سعودی عرب ’’روشن خیالی‘‘ کی جانب گامزن!

0 333

جدہ ایئرپورٹ پر کئی حیرتیں میری منتظر تھیں، پہلی تو یہ کہ امیگریشن کا تکلیف دہ اور کئی گھنٹوں کے دورانیے پر پھیلا رہنے والا طویل مرحلہ سکڑ کر قریباً آدھ گھنٹے میں مکمل ہو چکا تھا، وہ سارے پھل اورکھانے پینے کی چیزیں جو اس مشکل وقت کے لیے لاہور سے الگ بیگ میں لے کر گیا تھا، ان کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آئی، انگلیوں کے نشان لیتے ہی پاسپورٹ اور ویزے کی سکیننگ ہوئی اور پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگ گئی۔ میں بڑے سکون سے دنیا کی انیسویں بڑی معیشت جو چند برسوں میں پندرہویں نمبر پر آنے کے تیز رفتار سفر پر ہے، اپنے روحانی سفر کے لیے داخل ہو چکا تھا۔ دوسری حیرت کسی اور کو شاید محسوس بھی نہ ہوئی ہو میں اس پر باقاعدہ چونکا، یہ کارپوریٹ دنیا کی ایک اصطلاح ہے اور اس کا ایک خاص پس منظر اور مفہوم ہوتا ہے اور اس پر عمل درآمد کا ایک میکانزم ہوتا ہے جو عام طور پر سرکاری عمال اور عملے کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی، اس کے باقاعدہ ٹولز اور چھوٹے چھوٹے گولز بنائے جاتے ہیں تب جا کر اس کا حصول ممکن ہوتا ہے، یہ وژن ۲۰۳۰ء تھا جو ایئرپورٹ پر لکھا تھا اور اگلے پندرہ دن مسلسل اسی سے واسطہ پڑتا رہا، ہر کھمبے اور پول پر، ہر بس پر یہاں تک کہ مسجد عائشہ کے اندر لگی ایک ڈیجیٹل مشین پر کہ جو حیران کرنے کے لیے کافی تھی اس پر لکھے بار کوڈ کی تصوریر لیجیے اور پھر اس کے اندر ستّر سے زائد زبانوں میں سے اپنی پسند کی زبان منتخب کیجیے اور آپ سامنے آنے والی کتابوں کے ٹائٹل کے بار کوڈ کی تصویر بنایے اور اگلے ہی لمحے وہ خوبصورت کتاب آپ کے موبائل کا حصہ بن گئی، ایسی سیکڑوں نہیں ہزاروں کتابیں اس مشین میں اہلِ ذوق کی منتظر تھیں۔

سعودی عرب میں آنے والے بارہ برسوں میں جو تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں، ان کا یہاں پاکستان میں بیٹھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ شہزادہ محمد بن سلمان تبدیلیوں کے اس ہاتھی پر سوار ہیں جو تبدیلیوں کی ایک بڑی فوج کے آگے آگے چل رہا ہے، اس میں سے کوئی ایک چیز بھی اتفاقی نہیں ہے۔ یہ بالکل سوچی سمجھی، پوری طرح سے جانچی اور آنکی ہوئی ایک سوچ ہے جو اب ایک مشن اور وژن کی صورت میں ڈھل چکی ہے اور اسے اگر شیئرڈ وژن کہوں تو زیادہ موزوں ہوگا کہ یہی وژن مسجد نبوی میں بھی لکھا ملا اور اسی کا تذکرہ ام القریٰ یونیورسٹی کے درودیوار پر بھی دیکھا، دل اب زیادہ تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ ہمارے خوابوں کی سرزمین ایک ایسے سفر پر ہے، جس کی تفصیل اور منزل کی تفہیم آسان نہیں ہے۔ سعودی عرب آئندہ چند برسوں میں ایک آزاد خیال اور بالکل بدلا ہوا ملک ہوگا۔ ہاں حرمین شریفین کی حدود میں ثقافت، روایات اور چلن میں شاید زیادہ بدلاؤ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ۸۴ نئے فائیو اسٹار ہوٹل بن چکے ہوں گے اور عمرہ کے لیے آنے والے مہمانوں کی تعداد ۹ ملین سے بڑھ کر ۳۰ ملین ہو چکی ہو گی۔ دیکھا جائے تو اس وژن کی بنیاد تو تیل کی تیزی سے کم ہوتی قیمت اور اہمیت ہی بنی ہے، ایک زندہ ملک اور وژنری قیادت کا اصل کام ہی یہی ہوتا ہے کہ مستقبل بینی اور مستقبل سازی کر سکے، شہزادہ محمد بن سلمان جو نہ صرف ولی عہد ہیں بلکہ وزرا کونسل کے سربراہ بھی ہیں، یہ سارا وژن انہی کا بنایا اور سوچا ہوا ہے۔

بڑی جستجو سے میری رسائی ان اصل دستاویزات تک ہوئی ہے، جو ۷ جون ۲۰۱۶ء کو سعودی کونسل آف منسٹرز نے منظور کیے، اس کا نام نیشنل ٹرانسفرمیشن پروگرام رکھا گیا، اس میں وہ سارے ہی چھوٹے اور بڑے مقاصد اور اہداف بڑی وضاحت کے ساتھ موجود ہیں جو اصل میں آنے والے برسوں میں ۲۰۲۰ء تک ہر صورت میں مطلوب ہیں، تبدیلیوں کے اس حیران کن سفر کی منصوبہ بندی تین مرحلوں میں کی گئی ہے، ہر ایک کی مدت پانچ برس طے ہو ئی ہے جو ۲۰۳۰ء کے وژن کو مکمل کریں گے۔ ۲۴ حکومتی ادارے ان کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، تین بڑے مقاصد ان کے سامنے ہیں پہلا ایک بدلا ہوا معاشرہ جس میں شہری زندگی پر فوکس ہوگا، ثقافت میں تفریح شامل کی جائے گی اور انٹرٹینمنٹ کی پوری مشینری اور، کھیل، لائیو میوزیکل کنسرٹس جن پر قریباَپانچ سو ارب خرچ کیے جائیں گے اور ریاض سے شروع ہوتے ہوئے ہر جگہ ہوں گے، یونیسکو کے بتائے اور کہے ہوئے ہیریٹیج پر توجہ ہوگی اور عمرہ کرنے والے جو اب نو ملین آتے ہیں ان کی تعداد کو بڑھا کر تیس ملین تک کیا جائے گا (صحن حرم کے علاوہ طواف کعبہ کے لیے دو مزید طواف سرکلز کی تیاری اسی لیے ہے)۔

دوسرا مقصد معیشت کی مضبوطی، خواتین کی بھرپور شرکت کے ساتھ، پبلک انوسٹمنٹ فنڈ، فارن ڈائریکٹ فنڈننگ، نان آئل ایکسپورٹس میں اضافہ ہے اور تیسرا واضح مقصد جذبے اور آگے بڑھنے کی لگن والی قوم کی تیاری، حکومتی اداروں کی فعالیت اور موثر اقدامات، کم سے کم ۸۰ نئے بڑے منصوبوں کا آغاز اور ان کی ۲۰۳۰ء تک تکمیل، سعودی تیل کمپنی آرامکو کے پانچ فیصد حصص کی فروخت، یاد رہے یہ کمپنی دو ہزار ارب ڈالر کی حامل ہے، اس کے پانچ فیصد حصص دنیا کے صرف چندملکوں کے مالی ادارے ہی خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سعودی معاشرے کی کایا پلٹ کے لیے شہزادہ محمد کو پانچ سو دس بلین (کھرب) خرچ کرنے ہوں گے، اس میں اردن اور مصر کی سرحد پر واقع الوجہ اور عملج نامی قصبات کے قریب نئے بسائے جانے والے شہر نیوم کے اخراجات شامل ہیں، یہ شہر بحیرۂ احمر پر بسایا جائے گا اس میں پچاس جزیرے بھی شامل ہیں اور اس پر سعودی قانون لاگو نہیں ہوگا، ساحل سمندر پر خواتین بکنی میں آجا سکیں گی (یہ سطر باقاعدہ اس منظور شدہ دستاویز کا حصہ ہے) یہ شہر اصل میں نئے سعودی تصورات اورخوابوں کا ایک ایسا جہان ہوگا جو مستقبل اور فکشن کا ملاپ ہوگا اور یہی اس کے نام کی وجہ اور بنیاد ہے۔ یہ دبئی سے سو سال آگے کی چیز سوچی گئی ہے یہ قریباً ۳۴۰۰ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہوگا، اس کو عالمی قوانین کے تحت چلایا جائے گا۔ اصل میں اسے عالمی سیاحت کو سامنے رکھ کر ہی بنایا جا رہا ہے، جن سعودی دوستوں سے ملاقات ہوئی انہیں کسی تشویش میں مبتلا نہیں دیکھا، وہ اسے ایک عملیت پسندی گردان رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اس تبدیلی پر سعودی ردعمل متوقع نہیں ہے کہ نئی نسل تو پہلے ہی اس سارے عمل کی خواہاں تھی، ان سے پرانے سعودی باشندے، اہل سطوت اور شہزادے اپنی چھٹیاں بیرون ملک گزارتے ہیں اور لاکھوں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے عادی ہیں، یہ تبدیلیاں انہیں اب باہر جاکر خرچ کرنے کی بجائے اپنے ہی ملک میں خرچ کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔

سعودی معاملات ہمیشہ ایک اسرار کی دبیز تہہ میں طے ہوتے رہے ہیں، ان میں عوامی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے، اس کی دلیل وہاں کے قبائلی نظام اور طرز حکومت کو قرار دیا جاتا رہا ہے، میرے لیے یہ سارا عمل ایک آہنی پردہ ہٹنے جیسا ہے، عوامی قبولیت کا پہلا ٹیسٹ اسی ماہ متوقع ہے، جب سعودی عرب میں نئی قائم ہونے والی انٹرٹینمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام ریاض میں امریکی اور سعودی گلوکاروں کا لائیو کنسرٹ ہوگا اور پھر فیشن شوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ۲۰۲۲ء تک ریاض میں سکس فلیگ تھیم پارک تیار ہوچکا ہوگا جو ۴۳۳ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے اور ۲۰۳۰ء وژن کے تحت ۸۷ویں سعودی سالگرہ کی تقریبات کا مرکز یہی ہو گا۔

ایک اہم سوال جو بار بار پوچھا جاتا رہے گا کہ کیا سعودی حکومت یہ سب تیل کی فروخت میں کمی کا خسارہ دور کرنے کے لیے پیسے کے لیے کر رہی ہے؟ ہاں یہ ایک اہم فیکٹر ہوگا مگر اتنے سوچے سمجھے وژن کی وجہ اس سے کہیں بڑی ہے اور وہ ہے مستقبل بینی اور اس سے عہدہ برا ہونے کی تیاری، سعودی خاموشی کے علی الرغم بہت ممکن ہے پاکستان میں اس ساری تبدیلی پر بہت تبصرے ہوں جہاں پہلے سے ہی مخلوط تعلیم، فیشن شوز سنیماز، لڑکیوں کی ڈرائیونگ اور ان کو اسٹیڈیم جاکر کھیل دیکھنے کی اجازت جیسی باتیں ایشو ہی نہیں ہیں اور ان کی وجہ سے اسلام خطرے میں نہیں دیکھا جاتا، کیا اب سخت مذہبی اقدار کے حامل اور اپنے تہذیبی خوابوں سے جڑے سعودی معاشرے کو بھی اسی طرح کی ایک آزاد اور بڑی کروٹ لیتے ہم اتنی ہی آسانی سے دیکھ سکیں گے۔ (معارف فیچر )

 

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی