صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

یعقوب ابن اسحاق الکندی - ایک عظیم مسلم سائنسدان

یہ مضمون حمید عسکری کی کتاب "نامور مسلم سائنسدان" سے لیا گیا ہے

0 512

مامون الرشید اور اس کے جانشین خلفا یعنی معتصم ، واثق اور معتز کے زمانہ ہائے خلافت میں جن سائنسدانوں نے اپنے تبحر علمی اور فنی کمالات کے باعث شہرت حاصل کی، ان میں یعقوب کندی کو ایک اعلی مقام حاصل ہے۔ اس کا پورا نام ابویوسف یعقوب بن اسحاق بن صباح کندی ہے۔ اس کے باپ اسحاق بن صباح کو مہدی نے کوفے میں حاکم مقرر کیا تھا۔ ہارون الرشید نے اس کا تباد لہ بصرے میں کر دیا، چنانچہ بصرے ہی میں 800ء کے لگ بھگ یعقوب کندی کی ولادت ہوئی اور اسی شہر میں اس کی زندگی کے ابتدائی سال گزرے۔ اپنی ملازمت کے دوران میں اس کے باپ اسحاق نےبصرے میں اپنا مکان بنوا لیا تھا اور وہاں کافی جائیداد بھی پیدا کر لی تھی ، اس لئے بصرہ یعقوب کندی کا وطن اور آبائی شہر بن گیا تھا، لیکن جہاں تک اس کی اپنی رہائش کا تعلق ہے وہ عنفوانِ شباب ہی میں بغداد میں شکونت پذیر ہوگیا تھا اور پھر اس نے اپنی ساری زندگی اسی عروس البلاد میں گزار دی۔ اس نے اپنی تعلیمی کا آغاز بصرے میں کیا مگر اس کی تکمیل بغداد میں کی۔

وہ ایک یہودے قبیلے کے سردار خاندان کا فرد تھا لیکن تذکرہ نگاروں میں اس امر پر سخت اختلاف ہے کہ اس کے اہل خاندان کس نسل میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ بعض نے یعقوب اور اس کے باپ اسحاق دونوں کو مسلمان لکھا ہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے آباؤ اجداد بلکہ خود یعقوب کندی بھی پہلے یہودی مذہب رکھتا تھا اور ان نے مامون الرشید کے زمانے میں اسلام اختیار کر لیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے کے محقق اسے صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ اس کی رائے یہ ہے کہ گو یعقوب کے اجداد یہودی مذہب رکھتے تھے مگر یعقوب کا باپ ایک مسلمان امیر تھا اور اس لحاظ سے یعقوب کندی ایک معزز اسلامی خاندان کا رکن تھا۔

یعقوب کندی کا باپ دادا اگرچہ طبقہء امراء میں سے تھے اور حکومت میں اعلیٰ مراتب پر فائز رہے تھے لیکن یعقوب کندی کی افتادِ طبع بالکل اور ڈھب کی تھی۔ اس کو صرف تصنیف و تالیف اور مطالعہ و تحقیق کے ساتھ دلچسپی تھی۔ اس وجہ سے اس نے اپنے لئے کوئی سیاسی منصب پسند نہیں کیا بلکہ وہ صرف ایک عالم ہی کی حیثیت سے دربارِ خلافت سے منسلک رہا۔

بغداد میں یعقوب کندی کے ہم عصر مشہور ہیت دان سند بن علی کے علاوہ موسی بن شاکر کے تین بیٹے محمد بن موسی، احمد بن موسی اور حسن بن موسی تھے۔ امیں سے سند بن علی کو تو یعقوب کندی کے ساتھ ایک عالمانہ چشمک تھی جو کبھی کبھی مخالفت میں بدل جاتی تھی، لیکن موسی بن شاکر کے بیٹے اس سے سخت عداوت رکھتے تھے  اور اسے نیچا دکھانے کے در پہ رہتے تھے، چنانچہ متوکل کے عہد میں اس کا موقع آ گیا، انہوں نے یعقوب کندی کے خلاف متوکل کے کان بھرنے شروع  کئے جس پر متوکل نے کندی کو دربار میں نکلوا دیا اور اس کا سازو سامان ، جس میں علمی کتابوں کا ایک بڑا زخیرہ تھا ضبط کر لیا۔ بعد میں سند بن علی کی سفارش پر یعقوب کندی کی کتابیں تو اسے مل گئیں لیکن دربار سے تعلق قائم نہ ہوا، یہاں تک کہ 861ء میں متوکل قتل ہوگیا۔ متوکل کے قتل کے بعد یعقوب کندی قریبا 12 سال تک زندہ رہا لیکن ایک دفعہ دربار سے نکلنے کے بعد درباری زندگی سے ایسا دل برداشتہ ہوا کہ اس نے اپنی عمر کا باقی زمانہ گوشہ عافیت میں بیٹھ کر تصنیف و تالیف کے مشغلے میں بسر کیا ۔

اپنی جوانی کے ایام میں بھی اس ایک بار اس کو ایک ہم عصر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں اس کی زندگی خطرے میں پڑھ گئی تھی۔ بلخ کا ایک قدامت پسند فقیہ محض اس وجہ سے کہ یعقوب کندی سائنس اور فلسفے کی اشاعت کرتا رہتا ہے اس کا سخت مخالف ہوگیا کیوں کہ وہ سائنس اور فلسفے کو اپنی دانست میں مذہب کے خلاف سمجھتا تھا۔ اس نے پہلے تو وعظ کے ذریعے عوام کو یعقوب کندی کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی، اس کے بعد وہ اپنے چند ہم خیال شاگردوں کو لے کر بغداد روانہ ہوگیا تاکہ اگر موقع مل جائے تو کندی پر حملہ کرکے اس قتل کر دے۔ کندی کو بعض ذرائع سے بلخی فقیہ کے اس منصوبے کا علم ہوگیا۔ یہ مامون الرشید کا زماہ خلافت تھا جس میں بغداد کے گلی کوچوں میں سائنس اور فلسفے کے چرچے تھے۔ خود خلیفہء وقت ان علوم کا سرپرست تھااور دیگر علماء کے ساتھ کندی کو بھی علم و فضل کے باعث بہت عزیز رکھتا تھا،اس لئے کندی اس موقع پر مامون الرشید سے شکایت کرکے بلخی فقیہ کو بڑی آسانی سے گرفتار کرا سکتا تھا لیکن اس نے یہ طریقہ اختیار کرنے کے بجائے اس فقیہ کو اپنے گھر میں دعوت دی اور دلائل سے اسے سمجھایا کہ فلسفہ اور سائنس اسلام کے مخالف نہیں ہیں۔ اس کا بلخی فقیہ پر  تنا اثر ہوا کہ اس کے خود بھی ریاضی اور ہییت کا علم حاصل کرنے کی خؤاہش ظاہر کی۔ اس مقصد کے لئے وہ کچھ مدت یعقوب کندی کے حلقہ درس میں شامل رہا، لیکن ان علوم کے ساتھ اسے طبعی مناسبت نہ رہی اس لئے اس کی حصول میں وہ کامیابی حاصل نہ کر سکا، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ سائنس اور فلسفے کے باے میں اس کے شکوک رفع ہوگئے، چنانچہ وہ بغداد میں کندی کا جانی دشمن بن کر آیا تھا، بغداد سے کندی کا ایک جگری دوست بن کر بلخ کو روانہ ہوا۔ بلخ کے اس فقیہ کا نام ابو معشر جعفر بن محمد تھا۔

یعقوب کندی ایک ہمہ جہت شخصیت کا مالک تھا، اس لئے اس کی تحقیق کا دائرہ بہت وسیع تھا اور ریاضی ، طبیعات، فلسفہ،ہئیت،موسیقی، طب اور جغرافیہ جیسے علوم پر محیط تھا، چنانچہ ان تمام مضامین پر اس نے اعلی پائے کی کتابیں لکھی تھیں۔ وہ یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت رکھتا تھا اور اس نے نہ صرف یونانی علماء کی بعض کتب کو عربی میں ترجمہ کیا تھا بلکہ ان پر شرخیں بھی لکھی تھیں اور اس طرح اس کے پیچیدہ مسائل کو عام فہم بنا دیا تھا۔ جہاں تک سائنس کا تعلق ہے اس میدان میں بھی اس کی تحقیقات اتنے بلند معیار کی ہیں کہ اس کے باعث اہل مغرب نے اس کا شمار عالم اسلام کے بلند پایہ سائینسدانوں میں کیا ہے۔

یعقوب کِندی کی سائنسی خدمات

ریاضی :
ریاضی میں اس کی چار تصانیف اعداد اوران کی خاصیتوں پرتھیں۔ اس سے پہلے اعداد نویسی کے نئے طریقے کو، جو عربی طریقہ کہلاتا ہے اور آج کل تمام دنیا میں رائج ہے ، محمد بن موسی الخوازمی  اپنی تصانیف"حساب" اور "الجبرا" کے ذریعے متعارف کرا چکا تھا۔ کندی نے اس طریقہ کو اتنا آگے بڑھایا کہ محض اعداد اور ان کی خاصیتوں پر اس کے قلم سے چار کتب مرتب ہوگئیں۔

 

کیمیاء:

کیمیا میں نہ صرف پورے اسلامی دور میں بلکہ یورپی دورِ اول میں بھی کیمیا دان اس بات پر بقین رکھتے تھے کہ ایک کم قیمت دھات کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ خؤد جابر بن حیان جیسے عظیم کیمیاء دان کی بھی یہی رائے تھی ۔ یعقوب کندی پہلا شخص ہے جس نے پرزور الفاظ میں اس کی تردید کی اور کیمیا گری کو، جس میں کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے، ایک باطل علم قرار دیا۔ اس کا قول تھا کہ کسی کیمیائی تبدیلی سے پارے یا تانبے وغیرہ کو سونے میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور جو لوگ اس کا دعوی کرتے ہیں وہ محض شعبدہ باز ہوتے ہیں۔

موسیقی: 

مسلمانوں میں یعقوب کندی پہلا شخص ہے جس نے موسیقی پر سائنسی نقطہ نظر سے بحث کی۔ موسیقی میں جب مختلف سروں کے امتزاج سے نغمے پیدا کئے جاتے ہیں ان میں ہر سُر کا ایک خاص درجہ (Pitch) ہوتا ہے۔چنانچہ جس سُر کا درجہ کم ہووہ کانوں کو بھاری اور جس سُر کا درجہ زیادہ ہو اور کانوں کو تیز لگتی ہے۔ کسی سُر کا یہ درجہ دراصل اس کی تکرار Frequency پر موقوف ہوتا ہے۔ جس کسی سُر کی آواز پیدا کی جائے تو ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں، چنانچہ یہی لہریں جب کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں تو آواز کا احساس ہوتا ہے۔ہر سُر کے لئے ایک سیکنڈ میں پیدا ہونے والی لہروں کی تعداد مقرر ہوتی ہے۔ جسے اس سُر کی تکرارFrequency  کہتے ہیں۔ اسی تکرار کا درجہ Pitch متعین ہوتا ہے۔ چنانچہ جس سُر کی تکرار فی سیکنڈ پیدا ہونے والی سروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس کا درجہ اونچا ہوتا ہے اور وہ آواز تیز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جس سُر کی تکرار کم ہوتی ہے اس کا درجہ نیچا ہوتا ہے اور وہ آواز بھاری ہوتی ہے ۔

یعقوب کندی کا کمال یہ ہے کہ اس نے نہ صرف موسیقی کے سُروں کی تکرار معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا بکہ اس طریقے کو عمل میں لا کر ہر سُر کی تکرار معلوم کی اور اس کا درجہ متعین کیا۔

طبیعات:

طبیعات میں روشنی کی ہندسوی ساخ پر جسے انگریزی میں جیومیٹریکل آپ ٹکس Geometrical Optics کہتے ہیں یعقوب کندی نے بہت قابل قدر تحقیقات انجام دی تھیں اور اس کے نتائج کو ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیا تھا۔ اس کی یہ کتاب ازمنہ وسطی میں ترجمہ ہو چکی تھی اور مشہور برطانوی سائنس دان راجر بیکن Roger Bacon کو بہت متاثر کیا تھا۔

طب:

طب میں یعقوب کندی کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اس کے زمانے تک جتنی مفرد ادویات استعمال ہوتی تھیں ان میں ہر دوا کی صحیح مقدار خواراک کا اس نے تعین کیا ورنہ اس بارے میں متقدمین کی تحریروں میں بہت اختلاف پایا جاتا تھا اور اس اختلاف کے باعث اطباء کو نسخہ نویسی کے وقت بڑی مشکل پیش آتی تھی لیکن جب مفرد ادویات کی صحیح صحیح مقدار خوراک کے موضوع پر یعقوب کندی نے اپنی تحقیقات کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کیا تو اطباء کی مشکل دور ہوگئی۔ ازمنہ وسطی میں اس کی یہ کتاب لاطینی میں ترجمہ ہو چکی تھی۔ جب سولہویں صدی میں چھاپے کا رواج ہوا تو اس لاطینی ترجمے کو جرمنی کے شہر سٹراس برگ Strassburg میں 1531ء میں زیورطبع سے آراستہ کیا گیا۔

 

یعقوب کندی کے ہمسائیوں کی رائے تھی کہ وہ روپیہ پیسہ خرچ کرنے میں بخیل تھا لیکن اس نے علم کی دولت کو دوسروں تک پہنچانے میں کبھی بخل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے اس کے شاگردوں میں ہر علم کے نامور عالم ہوئے جس میں سلمویہ کا نام سرفہرست ہے۔ یہ وہی سلمویہ بن نبان ہے جو خلیفہ معتصم بااللہ کا شاہی طبیب تھا۔ کندی نے جوانی سے لے کر اپنی وفات تک نو خلفائے عباسی کا زمانہ دیکھا تھا ۔ معتمد کے عہد خلافت میں 873ء میں اس نے اپنی جان جاں آفریں سے سپرد کی۔ مرنے کے وقت اس کی عمر ستر سال سے متجاوز تھی۔

یہ مضمون حمید عسکری کی کتاب "نامور مسلم سائنسدان" سے لیا گیا ہے
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی