سنو جنت بنا دو پھر زمیں کو

0 84
''سنو جنت بنا دو پھر زمیں کو ''
آسماں پھٹتا نہیں ہے کیوں زمیں کی گردشوں میں
ہے توازن کس لیے کیا
رہ گیا ہے
دیکھنے کو
بولنے کو
سوچنے کو کس سے پوچھوں ؟؟؟
کیا کوئی ہے جو بتائے گا مجھے چاروں طرف میرے لہو ہے جو لہو بس
مقتلوں کی رونقیں ہیں
موت ہے ڈر ہے خرابے ہیں خوف ہے تو کس لیے ہے
وہ کتابیں وہ مقالے ، جو بزرگوں نے لکھے تھے امن کے اشلوک پڑھ کر
ان کو دیمک لگ رہی ہے
جل گیا سب
مٹ گیا سب
اب کہوں نا
یہ زمیں جنت رہی ہے ؟؟؟
واقعی تو اب جہنم کیوں بنی ہے ؟؟
آگ کی چادر لپیٹے خاک چپ ہے تو سبب کیا ہے خدارا
ہے کوئی مجھ کو بتائے جو کہاں ہوں میں کہاں ہوں
وہ شجر جن پر پرندوں کے گھونسلے نغمات
ملتے تھے کہاں ہیں؟
عارضی تصویرتھی بس سامنے کیا
رنگ سارے خواب تھے کیا
وہ گلابوں سے اٹے رستے
چناروں میں بسے آنگن
وہ جھرنے وہ دھنک وہ آبشاریں
سب کہاں ہیں __؟؟؟
میرے دریا کیا ہوئے میرے سمندربن گئے ہیں دشت کیسے ؟؟
وہ دریچے ، وہ مکاں، گلیاں ،محلے، بستیاں، گاوں،کہاں آباد ہیں اب ؟؟
جن میں رواں تھی زندگی جن میں چراغاں تھا دھواں تھا چاہتوں کا
رقص کرتی تھی ہوا جن میں محبت کی ہمہ تن
پھول تھے خوشبو بسی تھی سب کہاں ہے
یہ زمیں جنت رہی ہے
ہاں رہی ہے
تب تلک انسان کا مذہب
رہا انسانیت بس جب تلک
سوچتی ہوں کیا ملا انسان کو تقسیم کر کے اس زمیں کو
کیا ملا ہے ماسوائے قتل وغارت ظلم کے
فصلیں تعصب کی اگی ہیں نفرتوں کے رزق نے تاثیر خوں کی یوں بدل دی ہے
کہ جیسے اب زمیں پر کوئی بھی انساں نہیں سب جانور ہیں
کیا ضروری تھی زمیں تقسیم کرنی
ہنس رہے ہیں اب فرشتے عظمت انسان پر
ہم نے لکیریں کھینچ کر سینہ زمیں کا کر دیا چھلنی
ہمارے دل بر _ اعظم بنے آنکھیں ممالک
سرحدیں پیروں کی زنجیریں ------
ہمیں نمرودیت ،شدادیت ، فرعونیت ، چنگیزیت ، قارونیت ، ابلیسیت نے کیا دیا------ؔ
 دیوار برلن بوسنیا ، بیروت برما، کربلا ،بغداد ، دلی ، آگرہ
کابل ، کراچی ، کوئٹہ ، ویتنامی اور فلسطینی زمیں
ہم نے کمائی کی ہے __'' نا گا ساقی ہیرو اور شیما ''
ہم سوائے ظلم کے کیا کر سکے ہیں
ہم مکر سکتے نہیں جو بھی کیا ہم نے
گواہی میں فرات و دجلہ گنگا نیل کے دریا پڑے ہیں
سرخ جو ہوتے رہے اس خون سے
اس ظلم سے ہم نے کیا اک دوسرے پر جو
ہمارا کام کیا ہے
نام کیا ہے ؟؟؟
وقت ہے اب بھی نکل آو فسادوں سے
زمیں جنت بناّ دو یہ دوبارا سرحدیں باڑیں ، ہٹادو
اور مٹا دو سب لکیریں سانس لو آذاد ہو کر
یہ زمیں سب کی زمیں ہے
یہ فلک سب کا فلک ہے
تم کوئی عیسائی ہو سکھ ہو مسلماں ہو کہ ہندو سوچنا
انسان ہو پہلے __
پڑھو اپنے خدا کی وہ کتابیں کہہ رہی ہیں
جو بنو انسان پہلے __
وقت نوحہ، زن ہے نوحہ، زن
سنو جنت بنا دو پھر زمیں کو____

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی