صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

"تھک چکی ہوں"

0 167
"تھک چکی ہوں"
زندگی میری جبیں پر ہاتھ رکھ کر دیکھ تجھکو 
غم کدوں کی آگ میں جلنا پڑے کچھ تیرے ماتھے پر تپش سے داغ ابھریں 
حسن تیرا بھی مرے کندن سراپے 
کی طرح مٹی بنے یا خاک چاٹے 
زندگی تجھ کو قسم ہے
میری دکھتی زرد آنکھوں کی بکھرتے بے سنورتے گیسووں کی
اڑ رہے ہیں ہر بیاباں میں بجھے دل کا لہو لیکر
ہواوں کے شکم میرے سخن سے بھر رہے ہیں
زندگی سن !
میرے ہاتھوں کھردرے ہاتھوں کی ساری
گھپ لیکروں میں دھنک کے رنگ بھر دے
سبز کر دے
چاہتوں سے
میرا باطن
زندگی میری دہکتی اور ہمہ تن اپنے رب سے
اپنے حصے کی بہاریں مانگتی آنکھوں کو ابر موسم سکھ کا ثمر دے
زندگی میرے لبوں پرخامشی کے قفل ہیں جو توڑ دے سب
میری ہر اک نظم میری ہر غزل کو مست لہجے سے سروں کی اوٹ میں یوں گنگنایا کر کہ میرے لفظ تیرے کاغذوں پر حشر کے دن تک مرے جزبوں کی تابانی
لیئے نغمہ کناں ہوں
زندگی تجھ کو قسم ہے
میرے پیروں میں آگے ہر آبلے کی
بے سفر ہوں میں اگرچہ رہزنوں سے دور رکھنا
جو مری بجھتی ہوئی آنکھیں جبین _غم زدہ کو دیکھ کر قہقہوں سے سنگ برسا گئے ہیں
زندگی تجھ کو قسم ہے
سانس بوجھل ہے مری میں تھک چکی ہوں
اب ہواوں کی بجائے بس چراغوں سے مکاں کر میرا روشن
زندگی تجھ کو قسم ہے __
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی