صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

ہندو مت کیا ہے؟ ایک تعارف

تحریر: محمد اشفاق عالم ندوی

0 1,455

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور دنیا کے جن خطوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب و تمدن نے آنکھیں کھولی ہیں ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آ ثار قدیمہ اور علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اب تک انسانوں کی ایسی کوئی بھی جماعت نہیں رہی ہے جو مذہب سے بالکل عاری رہی ہو۔خود ہندوستان بھی چار بڑے مذاہب کا منبع اور سرچشمہ اور مختلف تہذیب وتمدن کی آماجگاہ رہا ہے۔ ہڑپا موہن جداڑو کی کھدائی میں بعض ایسے آثارو قرائن دستیاب ہوئے ہیں جن سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدیم ہندوستان میں آریوں کی آمد سے قبل دوسری تہذیبیں بھی تھیں لیکن آریوں کی ہندوستان آمد کے بعدویدک دھرم نے ایسی ترقی کی کہ اپنے ماقبل تمام تہذیب وتمدن کو سرے سے مٹادیا اور اس نے نظام زندگی کا ایک جدید فلسفہ پیش کیا جس میں انسان کو مختلف طبقات اور ورنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ذات پات کے اس نظام نے ایک طبقہ کو بام عروج پر پہونچادیا اور دوسرے طبقہ کو اسفل السافلین میں جگہ دی۔ہندومت نے جہاں طبقاتی نظام بنایا وہیں اس نے عورتوں کا بھی استحصال کیا اور مختلف رسوم ورواج کے ذریعہ غرباء کے خون اوران کے پسینہ سے کمائے ہوئے دولت سے برہمنیت نے خوب ترقی کی وہیں ان غرباء کو ایسے گڑھے میں دھکیل دیا جس سے انہیں ان کی موت ہی نکال سکتی تھی۔آج ہم اس مختصر مقالہ میں اسی ہندو مت پر ایک نظر ڈالیں گے اور ان کے متعلق اپنی معلومات آپ حضرات کے سامنے رکھیں گے۔

لفظ ہندو ایک تحقیق قدیم:
ہندوستان (جس میں موجودہ ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان وغیرہ قدیم ہندوستان میں شمار ہوتا تھا) میں دریا ئے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار سے ہندو کہا جاتا تھا۔جس کا ثبوت ایران کا قدیم ترین مذہب زرتشتیت کی مقدس کتاب زنداوستا میں ہمیں ملتا ہے۔اس کتاب میں ایک جگہ hapta hindu کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ س فارسی زبان میں ہ سے بدل جاتا ہے اصلا وہ سنسکرت زبان کا sapta sindhu تھا جو فارسی زبان میں hapta hindu ہو گیا۔ تاریخی اعتبار سے دریائے سندھ کا یہ علاقائی نام تھا جو کہ موجودہ پاکستان اور شما لی ہندوستان میں پڑتا ہے۔

326ق م میں جب سکندر اعظم ہندوستان کو فتح کی غرض سے آیا تو اس وقت اس نے دریائے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار indu یا indous کہا جو بعد میں india بن گیا۔ پھر اس کے بعد اسلام کی آمد سے قبل عربی تجار نے تجارت کی غرض سے ہندوستان کا رخ کیا جس کی جابجا مثالیں قدیم عربی شاعری میں بھی ملتی ہیں۔انہوں نے دریائے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار سے ہندو کہا اور اس سرزمین کو الہند کا نام دیا۔ پھر اس کے بعد 13 ویں صدی عیسوی میں جنوبی ہندوستان کے دو بھائیوں ’’ہری ہر‘‘ اور ’’لکا‘‘نے اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے ایک باشاہ کا تخت پلٹ دیا اور خود اس کی جگہ تخت نشین ہوگئے اور اپنا لقب ہندو رکھا۔ اس کے بعد مرہٹوں کے مشہور ومعروف سردار شیواجی اٹھے اور انہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ مغلوں سے جنگ کیا اور انہوں نے ان جنگوں کا مقصد ہندوی سوراج قائم کرنا بتایا۔ لیکن سترہویں صدی کے آخر سے ہندوؤں نے اس لفظ کو باضابطہ طور پر اپنے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔

لفظ ہندو ازم،ایک تحقیق:
اٹھارہویں صدی عیسوی سے پہلے ہندوازم کی جگہ سناتن دھرم یا ویدک دھرم کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔لیکن سب سے پہلے ہندو ازم کا لفط راجہ رام رموہن رائے نے 1816 میں سناتن دھرم کی جگہ استعمال کیا۔پھر اس کے بعد ایک انگریزمحقق John crawfurd کاایک ریسرچ پیپر Asiatick Researches کے نام سے 1820 میں شائع ہوا۔جس میں سناتن دھرم کے بجائے ہندو ازم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔لیکن 1828 میں کئی انگریزوں نے اس لفظ کو سناتن دھرم کی جگہ استعمال کیا اور بالآخر ۸۵۸۱ء ؁ میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس لفظ کو شامل کیا گیا،اس کے بعد سے عام طور پر لوگ سناتن دھرم یا ویدک دھرم کے لئے ہندو ازم کا لفظ استعمال کرنے لگے۔

قدیم ہندوستان میں آریوں کی آمد:
آریوں کی آمد سے قبل سیاہ فام داسیس ہندوستان میں آباد تھے۔جو گنگا اور سندھ کے سر سبز وشاداب میدانوں میں پھیلے ہوئے۔یہ محض جھوپڑوں اور جنگلوں میں رہنے والے وحشی نہیں تھے بلکہ شہروں میں رہنے والے مہذب اور متمدن لوگ تھے۔ لیکن 1500 ق م تا 2000ق م کے درمیانی عرصہ میں آریائی نسل سے تعلق رکھنے والے قبائل وسط ایشیاء سے ہندوستان آنا شرع ہوئے اور سب سے پہلے انہوں نے پنجاب پر حملہ کیا اور یہا ں کے اصل باشندوں کو نکال باہر کیا چنانچہ وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے اور جو باقی بچے وہ غلام بنالئے گئے۔

آریوں کا عقیدہ :
آریہ قوم اپنے ابتدائی زمانے میں توحید پر قائم تھی۔چنانچہ البیرونی نے اپنی کتاب تاریخ ہند میں لکھا ہے کہ ’’خدا کے متعلق ابتدائی زمانے میں ہندوں کا عقیدہ تھاکہ وہ واحد،غیر فانی ہے نہ اس کا کوئی آغازہے اور نہ اس کا کوئی انجام۔وہ مختار مطلق اور قادر مطلق ہے حی محی ہے احکم الحاکمین اور رب ہے اور اپنی سلطانی میں لا ثانی ہے نہ اس سے کوئی مشابہ ہے اور نہ وہ کسی کے مشابہ ہے‘‘ لیکن آریہ ہندوستان میں داخل ہوئے تو انہیں بت پرستوں سے واسطہ پڑا اور پھر رفتہ رفتہ وہ مرض لا علاج میں مبتلا ہو گئے اور بت پرستی کا عام رواج ہوگیا اور یہیں سے ہندو دھرم کا آغاز ہوا۔

ہندومت میں خدا تصور:
ہندومت کی مقدس کتابوں یعنی وید،اپنشد اور گیتا وغیرہ میں بعض جگہوں میں خدا کی وحدانیت اور بعض جگہوں میں شرک کا بھی تصور واضح طور پر ملتا ہے۔چنانچہ رگ وید میں کل 33 خداؤں کا تذکرہ ہے ان میں سے گیارہ زمین کے دیوتا ہیں اور گیارہ آسمان کے اور گیارہ فضاء کے دیوتا ہیں۔ لیکن جو غیر مذہبی ہندو ہیں وہ ایک سے لیکر 33 کروڑ خداؤں کی پرستش کرتے ہیں۔گویا کہ ایک غیر مذہبی ہندو کے نزدیک ہر چیز خدا ہے مثلا درخت،پہاڑ اور دریا وغیرہ۔

اپنشدوں میں خدا کی وحدانیت کاتصور:

چھاندوگیا اپنشد باب 6 فصل 2 مشق1میں ہے کہ
’’ وہ صرف ایک ہی ہے بغیر کسی کے‘‘
شیویتا شواترا اپنشد باب 6 مشق 9 میں ہے کہ :
’’اسکے نہ ماں باپ ہیں اور نہ اس کا کوئی مالک وآقاہے‘‘۔
یجر وید کے سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 8 میں یہ بات مذکور ہے کہ
’’اس کا کوئی جسم نہیں ہے وہ خالص ہے‘‘
یجر وید سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 9 میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ
’’وہ لوگ تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں جو سمبھوتی یعنی مخلوق اشیا ء کی پرستش کرتے ہیں،مخلوق اشیاء جیسے میز، کرسی اور بت وغیرہ‘‘
رگ وید باب 1 مشق 46 میں ہے کہ
’’عارفین (پڑھے لکھے دینی پیشوا) ایک خدا کو مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں‘‘
ہندو ویدانت کا برہما سوتر یہ ہے کہ
’’برہما (بھگوان) ایک ہی ہے،دوسرا نہیں ہے،نہیں ہے،نہیں ہے،ذرا بھی نہیں ہے‘‘

ہندو مت میں شرک کا تصور:
ہندو مت میں ابتداء ہی سے توحید کے ساتھ ساتھ شرک بھی رہا ہے چنانچہ تمام ہندو اس بات کو تسلیم کر تے ہیں کہ دیوی دیوتابھی فعال اور موثر ہیں اور ان میں اکثر لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ خدا تین ہیں برہما،وشنو اور شیو اور یہ تینوں مستقل بالذات ہیں۔ برہما خالق ہے جس نے تمام انسانوں اور اس دنیا کو بنایا۔اور وہ اس عمل تخلیق کے بعد آسمانوں کے پیچھے چلا گیا۔دوسرا وشنو ہے جو اس دنیا کے انتظام وانصرام کو دیکھتا ہے اور لوگوں کے ساتھ رحم وکرم کا معاملا کرتاہے اورتیسرااشیو ہے جو الوہی طاقت کے قہر وجلال کی تجسیم ہے اور وہی اس دنیا کو ختم کریگا۔ اسی طرح دیوتاوٗں کے ساتھ ساتھ ہندو مت میں دیویوں کی بھی پرستش ہوتی ہے چنانچہ شیو کی بیوی پاربتی اور شیو کی شکتی کالی ماں اور تانترک فرقے کی دیوی بھیراویں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور بھوانی جرائم پیشہ لوگوں،قزاقوں اور ڈاکوؤں کا معبود رہی ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے دیویاں ہیں جیسے درگا،کمندا،یا چندااورشیراوالی وغیرہ۔

ویدوں کا ایک تعارف:
وید سنسکرت لفظ ود سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے جاننا،سمجھنا،سوچنا،غور وفکر کرنا۔وید کا لفظ خود ویدوں میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ بعد کے ہندو مفکرین نے ان کتابوں کے لئے ویدکا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وید اپنے جامع مفہوم کے لحاظ سے کسی خاص کتاب نام نہیں ہے بلکہ ایک مقدس اور وسیع ادب ہے جو تین ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ کا خیال کیا جاتا ہے درحقیقت یہ کہنا دشوار ہے کہ ان کی ابتدائی حصہ کب وجود میں آئے۔ 1۔ مکس ملر کا کا خیال ہے کہ ویدوں کا زمانہ 12 سو سال قبل مسیح ہے۔ 2۔ ہیک کا قیاس ہے کہ دو ہزار چار سو سال قبل مسیح ہے۔ 3۔ بال گنگا دھر تلک کے خیا ل میں ویدوں کا زمانہ چار ہزار سال قبل مسیح قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قول قطعی طور پر صحیح نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ ایک نامعلوم قدیم زمانے سے وید روایتا چلے آرہے ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ مقدس کلام ہیں جنہیں خدا نے رشیوں کو سکھائے ہیں۔ ویدوں کی ترویج و اشاعت جس وقت وید ظہور میں آئے اس وقت ہندوستان میں تحریر کا کوئی رواج نہیں تھا اس لئے یہ سینہ بسینہ منتقل ہوتا رہا اور بعد میں ان کے جمع و تدوین کا کام ہوا۔
وید چار ہیں:
1۔ رگ وید 2۔ سام وید 3۔ یجر وید 4۔ اتھر وید
1۔رگ وید: 
اس وید میں دس ہزار منتر یا مناجاتی گیت ہیں اور یہ مکمل طور پر نظموں پر مشتمل ہے جس میں ہندوؤں کے خداؤں کی تعریف اور ان کی بزرگی سے متعلق گیت جمع کئے گئے ہیں اور دیوتاؤں کو مخاطب کرکے ان سے دعائیں مانگی گئیں ہیں اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رگ وید تمام ویدوں میں سب سے قدیم اور پرانا ہے۔
2۔ یجر وید:
یجر وید کا معنی ہے رسومات کا علم۔یہ رگ وید ہی سے ماخوذ ہے اور اس یگیہ کے گایا جاتا ہے لیکن اس کی ترتیب اس طرح ہے کہ وہ مختلف مذہبی قربانیوں کے وقت پڑھی جاتی ہے اور ان میں نظموں کی ترتیب ان دیوتاؤ ں کے لحاظ سے ہے جن کی اس میں تعریف کی گئی ہے مثلا پہلانظم اگنی کی تعریف اور اس سے متعلق باتوں پر مشتمل ہے۔
3۔سام وید:
سام وید بجز چند نظموں کے رگ وید پر مشتمل ہے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ مقررہ راگوں میں یگیہ (قربانی)کے موقعوں پر گائے جائیں۔اس لئے اس کی کوئی عملی آزاد قیمت نہیں ہے بلکہ اس کو بھجنوں کی کتاب بھی کہا جاسکتا ہے۔
4۔ اتھر وید:
اس وید میں چھ ہزار منتر یا مناجاتی گیت ہیں اور تقریبا ایک ہزار دو سو منتر رگ وید سے ماخوذ ہیں اور اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تقریبا نصف حصہ نثر پر مشتمل ہے۔

اپنشد ایک تعارف :
اپا: نیچے، سامنے نشد: بیٹھنا یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں نیچے بیٹھنا اور اس کا اصطلاحی معنی ہے گرو کے نزدیک بیٹھنا اور اس کے اپدیش کو پوری توجہ اور یکسوئی سے سننا۔ ڈیوسن کا خیال ہے کہ اس لفظ کا مطلب پوشیدہ تعلیم ہے جو پردہ راز میں دی جا تی ہے جس کا ثبو ت خود اپنشد وں کی بہت سی عبارتوں میں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ یہ تعلیم اسی شاگرد یا طالب علم کو دیا جاتا تھا جو اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہو اور ذہین اور دانشور ہو اور خود کو گرو کے سامنے اس کے سننے کا اہل ثابت کرے اور اس خصوصی توجہ کی وجہ یہ تھی کہ یہ کسی غیر اہل اور غیر مستحق کو نہ دی جائے تاکہ اس کا بے جا تصرف نہ ہوسکے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنشدوں کا زمانہ بہت قدیم ہے جن کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ اسی زمانے کے ہیں ناہی ان کے کسی مصنف کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ہاں ان سب کو مہاتما گوتم بدھ سے قبل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ اپنشد بالخصوص جو کافی ضخیم ہیں زیادہ تر مکالموں کے طرز میں ہیں۔ان کا طریقہ استدلال فلسفیانہ کے بجائے شاعرانہ ہے اور یہ عام طور سے استعارہ اور کنایہ کے ذریعہ صداقت کا اظہار کرتے ہیں۔طرزادا میں بہت سے حذف عبارت سے کام لیا گیا ہے اس لئے اس کی تفسیر کے لئے وہی شخص موزوں ہوسکتا ہے جو ان کمیوں کو با آسانی پورا کرسکے۔
اپنشدوں میں ابتدائی اور اہم ترین وہ ہیں جن کی تفسیر اور شرح آدی شنکر آچاریہ نے کی ہے:
کین
kena
کٹھ
katha
پرشن
prashna
منڈک
prashna
ماندوکیہ
mundaka
تیتریہ
mandukya
ایتریہ
aitariya
چھاندگیہ
chodgya
برہد آرنیک
brihad aranya
ایمن
aimana

اس سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ الگ الگ اپنشد ایک دوسرے سے مضمون اور طرز بیان میں بہت مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض وحدتی اصول ذات پر زور دیتے ہیں اور بعض یوگ کے عمل پر زور دیتے ہیں۔بعض شیو یا وشنو کی پوجا پر زور دیتے ہیں اور انہی کے مطابق انکے نام پڑ گئے یہ سب تعداد میں کل ایک سو آٹھ(108) ہیں۔

اپنشد کا فلسفہ: 
اپنشدوں میں میں برہمن اور آتمن کے تین نظریات ملتے ہیں جو نہایت پیچیدہ اور دشوار ہیں لیکن ہم ان پیچیدگیوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے آسان اور قابل فہم الفاظ میں انہیں بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ (1)اپنشدوں میں جو پہلا نظریہ ملتا ہے وہ برہمن کا ہے یعنی وہ ایسی ذات ہے جو انسانی خیالات و تصورات اور الفاظ سے پرے ہے۔اس حقیقت کو انسانی ذہن و دماغ کے سانچے میں سمویا نہیں جا سکتا۔وہ لامحدود ہے۔

برہد آرنیک میں ہے کہ

 ’’وہ نہ یہ ہے اور نہ وہ ہے(نیتی نیتی) وہ ناقابل تصور ہے کیوں کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا وہ غیر متغیر ہے کیوں کہ اس میں تغیر نہیں ہوتا۔وہ غیر محسوس ہے کیوں کہ کوئی چیز اس کو چھو نہیں سکتی۔ وہ نہ تلوار کی ضرب سے مار کھا سکتا ہے اور نہ کوئی چوٹ سہ سکتا ہے‘‘۔

(2)اپنشدوں میں دوسرا آتمن کا نظریہ ملتا ہے۔وہ ایک ایسا ابدی عنصر ہے جو انسان کی ذات میں موجود ہے اس میں کبھی بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ موت کے ساتھ فنا ہوتا ہے بلکہ وہ ایک ابدی عنصر ہے جو لافانی ہے۔
چندگیا اپنشد میں ہے کہ:

’’ایک ابدی روح ہے جو پاک ہے اور جو بڑھاپے،موت،بھوک،پیاس اور غم سے بری ہے یہی آتمن ہے۔انسان کے اندر روح اور اس روح کی ہر خواہش حق ہے،یہی وہ روح ہے جس کو ہر قیمت پر ہم کو پالینا چاہیئے۔جس نے اپنی روح کو پا لیا اور اس کی معرفت حاصل کر لی اس نے تمام دنیاؤں کو پا لیا،اوراس کی تمام خواہشات پوری ہو گئیں‘‘۔

(3)تیسر ا نظریہ وہ ہے جس میں برہمن اور آتمن دونوں کو باہم مترادف معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ اپنشدوں میں اس بات کی وضاحت میں ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایک ہی حقیقت ہے جو کائنات میں بھی جاری و ساری ہے اور خود انسان کے اندر بھی موجود ہے گویا کہ انسان کے اندر اورباہر ہر طرف ایک پاک اور لافانی عنصر ہی واحد حقیقت ہے جو ہر چیز کی بنیاد ہے۔
چند گیا اپنشد میں ہے کہ

’’ایک روشنی ہے جو دنیا کی تمام چیزوں سے پرے چمک رہی ہے،ہم سب سے پرے،آسمانوں سے پرے،بلند ترین آسمانوں سے پرے۔یہی روشنی ہے جو ہمارے دل میں بھی چمک رہی ہے۔‘‘

رامائن اور مہابھارت کا زمانہ 
تقریباً 500 ق م تک ویدوں کا زمانہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد سے لیکر 400ء تک کے زمانہ کو رامائن اور مہا بھارت کا زمانہ کہا جاسکتا ہے۔یہ دونوں رزمیہ نظموں پر مشتمل ہیں اور یہ ویدک عہد کے بعد کے ادوار کی معاشرتی،مذہبی،اور سیاسی صورتحال کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔
مہابھارت ایک تعارف :
مہابھارت ہندوستا ن کی دو طویل رزمیہ نظموں میں سے ایک ہے۔اس رزمیہ نظم کا مرکزی قصہ راجا بھرت کے اخلاف کورؤں اورپانڈؤں کے درمیان جنگ تخت نشینی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سارے غیر متعلق قصے کہانیاں ہیں جو اس دور کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ یہ جنگ اتنی بڑی تھی کہ اس کے آثارآریہ نسل کے ذہن وشعور پر مرتسم ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور اس کے بعد کے شعراء اور قصہ گویوں کے ذریعہ یہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے اور چٹھی صدی قبل مسیح کے اختتام سے اس کی تدوین و تصنیف کا آغاز ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافے ہوتے رہے اور بالآخر صدیوں کے اضافے کے بعد تقریبا پانچویں صدی عیسویٰ میں اپنے تکمیل کو پہنچا۔اس وقت اسکی موجودہ ضخامت ایک لاکھ اشعار پر مبنی ہے اور عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے مصنف ?وید ویاس جی ہیں جو صحیح نہیں ہے۔کیونکہ مصنفین کا ایک سلسلہ ہے جنہوں اس کی تصنیف وتالیف میں حصہ لیا تھااور بالآخر وید ویاس جی نے تقریبا چھ لاکھ اشعار میں سے ایک لاکھ اشعار پر مبنی مہابھارت کی ترتیب و تدوین کا کام انجام دیا۔مہابھارت میں وید ویاس جی کے کل چوبیس ہزار اشعارشامل ہیں۔

رامائن ایک تعارف:
مہابھارت کے بر خلاف رامائن ایک شخصیت رام چندر جی اور ان کے متعلقین کے ارد گرد گھومتا ہے۔ مہا بھارت کے مقابلے میں یہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان دونوں میں بنیادی اختلافات کے باوجود دونوں مذہبی عقائد ورسومات اور سماجی و سیاسی صورتحال اور ہندو مذہب کی ارتقاء کے ایک ہی دور کی داستان سناتے ہیں۔یہی دونوں کتابیں ہیں جن میں ہندو مت کے اہم فرقوں کے بارے میں کچھ بہت معلومات ملتے ہیں۔

بھگوت گیتا ایک تعارف :
بھگوت گیتا مہا بھارت کاہی ایک حصہ ہے جو بھگوان شری کرشن جی کی فلسفیانہ وعظ و نصیحت پر مبنی ہے۔یہ کتاب جو مہا بھارت کے چھٹی کتاب کے اٹھارہ ابواب پر مشتمل ہے۔یہ کتاب شری کرشن جی کی ان نصائح پر مشتمل ہے جوانہوں نے کورکشیتر کے میدان میں ارجن کوکیا تھا۔جب ارجن کورؤں کی فوج میں اپنے اعزہ و اقرباء اور اپنے بچپن کے دوست واحباب کو دیکھتے ہیں تو ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اس وقت شری کرشن جی جو ان کے رتھ بان کی حیثیت سے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ رتھ کو دونوں فوجوں کے درمیان لے جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کی ہمت بندھاتے ہوئے ایک نصیحت کرتے ہیں۔یہ پوری کتاب اسی وعظ و نصیحت پر مشتمل ہے۔

بھگوت گیتا کا فلسفہ اور اس کے اثرات :
اس کتاب کے علاوہ ہندومت کی اکثر و بیشتر کتابوں میں ذات پات کا نظام اور ورنوں کا تصور ملتا ہے۔جس میں صرف برہمن،چھتری اور ویش ہی مکش پراپت کرسکتے ہیں اور شودروں اور عورتوں کے لئے نجات اس وقت تک ممکن نہیں ہے۔جب تک کے وہ مذکورہ بالا تین ورنوں میں سے کسی ایک میں پیدانہ ہوں۔لیکن بھگوت گیتا میں شری کرشن ارجن کے سامنے کرم کا ایک جدید فلسفہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنے عمل اور کام کے ذریعہ نجات حاصل کرسکتا ہے یعنی برہمن کا کام دیوتاؤں کے سامنے پوجا پاٹ کرنا اور غور وفکر کرنا ہے۔چنانچہ اگر وہ بغیر کسی دنیاوی خواہش کے اس کام کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے تو وہ اس کے ذریعہ نجات (موکش)حاصل کر سکتا ہے۔
چھتریوں کا کام حکومت کرنا اور جنگیں لڑنا ہے چنانچہ اگر وہ بغیر کسی دنیاوی خواہش کے حکومت کرتے ہیں اور جنگیں لڑتے ہیں تو وہ اس کے ذریعہ نجات حاصل کر سکتے ہیں۔اسی طرح ویش بھی اپنی تجارت و زراعت وغیرہ کے ذریعہ نجات حاصل کر سکتے ہیں۔اور شودر مذکورہ بالا تینوں طبقوں کی خدمت کرکے اور انہیں خوش کر کے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کتاب نے ہندوازم کی احیاء و تجدید کا کام کیا اور ان شودروں کو بھی جینے کا ایک مقصد عطا کیا۔جو زندگی سے عاجز آچکے تھے۔اس کتاب مذہبی کی اہمیت،مقبولیت اور ہندو مت پر اس کے اثرات کے اعتبار سے ہندو روایت کی کوئی اور مقدس کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اس کتاب کو شروتی (الہامی)تو خیال تو نہیں کیا جاتا ہے لیکن عملی اعتبار سے گیتا کو ویدوں سے کم اہمیت حاصل نہیں ہے۔بھگوت گیتا ہندومت کی مقدس کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔بھگوت گیتا کو عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ ویدوں کو بھی نہیں ہوئی بلکہ وید ایک مخصوص طبقہ تک ہی محدود رہے۔

اسمرتیوں کا دور تدوین:
اسمرتیوں کا زمانہ تصنیف 100 ق م تا 500 ق م کے درمیان ہے ہندو فقہی مسائل کی کتابوں میں یہ سب سے زیادہ منظم طور پر مرتب کیا گیا ہے اس لئے ہندو قانون کی کتابوں میں اسمرتیوں کو سب سے زیادہ بنیادی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔اس کا زمانہ تدوین 200ق م سے 200 تک پھیلا ہوا ہے۔
تمام اسمرتیاں تین حصوں پر مشتمل ہیں
(1) آچار: یعنی اس حصہ میں اخلاقیات اور معاملات سے بحث کیا گیا ہے۔
(2)ویوہار: اس حصہ میں انسانی معاشرتی اور ان میں پیش آنے والے مسائل جیسے جزاء وسزا کے قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔
(3) پرائشچت: اس حصہ میں جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہو رہا ہے گناہوں سے توبہ و کفارہ سے متعلق مسائل کو یکجا کیا گیا ہے۔ ہندو قانون کی انفرادی اور معاشرتی زندگی کا یہ پورا نظام ورن آشرم دھرم پر مبنی ہے۔ اس لئے ہندو قانون سے متعارف ہو نے کے لئے سب سے پہلے ورن آشرم دھرم کے متعلق جاننا ضروری ہے۔ ورن کے لغوی معنی رنگ کے ہیں اس لئے بعض مصنفین کہتے ہیں کہ ہندو سماج کو چار طبقہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے گورے رنگ اور خوبصورت ہوتے ہیں ان میں برہمن،چھتری اور ویش ہیں۔جبکہ سماج کا چوتھا طبقہ جو کہ غیر آرین نسل سے ہیں وہ کالے اور چپٹی ناک والے شودر کہلاتے ہیں۔ہندوستان پر مکمل قبضہ ہو جانے کے بعد آریوں نے یہاں کے باشندوں سے اپنے کو ممتاز رکھنے کے لئے ذات پات کا نظام بنایااور اس میں یہاں کے باشندوں کو شودر کا درجہ دیا جس کا کام پہلے تین طبقوں کی خدمت کرنا تھا۔اور ساتھ ہی ساتھ ان کے لئے بہت سارے کاموں کو ممنوع قرار دیا گیامثلا جینو پہننے کے حقدار صرف آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے تینوں طبقات ہیں۔اسی طرح ویدوں کی تعلیم حتی کہ ان کا سننا بھی ان پر حرام کر دیا گیا۔ چنانچہ ویدانت میں یہ بات مذکور ہے کہ جو شودر ویدوں کا کوئی لفظ سن لے اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈال دینا چاہئے۔ ورن یعنی ذات پات کے اس نظام کی ابتدا کے متعلق قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے البتہ ورنوں کا تصور ہمیں ویدوں میں ملتا ہے۔ چنانچہ رگ وید کا پرشا سکتا بھجن میں اس کی تفصیل کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے۔ ’’اس(برھما) کے منھ سے برہمن پیدا ہوئے اور اس کے ہاتھوں سے چھتری پیدا ہوئے، جو راج کرتے ہیں، اس کی ٹانگوں سے ویش پیدا ہوئے جو اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور کم حیثیت غلام اسکے پیروں سے پیدا ہوئے۔‘‘ بالآخر ذات پات کا یہ نظام رفتہ رفتہ ترقی کرتا گیا۔ اور اسمرتیوں کے عہد تدوین تک اس میں اس قدر اضافہ ہوا کہ جس کی جھلکیاں آج بھی اسمرتیوں میں ہمیں نظر آتی ہیں۔ اسمرتیوں اور خاص طور پر منو اسمرتی میں شودروں کو اس حدتک نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے گویا کہ وہ انسان کی نہیں بلکہ جانوروں کی نسل ہیں جو اس سرزمین میں آباد ہیں۔

ہندوازم میں فرقہ بندی کا زمانہ:
رفتہ رفتہ جب ہندو مت میں نئی نئی چیزیں درآئیں اور ذات پات کا نظام اس حد تک بڑھ گیا کہ شودروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور مذہبی عبادات اس حد تک پیچیدگی کا شکار ہو گئے کہ غریب کے لئے ان تمام پوجا پاٹ اور یگیہ وغیرہ کو انجام دینامشکل ہو گیا تو لوگوں میں ہندومت سے بغاوت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں اور دھیرے دھیرے لوگ برہمنوں کے خلاف اپنی زبانیں کھولنے لگے اور یہیں سے فرقہ بندی کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس مقالہ کے اندر ہم چند اہم فرقوں اور ان کے عقائد سے بحث کریں گے۔

آجیوکا :
اس فرقہ میں وہ لوگ تھے جو بے شمار خداؤں اور ان کی پوجا پاٹ سے تنگ آچکے تھے چنانچہ انہوں نے سرے سے خداکی ذات کا ہی انکار کردیا اور کرم یعنی عمل اور پوجا پاٹ وغیرہ کو بے اثر قرار دیا لیکن ان سب کے باوجود آواگون کی پذیرائی کی اور اس کی ایک نئی تشریح کی اور آواگون کا ایک جدید فلسفہ پیش کیا انہوں نے کہاکہ اس دنیا میں ایک کائناتی قانون ہے جس کو niyatiکہا جاتا ہے اسی کے مطابق دنیا کا نظام چل رہا ہے اور انسان اپنے اچھے برے اثرات کی وجہ سے اس دنیا میں بار بار پیدا نہیں ہوتا ہے۔بلکہ اس کائناتی اصول اور اس کے قوانین ہی کچھ ایسے ہیں کہ انسان خود بخود پیدا ہوتا ہے۔اس فرقہ کے لیڈر مگھالی گھو شل کو قرار دیا جا سکتا ہے۔

چاراواک:
اس فرقہ نے تو حد ہی کر دی چنانچہ انہوں نے پورے ہندومت کو ہی باطل قرار دیا اور کہا کہ سارے لوگ برابر ہیں اس دنیا میں کوئی کسی سے بڑا نہیں اور نا ہی کوئی کسی سے چھوٹا ہو سکتا ہے اس دنیا میں روح ہی زندگی ہے۔جب تک جسم میں جان باقی ہے عیش و عشرت اور مزہ اڑا لو اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور ناہی کوئی اس زندگی کا حساب کتاب کرنے والا ہے۔عمل اور کرم وغیرہ کااس فرقہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے اور آواگون اور خدا کے بھی منکر ہیں۔

نگنتھا :
تیسرا فرقہ جو ہندو مت میں وجود میں آیا وہ نگنتھا ہے اس فرقہ کے اکثر وبیشتر لوگ جنگلوں میں رہتے تھے اور ویدوں کی اہمیت وافادیت کے بالکل قائل نہیں تھے برہمنوں کے خلاف انہوں نے آواز بلند کی۔انہیں سماج کا ناسور قرار دیا اور یہیں سے ہندو مت میں پوجا پاٹ اور یگیہ کو انجا م دینے والے برہمن کو آستک اور خدا اور دیوتا ؤں کے منکرین شرمن کو ناستک کہا جانے لگا۔ آستک برہمن سمسار یا سنسکار اور ویدوں کی قدامت اور ان کے صداقت کے قائل تھے اور ساتھ ساتھ طبقاتی نظام،خدا کی ذات اور کرم وغیرہ کو بھی مانتے تھے۔ وہیں شرمن یعنی ناستک مذکورہ بالا تمام چیزوں سے اختلاف رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ سارے اصول حتی کہ وید جس کے برہمن شروتی یعنی الہامی ہونے کے قائل ہیں یہ سب انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان کے ذہن و دماغ کی پیداوار ہیں۔ چنانچہ یہیں سے برہمن یعنی آستک فلسفہ کو ماننے والوں کے چھ مکا تب فکر (1)سانکھیا، (2) یوگ، (3) ویدانت، (4) ممانسا، (5) نیائے، (6) ویشیشکا وجود میں آئے۔

بھگتی تحریک :
چوتھا فرقہ یا تحریک ہندومت میں بھگتی تحریک کے نام سے وجود میں آیا اور پورے جنوبی ہند وستان اور وسطی ہندوستان کے کچھ حصوں میں خوب پھلا پھولا۔اس فرقہ کی ابتداء ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی۔ چنانچہ جنوبی ہندوستان کے تمل ناڈو وغیرہ میں کچھ شعراء پیدا ہوئے جنہوں نے ذات پات کے نظام،قربانی اور مذہبی مراسم کو ڈھونگ قرار دیا اور ایک جدید فلسفہ پیش کیا کہ دنیا میں عقیدت ومحبت کا مرکز ایک خدا کو بناؤ، باقی ساری چیزیں انسانوں کی گڑھی ہوئی ہیں۔ ان شعراء کو الور یا ازور شعراء کہا جاتا ہے، ان کی اکثر وبیشتر اشعار وشنو جی کی عقیدت پر مبنی ہیں۔اس فرقہ نے ایک خدا کی پرستش،مذہبی رسوم ورواج سے دوری اور عقیدت مندی اور خلوص نیت سے نجات کے حصول کی دعوت دی۔ان شعراء میں مرد کے ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں۔

بھکتی تحریک میں خدا کا تصور :
اس تحریک نے لوگوں کو بے شمار خداؤں اور دیوی دیوتاؤں کی پوجا پاٹ اور ان کے سامنے نذرو نیاز اور یگیہ و قربانی کی مخالفت کی دعوت دی اور اپنی پوری عقیدت مندی ایک خدا کے لئے خالص کرلینے اور اسی کی پرستش اور اس ایک خدا کی عقیدت و محبت میں اپنی ذات کو فنا کردینے کی دعوت پیش کیا۔یہ بھی کہا کہ مختلف ادیان و مذاہب میں اس ایک خدا کو مختلف نام اور مختلف اوصاف سے یاد کیا جاتا ہے چنانچہ اسے کہیں رام کہکر پکارا جاتا ہے تو کہیں اس کو رحیم کہکر یاد کیا جاتا ہے لیکن وہ صرف ایک ہے اس لئے خالص اسی کی پرستش کرو۔ اس فرقہ نے جہاں ایک خدا کے لئے اپنی عقیدت ومحبت خالص کرنے کی دعوت دی وہیں مورتی پوجا اور ان کے لئے پوجا پاٹ اور یگیہ و قربانی کی بھی مخالفت کی۔

ہندومت اور اسلام کی مشترکہ باتیں:
ہندوازم اور اسلام میں بہت زیادہ مماثلت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم ذیل میں ہندو ازم اور اسلام کی چند مشترکہ باتیں تحریر کر رہے ہیں۔ شراب کے تعلق سے منو سمرتی باب 9 اشلوک 235 میں ہے: کسی دینی پیشوا کو مارے والا،شراب پینے والا،چوری کرنے والا اور اپنے پیر و مرشد کی بیوی سے ہم بستری کر نے والا،یہ سب کے سب اور ان میں سے ہر ایک کو گناہ کبیرہ کا مرتکب خیال کیا جاتا ہے،، منوسمرتی باب 11 اشلوک 94 میں یہ بات مذکور ہے: چونکہ شراب ایک آلودہ کرنے والی گندگی ہے جسے چاول سے کشید کیا جاتا ہے اور گندگی شیطان کو کہا جاتا ہے اس لئے دینی پیشوا، حکمراں یا ایک عام شخص کو بھی شراب نہیں پینا چاہئے،، اسی طرح ہندو مت میں جوا بھی ایک فعل بد ہے اور اس فعل میں مبتلا شخص کو ویدوں اور منوسمرتی میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ رگ وید باب 10 حمد 34 اشلوک 3 میں یہ بات مذکور ہے: ایک جواری کہتا ہے کہ میری بیوی مجھ سے دور رہتی ہے اور میری ماں مجھ سے نفرت کرتی ہے۔بد بختوں کو کوئی آرام پہنچانے والا نہیں ملتا،، رگ وید میں ہی آگے ہے: جو ا مت کھیلو،بلکہ اپنی کھیتی کی زمین پر کاشتکاری کرو،پیداوار سے لطف اٹھاؤ اور اسی دولت پر قانع رہو،، منوسمرتی باب 7 اشلوک 50 میں ہے: شراب پینا،جوا کھیلنا،عورتوں کیساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنا اور شکار کھیلنا،فطری خواہشات میں ان چاروں کو بد ترین تصور کرنا چاہئے،، مذکورہ بالا منوسمرتی کے اقتباسات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چوری اور بدکاری بھی ہندومت میں ایک مذموم عمل ہیں۔ اسلام کی نظر میں بھی شراب ایک گندی اور ناپاک چیز ہے جس سے انسان جسمانی اور ذہنی دونوں ہی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے چنانچہ اسلام شراب اور جوا دونوں کو ہی حرام قرار دیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی، (المائدہؔ ۔90۔پارہ۔6)، چوری کے تعلق سے قرآن کہتا ہے: چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں ہی کے ہاتھ کا ٹ دو،یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے۔اللہ تعالی کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا وبینا ہے،،(المائدہ۔38۔پارہ6) کسی عورت سے ناجائز تعلقات قائم کرنے اور اس کے ساتھ بغیر نکاح کے ہم بستری کرنے والے شخص کے سلسلے میں قرآن یہ سزا تجویز کرتا ہے: زنا کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگائے جائیں گے،،(النور۔2۔پارہ۔18) ہندومت نے عورتوں کا بہت زیادہ استحصال کیا اس کے باوجود ہندومت کی مذہبی کتابوں میں عورت بطور ایک والدہ کے متعلق نہایت عمدہ تعلیمات ملتے ہیں۔ چنانچہ گوتم کا قول ہے: آچاریہ (وید پڑھانے والا استاد) اساتذہ میں سب سے بڑا ہوتا ہے مگر کچھ لوگوں کے خیال کے مطابق ماتا ہی سب سے بڑی ہوتی ہے،، آپستمب دھرم سوتر (9?18?10?1)میں یہ بات مذکور ہے: بیٹے کو چاہئے کہ وہ اپنی والدہ کی ہمیشہ خدمت کرے بھلے ہی وہ ذات سے خارج ہو گئی ہو،کیونکہ وہ اس کے لئے بے حد تکالیف برداشت کرتی ہے،، مہابھارت شانتی پروا باب 31 میں ہے: ماتا کے مثل کوئی چھایا نہیں ہے،ماتا کے مثل کوئی گتی (چال) نہیں ہے،(ماں کی طرح کوئی گناہ سے چھٹکارہ دلانے والا نہیں ہے) ماتا کے مثل کوئی محافظ نہیں ہے اور ماتا کے مثل کوئی محبوبہ بھی نہیں ہے،، اسلام میں بھی بالکل اس ملتی جلتی تعلیمات موجود ہیں لیکن اسلام نے والدہ کے ساتھ ساتھ والد کے احترام اور اس کی خدمت گذاری کی بھی ترغیب دیتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تیرے رب نے فیصلہ کردیا کہ تم لوگ کسی کے عبادت نہ کرو مگر اسی کی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہونہ انہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان سے احترم کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور یہ دعا کیا کرو کہ پرور دگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ (الاسراء۔23۔ 24پارہ 15) لیکن احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ والدہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہوتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے والدین میں میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہاری ماں۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا۔آپ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا۔ تمہاری ماں،اس صحابی نے تیسری بار عرض کیا تو آپ ﷺ نے تیسری بار بھی وہی جواب دیا کہ تمہاری ماں۔چوتھی بار آپ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ۔ (ریاض الصالحین۔باب بر الوالدین) ایک دوسری حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الجنت تحت اقدام الامھات (الجامع الصغیر وزیادتہ) یعنی جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے لہذا اس کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنالو۔

ہندومت میں خدا تصور:
ہندومت کی مقدس کتابوں یعنی وید،اپنشد اور گیتا وغیرہ میں بعض جگہوں میں خدا کی وحدانیت اور بعض جگہوں میں شرک کا بھی تصور واضح طور پر ملتا ہے۔چنانچہ رگ وید میں کل 33 خداؤں کا تذکرہ ہے ان میں سے گیارہ زمین کے دیوتا ہیں اور گیارہ آسمان کے اور گیارہ فضاء کے دیوتا ہیں۔ لیکن جو غیر مذہبی ہندو ہیں وہ ایک سے لیکر 33 کروڑ خداؤں کی پرستش کرتے ہیں۔گویا کہ ایک غیر مذہبی ہندو کے نزدیک ہر چیز خدا ہے مثلا درخت،پہاڑ اور دریا وغیرہ اپنشدوں میں خدا کی وحدانیت کاتصور چھاندوگیا اپنشد باب 6 فصل2 مشق1میں ہے
: وہ صرف ایک ہی ہے بغیر کسی کے،،
شیویتا شواترا اپنشد باب 6 مشق 9 میں ہے:
’’اسکے نہ ماں باپ ہیں اور نہ اس کا کوئی مالک وآقاہے‘‘
یجر وید کے سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 8 میں یہ بات مذکور ہے:
’’اس کا کوئی جسم نہیں ہے وہ خالص ہے‘‘
یجر وید سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 9 میں یہ بات بھی مذکور ہے:
’’ وہ لوگ تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں جو سمبھوتی یعنی مخلوق اشیا ء کی پرستش کرتے ہیں،مخلوق اشیاء جیسے میز، کرسی اور بت وغیرہ‘‘۔
رگ وید باب 1 مشق 26 میں ہے:
’’عارفین (پڑھے لکھے دینی پیشوا) ایک خدا کو مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں‘‘۔
ہندو ویدانت کا برہما سوتر یہ ہے:
’’برہما (بھگوان) ایک ہی ہے،دوسرا نہیں ہے،نہیں ہے،نہیں ہے،ذرا بھی نہیں ہے‘‘

ہندو مت میں شرک کا تصور:
ہندو مت میں ابتداء ہی سے توحید کے ساتھ ساتھ شرک بھی رہا ہے چنانچہ تمام ہندو اس بات کو تسلیم کر تے ہیں کہ دیوی دیوتابھی فعال اور موثر ہیں اور ان میں اکثر لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ خدا تین ہیں برہما،وشنو اور شیو اور یہ تینوں مستقل بالذات ہیں۔ برہما خالق ہے جس نے تمام انسانوں اور اس دنیا کو بنایا۔اور وہ اس عمل تخلیق کے بعد آسمانوں کے پیچھے چلا گیا۔دوسرا وشنو ہے جو اس دنیا کے انتظام وانصرام کو دیکھتا ہے اور لوگوں کے ساتھ رحم وکرم کا معاملا کرتاہے اورتیسرااشیو ہے جو الوہی طاقت کے قہر وجلال کی تجسیم ہے اور وہی اس دنیا کو ختم کریگا۔ اسی طرح دیوتاوٗں کے ساتھ ساتھ ہندو مت میں دیویوں کی بھی پرستش ہوتی ہے چنانچہ شیو کی بیوی پاربتی اور شیو کی شکتی کالی ماں اور تانترک فرقے کی دیوی بھیراویں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور بھوانی جرائم پیشہ لوگوں،قزاقوں اور ڈاکوؤں کا معبود رہی ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے دیویاں ہیں جیسے درگا،کمندا،یا چندااورشیراوالی وغیرہ ۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کہتے ہیں کہ ہندو مت کے علماء اور پنڈت اس بات کے قائل ہیں کہ خدا ایک ہی ہے اور ویدوں میں جو ۳۳ خداؤں کا تذکرہ ہے وہ درحقیقت مستقل بالذات خدا نہیں ہیں بلکہ وہ برہما کے ہی صفات ہیں۔ لیکن یہ با ت میرے نزدیک صحیح نہیں ہے اور اسکی وجہ ہندومت میں شرک کاتصور کے عنوان کے تحت ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔

اسلام کا تصور وحدانیت:
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت کو سورہ اخلاص میں بہت ہی مختصر لیکن جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ فرماتا ہے۔ اے نبی کہدو کہ اللہ ایک ہے،اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔(الاخلاص۔پارہ 30) اسلام میں تصور وحدانیت کے سلسلے میں اس سورہ اخلاص کے بعد کسی اور دلیل اور حجت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے کیونکہ اس سورہ میں شرک کی تمام جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اور بالکل واضح اور صاف وشفاف انداز میں یہ کہدیا گیا کہ اللہ تو صرف اور صر ف ایک ہی ہے اس کے علاوہ اس دنیا کو پیدا کرنے والا اور اس کو چلانے والا کوئی بھی نہیں ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کردیا کہ نہ تو وہ کسی کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور ناہی کوئی اس کی اولاد ہے۔بلکہ وہ ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔اور اس کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔

ہندومت میں آواگون کا عقیدہ اور اسلام:
آواگون ہندومت کی بنیادی عقائد میں سے ایک ہے اسے پنر جنم بھی کہتے ہیں اس کے لغوی معنی بار بار جنم لینا اور مرنا ہے چنانچہ ہندو عقیدہ کے مطابق جب کوئی روح کسی انسانی قالب میں داخل ہوکر اس دنیا میں ایک بار پیدا ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اچھے برے اثرات کی وجہ سے جنم مرن اس چکر میں جس آواگون کہتے ہیں پھنس جاتا ہے اور اس وقت تک اس کی نجات ممکن نہیں ہوتی جب تک وہ موکش پراپت نہ کر لے۔ اس عقیدہ کے مطابق انسان کے تمام اعمال خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ان کے اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں اور جب انسان مرتاہے تو وہ فنا نہیں ہوتا اور ناہی کسی اور دنیا میں جاتا ہے بلکہ اسی دنیا میں کسی اور صورت میں پیدا ہوتا ہے اور اس پیدائش میں اس کے اعمال کے اثرات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے چنانچہ وہ اپنے اعمال کے برے اثرات کی و جہ سے کتا،سور یا کسی اور جانور کی شکل میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ ہندو مت کی کتابوں میں اس کا سبب یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ روح کا انسانی جسم سے باہر نکلنے کے بعدچونکہ اس کے دوسرے انسانوں سے تعلقات کی بنیاد پر بہت سارے مطالبات اور معاملات باقی رہ جاتے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اور اپنے اعمال کے ثمرات کو پانے کی خاطر روح نئے روپ اور نئے قالب میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ جبکہ اسلام بالکل اس کے برعکس اپنا فلسفہ پیش کرتا ہے قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت یعنی ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔(آل عمران۔185) اس دنیا سے فنا ہوجانے کے بعد اللہ تعالی پوری انسانیت کو ایک بار پھر پیدا کریگا اور ان کے اچھے برے اعمال کی جزاء وسزاعطا فرمائے گا۔اور اس دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس دن کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گااور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے پکارے گا تو اس کی بوجھ کا ایک ادنی حصہ اٹھانے کے لئے بھی کوئی نہ آئے گا خواہ وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ں (الفاطر۔18۔پارہ22)۔ اس کے بعد تمام انسانیت کو ان کے اچھے برے اثرات و اعمال کی بنا پر جنت و جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔ یہ ابد الآباد زندگی ہوگی۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اس دنیا میں انسان کی پیدائش کا مقصد قرآن کریم اللہ تعالی یہ فرماتا ہیکہ،کہ ہم نے انسان و جنات کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے،(الذاریات۔56پارہ۔28)۔ اس کا ایک دوسرا مقصد یہ بھی ہیکہ جس کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔ اس نے موت اور زندگی کو اس لئے بنایا تاکہ وہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھ لے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے۔ اور درگزر فرمانے والا بھی۔(الملک۔۲۔پارہ۔29)

ہندومت میں ورنوں کا تصور اور اسلام کا تعلیم مساوات :
آریوں کی ہندوستان آمد کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو یہاں کے سیاہ فام باشندوں سے الگ رکھنے کے لئے ذات پات کا نظام بنایا۔ جس کی جھلکیاں ویدوں میں جابجا ملتی ہیں۔ چنانچہ رگ وید باب 10 بھجن 90 میں ہے: اس (برھما)کے منھ سے برہمن پیدا ہوئے۔ اس ہاتھوں سے چھتری راجہ اور اس کی ٹانگوں سے عام آدمی یعنی ویش پیدا ہوا جو کاروبار میں مشغول رہتا ہے۔اور کم حیثیت غلام نے اس کے پیروں سے جنم لیا،، مذکورہ بالاطبقاتی نظام کے وجود میں آجانے کے بعد معاشرہ میں ان کے کام اور ان کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کردی گئیں چنانچہ ذیل میں ہم منوسمرتی سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جہاں ہر ورن اور ہر طبقہ کی ذمہ داریاں اور ان کے کام بتائے گئے ہیں۔ ،،اس پوری کائنات کی حفاظت اور استحکام کے لئے صاحب شان وشوکت پرش (ابتدائی دیوتا نما اساطیری انسان) نے ان ورنوں کو جو اس کے چہرے،ہاتھوں اور رانوں اور پیروں سے پیدا ہوئے تھے الگ الگ ذمہ داریاں سونپی،،،،دوسروں کو تعلیم دینا،خود تعلیم حاصل کرنا،مذہبی ریت رسموں کوسر انجام دینا اور دوسروں کی اس سلسلے میں رہنمائی کرنا،صدقات،عطیات دینا اور وصول کرنا،یہ ساری ذمہ داریاں اس نے برہمنوں کو سونپیں۔ لوگوں کی حفاظت کرنا،صدقہ وخیرات کرنا،مذہبی رسومات کو سر انجام دینا،تعلیم حاصل کرنا اور خواہشات پر قابو رکھنا،یہ مختصر ا ایک چھتری کی ذمہ داریاں ہیں۔ تعلیم حاصل کرنا،تجارت اور سودا گری کرنا،سود کا کاروبار کرنا،کھیتی کرنا،مویشی پالنا،مذہبی رسومات ادا کرنا اور صدقہ وخیرات کرنا یہ سب ایک ویش کی ذمہ داریاں ہیں۔ شودر کے لئے مالک نے صرف ایک ہی کام تجویز کیا ہے اور وہ یہ کہ وہ پورے خلوص سے تینوں اعلا ذاتوں کی خدمت کرے،،(منوسمرتی باب 1 اشلوک 87۔89) اب ہم ذیل میں معاشرہ کے اندر صرف برہمنوں کو جو مخصوص مراعات حاصل تھی،ان کے متعلق منوسمرتی کے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں۔ (1) برہمن دوسرے تمام ورنوں کے لئے (پورے سماج) گرو کا کام کرے گا۔ (2) برہمنوں کو کوئی جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی۔ (3) سڑکوں اور شاہراہوں پر ان کو خصوصی مراعات حاصل ہوگی۔ (4)کسی برہمن کو دھمکانا گناہ کبیرہ اور اس کی جا ن لینا سب سے بڑا گناہ ہے۔ (5) کوئی کمتر ورن کا آدمی کسی برہمن پر دعوی نہیں کرسکتا۔ اس معاشرہ میں اس طرح کی اور بے شمار چیزیں تھیں جو صرف بر ہمنوں کو حاصل تھی اور اس معاشرہ میں شودر کی کوئی اہمیت نہیں تھی بلکہ ان ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا،اور ان سے جانوروں کی طرح کام لینا ایک عام بات تھی۔

اسلام کا تصور مساوت:
لیکن اسلام نے مساوات اور اخوت و بھائی چارگی کی جوتعلیم دی ہے وہ تمام مذاہب و ملل سے بالکل مختلف ہے چنانچہ اللہ تعالی نے سورہ اخلاص میں فرمایا ہیکہ قل اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد لم یکن لہ کفوا احد (الاخلاص)یعنی اس سورہ کے ذریعہ اللہ تعالی نے اپنے واحد و یکتا ہونے اور تمام چیزوں سے اپنی بے نیازی کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اس کی کوئی نسل نہیں جسے عظمت کی نگاہ سے دیکھی جائے اور اسے مخصوص مراعات دئے جائیں۔ آگے فرماتا ہیکہ الم نخلقکم من ماء مھین وجعلنا ہ فی قرارمکین الی قدر معلوم فقدرنا فنعم القادر ون(المرسلات۔20۔پارہ 29) یعنی اس آ یت کے ذریعہ اللہ تعالی نے یہ بتادیا کہ شاہانہ خون کا دعوی ایک زعم باطل اور شاہانہ خون اور عامی خون کی تقسیم محض ایک افسانہ ہے پھر آگے مساوات کادرس دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ائے لوگوں اپنے پرور دگار سے ڈرو جس نے تم لوگوں کو ایک جان سے پیدا کیا (النساء۔1۔پارہ۔4)۔لہذا تم سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہوئے تم میں کوئی کسی سے حسب نسب،خوبصورتی،اور کالے گورے ہونے کے اعتبار بڑا نہیں ہو سکتا بلکہ تم میں سب سے باعزت اور مکرم وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی و پرہیز گار اور خدا سے ڈرنے والا ہو۔(الحجرات۔13۔پارہ۔26) مذکورہ بالا آیات پر نبی آخر الزماں ﷺ عملی طور پر کار بند تھے چنانچہ ایک مرتبہ ایک مسلمان عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہو کر آئی،قریش نے اس کی سفارش کی کہ اس کو سزا نہ دی جائے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ ا ئے لو گوں تم سے پہلی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی معمولی آ دمی اسی کام کو کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے؟ خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔(الصحیح البخاری،کتاب الحدود)

ہندومت میں عورت کا مقام:
ہندوستان میں آریوں کی آمد کے بعد ویدک دور شروع ہوتا ہے۔بعد کے ادوار کے مقابلے میں اس دور میں عورتوں کی حالت کچھ بہتر تھی لیکن ویدک دور میں بھی بہت سے لوگوں نے عورتوں کی مخالفت میں آواز بلند کی اور ان کی توہین کی اور ان کے ساتھ نفرت کا برتاؤ کیا۔ چنانچہ رگ وید کے باب ۵ اشلوک 39 میں ہے: عورتیں غلاموں (لونڈیوں) کی فوج اور اسلحہ اور اوزار ہیں،، اسی طرح تیتریہ سمہتا کے باب 6 اشلوک 5 میں ہے: لہذا عوتیں بغیر قوت کی نحیف اور لا چار ہیں انہیں حق وراثت نہیں ملتا۔وہ شریر سے بھی بڑھ کر بد تمیز ی سے بات کرتی ہے،، جب پرانوں کا دور آیا تو ظلم نسواں میں کچھ اور اضافہ ہوا چنانچہ مارکنڈیہ پران باب 16 میں ہے: عورتوں کے لئے الگ سے یگیہ یعنی قربانی،شرادھ اور برت و فاقہ کا دستور نہیں ہے شوہر کی خدمت کے علاوہ ان کا کوئی دنیاوی فرض یا وجود نہیں ہے،، رفتہ رفتہ یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان پر ظلم وزیادتیان ہوتی رہی ان پر بہت ساری اخلاقی الزامات بھی لگائے گئے۔مہابھارت انشاسن پروا باب 6 اشلوک 19 میں لکھا ہے: سوتر کار نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عورتیں جھوٹی ہوتی ہیں،، عورتوں سے بڑھ کر کوئی دوسرا شریر نہیں،یہ ایک ساتھ ہی استرہ کی دھار ہیں زہر ہیں اور اگنی ہیں،، اس طرح کی اور بے شمار باتیں ہندومت کی مذہبی کتابوں میں ملتی ہیں لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ہندو مت میں رسم ستی کے متعلق کچھ باتیں قارعین کی نظر کرتے ہیں تقریبا 1829 سے پہلے تک ہندوستان میں بیوہ عورتوں کا اپنے شوہر کی چتا کے ساتھ ستی ہوجانا (جل کر مرجانا) ایک مذہبی فریضہ سمجھاجاتا تھا۔یہ رسم صرف براہمن میں ہی نہیں بلکہ راج گھرانوں اور اعلی ذات کے لوگوں میں بھی رائج تھا لیکن ہندو مت کی مذہبی کتابوں میں اس سلسلہ میں کوئی خاص حکم موجود نہیں ہے۔ وشنو دھرم سوتر باب 14 میں لکھا ہے کہ اپنے شوہر کی وفات پر بیوہ عورتیں برہم چریہ (عفت) رکھتی تھیں یا شوہر کی چتا پر ستی ہوجاتی تھیں،، مہابھارت کے آدی پروا میں ستی کے متعلق لکھا ہے کہ پانڈؤ کی پیاری رانی مادری نے شوہر کی لاش کے ساتھ اپنے کو جلادیا۔

اسلام میں عورت کا مقام:
قرآن کریم میں عورتوں کے تعلق سے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ عورتوں کا بھی حق ہے جیساکہ مردوں کا ان پر حق ہے (البقرہ 228) دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یعنی وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو (الاعراف۔189) عمل کے معاملے میں عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں چنانچہ جو جیسا کریگا اس کے مطابق اس کا اجر پائے گا،اس معاملے میں عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے اچھا ہو۔حدیث کے مطابق بیوی کے اوپر شوہر کا سب سے زیادہ حق ہے مگر وہ اپنی بیوی کے لئے خدا کے مثل نہیں ہے اور ناہی بیوی اس کی لونڈی ہے اسے ہر طرح کی عبادت کرنے کا حق ہے عبادت کے معاملے میں بیوی کے لئے شوہرسے اجازت لینے کی ضرورتن نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کے بیوہ ہونے پر اس کو دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے اور ایک نئی زندگی جینے کی ترغیب دیتا ہے۔

کلمہ اختتامیہ:
مطالعہ ادیان ومذاہب کے دو مقصد ہوسکتے ہیں چنانچہ ان میں سے پہلا مقصد یہ ہے کہ اس کے مطالعہ سے ایک مسلمان کاایمان اپنے دین پر مزید راسخ ہو اور اسکا ثبوت حضرت عمرؓ کا ایک قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ جس نے جاہلیت کو دیکھا اور اس کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہواتو اس کا ایمان اور اس کا اسلام اس شخص کے مقابلے میں جس نے جاہلیت کی بد اعمالیوں اور اس کی سختیوں کو نہیں دیکھا ہے زیادہ بہتر،مضبوط اور راسخ ہے چنانچہ مطالعہ ادیان ومذاہب سے ہمارے دلوں میں اسلام کے دین یسر ہونے کا یقین بھی مضبوط ہو جاتا ہے اور دیگر ادیان ومذاہب میں عبادات و رسومات اور ان کے تصور نجات کے مطالعہ کے بعد اسلامی عبادات اور اس کے تصور نجات نہایت آسان اور ہلکے معلوم ہوتے ہیں۔مطالعہ ادیان و مذاہب کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مختلف ادیان ومذاہب اور نظریات کے ماننے والے رہتے ہیں۔چنانچہ اس کے ذریعہ سے ہم ان سے بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں اور پر امن زندگی گذار سکتے ہیں۔ اس کا آخری اور سب سے بڑا مقصد تبلیغ دین ہے چنانچہ ہمیں اپنے آس پڑوس میں رہنے والے ہندو بھائیوں اور خاص طور پر ان لوگوں تک جو ادیا ن مذاہب کی چکی میں پیسے جا چکے ہیں اور جن پر ہر داور اور ہر زمانے میں ظلم وناانصافی کو روا رکھا گیاہے۔ ان تک اسلام کی تعلیمات کو عملی طور پر پہونچانے کی ضرورت ہے اور انہیں اسلام کے تصور مساوات،اسلام میں عبادات اور اس کے دین یسر ہو نے کے دعوی سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور خود ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اور اپنے اخلاق و کردار کے زریعہ ان ہندو بھائیوں کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے جو مسلمانوں سے خائف اور ڈسرے ہوئے ہیں یا پھر اسلام سے بد گمان ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندی تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور اس کے محکم اصولوں کو بحسن و خوبی پہو نچائیں اور آج انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان دین عند اللہ الاسلام(آل عمران۔19۔پارہ 3) کہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو وہ اسلام ہے اسی پر عمل پیرا ہوکر اور اس کی تعلیمات کو دل و جاں سے لگا کر ہی نجات کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔

ماخذ : مضامین ڈاٹ کام 


کتابیات
(1)who invented hinduism by david n. lorenze
(2) دنیا کے بڑے مذہب عماد الحسن فارقی
(3)ہندوستانی سیاسی نظام کا تدریجی ارتقاء ایچ این سنہا (قومی کونسل برائے فروغ اردو زباں)
(4)مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ مولانا انیس احمد فلاحی
(5) تقابل ادیان مولانا محمد یوسف خان
(6) ہندومت اول و دوم خدا بخش اورنٹیل لائبرری پٹنہ
(7) کچھ ہندومت کے بارے میں خدا بخش لائبرری
(8) ہندی فلسفہ کے عام اصول شیو موہن لعل ماتھر
(9) قدیم ہندی فلسفہ شیو موہن لعل ماتھر
(10) دبستان مذاہب کی خسرو اسفندیار(تعلیقات رشید احمد جالندھری لاہور) (11)اسلام اور ہندو دھر م کی مشترکہ باتیں ڈاکٹر ذاکر نائک(12) مذاہب میں عورت کا مقام محمد یونس قریشی
(13) ہندستانی مذاہب میں توحید رسالت اور آخرت کا تصور پروفیسر محمد مشتاق احمد تجاروی (14)گگن کا مذاہب نمبر اڈیٹر شمس کنول
(15) ہندو مذہب مطالعہ اور جائزہ پروفیسر محسن عثمانی ندوی
(16) ترجمہ قرآن مولانا مودودی ؒ
(17)صحیح بخاری جلد دوم کتاب الحدود
(18) اسلام میں عدل اجتماعی سید قطب شہید
(19) اسلام کا تصور مساوات مولانا سلطان احمد اصلاحی
(20)ریاض الصالحین۔باب بر الوالدین الامام النووی
(21)الجامع الصغیر وزیادتہ علامہ ناصرالدین البانی
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی