صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

سوشل ڈیموکریسی کیا ہے؟

0 151

عالمی سرمایہ داری کو طول دینے یا اس کی حیات کو بڑھانے میں مددگار بننے کی دو راستے ہیں۔ایک جارحانہ اور دوسرا لبرل یا منافقانہ ۔جارحانہ طریقہ کار جیسا کہ ہٹلر، نپولین اور آج کے دور میں ٹرمپ اور مودی نے اپنایا ہوا ہے، جب کہ دوسری طرف نہرو، جان ایف کینیڈی، میتران اور پاپا آئیندرو وغیرہ۔

سرمایہ داری کو بچانے کے لیے جس طرح انسانیت سوز اور جبرکا راستہ اختیارکیا گیا جیسا کہ ویتنام پر برسوں بمباری، جنوبی افریقہ پر مسلح چڑھائی،انڈونیشیا میں جنرل سوہارتوکے ذریعے قتل عام ہے۔ دوسری طرف لبرل ازم یا اعتدال پسندی کے نام پرعوام کو تھوڑی بہت رعایت دے کر پھر ان کا خون نچوڑا جاتا ہے۔کارل مارکس نے درست کہا تھا کہ ریشم کے کیڑے کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ اسے شہ توت کا پتہ کیوں کھلایا جاتا ہے، اس لیے کہ  ریشم  حاصل کیا جاسکے۔ اسی طرح سوشل ڈیموکریسی میں پیار سے مارا جاتا ہے۔

سوشل ڈیموکریسی والا راستہ عوام کے لیے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ جارحانہ سرمایہ داری صاف صاف سمجھ میں آتی ہے کہ استحصال ہو رہا ہے، لیکن سوشل ڈیموکریٹک سرمایہ داری میں لوٹ مارکے  براہ راست ذرایع نظر نہیں آتے۔ اس لیے عوام اکثرکنفیوز ہوجاتے ہیں۔ امریکا کو لے لیں یہاں تشدد، نابرابری اور استحصال برملا ہے جب کہ سوئیزرلینڈ میں درپردہ ہے۔اکثر لوگ اسے جنت نظیر سمجھتے ہیں، جب کہ قصہ اس کے برعکس ہے۔ سوئیزرلینڈ میں 50  فیصد دولت کے مالک 1  فیصد لوگ ہیں جب کہ باقی 50 فیصد دولت کے مالک 99 فیصد لو گ ہیں۔

ایک ہو تے ہیں ڈاکو اوردوسرے ساہوکار۔ دنیا بھرکے دولت مند(لٹیرے) اپنی لوٹی ہوئی دولت سوئیزرلینڈ کے بینکوں میں جمع کرتے ہیں اور وہ بینک ان کی خفیہ دولت کا انکشاف نہیں کرسکتے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ اپنے آپ کو سوشل ڈیموکریٹس ممالک کہلاتے ہیں،لیکن اب ان کی ڈیموکریسی بھی بے نقاب ہورہی ہے۔ جرمنی کی سات کروڑکی آ بادی میں ساٹھ لاکھ، فرانس کی چھ کروڑکی آبادی میں تیس لاکھ اور برطانیہ کی ساڑھے پانچ کروڑکی آ بادی میں پچیس لا کھ لوگ  بیروزگار ہیں۔

یورپ کی معاشی شرح نمو دو فیصد پر آگئی ہے ۔ اب یہ سوشل ڈیموکریسی کو بھی سنبھال نہیں پا رہے ہیں۔کیٹالونیہ میں 90  فیصد لوگوں نے اسپین سے علیحدگی کے لیے ووٹ ڈالے، لیکن اسپین کی سامراجی حکومت نے اسے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ، واضح رہے کہ اسپین نیٹوکا حصہ ہے، یورپ خاموش ہے، چونکہ اسپین کے آئین میں فوج کشی کی اجازت نہیں ہے، اس لیے میڈرڈ نے ابھی تک وہاں اپنی فوج نہیں بھیجی۔ ریفرنڈم کے بعد وہاں کے عوام نے دواہم اعلان کیے، ایک اعلان خواتین نے کیا کہ ’’مرد شاہی نہیں چلے گی‘‘  دوسرا اعلان یہ کہ کیٹالونیہ سے پولیس نکل جائے۔

اب مہینہ ہونے کو ہے کیٹالونیہ میں کوئی پرندہ مرا اور نہ پیداوار میں کمی آئی اور نہ کوئی خلفشار پیدا ہوا ۔ یعنی وہاں کے عوام نے یہ کر دیکھایا کہ پولیس اور فوج کے بغیر حکومت چل سکتی ہے۔ یہاں بھی سوشل ڈیموکریسی بے نقاب ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا کا بھی بہت چرچا ہوتا ہے۔ابھی امریکا نے سوشلسٹ کوریا پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے تو ایسے موقعے پر آسٹریلیا کا امریکا کی حمایت کرنا بھی سوشل ڈیموکریسی کی عریاں تصویر ہے۔

سوشل ڈیموکریسی کا اہم اور بنیادی دلفریب دھوکا یہ ہے کہ عوامی فلاح وبہبودکے نام پہ مغربی سامراجی ممالک کے دھن والے پسماندہ ملکوں میں نام نہاد غیرسرکاری تنظیمیں تشکیل دلواتے ہیں اورانھیں بھاری رقوم سے خریدلیتے ہیں یعنی ان کے انقلابی جذبے اور افکارکو سرد پانی میں غر ق کرکے ان کی انسانی متحرکہ قوتوں کو نہ صرف کندکردیتے ہیں بلکہ بانجھ بنادیتے ہیں۔ ویسے تو خودمختار اورخودانحصار غیرسرکاری انجمنیں تشکیل دیکر عوامی خدمت کرنا انتہائی انقلابی اور انسانی خدمت کا شاہکار ثابت ہوسکتا ہے، بشرطیکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو عوام کے لیے وقف کردیا ہو ۔

ہرگٹکا بنانے والی فیکٹری کے مالکان ساتھ ساتھ کینسرکا اسپتال ضرور کھول لیتے ہیں۔ ہمارے جیسے پسماندہ ملکوں میں این جی اوز مغرب سے فنڈز لے کرکچھ عوام پر خرچ کرکے با قی خود ہڑپ کرجاتے ہیں۔ حال ہی میں یو این او نے اربوں ڈالر پاکستان کی این جی اوزکو عطا کیے ہیں۔ وہ ان رقوم سے طبقاتی استحصالی نظام کے خاتمے کی جدوجہدکرنے کے بجائے سیمپوزیم اورسیمینار پر ہی گزارا کرتی ہیں، جب کہ یہ کہیں بھی سماج میں انقلابی جدوجہد کرتی نظر نہیں آتی ہیں۔

ہاں کچھ تنظیمیں ایسی ہیں کہ وہ اپنے طور پر اور مغربی سامراج کی دولت کے بغیر عوام کی بے لوث خدمت کررہی ہیں۔ درحقیقت حکومتیں عوامی خدمات سے ہاتھ ا ٹھا کرمکمل طور پر فارغ رہنا چاہتی ہیں جس میں لوٹ مار میں زیادہ وقت ملے۔اس کام میں ریٹا ئرڈ ججز، جنرلزاور نوکر شاہی کی بھی بڑی تعداد میں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

یہ ساری کارکردگی اور حرکات و سکنات انقلابی جدوجہد سے عوام کو روکنے کی در پردہ سازشی حکمتیں ہیں۔ اب اس سرمایہ داری کو بچانے کے لیے طریقہ کار جارحانہ ہو یا نام نہاد شریفانہ ہو اسے بچایا نہیں جاسکتا۔ اس لیے کہ  بنی نوح انسان کو جہنم میں دھکیلنے کا راستہ ہے سرمایہ داری۔  جب کہ خوشحالی اور مسرتوں کے سماج یعنی کمیونسٹ سماج کی تعمیر انسان کو اس کی عروج انسانیت تک پہنچانے کا واحد راستہ ہے ۔اس لیے سرمایہ داری ڈنڈے برساکر یا پھول برسا کرکسی طرح سے بھی اگر عوام پر مسلط کی جائے وہ عوام کو کچھ نہیں دے سکتی ہے۔ لہٰذا اس سے نجات اور عوام کی خوشحالی کے لیے اور غیرطبقاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے زندگی اور موت کی لڑائی لڑنی ہے۔

اس کے علاوہ سارے راستے بندگلی میں جاتے ہیں۔ اس عالمی سرمایہ داری کے خلاف دنیا بھر میں مزدورکسان،کمیونسٹ سوشلسٹ ہر سطح اور ہر جگہ طبقاتی لڑائی میں مصروف عمل ہیں، آج لاطینی امریکا میں بیشتر ممالک کمیونزم کی لڑائی میں موثرکردارادا کررہے ہیں۔اسی سسلے کی کڑی کے طور پر یونان کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما  جارج میرینوس کا پاکستان کادورہ تھا، جس میں حیدرآباد میں اکتوبر سوشلسٹ انقلاب کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں زبردست جلسہ ہوا اور اس میں اہم کردارکمیونسٹ پارٹی سندھ کے سیکریٹری  اقبال اورکسان رہنما منورتالپور اور ڈامرمل نے ادا کیا۔ اب وہ دن دور نہیں جب دنیا سے ملکیت، جائیداد، جاگیر داری،سر مایہ داری کا خاتمہ ہوگا اورایک غیر طبقاتی سماج کی تشکیل ہوگی۔

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی