علوم جدیدہ اور مذہب

ماخذ:۔ علم الکلام و الکلام از علامہ شبلی نعمانی۔

0 176

تمام دنیا میں ایک غل مچ گیا ہے کہ "علوم جدیدہ اور فلسفہ جدیدہ نے مذہب کی بنیادمتزلزل کر دی ہے۔ فلسفہ اور مذہب کے معرکہ میں ہمیشہ اس قسم کی صدائیں بلند ہوتی رہی ہیں، اور اس لحاظ سے یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ لیکن آج یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلسفہ قدیمہ قیاسات پر مبنی تھا اس لئے مذہب کا استیصال نہ کر سکا۔ بخلاف اس کے فلسفہ جدیدہ تمام تر تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی ہے اس لئے مذہب کسی طرح اس کا مقابلہ میں جان بر نہیں ہو سکتا۔

علوم جدیدہ اور مذہب:
یہ ایک عام صدا ہے جو پورپ سے اٹھ کر تمام دنیا میں گونج اٹھی ہے لیکن ہم کو غور دیکھنا چاہیئے کہ اس واقعیت میں مغالطہ کا کس قدر حصہ شامل ہو گیا ہے۔ یونان میں فلسفہ ایک مجموعہ کا نام تھا جس میں طبیعات، عنصریات، فلکیات، الہٰیات، مابعد الطبیعات سب کچھ شامل تھا۔ لیکن یورپ نے نہایت صحیح اصول پر اس کے دو حصے کر دیئے۔ جو مسائل مشایدہ اور تجزبہ کی بنا پر قطعی اور یقینی ثابت ہو گئے ان کو سائنس کا لقب دیا جو مسائل تجربہ اور مشاہدہ کی دسترس سے باہر تھے ان کا نام فلسفہ رکھا۔

مسائل جدیدہ کی نسبت یہ عام خیال جو پھیلا ہوا ہے کہ وہ قطعی اور یقینی ہیں اس میں پہلی غلطی یہ ہے کہ جو چیزیں قطعی اور یقینی ہیں وہ صرف سائنس کے مسائل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ان کی نسبت طبقہ علماء میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ۔ لیکن فلسفہ کی یہ حالت نہیں ہے۔ پورپ میں آج فلسفہ کے بیسوں اسکول ہیں، اور ان میں شدت سے اختلاف ہے کہ اگر ان سب کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک ہی چیز سفید بھی ہو سکتی ہے اور سیاہ بھی۔

اب دیکھنا چاہیئے کہ سائنس کو مذہب کیا تعلق ہے؟ سائنس جن چیزوں کا اثبات یا ابطال کرتا ہے مذہب کو ان سے مطلق سروکار نہیں ، عناصر کس قدر ہیں؟ پانی کن چیزوں سے مرکب ہے؟ ہوا کا کیا وزن ہے؟نور کی یا رفتار ہے؟ زمین کے کس قدر طبقات ہیں؟ یہ اور اس قسم کے مسائل ، سائنس کے مسائل ہیں، مذہب کو ان سے کچھ سروکار نہیں ، مذہب جن چیزوں سے بحث کرتا ہے وہ یہ ہیں، خدا موجود ہے یا نہیں؟مرنے کے بعد اور کسی قسم کی زندگی ہے یا نہیں؟خیر و شر نیکی و بدی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ ثواب یا عذاب ہے یا نہیں؟۔۔۔۔ ان میں سے کونسی چیز ہے جس کو سائنس ہاتھ لگا سکتا ہے؟ سائنس کے اساتدہ نے جب کہا ہے تو یہ کہا ہے کہ ہم کو ان چیزوں کا علم نہیں یا یہ یہ چیزیں مشاہدہ اور تجربہ کے احاطہ سے باہر ہیں یا یہ کہ ہم ان باتوں کا یقین نہیں کرتے کیونکہ ہم صرف ان باتوں کا یقین کرتے ہیں جو تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہو سکتی ہیں کوتاۃ عدم علم سے علم عدم جاتے ہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ ہم کو یہ چیزیں معلوم نہیں کوتاہ میں کے یہ معنی لیتے ہیں کہ ہم کو ان چیزوں کا نہ ہوتا معلوم ہے۔ حالانکہ دونوں باتوں میں زمین آسمان فرق ہے۔

یورپ میں تقسیم عمل کے اصول پر عمل ہے۔ یعنی تمام اہل فن نے اپنے اپنے کام تقسیم کر لئے ہیں اور پر فرقہ اپنے کام میں اس طرح مشغول ہے۔ اس کو دوسری چیزوں سے مطلق عرض نہیں۔ اس میں سے ایک فرقہ مادیئین (Materialist)ہے جس کا موضوع بحث مادہ ہے اس گروہ نے مادہ کے متعلق عجیب عجیب اسرار معلوم کئے ہیں ۔ یہی فرقہ ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب کا، خدا کا، روح کا منکر ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ان باتون کا منکر نہیں بلکہ یہ کہتا ہے کہ ان چیزوں کا ثبوت ہمارے دائرہ تحقیقات سے باہر ہے۔ پروفیسر لیتریہ( Lhttre) جو اس گروہ کا بہت بڑا عالم ہے لکھتا ہے کہ "چونکہ ہم کائینات کے آٖغاز و انجام سے ناواقف ہیں اس لئے ہمارا یہ منصب نہیں کہ کسی ازلی یا ابدی وجود کا انکار کریں جس طرح ہمارا یہ کام بھی نہیں کہ ہم اس کو ثابت کریں۔ مادی مذہب اپنے آپ کو عقل اول کے وجود کی بحچ سے بالکل الگ رکھتا ہے کیونکہ اس کا اس کے متعلق کسی قسم کا علم نہیں ہم حکمت الٰہی کے نہ منکر ہیں نہ مثبت۔ ہمارا کام نفی و اثبات سے بالکل الگ رہنا ہے۔

فرانس کے ایک طبی رسالہ میں ایک دفعہ ایک مضمون چھپا تھا کہ "ادراک اور فکر اس فاسفورس سے پیدا ہوتا ہے جو دماغ میں ہے اور فضائل انسانی مثلاً شجاعت، شرافتِ نفس، یہ سب اعضائے انسانی کی کہربائی تموجات ہیں"، اس پر فرانس کے ایک مشہور فاضل کامل فلامربان نے جو طبیعات کا بڑا ماہر ہے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے مضمون نگار سے اس طرح خطاب کیا :-

" یہ کس نے تم سے کہا؟ لوگوں کو گمان ہو گا کہ تمھارے استادوں نے تم کو یہ سکھایا ہو گا۔ لیکن یہ گمان صحیح نہیں ، میں نہیں جانتا کہ یہ بیہودہ دعویٰ زیادہ تر قابل تعجب ہے آیا مدعیان علم کی جرات؟ نیوٹن جب کوئی مسئلہ بیان کرتا تھا تو کہتا تھا کہ "بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے", کپلر کہا کرتا تھا" تم ان چیزوں کو فرض کر لو"۔۔۔ بخلاف اس کے تم لوگ کہتے ہو کہ"ہم ثابت کرتے ہیں۔۔ ہم باطل کرتے ہیں۔۔ یہ موجود ہے یہ معدوم ہے۔۔ علم نے یہ فیصلہ کر دیا ۔۔ علم نے یہ ثابت کر دیا ہے۔" حالانکہ تمھارے ان دعووں میں علمی دلائل کی جھلک بھی نہیں ۔ تم اپنی حماقت سے دلیری کر کے علم پر اس قدر بڑا بار ڈال دیتے ہو جو باتیں تم کہتے ہواگر علم کے کان میں پڑ جائیں ( اور پڑنی ہی چاہیئں، تم کہ تم علم کے فرزند ہو) تو تمھاری حماقت پر اس کو بھی ہنسی آجائے گی۔ تم کہتے ہو کہ "علم مثبت ہے۔ نافی ہے۔ عامر ہے۔ناہی ہے" یہ باتیں کہہ کر غریب علم کے ہونٹوں پر ایسے بڑے بڑے بھاری الفاظ رکھ دیتے ہو جس سے ممکن ہے کہ اس کے دل میں غرور آ جائے ۔ عزیزو! علم ان مسائل میں سے نہ کسی کا اثبات کرتا ہے نہ انکار"۔

یہ ہے ماہرین فن کی رائے لیکن بعض کم درجہ کے مادیین Materialist اپنی حد سے بڑھ کر نفی کا دعویٰ بھی کر بیٹھتے ہیں اور انہی کی طمع کاریاں ہیں جس نے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے ، اس لئے ہم کو زیادہ غور و فکر سے دیکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے دعویٰ کس قسم کے دلائل قائم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر شفلر shefflerkکہتا ہے کہ روح مادہ ہی کی ایک قوت کا نام ہے جو اعصاب سے پیدا ہوتی ہے،ویرشو کا قول ہےکہ"روح ایک قسم کی میکانکل حرکت ہے"۔ بوشنرBchnerکہتا ہے کہ "انسان صرف مادہ کا ایک نتیجہ ہے"۔ دویمواریمون Sumobois Reymondکہتا ہے کہ

"تمام اعصاب میں ایک کہربائی تموج پایا جاتا ہے، اس جس کو فکر کہتے ہیں، وہ مادہ اسی ہی ایک حرکت کا نام ہے ۔دو ترشیہ Duoutrochetجو فریکل سائنس کا ایک بہت بڑا عالم ہے کہتا ہے کہ "زندگی فطرت کا کوئی اصل قائدہنہیں۔ بلکہ ایک اتفاقی استثنا ہے جو مادہ کے عام اصولوں کے مخالف ہے ۔ فرانس کے ایک مشہور میگزین نے ایک مضمون میں بیان کیا تھا کہ دماغ میں جو فاسفورس ہے فکر اسی کا ایک نتیجہ ہے اور جس چیز کو اخلاص ، شجاعت اور فضلیت کہتے ہیں وہ اعضائے جسمانی کی کہربائی موجیں ہیں"۔

کیا یہ رائیں قطعیات میں شمار ہو سکتی ہیں؟ کیا ان کی بنا پر یہ دعوٰ کیا جا سکتا ہے کہ علوم جدیدہ نے روح بالکل کو ثابت کر دیا ہے۔ حقیقیت یہ ہے کہ مذہب اور سائنس کے حدودبالکل الگ الگ ہیں۔ سائنس کو جو موضوع ہے مذہب کو اس کے واسطہ نہیں۔ اور مذہب کو جن چیزوں سے بحث ہے، سائنس کو ان سے کچھ غرض ہیں۔ فلسفہ البتہ کہیں کہیں مذہب سے ٹکرا جاتا ہے۔ لیکن قطعیات اور یقنینیات میں اس کا شمار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے مختلف سکول ہیں اور ان اسکولوں میں باہم نہایت سخت مخالف ہے ان میں سے بعض خدا کے منکر ہیں تو بہت سے خدا کے قائل بھی ہیں وجود روح کے مقر بھی ہیں اور منکر بھی۔ اخلاق کے اصول ایک فرقہ کے نزدیک کچھ ہیں اور دوسرے کے نزدیک کچھ اس حالت میں مذہب اس لحاط سے مطمئن رہتا ہے کہ
چوددیدی کہ دردشمن افتاد جنگ
خلط مبحث اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنس اور مذہب دونوں میں کوئی اپنی حد سے بڑھ کر دوسرے کی حد میں قدم رکھتا ہے اور یہی خلط مبحث تھا جس نے ملاحدہ اور منکرین مذہب کے خیالات کو قوت دی۔بلکہ درحقیقت اس خلط مبحچ نے الحاد اور بے دینی کے خیالات پیدا کر دیئے ۔ یورپ میں پہلے مذہب کو اس قدروسیع کر دیا گیا تھا کہ کسی قسم کا کوئی علمی مسئلہ مذہب کے دست اندازی سے نہیں بچ سکتا تھا ، چنانچہ حاص اس مقصد کی غرض سے سپین Spainمیں مجلس انکویزیشن قائم ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مذہب کے خلاف کچھ کہتے ہون ان کی تحقیقات کرے اور ان پر کفر اور ارتداد کا الزام لگائے ، چنانچہ اٹھارہ برس میں یعنی 1480ء سے لے کر 1498دس ہزار دو سو بائیس 10222 آدمی ارتداد کے الزام میں زندہ جلا دیئے گئے اس مجلس نے ابتدائے قیام سے اخیر زمانہ تک تین لاکھ چالیس ہزار آدمیوں کو کافر و ملحد قرار دیا جس میں سے ایک لاکھ آگ میں جلا دیئے گئے۔
جس قسم کی باتوں پر کفر کا الزام لگا یا جاتا تھا اس کا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہوگا، کوپر نیکس نے نظام بطلیموسی سے انکار کر کے یہ ثابت کیا کہ زمین اور چاند وغیرہ آفتاب کے گرد گھومتے ہیں۔ اس پر مجلس انکویزیشن نے فتویٰ نافذ کیا کہ یہ رائے کتاب مقدس کی مخالف ہے اور اس بنا پر کوپر نیکس مرتد اور کافر ہے۔

گلیلوؔ نے جو دوربین کا موجد گزرا ہے ، ایک کتاب کوپرنیکس کی حمات میں لکھی جس میں ثابت کیا کہ زمین آفتاب کے گرد گھومتی ہے ۔ اس پر مجلس انکویزیشن نے فتویٰ دیا کہ وہ مستوجب سزا ہے چنانچہ اس کو گھٹنوں نے بل کھڑا کر کے اس مسئلہ پر انکار کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن وہ اپنے عقیدے پر قائم رہا تو قید خانہ بھیج دیا۔ اور دس سال تک محبوس رہا.
کولمبس نے جب کسی نئے جزیرہ کے دریافت ہونے کی امید پر سفر کرنا چاہا تو کلیسا نے فتویٰ دیا کہ اس قسم کا ارادہ مذہب کے خلاف ہے۔ زمین کے کروی ہونے کا خیال جب اول اول ظاہر کیا گیا تو پادریوں نے سخت مخالفت کی کہ یہ اعتقاد کتاب مقدس کے خلاف ہے۔

غرض ہر قسم کی علمی ایجادات اور اکتشافات پر پادریوں نے کفر و ارتدار کے الزام لگائے تاہم چونکہ علمی ترقی کا اٹھان تھا ا ن کی کوششیں بے کار گئیں اور علوم و جنون تکفیروں کے سایہ میں پھولے اور پھلے۔
پادریوں کے تعصبات اور وہم پرستی اگرچہ علم کو دبانہ سکے لیکن اس کا نتیجہ ہوا کہ علمی گروہ نے پادریوں ہی کے خیالات اور اوہام کو مذہب سمجھا اور اس بنا پر نہایت مضبوطی سے ان کی رائےقائم ہو گئی مذہب جس چیز کا نام ہے۔ وہ علم اور حقیقت کے خلاف ہے۔ یہی ابتدائی خیال ہے جس کی آواز باز گشت آج تک یورپ میں گونج رہی ہے۔
بے شبہ اگر مذہب اسی چیز کا نام ہے تو سائنس کے مقابلہ میں کس طرح نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن اسلام نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہانتم اعلم باموردنیاکم یعنی تم لوگ دنیا کی باتیں خود خوب جانتے ہو"۔ یہ ظاہر ہے کہ سائنس اور تمام علوم جدیدہ اسی دنیا سے متعلق ہیں اور آخرت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
اس موقع پر یہ نکتہ لحاظ کے قابل ہے کہ اسلام میں سینکڑوں فرقے پیدا ہوئے اور ان میں اس قدر اختلاف رہا کہ اس نے دوسرے کی تکفیر کی، یہ تکفیر بڑے بڑے مسائل پر محدود نہ تھی بلکہ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کو اسلام کے دائرے سے خارج کر دیتا تھا۔ یہ سب کچھ ہوا لیکن علمی تحقیقات اور اکتشافات کی بنا پر کبھی کسی شخص کی تکفیر نہیں کی گئی۔ قدمائے مفسرین کا خیال تھا کہ پانی آسمان سے آتا ہے یعنی آسمان پر ایک دریا ہے ، بادل اسی سے پانی لیتے ہیں اور برساتے ہیں آفتاب ، پانی کے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے ۔زمین مسطح ہے کروی نہیں، ستارے جو ٹوٹتے ہیں شیاطین کے شعلہ ہائے آتشیں ہیں، مفسرین ان تمام باتوں کو قرآن کے نصوص سے ثآبت سمجھتے تھے۔ چنانچہ امام رازی نے مفسرین قدیم کے یہ تمام اقوال تفسیر کبیر میں نقل کیے ہیں۔
لیکن جب عباسیوں کاعلمی دور آیا اور فلسفہ اور طبیعات نے ترقی کی تولوگوں نے ان خیالات کی مخالفت کی۔ باوجود اس کے خود مفسرین کے گروہ میں سے ایک شخص نے بھی ان لوگوں کو کافر و منکرِ قرآن نہیں کہا، معتزلہ کو محدثین اس بنا پر کافر کہتے تھے کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، لیکن اس بنا پر کوئی ان کو کافر نہیں کہتا کہ وہ جادو کی حقیقت سے منکر ہیں، غرض جس حد تک تحقیق و تفشیش کی جائے۔ عموماً یہ ثابت ہو گا کہ مسلمانوں نے علمی تحقیقات اور ایجادات کو کھبی مذہب کا حریف و مقابل نہیں سمجھتا بلکہ محققین نے صاف تصریح کر دی کہ اسبابِ کائنات اور مسائل ہییت وغیرہ نبوت کی سرحد سے بالکل الگ ہیں اورانبیاء علیہ السلام کو تہذیب اخلاق کے سوا کسی چیز سے غرض نہیں۔
شاہ ولی اللہ صاحب حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں:۔

"انبیاء کا ایک اصول یہ ہے کہ جو امور تہذیب نفس اور قوم کی سیاست سے تعلق نہیں رکھتے ام مین مشغول نہیں ہوتے، مثلاً بارش، گرہن اور ہالہ کے اسباب بیان کرنا یا نباتات اور حیوانات کے عجائبات یا چاند سورج کی رفتار یاروزانہ حوادث کے اسباب یا انبیاء و سلاطین کے قصے یا شہرون کے حالات بیان کرنا، ان چیزوں سے وہ بحث نہیں کرتے ۔ اگر ہاں چند معمولی باتیں جن سے لوگوں کے کان آشنا ہو چکے ہیں ان کی عقلوں نے ان باتوں کو قبول کر لیا ہے، ان باتوں کو بھی انبیاء علیہم اجمعین خدا کی شان اور قدرت کے ذکر میں ضمنی طور پر اجمالاً بیان کرتے ہیں، اور اسمیں مجاز اور استعارہ سے کام لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب لوگون نے آپ ﷺ سے چاند کے بڑھنے اور گٹھنے کی علت دریافت کی تو خدا نے ان کے جواب س اعراض کیا، اور اس کے بجائے مہینوں کی تعین کا فائدہ بیان کیا کر دیا"۔

شاہ صاحب نے انبیاء کی تعلیم کا جو اصول بتایا ہے اس کے بعد کون کر سکتا ہے کہ مذہب اسلام کر سائنس اور علوم جدیدہ سے کسی قسم کے خطرہ پہنچنے کا احتمال ہے۔

بلاگ تحاریر بذریعہ ای میل
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی
آپ ہمیں سوشل میڈیا پربھی جوائن کر سکتے ہیں
شکریہ