال ہمارے استاد محترم سجاد باقر رضوی نے بھی ایم اردو کا امتحان دیا تھا، وہ انگریزی میں ایم اے تھے اور اردو ادب شعبے میں آنے کے لئے انہوں نے ایم اے اردو کا امتحان دیا تھا۔ وہ دوسرے نمبر پر رہے۔اخبارات نے استاد شاگرد کے رزلٹ پر نمایاں خبریں شائع کی تھیں۔ 1966-1965 میں ملازمتوں پر پابندی تھی۔جس کے سبب میں نے کچھ عرصہ صحافت میں گزارا ۔ روزنامہ "وفاق"، ہفت روزہ "آئین"، ماہنامہ "سیارہ" اور "اردو ڈائجسٹ سے وابسطگی رہی۔ بعد میں امبالہ مسلم کالج جوائن کر لیا۔ ابھی ایم اے رزلٹ نہیں آیا تھا اور میں درس و تدریس سے منسلک ہوچکا تھا۔ میری پہلی باقاعدہ پوسٹنگ 1969 میں گورنمنٹ کالج مری ( جھینگاگلی)  میں ہوئی۔ 1971ء میں ، میں نے تبادلہ کرا لیا۔ بعد میں اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے وابسطہ ہوا۔


سوال: آپ کے زمانہ طالب علمی میں کون کون سے اساتدہ تھے۔ اور اس دور کا ماحول کیسا تھا؟

جواب:ماضی کا اورینٹل کالج آج کے دور سے بہت بہتر تھا۔ بڑے بڑے عالم فاضل حضرات اساتدہ کی صورت میں موجود تھے ۔ ہم سید وقار عظیم، ڈاکٹر وحید قریشی،غلام حسین ذوالفقار،ناظم حسین زیدی، سجاد باقر رضوی اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا جیسے اساتدہ سے مستفید ہوئے۔ان دونوں شعبہ اردو میں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ تو بہت بعد میں شروع ہوا۔ خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے۔


سوال: آپ کے لکھنے پڑھنے کا شوق کس طرح پروان چڑھا؟

جواب: ویسے تو انٹر میڈیٹ کے دوران ہی میرا رجحان لکھنے پڑھنے کی طرف ہوگیا تھا۔ ایم اے پاس کرنے سے قبل میرے افسانے ، انشائیے اور مضامین مختلف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے جن میں قندیل ، شہاب اور دیگر پرچے نمایاں تھے۔ قندیل کے مدیر شیر محمد اختر تھے لیکن جب میں ایم اے اردو میں داخل ہوا تو پھر افسانے لکھنے کی رفتار کسی حد تک کم ہو گئی۔ ادب کے مطالعہ سے ویسے ہی کتھارسس ہو جاتا ہے۔ سو تخلیقی ادب سے تعلق محض پڑھنے تک رہ گیا ، البتہ تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھنے کی طرف طبیعت زیادہ مائل رہی، میرا آخری افسانہ یونیورسٹی میگزین "محور" میں شائع ہوا تھا۔


سوال: آپ کا بڑا حوالہ اقبالیات ہے، اس طرف کیسے متوجہ ہوئے؟

جواب: یہ تو بچپن کا عشق ہے، ہمارے گھر میں بانگ درا کا نسخہ موجودتھا جو والد صاحب دلی (انڈیا) سے لائے تھے اسے پڑھتا رہتا تھا۔ خاص طور پر اس میں بچوں کی نظمیں مجھے زبانی ازبر تھیں۔ مجھے وہ نظمیں اچھی لگتی تھیں۔ ایف میں بالِ جبریل کا مطالعہ کیا۔ ان دنوں چھٹیوں میں کوئی اور تفریح تو ہوتی نہیں تھی، مطالعہ ہی مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں بال جبریل کی کئی غزلیں مجھے حفظ ہوگئی تھیں۔ پھر ایم اے اردو میں اقبالیات کا ایک مکمل پرچہ تھا۔ یہاں اقبال کی نثر و نظم دونوں سے واسطہ پڑا۔ میری پہلی کتاب بھی "اقبال کی طویل نظمیں" کے نام سے شائع ہوئی۔ پھر تو سلسلہ چل نکلا اور یوں اب تک علاقہ محمد اقبال کے حوالے سے کئی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔


سوال: آج معاشرہ کس طرف جارہا ہے، ہمارے زوال کے بنیادی اسباب کیا ہیں اور انکا حل کیسے ممکن ہے؟

جواب: ہمارا بنیادی مسئلہ تعلیم ہے ہمیں ایک پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دینا ہے لیکن بدقسمتی سے اب تک ہم کوئی مربوط نظام تشکیل نہیں دے سکے ۔قیام پاکستان کے فوراً بعد کلیموں کا سلسلہ شروع ہواتو وہیں سے خرابی کا شروع ہوئی۔ اس وقت بااثر افراد اور حکومت کے اہم عہدوں پر پراجماں لوگوں نے جائیدادیں نام کرالیں، یوں ایک "حرص" نے فروغ پایا اور سیاست میں بھی یہی چلن عام ہونے کے سبب ہم نظام پر زیادہ توجہ نہ دے سکے ۔ آج بھی اگر تعلیم کا نظام بہتر ہو جائے اور نصابِ تعلیم ایک کرکے بچوں کو اعلی اقدار و روایات سے روشناس کرایا جائے تو ہم مثالی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

علم و آگاہی سے انسان کو اپنی حقیقت کا شعور ملتا ہے وہ اس دنیا میں زیادہ دل نہیں لگاتا جس سے ہمیشہ دوسروں کی فلاح پر توجہ مرکوز رہتی ہے، مگرہمارے ہاں تو سیاست سے وابستہ افراد کو موت یاد نہیں، وہ سب کچھ اسی دنیا کو سمجھ بیٹھے ہیں جس سے حرص و لالچ کو فروغ ملا  اور یہی سے عام آدمی کی زندگی بہت نیچے چلی گئی

علامہ اقبال وکالت کرتے تھے اور جب انکوپانچ سو روپے کی آمدن ہو جاتی تو وہ مزید کوئی مقدمہ نہیں لیتے تھے لیکن سیاست میں آنے کے بعد ان کی آمدن کم ہوتی گئی۔ پھر بھی آپ نے قناعت کا دامن نہیں چھوڑا ۔ نواب بھوپال نے جب آپ کو سر آغا خان سے وظیفہ کی سفارش کرنے کی بابت بتایا تو آپ نے انہیں منع کر دیا اور کہا میری گزر بسر ہورہی ہے۔ گویا انہوں نے قناعت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آج تو پیسے کی بھوک اور حرص ختم ہی نہیں ہوتی۔


سوال: آج کے ادیب اور شاعروں کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: انسان میں کمزوریاں تو ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں بھی مناصب اور شہرت کے لئے بھاگ دوڑ زیادہ ہے اور دانشوروں کو تو دوسروں کا آئیڈیل بننا ہوتا ہے۔ وہ تو معاشرے کے نباض ہوتے ہیں، اصلاح کی ذمہ داری بھی انہی کی ہےاگر وہ خود دنیاداروں جیسی حرص میں مبتلا ہو جائیں تو پھر زوال سے ہمیں کون بچا سکتا ہے؟ہمارے سرکردہ اہلِ قلم اوردانشور بھی اسی حرص سے دامن نہیں بچا سکتے۔


سوال: آج کل آپ کے روز و شب کیسے گزرتے ہیں، تخلیقی حوالے سے کیا کیا کام جاری ہے؟

جواب: میں 2002ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوا۔دوسال تک کسی نہ کسی طرح وہیں تدریسی فرائض ادا کرتا رہا۔درمیان میں دو سال کے لئے HEC نے شعبہ اقبالیات میں پروفیسر لگا دیا، یوں اس کنٹریکٹ کے بعد بھی پنجاب یونیورسٹی ہی میں تدریسی فرائض کی ادائیگی جاری رہی۔ اپریل 2017 تک میں شعبہ اقبالیات ہی سے وابسطہ رہا۔ اب کہیں اور جاب کی تمنا نہیں ہے کہ مجھے اپنے ادھورے مسودات پر کام کرنا ہے، بہت سا کام شروع کیا ہوا ہے۔ وہیں مکمل ہوجائے تو غنیمت ہے۔ بس لکھنے پڑھنے کی مصروفیت میں اور کہیں آنا جانا بھی نہیں ہوتا۔ کئی اداروں کی طرف سے آفر موجود ہونے کے باوجود اب جی نہیں چاہتا نہ ہی زیادہ بھاگ دوڑ ہوسکتی ہے۔


سوال: کوئی ایوارڈ ملا؟

جواب: اندلس کے سفرنامے (پوشیدہ ترکِ خاک میں) پر مجھے نقوش ایوارڈ دیا گیا۔ اقبالیات کا صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔2014ء میں"تمغہء امتیاز" سے بھی نوازا گیا اور اہم بات یہ ہے میں نے ایوارڈ کے کبھی بھاگ دوڑ  نہیں کی، مزاج بھی کچھ ایسا ہے۔


سوال: آپ کی بہت سی کتابیں ہیں، رائلٹی تو بہت ملتی ہوگی؟

جواب : (مسکراتے ہوئے) کتابوں کی رائیلٹی سے گھر کا کچن نہیں چلتا، میں ان خوش نصیبوں میں نہیں جو "بیسٹ سیلرز" ہیں، پھر بھی رائلٹی ملتی ہے اور میں تو اس رقم کی کتب خرید کر احباب کو تحفے میں دیتا رہتا ہوں۔ اسے آپ میرا شوق بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کتاب پڑھی جانی چاہیئے ۔ میڈیا کی یلغار نے ہمارا تعلق کتاب سے ختم کر دیا ہے۔ باقی بعض پبلشر کتاب کی رائلٹی بھی نہیں دیتے۔ اب کسی سے شکایت تو نہیں کی سکتی۔ ختم شدہ

(  یہ انٹرویو 28 ستمبر 2017 کو روزنامہ نئی بات میں شائع ہوا)

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی