احمد شکیب - تعارف و کلام

یہ مضمون محمد خواص خان (ہیڑاں ضلع و مانسہرہ ہزارہ) کی کتاب سبد گل سے لیا گیا ہے ۔

0 51

احمد شکیب کا اصل نام مختار احمد جبکہ قلمی نام احمد شکیب معروف ہے۔ آپ کی ولادت 13 اپریل 1954 کو ہوئی ۔ آپ بفہ (ضلع و تحصیل مانسہرہ ہزارہ) میں علم و ادب سے حوالہ سے ایک معروف شخصیت ہیں۔ اور شہر کے سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ شہر کا کوئی تعلیمی ادبی و سماجی پروگرام آپ کے بغیر نامکمل ہے۔ آپ کی میٹرک بفہ ہائی سکول سے ، گریجویشن پشاور یونیورسٹی سے 1976 میں کیا۔ 1980 میں کراچی سے ایل ایل بی کیا۔ محکمہ تعلیم سے پہلے یہ وابستہ تھے ۔

چونکہ شعر و ادب سے تعلق آپ کی گٹی میں پڑا تھا ۔ لہذا جلد ہی "علم و ادب" کے نام سے ایک تنظیم قائم کرکے تخلیقی ادب کی بنیاد ڈالی۔ آپ اس ادارہ کے صدر بھی ہیں اور مرکزی شخصیت بھی۔ اپنی ادارت میں "گلِ صحرا" کے نام سے ایک جریدہ بھی شائع کرتےہیں جو ادارہ کی ادبی سرگرمیوں کی آئینہ دار ہوتا ہے۔ ادارہ کی سات آٹھ سالہ زندگی میں درجنوں مشاعروں و ادبی محافل کا انعقاد کیا۔ قادر الکلالم شاعر، سلجھے ہوئے صحافی اور مجھے ہوئے ادیب ہیں:

نمونہ کلام

غزل-1

بت کدے بننے لگے ہیں اب حرم خانوں کے ساتھ
"مسجدیں ہونے لگیں تعمیر مَے خانوں کے ساتھ"
جی میں ہے کہ ڈھونڈ لوں اپنے لئے صحرا کوئی
ہو گیا مشکل بہت اب رہنا انسانوں کے ساتھ
آج ہی توڑیں گے ساغر، میناو جام و سبو
پیاس اب بجھتی نہیں فرسودہ پیمانوں کے ساتھ
میکشوں پہ کیوں کیا تُو نے درِ میخانہ بند
جگمگاہٹ ہوتی ہے شمع کی پروانوں کے ساتھ
بے وفا! جو ہو سکے دنیا سے اتنا پوچھ لے
نام کیوں لیتی ہے میرا تیرے افسانوں کے ساتھ
کس خطا کی یہ سزا دی تو نے اے قسمت مجھے
اپنے بیگانے رہے ہیں سارے بیگانوں کے ساتھ
ہو مبارک تم کو یہ آدم نماؤں کا جہاں
ہم چلے رہنے کا اب جنگل میں حیوانوں کے ساتھ

غزل-2

ترے بغیر بھی ہم جیسے ہوگا جی لیں گے
تری خوشی کےلئے زہر یہ بھی پی لیں گے
اُداس ہوں بھی تو چہرے پہ مسکراہٹ ہو
کہ تو نہ رسوا ہو ہم ہونٹ اپنے سی لیں گے
نہیں میرینگے کسی طور ہم خدا کی قسم
کہ دے کہ زندگی یہ اور زندگی لیں گے
ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں غموں کے سوا
ملیں گے اور اگر غم، خوشی خوشی لیں گے
بجھا نہ دینا کہیں میری حسرتوں کے چراغ
اندھیری راتوں میں ہم ان سے روشنی لیں گے

نظم

لبوں پہ ہیں ذکرِ خدا ان کے جاری

ہاتھوں میں جن کے ہیں تسبیح کی لڑیاں

یہ معصوم چہرے

خدا سے بھی دیکھوں

تو

ڈرتے نہیں ہیں

تن کے یہ اجلے اور من کے کالے

ہے آباد ان میں

اندھیروں کی دنیا

ہے ان کو محبت بھی تاریکیوں سے

ہے ان کو عقیدت فقط ظلمتوں سے

اور یہ ان کے بس میں نہیں ہے

وگر نہ !

یہ دن کو بھی تاریکیوں میں بدلتے

کہ اپنے بھرم کے لئے روشنی میں

لبادرے بدل کر

بڑے عجز سے

انگلیاں ان کی تسبیح کے دانوں کو بدلیں

کھٹا کھٹ ، کھٹا کھٹ کی آواز

دیکھو

کہ جیسے ہوں "فِٹ" ان کے ہاتھوں میں

برقی مشینیں

اور چہروں پہ دیکھو

کہ یہ معصومیت

کہیں نہ ملے گی

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی