صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

شاہ دل شمس کا مجموعہ کلام "جو آنسو بہہ نہیں پاتے" کا جائزہ

تحریر: حنا علی احمد

0 326

قدیم مغربی نقاد لونجانس کے مطابق ادب کا مقصد مسرت بہم پہنچانا ہے یعنی ادب کا مقصد لطف ہے۔ ادب نثر بھی ہے اور شاعری بھی ۔ افلاطون نے شاعروں کو اپنی مثالی ریاست سے نکال دیا تھا لیکن ارسطو سے لے کر اب تک جتنے بھی مغربی نقاد گزرے ہیں ان کے نزدیک شاعری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ۔

ٹیسورن Tessorin نے فنون کو مملکت کے لئے ضروری قرار دیتا ہے ان میں تاریخ حاکموں کو سبق دیتی ہے اور شاعری عام لوگوں کی اصلاح کرتی ہے ۔ ڈینوریس کی رائے میں شاعری خطرناک کھیل جذبات کی اصلاح کرتی ہے۔ شاعری کھتارس کا ہم ذریعہ ہے انسانی ذہن جو سوچتا ہے اور جو دل محسوس کرتا ہے۔ ان جذبات اور محسوسات کو شاعر شاعری کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔ برصغیر میں شاعری کی صنف غزل کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

شاہ دل شمس کا پہلا مجموعہ جس کا نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ "جو آنسو بہہ نہیں پاتے" وہ شعروں میں ڈھل کر اپنی چمک بڑھاتے ہیں۔اس مجموعے میں سماجی حقیقت اور تخیل کے رومان کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے اس مجموعہ کا آغاز تو حمد، نعت اور منقبت سے ہوتا ہے جس سے حبیب خدا (ﷺ) کی محبت اور خدا کی وحدانیت کی جودت دل میں جاگ اٹھتی ہے ۔

پلتے ہیں تیرے در کی گدائی سے زمانے
کیا شاہ و غنی اور یہ نادر بیک وقت

جیسے جیسے ہم ان مجموعہ کو پڑھتے ہیں آگے بڑھتے ہیں گویا ہم ایک ایسی دنیا میں قدم جمالیتے ہیں جہاں شاہ دل شمس کے تخیل کی زرخیزی و شادابی ہمارا استقبال کرنے کو تیار ہے۔

سرمئی رات کا جادو اور میں
وہ تری یاد کی خوشبو اور میں

اسی طرح

خیالِ یار کے قدموں میں ڈال دیتا ہے
دیارِ دل میں کوئی جب بھی پھول کھلتا ہے

شاہ دل شمس نے چھوٹی بحر کا استعمال انتہائی خوبی سے کیا ہے، اختصار سے بات کرتےہیں۔لیکن ان میں گہرے خیالات پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ اسلوبِ بیاں سادہ، دلکش اور آسان ہے اس میں ساتھ ساتھ تشبہات و استعارات کا استعمال بھی لاجواب کیا ہے۔

لوگ جھلسے ہوئے جسموں کو لئے آتے ہیں
کیا سمندر کے کنارے ہیں میری آنکھوں میں

سماجی و معاشرتی شعور بھی اس مجموعہ میں اپنی بھرپور حدت کے ساتھ جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے انہوں نے معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور پھر معاشرتی شعور کو اپنے جذبے کی بھٹی میں جلا کر شعر کی صورت دی ہے۔

شہرِ خستہ یہ کیا ہوا تجھ کو
تیرے معمار مرگئے ہیں کیا؟

حقیقت نگاری اور سیاسی شعور کا وصف بھی انکے کلام میں پوشید ہے۔ طنز کی کاٹ بھی بھی نظر آتی ہے ۔

پیٹ کاٹوں تجھے کروں راضی
تیرے ملا ثواب ڈستے ہیں
جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہوں میں
میرا چہرہ کہیں سے کالا نہیں ہوتا

شاہ دل شمس کے ہاں غم اور اداسی کی دبیز تہہ بھی چھائی ہوئی ملتی ہے ، محبوب سے بچھڑنے کا احساس اور ہجر کے لمحات زیادہ ملتے ہیں ان کی اداسی دل پر اثر تو کرتی ہے لیکن اس اداسی کا سفر مایوسیت کی طرف لے جاتا ہے ۔

ہوا کا رخ بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کہ خوابوں کے بکھرنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
میں اُجڑی آنکھ اور ویران دل کا سوچتا ہوں
کہ شاید حسرتوں کو یہ ٹھکانہ چاہیئے تھا

ویرانی تنہائی اور اداسی کے ساتھ ساتھ زمانے کی تلخی کی تلخی کو جینا اہم امر ہے اور شاہ دل شمس اس کو بخوبی جانتے ہیں ۔

تلخ لمحات میں جئیے ہم نے
زہر کی گھونٹ بھی پیئے ہم نے

وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور شہیدوں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کرتے ہیں۔

جان واروں گا تجھ پہ میں لیکن پہلے
میری معصوم وفاؤں کا نکھارا جائے

اس مجموعے میں نظم کا احساس بھی موجود ہے  اور نظم میں بھی  اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے جب ہم اس مجموعہ کے اختتام تک پہنچتے ہیں تو اس شاداب دنیا کی وسعتوں میں اپنے دامن میں وسیع تجربات اور مسرت بھر لیتے ہیں۔ شاہ دل شمس کے آنسو جو بہہ نہیں پاتے ہمارے دل کی دنیا کو بھگو دیتے ہیں اور ان کی شاعری لانجاٹس کے قول پر پورا اترتی ہے "شاعری کا کام مسرت بہم پہنچانا ہے"۔ شاہ دل شمس کے اس مجموعے سے نہ صرف ہم لطف اٹھاتے ہیں بلکہ انکے غم اور خوشیوں کو اپنے تجربے کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور لفظوں میں پوشیدہ ان کے خیالات ہمارے خیالات کو جھکڑ لیتے ہیں۔ شاعری کے لئے سازگار فضا ضروری ہے تاکہ شاعری کے پودے کو مزید ابھارنے کے لئے مزید مجموعے ہمیں لطف سے دو چار کر سکیں اور شاعری کا دامن وسیع ہوں


شاعرانہ مزاج ہے اپنا
شاعرانہ فضا ضروری ہے

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی