مولانا مودودیؒ اور الجہاد فی الاسلام کا تاریخی پس منظر

تحریر: مجتبی فاروق

0 182

آریہ سماج ہندئوں کی اصلاحی تحریک تھی جس کی بنیاد سوامی دیانند سرسوتی نے ۱۸۷۵ء میں ممبی میں ڈالی تھی۔ آریہ سماج نے ہی بعد میں سنگھٹن اور شدھی تحریک کو جنم دیا۔ سنگھٹن تحریک کا بنیادی مقصد ہند ئوں کو ایسی تعلیم و تربیت سے روشناس کرانا کہ وہ اپنی حفاظت، تعلیم و تربیت، نظم و نسق کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اس طرح کی تربیت دینا کہ مخالفین کا اچھی طرح سے مقابلہ کر سکیں۔ شدھی تحریک کا مقصدچھوت چھات کی رسم کو ختم کرنا، غیر ہندوئں بلخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو ویدک دھرم قبول کرنے کی دعوت دینا اور ہندوئں میں خودی اور خود اعتمادی کی روح پھینکنا اس تحریک کی بنیادی غرض وغایت تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوں کا اسلام اور عیساییت کی طرف مائل ہونا اور پھر قبول کرنا ایک عام رجحان بن گیا تھا، اس رجحان کو ختم کرنے کے لئے شدھی تحریک نے ایڈی چوٹی کا زور لگایا۔ پھر سوامی شردھانند نے ۱۹۲۳ء میں بھارتیہ ہندوں شدھی مہاصبہ ( Indian Hindu Purification Council )کی بنیاد ڈالی۔ اس کا بنیادی ایجنڈا ان لوگوں کا جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا اپنے مذہب یعنی ہندوازم کی طرف واپس لانا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے موروثی مذہب سے بٹھکے ہوئے ہندوں ہیں۔ لہذا ان کو کسی بھی قیمت پر اپنے موروثی مذہب کو قبول کروانا ہے۔ ۱۸۲۸ ء میں مذکورہ تحریک کے بانی شردھا نند نے کھولے طور پراسلام کے عقائد اور اسکی تعلیمات پر ہتک آمیز اوربے جا اعتراضات والزامات چسپا کئے۔ ہندوئں کے ذرائع ابلاغ نے بھی اسلام کے خلاف ایک زبردست مہم چھیڑ دی تھی اور مسلمانوں کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور اس کے علاوہ اسلام کے عالم گیر پیغام اور احکامات کو دہشت گردی کو بڈھاوا دینے کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا اوراسلام کو امن وامان کے لئے خطرہ ٹھرایا گیا۔ انھوں نے قرآن مجید کو دہشت گردی کا جڑ اور پھلاو کاذریعہ بتایا اور رسول اللہﷺ کی پاک اور منزہ زندگی پر بھی نارواں اور نازیبا جملے کسے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق جس کے ذہن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جو بھی خیال آتا تھا بول دیتا تھا۔ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو ہندوں میں سب سے بڑی دانشور اورصاحب الرائے تصور کئے جاتے تھے۔ جنھوں نے کہا کہ اسلام خون ریزی اور قتل غارت گری پر مبنی مذہب ہے۔ گاندھی جی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ ــ اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا ہے جس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور آج بھی تلوار ہے ‘‘۔ شدھیوں نے اچھا خاصا لٹریچر رسول پاک ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے شائع کیا۔ ان کے ایک دانشور پنڈت کالی چرن نے ایک کتاب ویکہیترا جیون ( Strange life) لکھی جس میں اس نے رسول اللہﷺ کی اذدواجی زندگی پر نازیبا الفاظ کسے اور اسلام کو تلوار سے پھیلا ہوا مذہب قرار دیا (The Review of Religions 2oo6)۔

ان بے بنیاد الزامات کے جواب میں مسلم دانشوروں، علماء اور مسلمانوں کا وہ تعلیم یافتہ طبقہ جو مغربی فکر وفلسفے میں رنگے ہوئے تھے با لکل خاموش تماشائیوں کی طرح ان بے بنیاد الزامات و اعتراضات کو دیکھتے رہے اور اگر کوئی جواب دیتا بھی تھا تو وہ صرف معزرت خوہانہ جواب ہوتا تھا۔ اس صورت حال سے مسلمانان ہند ہر طرف خوف ودہشت اور سرا سیمگی کی حالت میں مبتلا ہوئے گویا یہ مسلمانوں پر ایک سانح کی طرح تھا۔ یہ زمانہ خاص طور سے ۱۹۲۲ سے لیکر ۱۹۲۵ تک کا تھا۔ ان ہی حالات کے دوران عبدالرشید نامی ایک غیرت مند مسلمان نے سوامی شردھانند کو قتل کیا اور اس پر ایک بڑا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا جو بہت طول پکڑتا گیا۔ اس دوران عبدالرشید کو جیل بھیج دیا گیا پھر پھانسی دے دی گئی۔ دہلی میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے عبدالرشید کی لاش کوحاصل کر کے نماز جنازہ کا فریضہ انجام دیا ان کو شہید کی حشیت سے دفن کیا گیا اس سے ہندو مسلمانوں کے خلاٖف اور زیادہ تشدد پر اتر آئے۔ اسلام کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد اور بے جا الزامات نے مسلمانوں میں پر تنا و ماحول پیدا کردیا۔ مزید ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ ایک طرف سے وہ مسلمان جو مغربی افکار ونظریات سے رنگے ہوئے تھے بالکل خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف مسلم دانشوران اور مسلم قائیدین اس وقت ہر لحاظ سے بے بس دکھائی دیتے تھے۔ مسلمانوں کا ایک اور نمایاں طبقہ علماء کا تھاان کا رد عمل اس سنگین و نازک اور پر تناوماحول اور حالات میں مزکورہ بالا دونوں طبقوں سے کچھ ذیادہ مختلف نہ تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان کا رول نہ ہونے کے برابر تھا تو بے جا نہ ہوگا۔ اسلام کو جس انداز سے وہ پیش کر رہے تھے وہ ان کی کم علمی اور تنگ نظری کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔

ان ہی دنوں (۱۹۲۶) میں ملت اسلامیہ کے ایک بے لوث اور بہی خواہ مولانا محمد علی جوہرؒ جو ایک منجھے ہوئے صحافی مفکر، اوع عالم دین یونے کے ساتھ ساتھ ہمدرد اور کامریڈ کے اڈیٹر بھی تھے۔ ہر جمعہ کے دن جامع مسجد دہلی میں عوام سے خطاب کیا کرتے تھے ان کے ذہن میں وہ تمام واقعات گونج رہے تھے جو ان دنوں پیش آرہے تھے اور وہ ناسازگار حالات سے پوری طرح باخبر تھے انھوں نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ: ’’کاش کوئی اللہ کا بندہ (نوجوان) اٹھ کھڑا ہوجائے اور اسلام کا صحیح پیغام اور موقف پیش کرے تاکہ اسلام کے کے خلاف جو غلط فہمیاں پھلائی جارہی ہیں وہ دور ہوسکیں اور جہاد کی حقیقت لوگوں کے سامنے آسکے‘‘۔ اس درد بھری پکار کو ایک ۲۳ سال کا نوجوان جن کو دنیا سید مودودی کے نام سے جانتے ہے کو سن رہے تھے جو اس اجتماع میں موجود تھے انھوں نے مولانا جوہر ؒکی آوز پر لبیک کہا اور’ ا لجہاد فی الاسلام‘ جیسی معرکہ آراء کتاب (Remarkable Book)تالیف کی۔ یہ انقلابی کتا ب ثابت ہوئی اور سید مودودی کو تحریک اسلامی منصئہ شہود میں لانے کے لئے ایک اہم وجہ بنی۔

انھوں نے اس کتاب کے آغاز میں لکھا ہے کہ’’ اس کتاب نے سب سے زیادہ فائیدہ خود مجھے پہنچایا ہے کہ مجھ میں نہ صرف نظام شریعیت کا فہم اور اس کی حقانیت کا غیر متزلزل یقین ابھر کر سامنے آیا بلکہ اسنظام کے احیا کا ولولہ بھی مجھ میں پیدا ہوگیا اور اس کے لیے کام کرنے کا طریقہ بھی مجہ میں آیا‘‘ مولانا مودودی کو اس ضخیم کتاب کو تالیف کرنے میں چھ مہینے صرف ہوئے۔ انھوں نے کتاب کے متعلق خود فرمایاہے کہ یہ کتاب لکھتے ہوئے مجھے جو ریسرچ کرنا پڑی، اس دوران ماضی و حال کے مفسرین، محدثین، فقہاء اور اسلامی مفکرین کی کتابوں کی ایک بڑی تعداد مجھے کھنگا لنا پڑی اس مطالعہ اور جدوجہد کے نتیجے میں میرے ذہن میں اسلام کے متعلق واضح تصور مل گیا۔(تذکرہ سید مودودی جلد ۲ص۶۵۴) سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کو منصئہ شہود پر لانے کے لئے قرآن، حدیث، سیرت، تاریخ، فقہ کے علاوہ تورات انجیل اور زبور نیز ویدوں، گیتا اور اور ہندئوں کی دیگر مذہبی کتابوں کے اصل مصادر کا بھی براہ راست گہری نظر سے مطالعہ کیا۔علاوہ ازیں انھوں نے بین الاقوامی قوانین، مغربی نظریات جدید تصورات جنگ کے اصل اور بنیادی مراجع سے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ اس اہم ذخییرے میں سید مودودی نے جہاد کی اہمیت ومعنویت، حقیقت اور آداب وشرائط پر بھی روشنی ڈالی۔ پروفیسر خرشید احمد اور ظفر اسحاق انصاری اس کتاب کے متعلق رقمطراز ہیں The book was striking for its arrestingly confident tone about islam. (Islamic Prespectives)۔

سید مودودی ؒنے اس کتاب میں واضح کیا کہ دنیا میں حقیقی امن وصلح کا قانون اگر کسی مذہب کے پاس ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ باقی تمام مذاہب کے پاس نہ صرف جنگ کے لئے بلکہ دوسرے اہم معاملات کے لئے بھی تخریب کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔انھوں نے جہاد اور قتال کی وضاحت کی کہ اسلام جہاد و قتال کس غرض اور مقصد کے لئے کرتا ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں : اسلام نے بدی کے استیصال اور بدکاری کے دفع و انسداد کے لئے یہ کارگر تدبیر اختیار کی کہ منظم جدوجہد سے اگر ضرورت پڑے اور اگر ممکن ہو تو جنگ(قتال) کے ذریعے سے تمام ظالم وجابر حکومتوں کو ختم کر دیا جائے اور ان کی جگہ وہ عادلانہ ومنصفانہ نظام حکومت قائم کیا جائے جس کی بنیاد خدا کے خوف پر اور خدا کے مقرر ضابطوں پر رکھی گئی ہو جو شخصی یا قومی یا طبقاتی اغراض کے بجائے خالصانسانیت کی خدمت کرے۔(الجہاد فی الاسلام،ص ۱۱۷)

سید مودودی کی یہ قیمتی تحقیق جمعیت علماء ہند کے سہ روزہ ترجمانـ ’’الجمعیہ‘‘ دہلی میں ۲۲ شماروں میں مسلسل اسلام کا قانون جنگ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کی پہلی قسط ۲۸ رجب ھ بمطابق۲ فروری ۲۷ ۱۹ ء میں شائع ہوئی۔ یہ سلسلئہ مضامین سہ روزہ الجمیعہ میں تین مہینے سے زائد عر صے تک چھپتے رہے، اس کی آخری قسط ۲ مئی ۱۹۲۷ء میں شائع ہوئی۔ موضوع اور تحریر کی اہمیت کے پیش نظر ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید ؒنے پہلے شمارے کے آخری مکمل صفحے پر ایک اشتہار کے ذریعے ایک نوٹ لکھا اور قارئین کو توجہ دلائی کہ ــ ’’ مخالفین اسلام کے غلط پروپیگنڈے کی قلعی کھولننے اور اوراسلام کی حقیقی اور سچی تصویر کو واضح کرنے کے لئے الجمیعہ میں ایک پرُ از معلومات سلسلئہ مضامین شروع کیا جارہا ہے جو مخالفین کے لئے مشعل ہدایت اور مسلمانوں کے لئے بصیرت کا ذریعہ ہوگا‘‘۔ مولانا احمد سعید نے اشتہار میں مزید لکھا کہ ’’ اگر آپ چاہتے ہیں ک صلح و جنگ کے احکام کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق پڑھیں اور سمجھیں اور ہندوستان کے تمام قومی و مذہبی معاملات میں سچی رہنمائی سے مستفید ہوں تو فورا ۱۲ فروری ۱۹۲۷ء سے الجمعیہ کو التزام سے پڑھے اور اپنے اصحاب اور اقربا کو پڑھائے اور سنائے اور حق کی آواز کو دوسروں تک پہچانا ہر مسلمان کا انسانی، اخلاقی اور دینی فرض ہے‘‘( وثائق مودودی، ص ۹۰)۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ سید مودودی ؒاس وقت سہ روزہ اخبار الجمیعہ کے مدیر مسئول و محرر خاص بھی تھے۔ یہ سلسلئہ وار مضامین اہل دانش، علماء ، سیاست دانوں اور اور طلباء تک پہچتے رہے اور ہر طرف سے داد وتحسین اور حوصلہ افزائی کے الفاط موصول ہوتے رہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ان سلسلئہ وار مضامین کو بہت سراہا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کو یہ تمام مضامین بہت پسند آئے اور انھوں نے ان مضامین کو ۱۹۳۰ء میں کتاب کی صورت میں ’ الجہاد فی الاسلام ‘کے عنوان کے تحت شائع کی۔ انھوں نے معارف جنوری ۱۹۳۰ء کے شمارے میں کتاب کا مختصر تعارف ان الفاظ میں کرایا کہ: ’’اس کتاب میں اسلامی جہاد کے اصو ل و آداب، معترضین کے جوابات، مخالفین کے شکوک و شبہات کی تردید، یہودیوں، عیسائیوں، ہندئوں اور بود ھوں کے اصولو ں سے ان کا تقابل اور یورپ کے موجودہ قوانین جنگ پر تبصرہ نیز جہاد کے اسلامی قوانین سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے۔ عربی اور انگریزی کی بہترین و مستنند کتابوں کے حوالے سے یہ بات لکھی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اس ضروری مسئلہ پر اس اس سے زیادہ مسلسل، مبرہن اور مبسوط کتاب اب تک نہیں لکھی گئی‘‘۔(تذکرہ، جلد، ص ۱۶۵)۔

مولانا مودودی کو اس کتاب سے زبردست حوصلہ افزائی ملی او ر ستاروں سے جہاں اور بھی ہے کے مصداق آگے بڑھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کتاب کے فورا بعد ان کی فکری جولان گاہ آسمان کو چھونے لگی۔ یہیں وہ دور ہے جہاں سے سید مودودی ؒنے سوچنے، سمجھنے اور پرکھنے کا زاویہ متعین کیا۔ یہیں سے آپ کی صحافتی زندگی بے لوث و بے باک خادم اور مفکرانہ و مجاہدانہ زندگی میں تبدیل ہوگئی۔ یہیں سے مشرق و مغرب میں بھی انھوں نے کمندیں ڈالنے شروع کیے۔ اسی دور میں باطل افکار ونظریات پر نہ صرف تنقییدی جائزہ لینا بلکہ بہترین اسلوب اور خوب صورت طرز استدلال سے مغربی فکر و تہذیب کا محاکمہ کرنے کا آغاز کیا اور تحریک اسلامی کو وجود میں لانے کے لئے بھی اسی دور میں منصوبہ بندی کرنے لگے۔اسلام کو عالمگیر پیغام کی حثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا محاذ سنبھال لیا۔ سید مودودی نے ہر باطل فکر اور نظریہ کو بالخصوص جو مغرب ویورپ سے وارد ہوا تھا،محاکمہ کرنے کے بعد رد کیا۔

مولانا سے پہلے امام ابن تیمیہؒ نے ’’الرد علی المنطقین ‘‘ جیسے نادر کتاب کو لکھ کر یونان کے فکر وعمل اور فلسفہ وتصوف کے تار مضبوط طرز استدلال سے بکھیر دیے تھے۔ اور اسلام کو مکمل ضابط حیات کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح حجۃ الاسلام امام غزالی ؒنے بھی’’ تھافۃالفلاسفہ‘‘ کے ذریعے سے یونان کے فکر وفلسفہ پر شدید چوٹیں لگائیں اور اس کی فکری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے فکر و فلسفہ کو مداوا کے طور پر پیش کیا تھا۔ بیسویں صدی کے تیسری دہائی سے یہ کام سید قطبؒ، علامہ اقبالؒ اور سید مودودی ؒنے انجام دیا۔ لیکن عصر حاضر میں مضبوط استدلال کے ساتھ اس طرح کا کام نہیں ہورہا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ، امام غزالیؒ، سید مودودی ؒاور سید قطبؒ آج کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔ ان کی جگہیں اور کرسیاں عالم اسلام کے ہر کونے میں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ہر جگہ کلمہ گو ہاتھ پہ ہاتھ دہر ے منتظر فردا کی طرح خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں۔

آج عالم اسلام میں الحاد اور مغربی فکر وتہذیب کا غلبہ عروج پر ہے۔ اور اسی فکر و تہذیب کی چھا پ ہرطرف چھائی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں اہل باطل کی فکری اور علمی کارستانیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی جاری ہے۔اسلام اور اس کے علمی ورثے پر آئے دن منطقی مغالطے اور بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔ مولانا مودودی ؒنے جو فکری اور علمی کام انجا م دیا تھا وہ آخری کام نہیں تھا۔ انھوں نے نہ صرف باطل افکار و نظریات کی پول کھول دی بلکہ اسلام کی حقانیت بھی واضح کر دی اور ساتھ ساتھ اسلام کو مکمل نظام حیات کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج اکیسویں صدی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اس لحاظ سے سید مودودی ؒکی فکر، علمی ورثہ، طرز استدلال اورمنھج کو آگے بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

ماخذ: مضامین ڈاٹ کام

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی