کبھی زمین کبھی آسماں سے لڑتا ہے

0 223

کبھی زمین کبھی آسماں سے لڑتا ہے
عجیب شخص ہے سارے جہاں سے لڑتا ہے
۔
کسی کے عشق کی مَنَّت کا تیل ہے اِس میں
اِسی لئے تو دِیا آستاں سے لڑتا ہے
۔
ہمیں یہ بانجھ بَہُو بے نشان کر دے گی
یہ بات کہہ کے وہ بیٹے کی ماں سے لڑتا ہے
۔
کرائے دار کی نیند اِس قدر پریشاں ہے
وہ روز خواب میں مالک مکاں سے لڑتا ہے
۔
یہ کس کے قرض کا ہے بوجھ میری مَیَّت پر
یہ کون ہے جو مرے خانداں سے لڑتا ہے
۔
دُعا ہے خیر ہو اُس گھر کی جس میں رو رو کر
کوئی بزرگ کسی نوجواں سے لڑتا ہے
۔
بس ایک خاص نشانی ہے میرے مدفَن کی
کہ اُس مکاں میں کوئی لامکاں سے لڑتا ہے
۔
بڑے یقین سے کچھ بے یقین مانگتے ہیں
وہ اِک یقین جو وہم و گماں سے لڑتا ہے
۔
اذان دیتا ہوں جب میں سُخَن کی مسجد میں
ہر ایک بے نَوا میری اذاں سے لڑتا ہے
۔
میں اپنے عہد کا واصفؔ ہوں اور شاعر ہوں
زمانہ کس لئے مجھ ناتواں سے لڑتا ہے

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی