کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ھُوئی - رحمان فارس

0 19

کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ھُوئی
جب جب بھی دُکھ اُٹھائے، مسرّت عطا ھُوئی

پھر قحط سے مَرے ھُوئے دفنا دیے گئے
اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ھُوئی

اُس حُکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار
ھم بُزدلوں کو کُفر کی ھمّت عطا ھُوئی

مَیں کیوں نہ فخر اُدھڑی ھُوئی کھال پر کروں
اک شعر تھا کہ جس پہ یہ خلعت عطا ھُوئی

مَے خوار یار بھی تھے وھیں، مَے فروش بھی
دوزخ میں ھم کو چھوٹی سی جنّت عطا ھُوئی

مرتی محبّتوں کے سرھانے پڑھا درُود
اور پہلے ورد سے ھی سہولت عطا ھُوئی

پتّھر تھا, صدیوں رگڑا گیا, آئینہ بنا
تب جا کے مُجھ کو تیری شباہت عطا ھُوئی

انعام عشق کا تو بہت بعد میں مِلا
پہلے تو مُجھ کو عشق کی حسرت عطا ھُوئی

مزدوری کر کے بیٹھا رہا میں کئی برس
لیکن پسینہ سُوکھا نہ اُجرت عطا ھُوئی

بلاگ تحاریر بذریعہ ای میل
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی
آپ ہمیں سوشل میڈیا پربھی جوائن کر سکتے ہیں
شکریہ