یہ اختتام ہے بس میرے مہرباں کافی

0 151

یہ اختتام ہے بس میرے مہرباں کافی
سنا چکی ہوں تجھے اپنی داستاں کافی
۔۔۔
گزر نہی رہی میں زندگی گزارتی ہوں
زرا سی عمر میں دیکھے ہیں امتحاں کافی
۔۔۔
یہ راستہ، یہ مرا راستہ یہیں تک ہے
گزرتے دیکھتی رہتی ہوں کارواں کافی
۔۔۔
یہ اور بات کہ میں صبر و شکر کرتی ہوں
زمانے تیرے لیے میری اک فغاں کافی
۔۔۔
وہی ہے میز مگر تم نہیں ہو ساتھ مرے
کبھی پلائی تھی تم نے مجھے جہاں کافی
۔۔۔
تو ایک خواب پہ کیوں آسماں اٹھا رہا ہے
ادھر بھی دیکھ کہ میرا بھی ہے زیاں کافی
۔۔۔
تمھارے ساتھ محبت سے بات کرتی ہوں
مجھے تو لوگ سمجھتے ہیں بدزباں کافی

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی