میں جانتا ہوں حقیقت شناوری کیا ہے

0 208
میں جانتا ہوں حقیقت شناوری کیا ہے
مگر بیاں کروں میری بساط ہی کیا ہے
مرے عمل کا بھی خالق ہے تُو مرے مولا!
یہ اختیار ہے میرا تو بے بسی کیا ہے
جیے تو پی کے جیے ورنہ پھر جیے نہ جیے
چلی ہے رسم تو یہ رسم پھر چلی کیا ہے
میں اشکبارتھاڈُوبا تو خوش ہوا دریا
وہ جانتا تھا سمندر کی تشنگی کیا ہے
میں شہرِ زہرِ تلذذ میں سانس لیتا ہوں
مجھے نہ کوئی بتائے کہ خودکشی کیا ہے
وہ جس خدا کو اکیلا سمجھ رہے ہو تم
وہی تو سب کو سکھاتا ہے دوستی کیا ہے
کہا جو میں نے الف کہہ ! تو ٹوک کر بولا
اگر یہ پہلا سبق ہے تو آخری کیا ہے؟
مرے دہن سے نکلتے ہی رقص کرتا ہے
دھوئیں کو میرے تنفس سے دل لگی کیا ہے
یہ کس طرح سے تعلق نبھا رہے ہو تم
ہمارے ساتھ تمہاری برادری کیا ہے

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی