صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

سڑکیں وسیع جب ہوئیں فٹ پاتھ توڑ کر

0 122

سڑکیں وسیع جب ہوئیں فٹ پاتھ توڑ کر
کچھ بے گھروں کو جانا پڑا شہر چھوڑ کر
.
جب میں نے یہ سنا کہ معافی کی رات ہے
بیٹھا رہا میں کانپتے ہاتھوں کو جوڑ کر
.
اُس شہر کے امیر کا خانہ خراب ہو
مفلس جہاں زکوٰۃ لے تالوں کو توڑ کر
.
پھر یاد آگئیں مجھے کاغذ کی کشتیاں
پھر رو پڑا میں وقت کے دریا کو موڑ کر
.
کل پھر مجھے بُلا لیا بابا کی قبر نے
آنکھوں کی پیاس پھر بُجھی آنکھیں نچوڑ کر
.
کل شام پھر عطا ہوئی واصف مجھے غزل
کل پھر میں ٹوٹتا رہا الفاظ جوڑ کر

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی