زعفران - کاشت، پیداوار اور فوائد

تحریر: عفت بتول

0 804

ایک مریضہ کو کئی پہروں نیند نہیں آتی تھی ۔ خواب آور گولیاں کھائیں۔ ٹیکے استعمال کئے مگر وہ بھی بے اثر ثابت ہوئے۔ مریضہ کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ آخر ایک بزرگ خاتون کے مشورے پر زعفران، افیون اور دار چینی کی برابر مقدار لے کر روغنِ گل میں پیس کر  تیار کیا جانے والا آمیزہ اس کے چہرے پر لگایا گیا ۔ یہ اس قدر زور اثر تھا کہ مریضہ چند منٹوں میں سکون سے سو گئی۔

یہ کرشمہ زعفران کا تھا جو اپنی خصوصیات کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہے۔ زعفران سکون آور ہے۔ انسان کو فرحت و سرور بخشتی ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص کو نو(9) ماشے زعفران کھلا دی جائے تو اتنا خوش ہوگا کہ ہنستے ہنسے مر جائیگا لیکن اس کا حقیقت سے تعلق نہیں البتہ زعفران فرحت بخش ہے تاہم اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

زعفران کو ہندی میں کیسر، کیشر، عربی اور اردو میں زعفران۔ لاطینی میں کروکس سیٹوس اور انگریزی میں سیفرون کہتے ہیں۔ زعفران کا پودا جنس سوس (Iris) سے تعلق رکھتا ہے جس کے پودے شمشیر نما ہوتے ہیں اور پر خوشنما پھول لگتے ہیں۔ زعفران پر ازغوانی پھول کھلتے ہیں جن کے سر بقچوں (Stigmas) کو ہم مختلف انداز سے استعمال کر سکتے ہیں۔ زعفران ہندوستان میں زمانہ قبل از مسیح سے مستعمل ہے۔ ہندو اسے پوجا پاٹ، مذہبی رسوم اور شادہ بیاہ کے موقعوں پر استعمال کرتے تھے۔ ہندو ماتھے پر اس کا ٹیکہ بھی لگاتے ہیں۔ چاولوں، حلوہ جات اور مٹھائیوں کو رنگ دینے اور مہکانے کے لئے زعفران استعمال ہوتی ہے۔ قدیم یونانی اسے بطور دوا اور خوشبو استعمال کرتے تھے۔

زعفران کم سرد اور کم پانی والے علاقوں میں بخوبی نشونما پاتی ہے۔ اس کی کاشت ہسپانیہ ، فرانس، اٹلی، ترکی، ایران اور بھارت میں کی جاتی ہے۔ ایشیاء میں ایران اور بھارت کے علاوہ کہیں نہیں پائی جاتی، تاہم پاکستان کے ان علاقوں میں اسے اگانے کی کوششیں جاری ہیں جہاں کا موسم اس کے مزاج سے مطابقت رکھتا ہوں۔

کشمیر کا ایک خطہ پام پور اور جموں کا علاقہ کشواڑ زعفران کی کاشت کے لئے مشہور ہے جہاں  مغلیہ دور میں بڑے اہتمام سے زعفران کی کاشت ہوتی تھی۔ اس کا پھول نہایت خوبصورت ہوتا ہے جس میں تین لمبے بقچے ہوتے ہیں۔ جس دن پھول کھلے اس دن بقچے اکھٹے کر کے خشک کر لئے جاتے ہیں۔ سلطنت مغلیہ کے حکمران زعفران کی خوبیوں کے قائل تھے، شہنشاہ بابر نے اپنے "بابر نامے" ، جہانگیر نے "تزک جہانگیری" اور ابوالفضل نے" آئین اکبری" میں کشمیری زعفران کی لکھی ہے۔ آئین اکبری میں لکھا ہے زعفران کا کھیت اتنا خوشنما منظر پیش کرتے ہیں کہ اسے دیکھ وہ لوگ بھی خوش ہوجاتے ہیں جنہیں کسی طرح خؤش نہیں رکھا جا سکتا ۔ ہنستے مسکرانے کی بات ہو یا خؤشی کا اظہار مقصود ہو تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے آنے سے یا اس کی فلاں بات سے محفل کشتِ زعفران بن گئی۔ اس محاورے کے پس منظر میں زعفران کے کھیتوں کی خوبصورتی مضمر ہے ۔ زعفران کے کھیت اسی لئے 'دیوارِ قہقہہ' بھی کہلاتے ہیں۔

اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں زعفران کے کھیتوں میں رونق ہوتی ہے۔ سری نگر سے تقریباً گیارہ میل کے فاصلہ پر موضع پام پورہ سے آگے زعفران کا خطہ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں سیاحوں کے لئے پرکشش ترین علاقہ ہوتا ہے۔ ہزاروں سیاح زعفران کے لہلہاتے ہوئے کھیت دیکھنے آتے ہیں لیکن یہ منظر صرف چند ہفتوں تک دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ پھر زعفران کی فصل تیار ہوکر فروخت ہوچکی ہوتی ہے۔

زعفران خشک زمین پر پیدا ہوتی ہے اور اور دھوپ میں اس کا رنگ نکھرتا ہے۔ بیج کے طور پر زعفران کی گانٹھیں لگائی جاتی ہیں جو بارہ برس تک خودبخود بڑھتی اور نئے پودے پیدا کرتی رہتی ہیں۔ تخم ریزی اگست کےمہینے میں ہوتی ہے۔

اکتوبر کے آکر یا نومبر کے وسط تک فصل بالکل تیار ہوجاتی ہے۔ پھول پکنے پر مزدور احتیاط سے پھول توڑتے ہیں۔ انہیں صبح سویرے اس وقت توڑا جاتا ہے جب وہ نیم وا ہوتے ہیں۔ پھر چٹائیوں پر بکھیر کر سُکھایا جاتا ہے۔ سکھانے کے بعد ہر پھول کی تین لمبی نالیاں یعنی بقچے نوچ لئے جاتے ہیں جس سے اول ورجہ کی شاہی زعفران بنتی ہے۔ اس عرفِ عام میں "مونگرار زعفران" کہتے ہیں۔ اور درجے کی زعفران کی پہچان یہ ہے کہ اس کا رنگ شوخ سرخ، بالیاں الگ الگ دکھائی دیں اور خؤشبودار بھی ہو۔

پھول کی ڈنڈی کے اند بقچوں کا زیریں حصہ ہوتا ہے جس کی رنگت سرخ مائل زرد ہوتی ہے، یہ زعفران کا لچھا کہلاتی ہے۔ اسے بھی بطور زعفران استعمال کیا جا سکتا ہے مگر مونگرا زعفران کی نسبت اس کی قدر و قیمت کم ہے۔ مونگرا اور لچھا نکال لینے کے بعد پھولوں کو سٗکھایا جاتا ہے۔ سُکھانے کے بعد انہیں ہلکی سی چھڑی سے کوٹتے ہوئے اور پھر چھاج میں ڈال کر پھٹک لیتے ہیں تاکہ پھول کی پتیاں اور فالتوں ٹکڑے علیحدہ ہو جائیں۔ بعد میں انہیں پانی میں ڈالتے ہیں جس سے پھولوں کی بیضہ دانی کے ٹکڑے جو بھاری ہوتے ہیں پانی کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ ہلکے ٹکڑے اوپر ہی رہتے ہیں۔ اوپر تیرنے والے ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے سکھاتے ہیں جس سے دوسرے درجے کی زعفران بنتی ہے۔ تہہ نشین ٹکڑوں کو سکھانے سے تیسرے درجے کی زعفران بنتی ہے ۔

ایک ایکٹر زمین سے قریبا 10 کلوگرام زعفران حاصل ہوتی ہے

زعفران قیمتی شے ہے لہذا اس کا حالص ملنا محال ہے ۔ اس کے تاجر عموماً اس میں ملاوٹ کرکے بھاری رقم کماتے ہیں۔ قدیم زمانے میں ایسے بددیانت تاجروں کو بھیانک سزا ملتی تھی مثلا ایک شخص کو مع ملاوٹ شدہ زعفران زمیں میں دفن کر دیا گیا۔ ملاوٹ کے لئے عموما اس میں انار کا ریشہ استعمال ہوتا ہے۔

اصلی اور نقلی زعفران کی پہچان یہ ہے کہ اصلی زعفران کا ذائقہ خوشگوار جبکہ ملاوٹ شدہ کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔

زعفران دنیا کا مہنگا ترین مسالا ہے۔ ایک کلوگرام زعفران جمع کرنے کے لئے ایک لاکھ پچاس ہزار پھول اور تقریباً چار سو گھنٹے کی محنت چاہیئے۔

زعفران کے فوائد
  • یہ انسانی رنگت کو نکھارتی ہے ، اسے مناسب مقدار میں کھانے سے چہرا چاند کی مانند روشن ہو جاتا ہے۔ جلدی امراض کے لئے مفید ہے۔
  • سر کے امراض کے لئے بھی اکسیر ہے۔
  • گردے ، مثانے اور جگر کو قوت دیتی ہے۔
  • نظام تنفس کو درست کرتی اور ان اعضا کو قوت بخشتی ہے جو انسان کو سانس لینے میں مدد دیتے ہیں۔
  • ورم اور ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔
  • گردے کا درد دور کرتی ہے۔
  • امراضِ چشم کے لئے مفید ہے، آنکھ کے درد اور سرخی کو ختم کرتی اور بینائی کو تیز کرتی ہے۔
  • جہاں زعفران رکھی ہو وہاں چھپکلی نہیں آتی (اگر آپ کو چھپکلیوں سے پریشانی ہے تو)۔
  • مقوی معدہ ہے مگر بھوک کم کرتی ہے۔
  • حاملہ خاتون کو چار ماشے زعفران پلانے سے زچگی میں آسانی ہوتی ہے۔ اگر پلانا ممکن ہو تو دو اڑھائی تولہ زعفران حاملہ کی مٹھی میں بند کر دیں۔ جب گرمی سے ہاتھ میں نمی آ جائے گی تو بچہ آسانی سے پیدا ہوگا۔
  • دل و دماغ کو تقویت پہنچاتی ہے۔
  • چیچک و خسرہ میں رکے ہوئے تمام دانوں کو جلد ظاہر کرنے کےلئے اس کا استعمال مفید ہے۔
  • اعلی قسم کے رنگوں میں استعمال ہوتی ہے۔
  • کھانسی ، نزلہ اور دمہ کے لئے مفید ہے۔
  • گٹھیا اور اعصاب کے امراض کے لئے مفید ہے۔
  • اگر بچوں کو اسہال ہوتو زعفران گھی میں ملا کر دینے سے رک جاتے ہیں۔
  • بواسیر میں افاقے کا باعث ہے۔
  • تشنج کو دور کرنے کے لئے بے حد مفید ہے۔
  • ہاضم ہے، کھانا کھانے کی رغبت بڑھاتی ہے۔
  • بالوں، ناختوں اور عمدہ کپڑا رنگنے کئے لئے استعمال ہوتی ہے ۔
"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی