یہ اختتام ہے بس میرے مہرباں کافی

0 99

یہ اختتام ہے بس میرے مہرباں کافی
سنا چکی ہوں تجھے اپنی داستاں کافی
۔۔۔
گزر نہی رہی میں زندگی گزارتی ہوں
زرا سی عمر میں دیکھے ہیں امتحاں کافی
۔۔۔
یہ راستہ، یہ مرا راستہ یہیں تک ہے
گزرتے دیکھتی رہتی ہوں کارواں کافی
۔۔۔
یہ اور بات کہ میں صبر و شکر کرتی ہوں
زمانے تیرے لیے میری اک فغاں کافی
۔۔۔
وہی ہے میز مگر تم نہیں ہو ساتھ مرے
کبھی پلائی تھی تم نے مجھے جہاں کافی
۔۔۔
تو ایک خواب پہ کیوں آسماں اٹھا رہا ہے
ادھر بھی دیکھ کہ میرا بھی ہے زیاں کافی
۔۔۔
تمھارے ساتھ محبت سے بات کرتی ہوں
مجھے تو لوگ سمجھتے ہیں بدزباں کافی

بلاگ تحاریر بذریعہ ای میل
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی
آپ ہمیں سوشل میڈیا پربھی جوائن کر سکتے ہیں
شکریہ