اقبالیات 2017 ء : نئی کتابوں کا تعارف

0 424
اقبالیات ۲۰۱۷ء: چند جھلکیاں

(نئی کتابوں کا تعارف)

یہ مضمون۲۰۱۷ء کی تاحال دستیاب کتابوں اوررسائل کے اقبال نمبروں کے تعارف پرمشتمل ہے۔اس میں دو،تین ایسی اہم کتابوں کاتعارف بھی شامل کیاجارہاہے،جو۲۰۱۷ء سے پہلے کی ہیں۔ان کی اہمیت کے پیش نظرانھیں نظراندازکرنامناسب نہیں معلوم ہوا۔ واضح کردوں کہ یہ کتابوں کا فقط تعارف ہے۔ جسے کتابوں کی نوعیت کے اعتبار سے ۸عنوانات کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔

۱۔ تصانیفِ اقبال
علامہ اقبال کی اردو نثر مع حواشی و تعلیقات میں پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم نے اقبال کی منتخب ۱۲؍نثری تحریروں پر تحقیق کی تھی۔ہرتحریر کے پس منظر کے ساتھ اختلافاتِ متن کی نشان دہی بھی کی ۔اقبال کی نثری تحریریں(مضامین اوردیباچے)باربارشائع ہوتے رہے۔ شاکر صاحب نے مختلف اشاعتوں کے گوشوارے مرتب کیے مگر ان کی حینِ حیات کتاب غیر مطبوعہ رہی۔ اب ڈاکٹرخالد ندیم صاحب نے اسے حواشی وتعلیقات کے ساتھ مرتب اورمدوّن کرکے کتاب کی قدروقیمت میں اضافہ کیا ہے۔علامہ اقبال کی نثرپرتحقیق وتنقیدکرنے والوں کے لیے یہ ایک قیمتی ماخذ ہے۔کتاب بڑے اہتمام سے اشاعت و طباعت کے اعلیٰ معیارپرشائع کی گئی ہے۔متعددعکس بھی شامل ہیں۔(ناشر: کتاب سرائے لاہور )

۲۔ تراجم
اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد نے علامہ اقبال کی منتخب نظمیں کے عنوان سے آٹھ علاقائی زبانوں(بلوچی،براہوی،پشتو، پنجابی، سندھی، بلتی،ہندکو،سرائیکی)میں اقبال کی گیارہ منتخب نظموں کے تراجم شائع کیے ہیں۔اردو نظموں کا انتخاب پروفیسر جلیل عالی اور ڈاکٹر توصیف تبسم نے کیا ہے۔اکادمی کے صدر نشین محمد قاسم بگھیو صاحب نے دیباچے میں لکھا ہے: ’’ بعض ایسی بھی پاکستانی زبانیں ہیں جن میں اقبال کی شاعری کے ابھی تک تراجم نہیں ہوئے ۔۔۔بعض زبانوں میں اقبال کے تراجم کی یہ پہلی کاوش ہے۔‘‘ یہ بیان درست نہیں ہے۔ آٹھ زبانوں میں اس سے پہلے بھی کلام اقبال کے تراجم ملتے ہیں اور کلی یا جزوی ترجمے شائع بھی ہوچکے ہیں بلکہ بعض نظموں کے ترجمے تو ایک سے زائد بھی کیے گئے ہیں۔
محمد افسر رہبین نے بال جبریل اور ضرب کلیم کے فارسی تراجم تہران سے شائع کیے ہیں مگر تراجم ناقص ہیں ۔ مترجم اردو زبان وادب سے مناسب واقفیت نہیں رکھتے اور ان میں ایک اچھے ترجمہ نگار کی صلاحیت کی بھی کمی محسوس ہوتی ہے، اس لیے بات نہیں بن سکی۔

۳۔ کتبِ حوالہ
حوالہ جاتی کتابوں میں کامران اعظم سوہدروی کی مرتبہ کلیدِ کلیاتِ اقبال (اردو)ایک مفید اضافہ ہے ۔مصنف نے متداول اردو شعری مجموعوں میں مستعمل ہر لفظ یا ترکیب کے بارے میں نشان دہی کی ہے کہ وہ کس کس مجموعے کی ،کس کس غزل یا نظم میں کون سے شعر نمبر میں استعمال ہوئی۔اس طرح یہ کتاب بیک وقت الفاظ و تراکیبِ کلامِ اقبال اردو کی لغت ہے اور اشاریہ بھی۔’’ عنوانات و اصطلاحاتِ کلیاتِ اقبال‘‘ کے تحت، کلامِ اقبال کے مجموعوں ، بعض الفاظ و تراکیب، منظومات، اماکن اور شخصیات وغیرہ کی تشریحات و توضیحات حوالے کے ساتھ نسیم امروہوی کی کتاب ’’فرہنگِ اقبال اردو‘‘ سے نقل کی گئی ہیں(ص۵۲۷ تا ۶۰۴)۔اس لغت اور اشاریے میں ایک خرابی یہ ہے کہ مثلاً صفحہ ۱۷ پر بتایا گیا ہے کہ ترکیب’’ آتش زن ‘‘ جوابِ شکوہ کے ۷۳ ویں شعر میں آئی ہے۔اب آپ مذکورہ نظم کے پہلے شعر سے گنتی شروع کیجیے ،۷۳ ویں شعر تک پہنچیں گے تو گوہرِ مرادِ ہاتھ آئے گا۔ ساری طویل نظموں کے الفاظ وتراکیب کی تلاش میں یہی مشکل پیش آئے گی۔
محمد سلیم کا مرتبہ اشاریۂ اقبال کتابی دنیا دہلی سے شائع ہوا ہے۔ ابتدا میں ادبی رسائل کے اشاریے کی اہمیت و افادیت اور بطورِ خاص اقبال کے اشاریے کی ضرورت و اہمیت اور افادیت پر کلام کیا گیا ہے۔یہ اشاریہ دہلی سے شائع ہونے والے درج ذیل رسائل( ۱۹۴۷ء۔ ۲۰۰۹ء) میں شائع ہونے والی اقبالیاتی تحریروں کے حوالوں پر مشتمل ہے: ماہ نامہ ’’آج کل‘‘۔ پندرہ روزہ’’ آواز‘‘۔ سہ ماہی ’’اردو ادب‘‘۔ ماہ نامہ ’’اردو دنیا‘‘۔ ماہ نامہ ’’ایوانِ اردو‘‘۔ ماہ نامہ ’’تحریک‘‘۔ سہ ماہی ’’تناظر‘‘۔ سہ ماہی ’’ذہنِ جدید‘‘۔ سہ ماہی ’’جامعہ‘‘۔ سہ ماہی ’’عصری ادب‘‘۔سہ ماہی ’’غالب نامہ‘‘۔ سہ ماہی ’’فکر و تحقیق‘‘۔ ماہ نامہ’’ کتاب نما‘۔ ہر حوالہ مضمون کے عنوان، مضمون نگار کے نام، شمارہ، صفحات اور مضمون کی توضیح( مختصر خلاصے) پر مشتمل ہے۔آخر میں مضمون نگاروں کا اشاریہ شامل ہے ۔

۴۔ سوانح وشخصیت
عنایت علی صاحب ، ایک سینیئر انجینئر کی حیثیت سے برسوں اٹامک انرجی کمیشن کے منصوبوں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی پیشہ ورارنہ مصروفیات کے ساتھ علامہ اقبال کے پیغام اور فکر کی نشر و اشاعت اور فروغِ اقبالیات کو بھی،مقاصدِ زندگی میں شامل کررکھا ہے۔محمدحمزہ فاروقی صاحب کا مرتبہ’’ سفرنامۂ اقبال‘‘علامہ کے ۱۹۳۱ء، ۱۹۳۲ء کے سفرِ انگلستان اور مصر و فلسطین کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ عنایت صاحب نے اپنی کتاب اسفارِ اقبالمیں علامہ کے دیگر اسفار کے بارے میں تفصیل مہیا کی ہے۔انھوں نے علامہ کے احوالِ اسفار کو ترتیب زمانی میں مرتب کیا ہے۔اقبالیاتی کتابوں اور مضامین میں اسفارِ اقبال سے متعلق جو معلومات ملیں،انھیں حوالوں کے ساتھ یکجا کردیاہے۔ اس طرح اسفارِ اقبال کا ایک بہترین مرقع تیار ہوگیا ہے۔بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ اس سے قبل اس موضوع پر ایسی تفصیلی،دلچسپ اور جامع کتاب نہیں لکھی گئی۔اسفارِ اقبال سے اِس تأثر کی بھی تردیدہوتی ہے کہ علامہ اقبال’’زمیں جنبد،نہ جنبدگل محمد‘‘ کے مصداق ہر وقت گھر میں پڑے رہتے تھے اور انھیں حرکت اور سفرسے نفورتھا۔ قارئینِ اقبالیات ، عنایت علی صاحب کی اس کاوش کو معلومات افزا پائیں گے۔(ناشر :قرطاس پبلشرز فیصل آباد )
علی بخش تقریباً چالیس سال تک اقبال کی خدمت پر مامور رہا۔ شب وروزعلامہ کے ہاں انھی کے ساتھ رہتاتھا۔ بعض اسفار (بھوپال،بلوچستان،افغانستان) میں بھی اس نے علامہ کے ہمراہ سفر کیا۔ اس نے اپنی یادداشتیں اپنے منہ بولے بیٹے غلام محمد عرف محمد اقبال کو ٹھیٹھ پنجابی زبان میں روایت کی تھیں جنھیں محمد اقبال نے اردو کاجامہ پہنایا۔ یادداشتوں کا یہ مسوّ دہ محمداقبال سے جناب انوربودلہ نے حاصل کیا ۔ان سے علامہ اقبال کے ایک مداح جناب فضل فریدلالیکانے مسودے کی نقل حاصل کر کے بغیرکسی قطع وبریدکے اُسے علامہ اقبال کا خادم، علی بخش کے عنوان سے شائع کردیاہے۔ زیرنظریادداشتوں میں علی بخش نے اپنی خدمت گزاری کی تفصیل کے ساتھ علامہ اقبال کی شخصیت،ان کے معمولات،ان کی طبیعت،ان کے احباب، ان کی بیماریوں،ان کی وکالت اوران کے عشقِ رسولؐ کی کیفیات بھی بیان کی ہیں۔آخری تین ابواب میں اقبال کی وفات کے بعدجاویدمنزل کی زندگی،اقبال کی اولاداورخودعلی بخش کے احوال اور اس کے کراچی کے دوروں کا ذکرکیاگیاہے۔ اس معلومات افزا کتاب کوعلی بخش کی خودنوشت بھی کَہ سکتے ہیں۔(ناشر:نوری اکیڈمی،بہاولنگر)

۵۔ تحقیق وتنقید
مکاتیب اقبال کا تنقیدی جائزہ جے پور راجستھان کے ڈ اکٹرمحمد عارف کی تصنیف ہے۔ساٹھ صفحات پرمحیط پہلے دوابواب مکتوب نگاری کے فن ،اردو میں مکتوب نگاری اور خطوط اقبال کے مختلف مجموعوں کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ مگر یہ تعارف مختصر اورتشنہ ہے۔’’کلیاتِ مکاتیب اقبال ‘‘(برنی) کاتعارف نسبتاً مفصل ہے لیکن اس تفصیل میں اقتباسات کی بیساکھیوں کو فراوانی سے استعمال کیاگیاہے۔مصنف نے ’’مظلوم اقبال ‘‘اور’’اقبال یورپ میں ‘‘کو بھی اس طرح پیش کیاہے گویاوہ خطوط کے مجموعے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کتاب کے نصف آخری حصے میں انھوں نے چھے عنوانات(دینی تصورات، تہذیبی تصورات،قومی وبین الاقوامی تصورات، سیاسی تصورات،شعری تصورات،سماجی تصورات) کے تحت مکاتیب کے اقتباسات کی مدد سے علامہ کے افکار و تصورات کی تفہیم کی کوشش کی ہے جو بڑی حد تک کامیاب ہے۔ مذکورہ چھے تصورات کے تحت مزید تصورات اورافکارپربھی بات کی گئی ہے۔آخری حصے میں اردو نثر کے ارتقا میں مکاتیب اقبال کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہاں بھی اقتباسات کی کثرت ہے اورموضوع یعنی’’ارتقامیں اہمیت‘‘پر کچھ نہیں کہاگیا۔ ایک لطیفے کاذکر: مصنف نے صفحہ۱۱۶پر’’مرحوم رفیع الدین ہاشمی کی مذکورہ سات نکاتی تجاویز‘‘۔۔۔۔۔۔لکھ کرراقم کو جہانِ فانی میں پہنچا دیاہے،اُن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ راقم تاحال زندہ سلامت موجودہے،بہرحال چونکہ مصنف نے دیباچے میں راجستھان یونی ورسٹی سے اپنے پی ایچ ڈی کے اس مقالے کو ’’مبتدیانہ کوشش‘‘کے طورپرپیش کیاہے،اس لیے انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔’’مراجع ومآخذ‘‘کے تحت ۸۹کتابوں کی فہرست میں کتابوں،مصنفین اورناشرین کے ناموں کی درجنوں غلطیاں ہیں۔کتاب جے پور سے چھپی ہے۔
اِدھر لاہور ، نشریات سے پاکیزہ صبا نے مکاتیب اقبال ، تجزیاتی مطالعہ شائع کی ہے جس میں علامہ اقبال کے خطوط پر ، آل احمد سرور سے خالد ندیم تک دس نقّادوں کے تنقیدی مضامین یکجا کیے ہیں۔ دو صفحاتی ’’عرضِ مرتب ‘‘ میں علامہ کے مجموعہ ہائے مکاتیب کی فہرست دے دی ہے۔
محمد قمراقبال کے تحقیقی مقالے اقبال کا تصوّ ر حقیقتِ مطلق پر علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی نے مصنف کو ۲۰۰۸ء میں پی ایچ ڈی اقبالیات کی سند عطاکی تھی۔ یہ سند ی مقالہ ایک مشکل، فلسفیانہ اورپیچیدہ موضوع سے بحث کرتاہے۔اس موضوع پر سیکڑوں برس سے فلسفیوں کے ہاں یہ بحث جاری ہے مگر بقول اکبر:

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہاہے اور سرا ملتا نہیں

ضمناً مقالے میں اقبال کے بہت سے تصورات (وحدت الوجود،وجدان،زمان و مکان،جبرو قدر،توحید اور تصورِخدا)کا ذکر بھی آگیا ہے۔پانچویں باب ’’اقبال کا تصورِ حقیقت مطلق اور عصرِ حاضر‘‘میں مصنف نے بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ اقبال نے اپنے تصورِ حقیقت مطلق کے ذریعے مسلمانوں کے جدید علمِ کلام کی بنیاد رکھنے کا گراں قدر کارنامہ انجام دیا۔۔ اقبال کے تصورِ حقیقتِ مطلق کا پس منظر اور پیش منظر از اول تا آخر اسلامی ہے اور اس کے سوتے قرآن وحدیث ،اسلامی فلسفیانہ روایت اور اسلامی تصوف سے پھوٹتے ہیں،یہی اس تحقیق کا حاصل ہے۔‘‘(ناشر: ادارہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور)

محمد خاورنوازش نے’’ مشاہیرادب خارزارسیاست میں ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی تھی جس میں الگ الگ مضامین میں حسرت موہانی، شبلی نعمانی، سرسیداحمد خاں،ابوالکلام آزاد،علامہ اقبال اورمحمد علی جناح کی سیاسی حیثیت کا جائزہ لیا گیاتھا۔ علامہ اقبال پر تفصیلی مضمون میں انھوں نے علامہ کو ’’بطور سیاست دان ناکام‘‘قرار دیاتھا۔محمد رمضان گوہر نے اس کے ردّ عمل میں ’’نوائے وقت‘‘ میں ایک مرسلہ شائع کروایا۔ پھر اسی موضوع پر ایک مضمون قلم بند کیا۔ بعد ازاں خاورنوازش کے مضمون سے چند سوالات اخذ کرکے ان کے جوابات لکھے۔ اقبال کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ تفصیل فراہم کی، پھر ان تمام تحریروں کو جمع کرکے اقبال،ایک کامیاب سیاست دان کے نام سے ایک کتاب مرتب کردی۔یہ کتاب گوہرصاحب کی اقبالیاتی حمیّت اور اقبال سے ان کی محبت وعقیدت کاثبوت ہے۔ انھوں نے اپنی صلاحیت اورفہم کے مطابق اقبال کی شخصیت کے سیاسی پہلو پر قلم اٹھایا،لیکن یہ ایساموضوع ہے جس پر مزیدتحقیق و تحریر کی ضرورت اور گنجائش موجودہے۔(ناشر: مکتبہ گوہر لاہور)
پنجاب یونی ورسٹی کے شعبۂ فلسفہ میں۱۹۶۵ء سے’’اقبال میموریل لیکچر‘‘کے سلسلے کا آغاز ہواتھا۔ یہ قابل قدر روایت ،ماسوا چند وقفوں کے ،تاحال قائم اور جاری ہے۔ ہرسال کسی علمی یاادبی شخصیت کو میموریل لیکچر کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔ شعبۂ فلسفہ نے اس سے قبل میموریل لیکچروں پر مشتمل دوتین مجموعے شائع کیے ہیں۔نیامجموعہخطبات بہ یاد اقبال کے عنوان سے آٹھ اردواورچارانگریزی لیکچروں پرمشتملہے جسے ڈاکٹر شگفتہ بیگم(صدرنشین شعبۂ فلسفہ) اورڈاکٹرعلی رضاطاہر(استادشعبۂ فلسفہ)نے مرتب کیااورشعبۂ فلسفہ نے اسے شائع کیا ہے۔
need to re-read iqbal and beyondکے عنوان سے ڈاکٹرابصاراحمدکا خطبہ’’اقبال میموریل لیکچر‘‘کے سلسلے کا تازہ ترین لیکچر ہے۔ڈاکٹرموصوف فلسفہ اوراقبالیات کے متخصص ہیں۔ شعبۂ فلسفہ پنجاب یونی ورسٹی کے صدرنشیں رہے ۔تاریخ اور علوم اسلامیہ پر بھی اچھی دسترس رکھتے ہیں۔اُن کے لیکچر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اقبا ل کی وفات کی پون صدی بعد،ہمیں اقبال کے ازسرنومطالعے کی ضرورت ہے۔انھوں نے میک گل یونی ورسٹی کینیڈا کے پروفیسرچارلس ٹیلرکاحوالہ دیاہے جن کے مطابق بے یقینی،خوف اور شک وشبہے اور بداعتمادی کی فضا میں اقبال کی شاعری کا مطالعہ ہمیں مسرت اورسکون سے ہم کنار کرتاہے۔ان کا مشورہ ہے کہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ اہل مغرب حتیٰ کہ بھارت(جہاں ہندو شاونزم اپنی بدترین شکل میں زوروں پر ہے) کے باشندوں کو بھی اقبال کی آوازسننی چاہیے۔ڈاکٹرابصار احمد کاخیال ہے کہ اقبال کی آواز اُن کی شاعری ہے اورشاعری میں فکراصل چیز ہے۔ وہ اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے کچھ دانش ور اقبال کے فکرسے صرفِ نظر کرتے ہوئے،ان کی شاعری کی غنائیت اورموسیقیت کو اہمیت دیتے ہیں حالانکہ اقبال کی شاعری کے اثرات جہاں جہاں پہنچے ،مثلاً:ایران یا وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں،انھوں نے غنائیت سے نہیں،بلکہ انقلابی فکر سے اثر قبول کیااوراسی کی وجہ سے اقبال کو خوش آمدیدکہاگیا۔ دراصل فکرِ اقبال کی بنیاد،قرآن حکیم اوراسوۂ رسول ہے۔ وہ نشاتِ ثانیہ کے ایک بڑے علم بردارہیں۔

علامہ اقبال اور جواہر لعل نہروپروفیسر رحمت علی ظفرکا ایم فل کا مقالہ ہے۔ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں علامہ اقبال اور جواہر لعل نہروبیسویں صدی کے نصفِ اول کی نمایاں شخصیات ہیں۔متضاد نظریات رکھنے والے دونوں اکابر کے درمیان اگر کوئی نقطۂ اتصاّل تھاتو فقط یہ کہ دونوں جدوجہدِ آزادی کے لیے کوشاں تھے مگر عملی سیاست میں دونوں کا نقطۂ نظر مختلف تھا۔زیرِنظر مقالے میں،اقبال اور نہرو کے سیاسی فکرو نظر کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے ۔مقالہ نگار نے دونوں کے سوانح حیات ، ان کے سیاسی نظریات میں ارتقا اور عملی سیاست میں شرکت اور ساتھ ہی اشتراکیت ،مادیت اور وطنیت و قومیت کے بارے میں دونوں کے خیالات کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ پہلا باب بہت طویل ہے(۱۰۱صفحات)۔اقبال کی اس قدر مفصل سوانح عمری بیان کرنے کی ضرورت تھی، نہ ان کی تصانیف کا تعارف کرانے کی۔اس غیر ضروری طوالت نے مقالے کے معیار کو متاثر کیا ہے۔

افضل رضوی کی کتاب دربرگِ لالہ وگل(جلداوّل) کا ضمنی عنوان ہے:’’کلام اقبال میں مطالعۂ نباتات‘‘ ۔ اقبال کے ہاں تقریباً ایک سونباتات (درختوں، پودوں،پھلوں وغیرہ) اور تقریباً۶۰(پرندوں، درندوں ،جانوروں)کاذکرملتاہے،مگریہ ذکرفقط تذکرے تک محدودنہیں ہے۔مصنف کہتے ہیں کہ اس تذکرے کے عقب میں کوئی مقصد اور معنویت ہے، جیسے ’شاہین‘کاذکرفقط ایک پرندے کے طورپرنہیں بلکہ قوت، بلند پروازی،سخت کوشی اورفقرودرویشی کی علامت یااستعارے کے طورپرہے۔ مصنف بنیادی طورپرسائنس دان ہیں ۔اقبالیات کا ایک منفرداوراچھوتاموضوع تلاش کرکے،انھوں نے اس کی وضاحت یوں کی ہے:[اقبال]نے شاعری کو احیاے ملت کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا،قوم کوامیدوارتقا کا پیغام دیااورجہدِ مسلسل کی ترغیب دلائی۔ نیاآہنگ،نیا لہجہ،نئے موضوعات اورنیافلسفہ دیا۔۔۔انوکھی تراکیب سے جدت اورندرت پیداکی۔۔۔ ان سب کے لیے وہ عناصرفطرت(پانی ،ہوا،آگ)کوکبھی مشکّل،کبھی مجسم،کبھی مرئی،کبھی غیرمرئی اور کبھی طبی خواص کے حوالے سے کام میں لاتے ہیں۔ وہ زمین اورزیرزمین جمادات(موتی،گوہر،الماس،زمرد،یاقوت،لعل اوردیگرقیمتی پتھر)کی چمک دمک،آب وتاب،رنگ وروپ، خوب صورتی،کمیابی اورمضبوطی کوکبھی استعاراتی صورت میں،کبھی علامتی اندازمیں،کبھی تلمیحات کے طورپر،کبھی محاورتی طرزپراورکبھی تراکیب کے نئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔‘‘(ص۲)افضل رضوی صاحب کے تحقیقی کام کی زیرنظرجلد اوّل، میں ۱۸ نباتات (ارغون، انگور، افیون، انار، انجیر، ببول، باغ، لالہ، گل، بید، برگ، بوستاں، چمن، چنار، دانا، گندم، گھاس،گل رعنا)پران کے مختصرمضامین شامل ہیں۔ ہر عنوان کے تحت پہلے وہ اس کی نباتاتی یا تخلیقی نوعیت کا تعارف کرواتے ہیں، پھر وہ پھل یاپوداکلامِ اقبال میں جہاں جہاں آیا،متعلقہ اشعار درج کرتے ہیں اورپھر ان کی تشریح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے کلام اقبال کی نثراوربطورِ خاص ان کے خطوط سے بھی متعلقہ حوالے یااقبال کے جملے شاملِ تحقیق کیے ہیں۔یہ کتاب اقبالیات کے ایک نادرموضوع کے ساتھ اقبال کے منتخب کلام کی تشریح بھی ہے۔(ناشر : بقائی یونی ورسٹی کراچی)

آئندہ اوراق میں ہم ڈاکٹرتبسم کے ’’چھکے‘‘ (چھے اقبالیاتی کتابوں )کا ذکرکریں گے۔اُن چھے کتابوں کے علاوہ بھی انھوں نے اقبالیات پر بہت کچھ تصنیف و تالیف کیا ہے، (جن کا تعارف ہم اپنے سابقہ بعض مضامین میں کراچکے ہیں)۔اتنی ڈھیرساری اقبالیاتی کتابیں،تصنیف وتالیف کرتے کرتے ڈاکٹر تبسم خود بھی ’’اقبال شناس‘‘ ہوگئے ہیں۔چنانچہ ممتازعارف نے ان کی اقبال شناسی کی مختلف جہتوں پر ڈاکٹرہارون الرشیدتبسم کی اقبال شناسی کے عنوان سے کتاب تیار کی ہے۔(ناشر: مقبول بکس لاہور)
تصوف اور اقبالیات ،اقبال اکادمی پاکستان کے نائب ناظم ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کا مجموعۂ مقالات ہے۔ بظاہر یہ کتاب ۱۸ مقالات کا مجموعہ ہے مگر یہ سب مضامین مل کر ایک ایسی اکائی بناتے ہیں جس میں فکر اقبال کی واضح اور صحیح تصویر نظر آتی ہے۔ اس تصویر کے نمایاں زاویوں میں اقبال کا تصور زماں، نظریۂ تصوف، اسلامی ریاست اور خودی شامل ہیں۔ بعض مقالات نہایت مفصل اور سیر حاصل ہیں، مثلاً ’’علامہ اقبال کے خطبات کا دیباچہ، ایک مطالعہ ‘‘۷۸ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ (ناشر :پروگریسو بکس لاہور)

فکر سیاسی کی تشکیلِ جدید،سیداحمدخان اوراقبال کے عنوان سے ڈاکٹرمعین الدین عقیل نے اپنی نئی مختصرکتاب میں(جس کی قیمت زیادہ ہے،۱۸۰روپے،صفحات۹۳)سرسیداحمدخاں اورعلامہ اقبال کی سیاسی فکراور اس کے مختلف مراحل کی نشان دہی کی ہے،جن سے گزرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مسلم ملت اور مسلم قومیت کے تصورات واضح کیے۔اور یوں ایک مسلم معاشرے کی تعمیراورایک الگ اسلامی مملکت کاقیام ممکن ہوا۔ڈاکٹرعقیل نے حوالوں کے ساتھ(حوالے اورحواشی وتعلیقات،ص۷۵-۸۹)واضح کیا ہے کہ سرسیداوراقبال دونوں نوآبادیاتی عہد کے نمائندہ مسلمان مفکر تھے۔ ان کی سیاسی فکر کے ارتقا کاجوپس منظر ہے،وہ برعظیم میں مسلمانوں کے ہمہ پہلوانحطاط کا پس منظر بھی ہے۔سرسید نے مسلم تشخص کے تحفظ کے لیے جو تعلیمی،اصلاحی تحریک شروع کی ،علامہ اقبال نے اپنے انداز میں اسے آگے بڑھایا۔اگرچہ سرسید کے بعض معتقدات سے علامہ اقبال متفق نہیں تھے،پھربھی وہ سرسید کی پُرخلوص کوششوں کے قدردان تھے۔ کتاب اپنے موضوع پرایک مختصر مگر عمدہ مطالعہ ہے۔(ناشر: مکتبہ تعمیرِ انسانیت لاہور)

شاعرِ اسلام(اقبال شناسی کا نیا زاویہ ) خیال آفاقی کی کاوش ہے جسے دارالنعمان لاہور نے شائع کیا ہے ۔ مصنف نے ایک مسلسل مضمون کی شکل میں اقبال کی شخصیت، ان کے افکار و نظریات اور ان کے فن کے مختلف پہلوؤں پر ضمنی عنوانات کے تحت بحث کی ہے۔اس میں اقبال کے سوانحی حالات،ان کے دوستوں اور ملاقاتیوں کا تعارف ، ان کے اسفار، اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کی تفصیل بھی آگئی ہے۔ آفاقی صاحب نے اقتباسات کے ساتھ حوالہ دینے کا تکلف نہیں کیا۔ اقبال کے معترضین کی بھی خبر لی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’پڑوسی ملک سے نظریۂ پاکستان پر الٹے سیدھے،بلکہ جاہلانہ تبصرے سننے میں آتے ہیں، مثلاً ابھی حال ہی میں ہندوستان کے ایک ڈاکٹر نے،جو خود کو مسلمان کہتا ہے،لیکن گنگا جمنا کا نمک حلال کرنے کی غرض سے ایک کتاب لکھ ڈالی ہے: ’’اقبال اور خطبۂ الہ آباد‘‘ ، جس میں وہ ذہنی بدہضمی کا شکار نظر آتا ہے۔ لکھتا ہے:’’ اقبال نے خطبۂ الہ آباد میں پاکستان کوکوئی خواب و واب نہیں دیکھا،یہ فقط پاکستانیوں کی اختراع ہے۔‘‘

ڈاکٹر رؤف خیر دکن کے اقبال شناس ہیں ۔انھوں نے۲۰۰۱ء میں ’’قنطار ‘‘ کے نام سے اقبال کے ۱۶۳ فارسی قطعات کا منظوم اردو ترجمہ شائع کیا تھا۔اب پندرہ تنقیدی مضامین اقبال بہ چشم خیر کے نام سے شائع کیے ہیں۔خیر صاحب پختہ فکر ادیب اور نقاد ہیں۔ یوں تو سبھی مضامین لائق مطالعہ ہیں لیکن اقبال اور مادۂ تاریخ ، اقبال ادب اسلامی کا نقیب ،کیٹس اور اقبال کے اسلوب کا تقابلی مطالعہ اور اقبال یورپ جانے سے پہلے قارئین کو نسبتاً دل چسپ معلوم ہوں گے( ناشر: دارالاشاعت مصطفائی دہلی)
ٍٍ گوہر اقبال نے یادِ گرامی میں علامہ اقبال اور مولانا گرامی کے مختصر احوال، باہمی تعلق اور دونوں کے مشترک موضوعات ( توحید ، خودی ، فقر ، عقل وعشق ، جدوجہد، تقلید کی مذمت وغیرہ ) کی نشان دہی کی ہے۔ بعض صوفیہ (علی ہجویری ، معین الدین چشتی ، مولانا جامی، نظام الدین محبوب الہٰی ، بو علی قلندر ، رومی)کو دونوں کا خراج تحسین جمع کیا ہے۔دوسرا حصہ گرامی کے احوال اور ان کی فارسی رباعیات مع اردو ترجمے پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب مصنف کے ایم اے فارسی کے مقالے کی نظرِ ثانی شدہ صورت ہے۔ اپنے موضوع پر بہت عمدہ کاوش ہے۔

بک ہوم لاہور سے شفقت پرویز بھٹی نے اقبال قلندر ، اقبال کی نظر میں شائع کی ہے ۔ مصنف اقبال کے دیرینہ مداح بلکہ عاشق ہیں ۔ بتاتے ہیں کہ میں اپنے مرشد بابا جی کے حکم پر ۹ نومبر کو ’’ہر سال حلوے ، مال پوڑا اور لڈوؤں پر علامہ صاحب کا ختم دلاتا ہوں۔ اب مجھے مرشد صاحب کا حکم ہوا ہے کہ اقبال کا تعارف کرا دوتا کہ لوگوں کو آسانی ہو۔ لہٰذا میں نے اپنے مرشد جی کے حکم کے مطابق یہ مضمون لکھا ہے‘‘۔ مصنف نے مختلف عنوانات کے تحت فکر اقبال کی وضاحت کی ہے ۔ کہیں کہیں معترضین اقبال کی تردید بھی کی ہے۔ان کے خیال میں اقبال کے تصور شاہین کے بارے میں احمد ندیم قاسمی کا نقطۂ نظر غلط تھا۔مصنف کا اسلوب قلندرانہ ہے جس سے ان کی محبت اقبال بہت واضح ہے۔

۶۔ تشریحات
علامہ کے اردو کلام کی بہت سی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ یوسف سلیم چشتی کے ہاں بعض ناہمواریوں کے سبب مزید شرحوں کی گنجائش نکلی۔ یوسف مثالی کیشرح کلیاتِ اقبال اردومیں متن کے بعد’’الفاظ ومعانی‘‘،پھر عنوان ہے: ’’ترجمہ وتشریح‘‘۔ اردو کلام کی وضاحت اور شرح کو’’ترجمہ‘‘ کہنامضحکہ خیز ہے۔ شارح نے’’الفاظ ومعانی‘‘کے تحت مشکل الفاظ وتراکیب کے معنی دیے ہیں مگر بعض تراکیب کے معنی نہیں دیے گئے، بعض کے معنی غلط ہیں،مثلاً:تفضیلِ علی‘‘ کی تشریح میں کہاگیاہے:’’حضرتِ علی کے فضائل‘‘(ص۱۱۰-۱۰۹)جوقطعی غلط ہے۔ بعض نظمیں مخصوص پس منظر میں لکھی گئیں،تشریح میں دوچارجملے پس منظر کے طورپرلکھ دیے جائیں تو قاری کے لیے تفہیم میں آسانی ہوجاتی ہے۔ شارح نے اِس طرح کی کسی بھی زحمت سے اجتناب کیاہے۔ معانی اورشرح کوظاہری اورلفظی معانی تک محدودرکھاہے۔یوسف مثالی صاحب دیباچے میں لکھتے ہیں:’’اقبال کے افکارکااحاطہ مجھ ناچیزکے بس کی بات نہ تھی،پھر بھی کوشش کرناہم سب کا حق ہے‘‘۔بلاشبہ انھوں نے کوشش کی اوراپنا حق استعمال کیا،یہ الگ بات ہے کہ کوشش نتیجہ خیزنہیں ہوسکی۔ہاں،شارحین کی فہرست میں ان کا نام ضرورلکھاجائے گا۔

’’عرضِ شارح‘‘کے تحت حمید اللہ شاہ ہاشمی اپنی شرح بانگ درا میں لکھتے ہیں:’’علامہ محمد اقبال جیسے عظیم شاعرکے کلام کی شرح پیش کرنابہت مشکل ہے‘‘۔اس احساس کے تحت انھوں نے اس مشکل کوآسان بنانے کی جوکوشش کی ہے،وہ خاصی حد تک کامیاب ہے۔ انھوں نے ہرنظم کا تاریخی پس منظر اور کہیں کہیں زمانۂ تالیف دیاہے۔ افرادواشخاص کا مختصرتعارف بھی شامل ہے، جیسے: ابوطالب کلیم یاعرفی یا فیضی یافاطمہ بنت عبداللہ وغیرہ۔غزلوں کی تشریح،شعربہ شعرہے مگر نظموں کی تشریح بندوارہے۔ شرح نویسی میں اختصار پیش نظر رہاہے۔انھوں نے مخزن میں مطبوعہ بعض نظموں اورغزلوں پراقبال یامدیر مخزن کے تمہیدی نوٹ اور بعض غزلو ں اور نظموں کے محذوف اشعارکابھی ذکرکیاہے۔ شارح نے سابقہ شارحین سے بھی اکتساب کیاہے مگر خود بھی کاوش کی ہے۔ ایک آدھ جگہ ان سے غلطی ہوگئی ہے، مثلاًنظم’’فلسفۂ غم‘‘میاں فضل حسین کے والد کی وفات پر بطور تعزیت لکھی گئی۔میاں فضل حسین معروف جاگیردار اورسیاست دان تھے۔ شارح نے لکھاہے :’’پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلررہے‘‘۔یہ درست نہیں ہے۔ وائس چانسلرمیاں افضل حسین(۱۸۸۹ء-۱۹۷۰ء)ایک دوسری شخصیت ہیں ۔مختصریہ کہ یہ شرح متذکرہ بالا یوسف مثالی کی شرح سے بہت بہتر ہے۔شارح نے اسی طرح بال جبریل اورضرب کلیم+ارمغان حجازکی تشریحات بھی شائع کی ہیں۔
’’شکوہ‘‘اور’’جواب شکوہ‘‘ کی دسیوں تشریحات کی گئی ہیں۔ اُن میں غلام رسول مہر،یوسف سلیم چشتی اورعابد علی عابد جیسے نام وَر اور چوٹی کے ماہرینِ اقبالیات شامل ہیں۔پروفیسرغلام مرتضیٰ بھی اپنی شرح شکوہ،جواب شکوہ کی بنا پراقبال کے قابلِ لحاظ شارحین میں شمارہوں گے۔ انھوں[شارح]نے بعض تراکیب واصطلاحات کی ،پورے پورے صفحے میں تشریح کی ہے۔ اورجہاں ضروری سمجھاہے،وہاں الگ سے’’نوٹ‘‘ دے کر مزیدوضاحت بھی کی ہے مثلاً:’’ساسانی‘‘،’’آتش کدۂ ایران‘‘،’’حجاز‘‘،’’فاران‘‘،’’لالہ‘‘،’’غزالی‘‘،’’تمدن‘‘اور ’’قیصر‘‘ جیسے الفاظ کی ’’مختلف لغات اور تاریخی کتب کی مدد سے مفصل اور بھرپوروضاحت کردی ہے‘‘۔شارح کی محنت اورمطالعہ بلاشبہہ قابل دادہے مگر’’شکوہ‘‘کے آغازمیں’’چندتاریخی حقائق‘‘کے زیرعنوان انھوں نے بہت سے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبال نے یہ نظم انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ترنم سے پڑھی تھی۔ اُن کی یہ تحقیق ناقص اورکمزور ہے۔معروف شعرا(حالی،شیفتہ،ضمیرجعفری)کے اشعار کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں تشریحات میں وہ اپنے اشعار بھی بطورتائید لاتے ہیں مثلاًصفحہ۶۳،۷۱،۸۲،۸۳،۱۰۰وغیرہ،یہ چیزبھی کچھ کھٹکتی ہے۔(ناشر: مقصود پبلشرز لاہور)

’’شکوہ‘‘’’ جواب شکوہ‘‘ کی ایک شرح محمد نوید مرزانے بھی شائع کی ہے(ناشر: دُعا پبلی کیشنز،لاہور) سطور بالا میں مذکورہ شرحوں سے یہ بہتر نہیں ہے۔نظموں کا متن دو بار نقل کیا ہے۔متن کی مقرر نقل اور ’’ مطلب ‘‘اور’’ تشریح‘‘ کے تحت مفہوم کی تکرار سے کتاب کو ضخیم بنانے کی کوشش اچھی نہیں لگی ۔ صفحات ۱۸۴ ہیں اور قیمت ۲۹۵ روپے بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

چندبرس قبل کیپٹن(ر)ریاض انجم صاحب نے گوجرانوالہ میں اقبال فورم پاکستان قائم کیاتھا جس کا مقصدتفہیم اقبال اور فکر اقبال کافروغ ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے اہل علم ماہرین اقبالیات کے خطبوں کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ڈاکٹرطاہر حمید تنولی(نائب ناظم اقبال اکادمی پاکستان)کازیرنظر خطبہ بعنوان: نواجونان ملت کے لیے علامہ اقبال کاپیغام،خطاب بہ جاوید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو’’خطاب بہ جاوید‘‘(مشمولہ جاوید نامہ)کی تشریح وتوضیح پر مشتمل ہے۔

پروفیسر رشید احمد انگوی اقبال کے مداح اور اقبالیات کے پر شوق طالب علم ہیں انھوں نے لمحۂ موجود اور تعلیماتِ اقبال میں علامہ کے ۷۵ اشعار کی شرح لکھی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو اقبال کی تعلیمات سے آگاہ کر کے بتانا ہے کہ ہمارے نوجوان کے لیے اقبال کے پاس کرشماتی رہنمائی موجود ہے۔انگوی صاحب اپنی زیرِ نظر کتاب کو ’’ علامہ اقبال کے شاہینوں کے لیے اقبالی تحفہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اساتذہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’اقبال کے شاہینوں تک اقبال کا درد پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر کے ممنون فرمائیں۔‘‘ ( ناشر: الخلیل قرآنک ریسرچ سنٹر لاہور)

۷۔ رسائل
اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونی ورسٹی، سری نگر کے مجلے، اقبالیات کے ۲۳ ویں شمارے میں اقبالیاتی تنقیدی مقالات کے علاوہ، اقبال سے قاضی محمد عدیل عباسی کی ملاقاتوں کا ذکر ملتا ہے۔ عباسی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے رشید احمد صدیقی اور مولانا علی میاں سے کہیں زیادہ وقت اقبال کی مجلسوں ،ملاقاتوں اور استفادے میں گزارا۔ یہ ذکر اِس لیے اہم ہے کہ اقبالیاتی ذخیرے میں قاضی محمد عدیل عباسی جیسے فاضل اور اہم سیاسی شخص کا تذکرہ اور کہیں نہیں ملتا۔ اسی لیے مدیر نے لکھا ہے کہ کاش قاضی صاحب، ان یادداشتوں کو محفوظ کرسکتے ہوتے تو یہ اقبالیات کا انمول ذخیرہ ہوتا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قاضی صاحب نے مجنوں گورکھ پوری کے مباحث کی گمراہی پر متعدد مضامین لکھے تھے۔
لاہور گیریژن یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو نے نومبر ۲۰۱۷ ء میں اقبال کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس موقعے پر انھوں نے اپنے ادبی مجلینورِ تحقیق کا ضخیم (۵۲۸ صفحات) کا آرٹ پیپر پر مطبوعہ ایک خاصا وزنی اقبال نمبر شائع کیا ہے۔نئے پرانے مقالات کا معیار جیسا کچھ بھی ہے، بظاہر بہت خوب صورت نمبر ہے۔

۸۔ متفرق کتابیں
ڈاکٹرہارون الرشیدتبسم کا اقبالیاتی چھکا:اگر میں کہوں کہ پروفیسرہارون الرشیدتبسم ایک کثیر الجہات شخصیت ہیں تو جو لوگ انھیں جانتے ہیں،وہ اسے غلط نہیں سمجھیں گے۔ وہ معلّم ہیں،مقررہیں،مصنّف ہیں،مرتّب ومدوّن ہیں،شاعرہیں اورایک پُرجوش سماجی خدمت گزار ہیں۔ سرگودھا کی کوئی تقریب ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی،اورسرگودھامیں کسی ایسی تقریب کا تصورذرامشکل ہے جواُن کی عدم موجودگی کے باوجودبھرپور،پُررونق اورکامیاب رہے۔

گذشتہ تین،چاربرسوں میں اُن کی توجہ تحریروتصنیف کی طرف زیادہ ہوگئی ہے(اوریہ خوش آیندبات ہے)خصوصاًاقبالیات، اُن کی تحریری تگ وتازکاسب سے بڑاموضوع بن گیا ہے۔اس موضوع پراس سے پہلے بھی وہ چند کتابیں تالیف اورشائع کرچکے ہیں۔ اب انھوں نے ایک دم چھے کتابیں شائع کرکے’’اقبالیاتی چھکا‘‘لگایاہے۔
ذخیرۂ اقبال ،اقبال کی تصانیف،تصانیفِ نظم ونثراورایک درجن اقبالیاتی سوانحی کتابوں کے تعارف پر مشتمل ہے۔ کائناتِ اقبال ، علامہ کی سوانح حیات اوراُن کی زندگی کے مختصر واقعات وملفوظات کا تذکرہ ہے۔ ایک حصے میں اقبال کوئز، بصورتِ سوال وجواب مرتب کیاگیاہے۔کتاب میں قائداعظم کے نام علامہ اقبال کے خطوط بھی شامل ہیں۔بہاراقبال میں اقبال کے فکروفن پرپچاس کتابوں کاتفصیلی تعارف کرا دیا گیا ہے،دیباچے میں لکھتے ہیں:’’یہ ایک کتاب پچاس کتابوں کا ایساکیپسول ہے جو اقبالیاتی ذوق رکھنے والوں کے لیے اکسیر ثابت ہوگا۔‘‘نویرۂ اقبال خودہارون الرشیدتبسم صاحب کے۳۸تنقیدی اورتوضیحی مضامین کامجموعہ ہے۔یہ مضامین مصنف کے بقول :’’اقبالیاتی نوآموزمحققین کے لیے رہنمائی کاباعث ہوں گے‘‘۔’’نویرہ‘‘کا معنی انھوں نے’’خوش بواورگل‘‘بتایاہے۔موضوعاتی کلام اقبال میں مختلف موضوعات (آب، آواز، آئینہ، اذان، امتحان، باطل، بے گانہ، روح، عقل ،علم، فردوس، فخر، یقین وغیرہ) کے تحت اشعارِ اقبال یکجا کردیے گئے ہیں۔بیت بازی کلام اقبال کلام اقبال کی بیت بازی کے لیے ایک مفیداورمعاون مجموعہ ہے۔
اقبال کوئزکے سلسلے میں پروفیسرمحمد اصغرکی مرتبہ کتا بعلامہ اقبال معلومات:سوالاًجواباً خاصی ناقص ہے۔ انھوں نے مختلف عنوانات(پیدائش،تعلیم،ملازمت، شادی،اولادیں،خوراک،معالجینِ اقبال، فلسفہ،تصانیفِ اقبال،سفرِ آخرت،متفرقات وغیرہ)کے تحت سوال وجواب مرتب کیے ہیں لیکن متعدد مقامات پر سوال جواب، اوپر کے عنوان کے پابندنہیں رہے،مثلاً:’’اقبال اورسیاست‘‘عنوان کے تحت علی گڑھ یونی ورسٹی میں پیش کیے گئے خطبۂ علی گڑھ کا ذکرہے، اس کاموضوع’’عمرانی نظر‘‘بتایاگیاہے جو دراصل’’ملتِ اسلامیہ‘‘ہے۔ اِسے۱۹۱۰ء کاخطبہ بتایاگیاہے(صحیح۱۹۱۱ء ہے) اسی عنوان کے تحت اورنگ زیب عالم گیرکے مزارپراقبال کی حاضری کاذکرکیاہے۔کیا یہ بھی اقبال کی سیاست کا کوئی پہلوہے؟ مصر میں بعض شخصیات سے ملاقاتوں اورکابل کی پل خشتی مسجد میں نمازجمعہ کی ادائیگی کا بھی اقبال کی سیاست سے کوئی تعلق ہے؟وغیرہ۔ بعض معلومات حددرجہ ناقص ہیں۔جوبچے اقبال کوئزکی تیاری اس قماش کی کتابوں سے کریں گے،ان کا بیڑابیچ منجدھار کے ڈوب جائے گا۔ ایسی کتابیں، اقبال کے نام کے استحصال کاایک ذریعہ ہیں،فقط۔(ناشر:حارث پبلشرز ،لاہور)

یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ بچوں کے لیے آکسفورڈکے ’’تصویری کہانی سلسلہ‘‘ میں علامہ اقبال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔علامہ اقبال کے عنوان سے اردو کتاب آمنہ اظفر کی تحریر کردہ ہے۔ یہی اردوکتاب چندمعمولی تبدیلیوں کے ساتھ انگریزی میں بھی شائع کی گئی ہے۔ ان کتابوں میں چند مقامات محلِ نظر ہیں۔راقم نے امینہ سید صاحبہ کے نام ایک خط میں کتاب کی نو اغلاط کی نشان دہی کی تھی مگر انھوں اسے در خورِ ارعتنا نہیں سمجھا ۔ خط کی رسید دی ، نہ تصیحات کیں۔ دوسرا اڈیشن انھی غلطیوں کے ساتھ چھاپ دیا۔ آکسفورڈ جیسے نام ور اشاعتی ادارے کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی ہر کتاب اپنے موضوع پر معیاری ہوتی ہے مگریہ کتاب معیاری نہیں ہے۔
ڈاکٹرہارون الرشیدتبسم نے اپنی مرتبہ کتاب ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی بطور اقبال شناس کے طویل مقدمے میں ڈاکٹر ہاشمی کاتعارف کرایاہے۔اس تعارف میں کوائفِ حیات اور تصانیف کی فہرست شامل ہے ۔اُس کے بعدموصوف کی اقبال شناسی پر خورشیدرضوی،ایوب صابر،ممتازعارف،ذوالفقاراحسن اورخودتبسم صاحب کے مضامین دیے گئے ہیں۔ تیسرے حصے میں ڈاکٹرہاشمی کی تصانیف اقبالیات پر اخبارات ورسائل میں مطبوعہ تبصرے جمع کیے گئے ہیں۔ان میں خود مؤلف (تبسمؔ ) کے تبصرے بھی شامل ہیں۔کتاب؛ڈاکٹر ہاشمی کی اقبال شناسی کی مختلف جہتوں سے روشناس کراتی ہے۔(ناشر: مقبول بکس،لاہور)

محمدمستقیم خان نے اقبال نامہ کے نام سے نئی نسل کے لیے ایک مختصر کتاب مرتب کی ہے جس میں حیات اقبال کے ضروری کوائف کے ساتھ اقبال کے افکار و تصورات (خودی، مردِ مومن، عشق، قرآن ، محبت رسول وغیرہ ) کی وضاحت کی گئی ہے۔ آخر میں اقبال پر مطبوعہ کتابوں ، اقبال نمبروں، اداروں اور جامعات میں لکھے جانے والے ایم اے کے تحقیقی مقالات کی ایک ناتمام فہرست بھی شامل ہے۔ طلبہ کے لیے یہ مفید کتاب یونی ورسٹی پبلشرز پشاور نے شائع کی ہے۔
آخر میں اپنی دو کتابوں کا ذکر: ادارہ فروغِ قومی زبان کی شائع کردہ کتاب، علامہ محمداقبال ،محسنِ زبان و ادب اردو کا ذکر رؤف پاریکھ صاحب نے مارچ ۲۰۱۷ء ’’کے قومی زبان‘‘ میں کردیا تھا۔ دوسری کتاب،اقبال سوانح و افکارہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔حصہ اوّل میں حیاتِ اقبال کے ضروری کوائف اورواقعات کاذکرہے۔ دوسرے حصے میں ان کی تصانیف (شاعری کے مجموعوں،متروک کلام کے مجموعوں ، اردواورانگریزی نثری کتابوں،مکاتیب اورملفوظات کے مجموعوں)کاتعارف اور تفصیل دی گئی ہے۔ہرکتاب کے بنیادی کوائف تعارف میں شامل ہیں۔تیسرے حصے میں اقبال کے فکروفن کے۱۸؍اہم موضوعات (خودی،بے خودی، فقر،عشق،عقل،تصوف،تعلیم،سرمایہ داری، اشتراکیت، فاشزم، جمہوریت، نظریہ فن ،اجتہاد،خواتین،مردکامل،قرآن حکیم،رسول اکرمؐ اوراقبال بطور فن کار)پرکلام کیا گیا ہے۔ خصوصاً طلبہ و طالبات کے استفادے کے لیے ، ایک مختصر مگر جامع کتاب سے۔(ناشر: یو ایم ٹی پریس ، لاہور)


 

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی