صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

جبر نے جب مجھے رُسوا سرِ بازار کیا

0 195

جبر نے جب مجھے رُسوا سرِ بازار کیا
صبر نے میرے مجھے صاحبِ دستار کیا
.
میری لفظوں کی عِمارَت گری کام آئی مرے
میری غزلوں نے مرے نام کو مِینار کیا
.
اپنے ہاتھوں میں کُدُورَت کی کُدالیں لے کر
میرے اپنوں نے مری ذات کو مسمار کیا
.
یاد جب آیا کوئی وعدہء تعمیر مجھے
میں نے تب جسم کی ہر پَور کو مِعمار کیا
.
اور پھر سبز اشارہ ہوا اُس پار سے جب
میں نے اِک جست میں دریائے بلا پار کیا
.
آج پھر خاک بہت روئی لپٹ کر مجھ سے
آج پھر قبر نے بابا کی مجھے پیار کیا
.
چاند نے رات مرے ساتھ مرے دُکھ بانٹے
صبح سُورج نے بھی گریہ سرِ دیوار کیا
.
آگ اشجار کو لگنے سے کئی دن پہلے
میں نے رو رو کے پرندوں کو خبردار کیا
.
ایسا ماتم کبھی دریا کا نہ دیکھا نہ سُنا
جانے کس پیاس نے پانی کو عزا دار کیا
.
جب ہوا دینے لگی ٹھنڈے دِلاسے مجھ کو
کچھ چراغوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا
.
دیکھ کر جلتی ہوئی جھونپڑی کل شب واصفؔ
میں نے سوئے ہوئے درویش کو بیدار کیا

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی