صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

باطنی تفسیر اور اشاراتی تفسیر کا فرق

عربی تحریر: عبدالحکیم بن عبداللہ القاسم

0 221

نصوص سے ظاہر ہونے والے معانی کو ہی تفسیر کی بنیاد بنانا ہر زبان کے اندر معتبر ہے۔ ہر کلام کی وہی تفسیر درست ہوسکتی ہے جو اس کے الفاظ کو پڑھنے یا سننے والے کے ذہن میں اس کے ایک طبعی اور بے ساختہ مفہوم کی صورت میں واضح ہو پاتی ہو۔قرآن بھی عربی زبان میں ہی نازل ہوا ہے :

”ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ لو“ (یوسف: 2)

اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو ’بیان‘ بھی کہا ہے، ’ھُدیٰ‘ بھی کہا ہے، رحمت بھی اور ’فرقان‘ بھی۔ یہ صفات تقاضا کرتی ہیں کہ قرآن اپنے ظاہرِ لفظ پر ہی محمول ہو۔ ایک ایسا کلام جو اپنے آپ سے ظاہر ہونے والے معانی پر محمول ہی نہ ہو سکتا ہو ’بیان‘ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ’ھادی‘۔ اگر ایسا ہونے لگ جائے کہ ہر انسان قرآن کو اس کے ظاہر ِلفظ کی بجائے کسی او چیز پر محمول کرلیا کرے تو ’ہدایت‘ اور ’بیان‘ اور ’رحمت‘ اور ’فرقان‘ ہونے کی صفت قرآن سے جاتی رہے گی۔ پھر جب یہ صفاف قرآن سے جاتی رہے تو اس بات کا کیا امکان رہ جاتا ہے کہ قرآن کے معانی عقول میں جاگزیں ہوں یا قرآن کے مضامین لوگوں کے فہم میں آئیں؟ قرآن کو ”عربی“ کہنے کے فوراً بعد ”لعلکم تعقلون“ کے الفاظ لا کر دراصل یہی بات واضح کی گئی ہے۔

سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الاتقان فی علوم القرآن (ص 2 ج 685) میں نسفی کا بھی یہ قول نقل کیا ہے کہ:

”نصوص اپنے ظاہر پر ہی محول ہوں گی۔ اس سے کچھ ’اور‘ معانی کی جانب عدول کرنا اہل باطل اور اہل الحاد کا طریقہ ہے“۔

سیوطی نے تفتازانی کا بھی یہ قول نقل کیا ہے:

”ملاحدہ کو باطنیہ کہا گیا ہے کیونکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نصوص شریعت اپنے ظاہر پر محمول نہ ہوں گی بلکہ ان نصوص کے کچھ باطنی معانی ہیں جن کو ’مرشد‘ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مقصود ان کا یہ ہے کہ شریعت کو بالکلیہ معطل کردیا جائے“۔

تفسیر باطنی دراصل ”تحریف الکلم عن مواضعہ“ کی بھی ایک صورت ہے یعنی کلمات کو ان کے اصل مواضع سے ہٹا دینا اور یوں شرعی دلائل کو اپنی اصل حیثیت اور دلالت سے محروم کر دینا۔ یہ دراصل خدا پر اپنی طرف سے ایک ایسی بات کہہ دینا ہے جو خدا نے نہیں کہی اور جو کہ جادہء حق سے واضح انحراف ہے۔
اس کی ایک مثال ”کلّم اﷲ موسیٰ تکلمیاً (النساء: 164) کی وہ تفسیر ہے جو بعض معتزلہ نے خدا کی صفت کلام کے انکار کے لئے اختیار کی ہے۔ وہ ”کلمہ“ کا مطلب ’لہولہان کردینا‘ لیتے ہیں۔ یعنی خدا نے موسی کا دل معرفت اور حکمت کے اوزاروں سے چاک کیا!
ان میں سے کچھ نے لفظ الجلالہ (اللہ) کو آیت میں فاعل مرفوع کی بجائے مفعول بہ منصوب قرار دیا۔ یعنی موسی علیہ السلام نے خدا سے کلام کیا (نہ کہ خدا نے موسیٰ سے کلام کیا)
چنانچہ اول الذکر تحریف معنوی ہے تو ثانی الذکر تحریف لفظی۔
نحاس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

"نحویوں کا اجماع ہے کہ فعل کی تاکید کیلئے جب مصدر آجائے (جیسا کہ کلمہ کے بعد تکلیماً مفعول مطلق آیا ہے) تو وہ کسی صورت مجاز نہیں رہتا۔ چنانچہ تکلیما کی تاکید کے بعد ’کلام‘ ایک حقیقی کلام ہی رہ جاتا ہے اس کی یہی صورت ہی عقول میں اس لفظ کے استعمال سے واضح ہو سکتی ہے".

ثانی الذکر تحریف کا رد ایک دوسری آیت سے بھی ہو جاتا ہے ”ولما جاءموسیٰ لمیقاتنا و کلمہ ربہ“ (الاعراف: 143) ”جب موسیٰ ہماری طے شدہ ملاقات کو پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا“ اب یہاں یہ ابہام باقی ہی نہیں رہتا جس کی مدد سے ”اللہ“ کو فاعل کی بجائے کلام کا مفعول بہ بنا دیا جائے۔ یہاں ”اللہ“ کو کلام کا فاعل بنانے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔
زرقانی رحمۃ اللہ علیہ مناھل العرفان فی علوم القرآن (ج 2 ص 55) میں کہتے ہیں:

”باطنی مذہب اپنے عموم میں ایک وبا ہے جو ان کو چھوت کی صورت میں مجوس سے منتقل ہوئی ہے“۔

اب ہم یہاں باطنیوں کی کچھ فاسد تاویلات بطور مثال ذکر کرتے ہیں جو یہ قرآن کو اپنے پاس سے پہناتے ہیں:
وورث سلیمان داؤد (النحل: 16) ”سلیمان علیہ السلام نے داؤد علیہ السلام کی وراثت پائی“ کہتے ہیں (سلیمان اور داؤد رمزیہ بیان ہوئے) مراد ہے امام علی رضی اللہ تعالی عنہ کا نبی کا وارث بننا۔

  • ”جنابت“ سے مراد لیتے ہیں ایک نووارد مذہب کا رتبہء استحقاق کو ’پہنچے‘ ہونے سے پہلے ہی ’راز‘ خارج کر بیٹھنا اور اسے اپنے اندر نہ رکھ سکنا!اور ’جنابت سے غسل‘ یہ ہے کہ اب وہ اپنے عہد کی تجدید نو کرے!
  • ’طہارت حاصل کرنے‘ سے مراد ہے ’امام معصوم‘ کی پیروی کے ماسوا ہر مذہب سے براءت کرلینا!
  • ’تیمم‘ سے مراد ہے امام کے شہود تک رخصتیں اختیار کئے رکھنا!
  • ’روزہ‘ یہ ہے کہ آدمی راز کو قابو کئے رہے!
  • ’کعبہ‘ سے مراد ہیں: نبی r اور بابِ کعبہ: علی رضی اللہ تعالی عنہ! اسی طرح قرآن میں ’صفا‘ سے مراد ہیں: نبیr اور مروہ سے: علی رضی اللہ تعالی عنہ۔ یوں آدمی کو نبی اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مابین سعی کرتے رہنا ہے!
  • ’آتش نمرود‘ سے مراد ہے نمرود کا قہر وغضب، جس کی ابراہیم علیہ السلام نے پرواہ نہ کی!
  • عصائے موسی علیہ السلام سے مراد ہے موسی علیہ السلام کی قوتِ دلیل وحجت!

یہ ہیں چند مثالیں ان خرافات کی جو باطنی تفسیر کے تحت کی جاتی ہیں اور جو نہ عقل کی رو سے قابل قبول ہیں اور نہ نقل کی رو سے۔

یہ دراصل شریعت کی عمارت کو ایک ایک اینٹ کرکے منہدم کر دینا ہے او اسلام کے قلادہ کو گردن سے اتار پھینکنے کی جانب واضح ترین راستہ۔ یہ قرآن اور سنت کو ایک شدید انارکی سے دوچار کردینے کی ایک کوشش ہے کہ شریعت کے الفاظ کو کوئی جو معنی چاہے پہنا لے اور یہ کہ شریعت کے کسی لفظ کا کسی دن کچھ بھی

تفسیر القرآن:

مطلب نکل آئے! شریعت گویا معاذ اللہ ایک مہمل کلام ہے۔ کچھ بھی بول کر کچھ بھی مراد لی جا سکتی ہے اس کے لئے کوئی بھی قاعدہ ضابطہ نہیں! مزید یہ کہ لوگ ایک دوسرے کا سر پھوڑتے پھریں اور ہر آدمی یہ دعویٰ کرے کہ ’دوسرے‘ قرآن کامطلب ہی نہیں سمجھ پائے!

یہ تو رہا باطنی تفسیر کا معاملہ۔ اب آتے ہیں اشاراتی تفسیر کی جانب۔ یہ بھی قرآن کو ظاہر لفظ کے ماسوا پر محمول کرتی ہے جس کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ارباب سلوک وتصوف کسی غیر ظاہری معنی کی بابت کوئی ان دیکھا اشارہ پاتے ہیں البتہ ان کے اس اختیار کردہ معنی میں اور لفظ کے ظاہر ومراد معنی میں کسی وقت جمع بھی ممکن ہوتی ہے۔ مثلاً بعض صوفیہ کا یاایہا الذین آمنوا قاتلوا الذین یلونکم مِن الکفار (التوبۃ: 123) ”اے ایمان والو! اپنے قریب کے کافروں سے قتال کرو“ سے مراد نفس کے خلاف جنگ لینا۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے ’قریب‘ ہمارا اپنا ہی نفس ہے پس وہ بھی اس آیت کا مصداق ہو سکتا ہے۔

زرقانی مناھل العرفان فی العلوم القرآن (ج 2 ص 57) میں لکھتے ہیں:

”یہاں سے وہ فرق معلوم ہو جاتا ہے جو صوفیہ کی تفسیر جسے کہ اشاراتی (اشاری) تفسیر کہا جاتا ہے کے مابین اور ملاحدہ باطنیہ کی تفسیر کے مابین ہے۔ چنانچہ صوفیہ ظاہر لفظ کے مراد ہونے کو رد نہیں کرتے بلکہ اس پر بھی زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ظاہر لفظ مراد لیا جانا پہلے ضروری ہے اور یہ کہ جو شخص اسرار قرآن جاننے کا دعویٰ کرے اور ظاہر لفظ کو حکم نہ ٹھہرائے وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص گھر کی چھت پر چڑھ جانے کا دعویٰ کرے مگر دروازہ سے گزرا تک نہ ہو۔ جبکہ باطنیہ کا کہنا ہے کہ ظاہر لفظ سرے سے مراد ہی نہیں ہوتا بلکہ مراد ہی صرف اور صرف باطن ہوتا ہے، جس سے ان کی مراد شریعت کو معطل کر دینا ہے“۔

اس اشاراتی تفسیر کے معاملہ میں علماءکے مابین اختلاف ہوا ہے۔ اہل علم کا وہ فریق جو اسے جائز قرار نہیں دیتا تو وہ اس خدشے کے پیش نظر کہ خدا پر آدمی اپنے پاس سے بغیر علم اور ھدیٰ کے کوئی بات نہ کر بیٹھے۔

علماءکا وہ فریق جو اس کے جواز کا قائل ہے وہ البتہ اس کیلئے سات شرطیں عائد کرتا ہے:
اول: اس اشاراتی تفسیر میں جو کہ کوئی شخص اختیار کرتا ہے اور قرآنی عبارت کے ظاہر میں کوئی تعارض نہ ہو۔
دوئم: وہ یہ دعویٰ نہ کرے کہ ظاہر لفظ مراد ہی نہیں بلکہ مراد صرف وہ ہے جو ایک اشارے کی صورت میں خود اس نے اخذ کیا ہے (اگر وہ یہ دعویٰ کرے تو اس کی تفسیر باطل ہے) تفسیر کے جو جو (روایتی) پہلو ہو سکتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی رد نہ کیا گیا ہو۔
سوئم: اس کے اخذ کردہ مفہوم یا اشارے کا کسی اور شرعی یا عقلی دلیل کے ساتھ بھی تعارض نہ ہوتا ہو۔
چہارم: اس کا وہ اخذ کردہ مفہوم کسی متعین بدعت یا ہوا پرستی کی تائید کیلئے نہ ہو۔
پنجم: اس کے الگ سے کوئی شرعی شواہد نہ ہوں، کیونکہ اس صورت میں وہ ’اشارہ‘ نہ کہلائے گا بلکہ شرعی دلیل سے ’ثابت شدہ امر‘ ہوگا‘۔
ششم: اس ’اشاراتی تفسیر‘ کا استعمال احکام شریعت اخذ کرنے کے معاملے میں نہ ہو .... بلکہ اس طریقے سے کیا گیا استفادہ اخلاق، تہذیب نفس، تقویت ایمان اور اضافہء یقین ایسے ابواب کے اندر ہی کیا جائے۔
ہفتم: اس اشاراتی تفسیر کو کسی دوسرے پر ٹھونسا نہ جائے.... یہ دراصل اسرارِ معانی کے باب سے ہے جو ایک مومن تقی صالح عالم آدمی کے قلب میں کسی وقت جلوہ گر ہو جاتا ہے جسے یا تو وہ اپنے اور خدا کے مابین رکھتا ہے یا پھر اپنے اس فہم میں وہ کسی دوسرے کو بھی شریک کر لیتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ کسی کو اسے قبول کرنے کا پابند کرے یا اس کی دعوتِ عام دینے اٹھ کھڑا ہو۔
یہ سات شروط ایسی ہیں کہ اگر سب کی سب پائی جائیں تو صوفی تفاسیر کا جو عمومی معاملہ دیکھنے میں آیا وہ ان کی رو سے درست قرار نہیں پاتا (دیکھئے پی ایچ ڈی مقالہ ’اسباب الحطاءفی التفسیر‘ مولفہ طاہر محمود محمد یعقوب ج 2 ص 742۔ 743)
امام ابن تیمہ کہتے ہیں,خلاصہء کلام یہ کہ اس معاملہ کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

ایک یہ کہ جو معنی یا مفہوم ایک شخص ذکر کرے وہ باطل ہو، اس طرح کہ دین سے جو چیز معلوم اور واضح ہے اس کا بتایا ہوا وہ مفہوم اس سے متعارض ہو۔ پس ایسا قول فی نفسہ باطل ہے۔ اس کے گرد اگر کوئی دلیل ذکر کی جاتی ہے تو وہ بھی باطل ہی ہوگی۔ کیونکہ ایک باطل امر کی کوئی دلیل ایسی نہیں ہو سکتی جو اس کو باطل کی بجائے حق کردے۔

دوسری صورت یہ کہ: وہ چیز فی نفسہ حق ہو البتہ اس پر وہ قرآن اور حدیث کے ایسے الفاظ سے استدلال کرے جن سے وہ مراد مقصود نہ ہو۔ یہ ہے وہ چیز جسے یہ ’اشارات‘ کا نام دیتے ہیں.... (پھر آگے چل کر کہتے ہیں): یہ جو دوسری صورت ہے تو وہ عمومی معنی کے لحاظ سے تو حق ہی ہوتا ہے کیونکہ کتاب وسنت سے اس کی صحت پر (عمومی) دلالت ملتی ہے بحث البتہ خاص اس لفظ کی بابت ہوتی ہے جس سے وہ اپنے اس (اخذ کردہ) معنی پر استدلال کرتے ہیں۔ اب اس کی دو صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ یہ کہا جائے کہ یہ معنی اس لفظ سے مراد ہے جو کہ خدا پر جھوٹ ہے۔ چنانچہ جو کہے کہ اذبحوا بقرۃ (1)سے مراد ’نفس‘ ہے اور اذھب الی فرعون (2)سے مراد ’دل‘ ہے
(1 البقرہ: 67: ”گائے ذبح کرو“۔ (2 النازعات: 17: ”جاؤ فرعون کی طرف“
اور یہ کہ ”والذین معہ (1)“ سے مراد ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، اَشِّدآءُ علی الکفار (2) سے مراد ’عمر رضی اللہ تعالی عنہ ‘، رَحمآءُ بینھم (3)سے ’عثمان رضی اللہ تعالی عنہ‘، تراھم رکعاً سجداً (4)سے ’علی رضی اللہ تعالی عنہ‘ تو ایسا شخص خدا پر جھوٹ باندھتا ہے چاہے دانستہ باندھتا ہے اور چاہے نادانستہ۔

1، 2، 3، 4) یہ ایک ہی آیت کا ایک تسلسل ہے (الفتح: 29) والذین معہ ”وہ جو آپ کے ساتھ ہیں“ اشداءعلی الکفار ”کافروں پر سخت ہیں“ رحماءبینھم ”آپس میں رحمدل ہیں“ تراھم رکعا سجداً ”تم دیکھتے ہو ان کو رکوع اور سجدوں میں پڑے ہوئے“۔

دوسری یہ کہ یہ کہا جائے کہ یہ بات اس کے معنی کے ’اعتبار‘ میں آتی ہے اور ‘قیاس‘ کے باب سے ہے نہ کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ یہ لفظ کی اپنی ہی دلالت ہے۔ چنانچہ یہ قیاس کی نوع سے ہوگی۔ چنانچہ فقہاءجس چیز کو ’قیاس‘ کا نام دیتے ہیں صوفیہ اسے ’اشارہ‘ کے نام سے ذکر کرتے ہیں۔ بنا بریں جس طرح قیاس کی دو قسمیں ہیں ایک صحیح اور ایک باطل اسی طرح اس کی بھی دو قسمیں ہو سکتی ہیں ایک صحیح اور ایک باطل۔

مثال کے طور پر آیت ”لا یمسّہ الا المطّھرون (5)“ کی بابت ایک آدمی کہتا ہے: مراد ہے لوح محفوظ یا مصحف قرآنی کو مس کرنا۔ البتہ پھر اس کے بعد کہتا ہے: جس طرح لوح محفوظ جس میں قرآنی حروف لکھے گئے صرف اور صرف ایک پاک طاہر بدن کے ہی چھونے کا ہے، ایسے ہی قرآن کے معانی بھی کچھ ایسی چیز ہیں جن کا ذوق پانا سوائے کچھ پاکیزہ قلوب کے کسی اور کا حظ نہیں، جو کہ مُتَّقِین کے قلوب ہیں تو یہ معنی اور یہ اعتبار بالکل صحیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ چیز سلف میں سے کئی ایک سے مروی ہوئی ہے۔ (خصوصاً) جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: آلم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین (البقرہ: 1) پھر دوسری جگہ فرمان ہے: ھذا بیان للناس وھدی وموعظۃ للمتقین (آل عمران: 138) ”یہ لوگوں کیلئے بیان ہے اور متقین کیلئے ہدایت اور موعظہ“ پھر فرماتا ہے: یہدی بہ اﷲ من اتبع رضوانہ سبل السلام (المائدہ: خدا اس کو ذریعہ ہدایت بناتا ہے سلامتی کے مسالک کی جانب ایسے شخص کیلئے جو اس کی خوشنودی کے پیچھے چلتا ہو“ علی ھذا القیاس(5 الواقعہ: 79 ”نہیں چھوتے اس کو مگر پاک (نفوس)“۔

اسی طرح مثلاً حدیث: لاتدخل الملائکۃ بیتاً فیہ کلب ولا جنب ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا جنبی ہو“۔ اس کے استدلال کرتے ہوئے ایک شخص کہتا ہے: ”ایک ایسے دل میں ایمان کے حقائق داخل ہو کر دینے والے نہیں جس کو گھمنڈ یا حسد نے پلید کر رکھا ہو“ تو یقینا اس کا یوں بات اخذ کرنا صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: اولئک الذین لم یرد اﷲ ان یطہر قلوبہم (المائدہ: 41) ”یہ وہ لوگ ہیں کہ خداکا ارادہ نہ ہوا کہ ان کے دلوں کو پاک کردے“ اسی طرح فرمایا: ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی اَلارض بغیر الحق وان یروا کل آیہ لا یؤمنوا بہا وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا۔ وان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلاً (الاعراف: 146) ”میں ایسے لوگوں کو اپنی نشانیوں سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دُنیا میں گھمنڈ کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ سب نشانیاں یہاں دیکھ کر بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ سیدھی راہ دیکھ لیں گے تو بھی اس کو اختیار نہ کریں گے۔ مگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں گے تو اس کو اختیار کر لیں گے“ علی ھذا القیاس، واﷲ اعلم“
فتاوی ابن تیمیہ (ج 13 ص 241)

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی