صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

خلع کی حیثیت

تحریر: محمد ادریس قریشی

0 473

قانونِ اسلامی نے جسطرح مرد کو یہ حق دیا ہے کہ جس عورت کے ساتھ نباہ نہ ہو سکتا ہو اُسے وہ طلاق دیدے اسی طرح زوجہ کو خلع کا حق دیا گیا ہے لیکن زوجہ یہ حق محض خواہشات نفسانی کی خاطر بے جا طور پر استعمال نہیں کر سکتی بلکہ جب زوجین حدود اللہ میں رہ کر زندگی بسر نہ کر سکیں تب یہ حق استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں اللہ تبارک تعالیٰ کا فرمان ہے:
”جب تم کو خوف ہو کہ جب زوجین اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے کچھ مضائقہ نہیں اگر عورت کچھ معاوضہ دیکرعقد نکاح سے آزاد ہو جائے“
(سورۃ البقرہ229)

معاوضہ دیکر عقد نکاح سے آزاد ہونے کیلئے محض معاوضہ دینے کی خواہش کافی نہیں ہے بلکہ اس معاوضہ کو قبول کرکے طلاق دینا ضروری ہے۔ مگر جب بیوی معاوضہ دینے پر آمادہ ہو لیکن شوہر اُسے قبول کرنے پر رضامند نہ ہو تو پھر قاضی یا عدالت اسکا تصفیہ حالات کی روشنی میں کرتے ہیں۔
رسول کریم ﷺ اور خلفائے راشدین نے ایسے کئی مقدمات کا فیصلہ فرمان خداوندی کی روشنی میں کیا ہے۔ امام مالک اور ابو داؤد نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک روز صبح سویرے حضورپاک ﷺ اپنے گھر سے باہر نکلے تو انہوں نے حبیبہ بنت سہل انصاریہ کو کھڑا پایا، دریافت پر انہوں نے عرض کیا کہ انکی اور ثابت بن قیس (شوہر) کی نہیں نبھ سکی اور جو مال ثابت نے مجھے دیا ہے وہ سب میرے پاس موجود ہے وہ میں واپس کرنے کو تیار ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے ثابت کو طلب فرمایا اور اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد کہ واقعی وہ حدود اللہ میں رہ کر زندگی بسر نہیں کر سکتے اور عورت کے دل میں شوہر کی طرف سے نفرت و کراہت بیٹھ چکی ہے، ثابت کو مال دلواکر علیحدگی کرادی۔ خلع کی مشروعیت پر تمام فقہی مذاہب متفق ہیں لیکن اسکے طریقہ کار، جزئیات اور ذیلی احکام کے بارے میں قرون اولیٰ سے علماء کے مابین اختلاف رہا ہے۔ مثلاً خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے یا عدالت شوہر کی مرضی کے بغیر خلع کا فیصلہ کر سکتی ہے، خلع پر فسخ کے احکامات مرتب ہوں گے یا طلاق کے؟ گزشتہ چند دہائیوں میں مختلف اسلامی ممالک میں خلع کے موضوع پر کی جانے والی قانون سازی اور متعارض فتاویٰ کی وجہ سے اس اختلاف میں قدرے شدت پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام (1959) کیس کے فیصلے کے بعد اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کا آغاز ہوا کہ آیا عدالت کی طرف سے خاوند کی رضامندی کے بغیر دیا جانے والا خلع کا فیصلہ درست ہے یا نہیں؟ بعد میں سپریم کورٹ نے 1967 میں خورشید بی بی مشہور مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی توثیق کی۔
مسماۃ خورشید بی بی بنام محمد امین (PLD 1967 Sc 97)
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ مسماۃ بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام (PLD 1959 Lahore 566) پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مصر میں 2000 ء کے قانون نمبر(1) میں وہی مؤقف اختیار کیا گیا جو پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں عرصہ پہلے اختیار کر چکی تھیں۔
خلع اسلامی عائلی قوانین میں سب سے ذیادہ زیر بحث رہنے والے مسائل میں سے ایک ہے اور ماتحت عدالتوں میں نصف سے ذیادہ مقدمات خلع سے متعلق دائر ہوتے ہیں۔
اس تحقیقی مضمون میں جو امور زیر بحث آئیں گے ان میں سے اہم درج ذیل ہیں۔
1۔ کیا ایک مسلمان خاتون کو شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع لینے کا حق حاصل ہے؟
2۔ کیا خاتو ن کی درخواست پر عدالتیں شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع دے سکتی ہیں؟
3۔ سورۃ بقرہ کی آیت 229 میں کن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے؟
4۔ خلع کی حقیقت کیا ہے یعنی یہ فسخ نکاح ہے یا طلاق؟
5۔ خلع کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہاء کی آراء کیا ہے؟
6۔ آیا حبیبہ بنت سہل کے معاملے میں کیا گیا فیصلہ بذات خود ایک شرعی حکم ہے یا قرآن کے ذریعے اس کی تنسیخ کی جا چکی ہے؟
7۔ فقہاء نے مذکورہ معاملے میں دیئے گئے حکم کی پیروی کی ہے یا اسے نظر انداز کیا ہے؟
8۔ خلع میں شوہر کی رضامندی کے بارے میں حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور اثنا عشری فقہاء کی آراء کیا ہیں؟
9۔ خلع کے حوالے سے پاکستانی عدلیہ کا مؤقف فقہاء کی آراء سے موافق ہے یا اس سے مختلف ہے؟
10۔ کیا 1964 ء کے مغربی پاکستانی عائلی عدالتوں کے قانون کی شق نمبر(4)10 اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
یہ امور کسی حد تک پیچیدہ ہونے کی وجہ سے قرآنی تفاسیر کے تفصیلی تجزیئے، احادیث کی مختلف روایات پر گہری نظر، کلا سیکی اور عہد وسطیٰ کے فقہاء کے کام، مصری وپاکستانی قوانین اور پاکستانی عدالتی فیصلوں پر بحث کا تقاضہ کرتے ہیں۔

خلع اور قرآن

خلع کا لغوی معنی ”نکالنا“ ہے۔ علاء الدین الکا سانی کے مطابق خلع کا لغوی معنی”نزع“ہے اور نزع ایک چیز کو کسی دوسری چیز سے نکالنے اور الگ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں خلع ازدواجی علیحدگی کو کہا جاتا ہے جس میں شوہر بیوی سے مال لیکر اسے نکاح کے بندھن سے آزاد کر دیتا ہے۔ ابن حجر عسقلانی خلع کی تعریف کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ”خاتون کی طرف سے دیئے گئے مال کے بدلے میں شوہر کا بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا“۔

قرآنی آیات

قرآن مجید کی درج ذیل آیات خلع سے متعلق ہیں۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 229 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم انکو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو، ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت خاوند کے ہاتھ سے رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا اور جو لوگ اللہ کی حدود سے باہر نکل جائیں گے وہ گناہ گار ہوں گے“۔ 
اس آیت میں فان خفتم سے کن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے اس کے تعین میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ان الفاظ کے مخاطب حکام ہیں جن کی نمائندگی عدالتیں کرتی ہیں یا پھر ان الفاظ کے ساتھ میاں بیوی کو مخاطب کیا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر کہ یہ کون طے کریگا کہ طرفین اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر زندگی گزارسکتے ہیں یا نہیں؟ آیا یہ ذمہ داری عدالت کی ہونی چاہئے جو ریاست کی طرف سے کام کرتی ہے یا پھر طرفین خود اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے؟ فقہاء کا اس امر پر اختلاف ہے کہ خلع عدالتی فیصلہ کی بنیاد پر طے کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے بلقیس فاطمہ نامی مقدمہ میں فقہاء کی اس تشریح کو اختیار کیا ہے کہ خفتم کے مخاطبین لازماً حکام اور قضاۃ ہیں اور واضح طور پر ان الفاظ سے میں بیوی کو خطاب نہیں کیا گیا کیونکہ اس آیت میں غائب کی خمیر استعمال کی گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خلع کا قرآنی مفہوم اسطرح ہے۔
۱۔ خلع کی پیشکش زوجین میں سے کوئی بھی کر سکتا ہے جب وہ سمجھے کہ اکٹھے رہتے ہوئے ازدواجی حقوق پورے کرنا ممکن نہیں۔
۲۔ جمہور مفسرین کی راجح رائے کے مطابق یہ طے کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے کہ میاں بیوی میں اختلاف،ضرر،حق تلفی اور جبر کس حد تک ہے۔
۳۔ اور یہ بہت اہم ہے کہ عدالت کو طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ خاوند کی رضامندی کے بغیر خلع دے سکتی ہے یا خلع خاوند کی رضامندی کے ساتھ مشروط ہوگا بالخصوص جبکہ ضرر اور حق تلفی بیوی کی طرف سے ہو اور وہ خلع کا عوض دینے کیلئے تیار بھی ہو؟
دوسرے لفظوں میں کیا خلع باہمی رضامندی سے طے پانے والا معاملہ ہے یا عدالت بھی شوہر کی رضامندی کے بغیر نکاح کو ختم کر سکتی ہے؟ سورۃ بقرہ کی آیت  229 سے اسکا واضح جواب نہیں ملتا اسلئے مفسرین کو خلع سے متعلق احادیث کی طرف رجوع کرنا پڑا۔

خلع اور احادیث

احادیث مبارکہ کی اکثر کتابوں میں خلع کے باب کے تحت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجہ حبیبہ بنت سہل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ صحاح ستہ میں سے چار میں روایت ہواہے۔ امام بخاری نے خلع کے باب میں اسکو یوں نقل کیا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے ثابت کے اخلاق اور دین میں کوئی عیب نظر نہیں آتا، لیکن میں اسلام میں کفر کو نا پسند کرتی ہوں۔ نبی پاکﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم اسکا باغ واپس کردو گی؟ اس نے کہا، جی ہاں، نبی پاکؐ نے ثابت سے فرمایا اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دیدو۔ (بخاری شریف)
اس واقع کی دوسری اور تیسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت ثابت کو باغ کے بدلے میں حبیبہ کو طلاق دینے کا حکم دیا۔ ان دونوں روایتوں میں راوی عکرمہؓ ہیں۔دوسری روایت میں بالواسطہ خطاب میں وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ حضرت ثابت سے رضامندی نہیں لی گئی بلکہ رسول کریم ﷺ نے انکو حکم دیا تھا۔
امام نسائی نے اس واقع کو یوں روایت کیا ہے کہ ”ثابت بن قیس نے اپنی بیوی کو مارا اور اسکا ہاتھ توڑ دیا۔ یہ بیوی جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی تھی۔ اس نے اپنے بھائی کے پاس اس بارے میں شکایت کی جو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے گیا۔ نبی پاکﷺ نے ثابت بن قیس کو بلایا اور فرمایا، اسکا تم پر جو حق ہے وہ لے لو اور اسکا راستہ چھوڑ دو، ثابت نے کہا ٹھیک ہے“ (سنن نسائی)
امام ابو داؤد نے حبیبہ کا واقعہ یوں نقل کیا ہے ”حبیبہ بنت سہل، ثابت بن قیس کے نکاح میں تھی۔ ثابت نے اسکو مارا اور اسکے جسم کا کوئی عضو توڑ دیا، وہ اگلی صبح نبی پاکﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے شوہر کی اس بارے میں شکایت کی، نبی پاک ﷺ نے حضرت ثابت کو بلایا اور کہا کہ اسکو دیئے ہوئے مال میں سے کچھ لے لو اور اسے چھوڑ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ میرے لئے جائز ہے؟ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ”ہاں“۔ انہوں نے کہا میں نے اسکو دو باغ مہر میں دیئے تھے وہ اسکے پاس ہی ہیں، نبی پاک ﷺ نے فرمایا وہ لے لو اور اسکو الگ کردو چنانچہ ثابت نے ایسا ہی کیا“ (ابوداؤد)
امام احمد بن حنبل ؓ نے اس واقعہ کو یوں روایت کیا ہے کہ حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس الانصاری کے نکاح میں تھیں اور وہ اسے نا پسند کرتی تھیں اور حضرت ثابت اچھی شکل و صورت کے مالک نہیں تھے۔ ایک دن وہ نبی پاک ﷺ کے پاس آئیں اور کہا، اے اللہ کے رسول ؐ اگر مجھے اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں اسکے چہرے پر تھوک دیتی۔ نبی پاکؐ نے پوچھا کہ کیا تم اسکا باغ لوٹا نے پر تیار ہوجو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟ اس نے کہا ”جی ہاں“۔ نبی پاک ؐ نے حضرت ثابت کو بلایا اور حبیبہ نے اسکا باغ واپس کردیا اور نبی پاکؐ نے ان دونوں کے درمیاں تفریق کرادی۔ (المسنہ)
ابن ماجہ اور ابو داؤد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہرخلع کے معاملے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتا (جیسا کہ فقہاء کے مطابق شوہر کو یہ کردار حاصل ہے)کیونکہ نبی پاک ؐ نے ثابت سے علیحدگی کی خاطر کوئی رضامندی طلب نہیں کی تھی۔
اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ بالا تمام روایات (جو کہ ایک ہی واقعہ کے مختلف طریق ہیں)کی رو سے خلع باہمی رضامندی سے طے پانے والا معاملہ نہیں ہے اور اسکے لئے شوہر کا رضامند ہونا ضروری نہیں۔ تاہم جمہور فقہا، حنفی، شافعی، حنبلی اور شیعہ کے نزدیک شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت خلع نہیں دے سکتی۔
احادیث کے چار مجموعے جن میں حبیبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کسی میں بھی خلع کیلئے شوہر کی رضامندی کا بطور شرط صراحتا ً یا اشارۃً ذکر نہیں۔ اسکے برعکس ان تمام مجموعوں میں ہر چیز مشترک ہے وہ نبی پاکؐ کے امر کا وہی پہلو ہے جو انہوں نے حضرت ثابت کو دیا تھا کہ وہ اپنا مال واپس لے لیں اور حبیبہ سے علیحدگی اختیار کر لیں۔خلع میں حضرت چابت بن قیس کے عمل دخل کو غیر متعلق کئے جانے کے باوجود جمہور فقہا نے بالاتفاق خلع میں شوہر کو فیصلہ کن کردار دیا ہے۔
معروف حنفی فقہہ امام حصباص کے مطابق نبی پاکؐ کا حضرت ثابت اور انکی اہلیہ سے پوچھنا ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خلع باہمی رضامندی سے ہوتا ہے اسلئے کہ اس واقعہ میں خاوند کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے بصورت دیگر نبی پاکﷺ ثابت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے اور خود ہی حبیبہ کو طلاق دے دیتے۔ (جصاص احکام القرآن)

سورہ نساء کی آیت نمبر 35

سورہ نساء کی آیت نمبر35 کے بارے میں فقہاء کی آراء کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہی آیت ہے جو پاکستان اور مصر میں خلع کے قانون کی بنیاد ہے۔سال 2000 ء میں مصری قانون نمبر 1 نے طے کیا:
”شادی شدہ جوڑا اپنی مرضی سے خلع کی بنیاد پر علیحدگی کا فیصلہ کر سکتا ہے تاہم اگر وہ اتفاق نہیں کرتے اور خاتون عدالت میں خلع کا مقدمہ لے کر آتی ہے اور اپنے تمام مالی و قانونی حقوق سے دست بردار ہو کر شوہر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور شوہر کو مہر واپس کرتی ہے تو عدالت اس خاتون کو شوہر کی طرف سے طلاق دے دے گی“۔

”خلع اور فقہ“۔ حنفی فقہ میں خلع

حنفی فقہ حبیبہ والی حدیث کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ بالاتفاق خلع کی کاروائی میں شوہر کو فیصلہ کن اور مؤثر کردار دیتے ہیں۔امام جصاص یہ نقطہ اٹھاتے ہیں کہ نبی پاکﷺ کا ثابت اور حبیبہ دونوں سے پوچھنا ہی شوہر کو مرکزی اہمیت دیتا ہے کیونکہ نبی پاکؐ ثابت بن قیس کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے از خود حبیبہ کو طلاق دے سکتے تھے۔ حنفی فقہ کا اصرار ہے کہ خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔ امام سرخسی کہتے ہیں کہ خلع ایک عقد ہے جسکے لئے تمام دوسرے عقود کی طرح جانبین کی رضامندی ضروری ہے۔ (کتاب المبسوط)
امام کاسانی کہتے ہیں کہ خلع کا بنیادی رکن ایجاب و قبول ہے کیونکہ یہ عوض کے بدلے طلاق ہے لہذا شوہر کے قبول کئے بغیر علیحدگی نہیں ہو سکتی۔ (کاسانی، بدائع)
دوسرے لفظوں میں کاسانی کے نزدیک عدالت کسی کو کوئی عقد کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی لہذا شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع بھی نہیں دے سکتی۔(فتح القدیر)
اس امر پر بھی حنفی علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ خلع ایک طلاق بائن ہے۔ (جصاص، احکام القرآن) (السرخسی، کتاب المبسوط) (کاسانی، بدائع)
حنفی علماء کے نزدیک چونکہ خلع ایک طلاق بائن ہے جسکے مؤثر ہونے کیلئے عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ معاملہ عدالت سے باہر بھی طے ہو سکتا ہے۔ (جصاص، احکام القرآن) (السرخسی، کتاب المبسوط) (کاسانی، بدائع)
امام اعظم ابو حنیفہ کے بزدیک اگر خلع کی پیشکش (ایجاب)شوہر کی طرف سے ہو تو اس پر قسم کے احکام لاگو ہوں گے لہذا وہ اس پیشکش سے رجوع نہیں کر سکتا بلکہ اسے بیوی کے قبول یا رد کا انتظار کرنا ہوگا لیکن اگر پیشکش بیوی کی طرف سے ہو تو اس پر عقد معاوضہ کے احکام لاگو ہوں گے لہذا وہ شوہر کے قبول کرنے سے قبل اپنی پیشکش سے رجوع کر سکتی ہے۔ امام ابو حنیفہ اس اصول سے استدلال کرتے ہیں کہ خلع عورت کی طرف سے عقد بیع ہے کیونکہ اسکے ذریعے وہ اپنی ذات پر کنٹرول واپس خرید لیتی ہے۔ (کاسانی، بدائع الصنائح)
اگر ناچاقی شوہر کی جانب سے ہو تو اسکے لئے خلع کے بدلے میں کوئی عوض لینا جائز نہیں۔ حنفی فقہاء کے نزدیک خلع اور طلاق میں شوہر کو ویٹو کی طرح کا اختیار حاصل ہے۔

مالکی فقہ میں خلع

امام مالک نے حبیبہ کے معاملہ کے بارے میں تینوں روایات جو اوپر بیان کی گئی ہیں پر بحث کی ہے اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تیسری روایت میں خاوند کی رضامندی کا کہتے ہیں جسمیں نبی پاک ؐ، حضرت ثابتؓ کو بلا کر انکو بیوی کی رضامندی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ (طلاق کے بدلے میں)باغ واپس کرنے کیلئے تیار ہے جسکے جواب میں ثابت کہتے ہیں کہ مجھے یہ پسند ہے اور رسول پاک ﷺ فرماتے ہیں پھر وہ باغ واپس کرتی ہے۔
امام مالک نے یہ صراحت نہیں کی کہ خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے یا نہیں تاہم ثالثوں کے بارے میں انکے ہاں بڑی صراحت ملتی ہے۔ مالکی فقہاء کرام حکمین کو اہم کردار دیتے ہیں۔

شافعی فقہ میں خلع

امام شافعی کے نزدیک خلع طلاق کی طرح ہے اور وہ صرف شوہر ہی دے سکتا ہے۔ (الشافعی، کتاب الام)
چونکہ امام شافعی خلع کو طلاق قرار دیتے ہیں اسلئے وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ خلع کا معاملہ عدالت کے اندر یا باہر بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ عوض لیکر طلاق دینا عدالت کے اندر اور باہر دونوں صورتوں میں جائز ہے۔

حنبلی فقہ میں خلع

حنبلی فقہ ابن القیم، امام بخاری، لنسائی، ابو داؤد اور دار قطنی کی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے خلع کے متعلق متعدد احکام مستبنط کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آیت 229 خلع کی اجازت دیتی ہے اور وہ سلطان کی اجازت یا اسکے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ انکے بقول یہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خلع طلاق بائن ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے فدیہ قرار دیا ہے۔
ابن القیم نے بدل خلع میں مہر سے کم یا ذیادہ لینے کے بارے میں فقہاء کا اختلاف بھی بیان کیا ہے اور کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل کے نزدیک مہر سے ذیادہ لینا مکروہ ہے۔
امام ابن حزم کے نزدیک اگر کوئی عورت یہ سمجھے کہ وہ اپنے شوہر کی تابعداری نہیں کر سکتی اور وہ اسکے مطالبات پورے نہیں کر سکتی تو وہ نکاح سے خود کو آزاد کرا سکتی ہے اگر اسکا شوہر راضی ہو۔ تاہم اگر شوہر انکار کردے تو اسکو خلع پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں کی رضامندی خلع کیلئے لازمی بنیاد ہے اور اگر خلع ان دونوں شرائط (بیوی کی طرف سے مال اور شوہر کی طرف سے رضامندی) کے بغیر کیا گیا ہو تو وہ شرعاً غیر معتبر ہوگا۔ (محمد بن حزم، المحلی)

خلع اور شیعہ فقہ

اثنا عشری (جعفری)فقہ کے عالم حلی کے نزدیک خلع کے معتبر ہونے کیلئے خلع کے ساتھ طلاق کا لفظ استعمال کرنا ضروری ہے۔ انکے نزدیک جب عورت شوہر کو نا پسند کرنے لگے تو صرف مال کے بدلے میں نکاح ختم کرنا خلع کہلاتا ہے۔
(نجم الدین، الحلی، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام)
انکے نزدیک بھی خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔
مختلف فقہاء کرام کی آراء ذکر کرنے کے بعد جو واضح تصویر ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ:
1۔ تمام فقہاء کرام خلع کی اجازت اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر229 اور حبیبہ کے معاملے کا حوالہ دیتے ہیں۔
2۔ مالکی فقہ میں اگر شوہر نزاع کا باعث ہو تو اسے کسی قسم کا کوئی فدیہ، عوض، معاوضہ نہیں دیا جائے گا لیکن اگر جھگڑے کی وجہ بیوی ہو تو پھر اسے خاوند کو عوض دینا ہوگا۔
3۔ تمام فقہاء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ خلع کے نتیجے میں ہونے والی علیحدگی طلاق بائن ہوگی۔
4۔ بدل خلع مہر کے مساوی، اس سے کم اور اس سے ذیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
5۔ اگر بدل خلع مہر سے ذیادہ ہو تو اخلاقی اعتبار سے یہ مکروہ ہوگا تاہم قانوناً عورت پر یہ سارا معاملہ لازم ہوگا۔
6۔ جمہور فقہ نے حبیبہ کی حدیث کو ترک کرکے خلع میں شوہر کی رضامندی کو ضروری قرار دیا ہے۔
7۔ تاہم مالکیہ نے سورہ نساء کی آیت نمبر 35 کی بنیاد پر مختلف نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ثالثوں کو اجازت دی ہے کہ وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر نکاح ختم کردیں اگر چہ جانبین نے انہیں اسکا اختیار نہ بھی دیا ہو۔
8۔ جمہور فقہاء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ خلع کا معاملہ باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے چنانچہ اسکے لئے دونوں میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے جبکہ مالکی فقہاء نے ثالثوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ میاں بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کردیں،
9۔ خلع ریاستی حکام کی مداخلت اور اسکے بغیر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
10۔ تمام سنی فقہاء نے خلع میں حبیبہ کی حدیث نقل کی ہے جس کے بعض طرق کے مطابق نبی پاک ﷺ نے کاتون کو مہر سے ذیادہ عوض دینے سے منع کیا ہے۔

عدالتی خلع

عدالتی خلع سے مراد درحقیقت وہ خلع ہے جو بیوی کو عدالت یا قاضی کی طرف سے اسوقت دیا جاتا ہے جب بیوی خاوند سے خلع کا مطالبہ کرے اور کاوند بلا کسی مناسب وجہ یا عذر شرعی کے خلع دینے سے انکار کردے۔ اسطرح بیوی کے خلع کیلئے دعویٰ دائر کرنے پر عدالت اگر ضروری سمجھے تو خاوند کی رضامندی کے بغیر بھی خلع کی ڈگری پاس کر دیتی ہے اور زوجین کے درمیان تفریق کرا دیتی ہے۔ تفریق یا خلع کیلئے عدالتی چارہ جوئی کا تصور نیا نہیں بلکہ نبی پاک ؐ اور صحابہ اکرام کے زمانے میں جہاں دیگر کئی عائلی معاملات کے مقدمات عدالت میں پیش ہوئے وہیں تفریق زوجین یا خلع کے مقدمات بھی پیش کئے گئے۔ چنانچہ بعض تابعین اور فقہاء کرام کے نزدیک خلع کا معاملہ صرف عدالت یا حاکم وقت ہی طے کر سکتا ہے مثلاً ابن سیرین اور سعد بن جبیر کے نزدیک خلع قاضی کی رضامندی کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتا۔

خلع اور پاکستانی اعلیٰ عدلیہ:
اسلامی قانون کی تشریح یا عدالتی اجتہاد

بر صغیر پاک و ہند (موجودہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں خلع سے متعلق اولین ریکارڈ شدہ مقدمہ منشی بزول الرحیم بنام لطیف النساء ہے جسمیں اسوقت ہندوستان میں اپیل کیلئے سب سے اعلیٰ اتھارٹی ”پریوی کونسل“کی عدالتی کمیٹی نے یہ قرار دیا کہ اسلامی قانون کے تحت شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں ہو سکتا۔ بد قسمتی سے انڈیا میں آج بھی اس مقدمے میں کی جانے والی خلع سے متعلق عدالتی تشریح پر عملدر آمد ہو رہا ہے، البتہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اب صورتحال اس سے مختلف ہے۔
مسماۃ عمر بی بی بنام محمد دین (Air 1945 Lah, 51) میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویزنل بنچ نے دو خواتین کی جانب سے مزاج میں عدم موافقت کی بنیاد پر شوہروں کی رجامندی کے بغیر خلع کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔
ڈویزنل بنچ کے اس مؤقف کو 1952 میں اسی عدالت کے فل بنچ نے سعیدہ خانم بنام محمد سمیع میں برقرا ر رکھا (PLD 1952 Lah, 113) اس مقدمے میں عدالت کے سامنے یہ سوالات رکھے گئے تھے۔
1۔ کیا مزاج میں عدم موافقت شریعت میں طلاق کی بنیاد ہو سکتی ہے؟
2۔ کیا شقاق کی بنیاد پر اسلامی قانون میں طلاق کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
عدالت نے دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جمیلہ (پاکستان کی عدالتوں نے ہمیشہ اس خاتون کو حبیبہ کی بجائے جمیلہ کے نام سے ذکر کیا ہے) کے معاملے میں جسکا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے، خود نبی پاک ﷺ نے نکاح کو فسخ نہیں کیا تھا بلکہ شوہر کو طلاق کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں عدالت نے حنفی فقہاء کی روایتی رائے کو ہی اختیار کیا تھا۔

عدالتی اجتہاد؟ اسلامی قانون کی تشریح نو
1959 ء میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اسلامی قانون میں خلع کے بارے میں مسلمہ رائے کی از سر نو تشریح کی۔ مسماۃ بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام قریشی (PLD 1959 Lah, 566) میں عدالت عالیہ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا بیوی شوہر سے مہر میں لیئے ہوئے مال کے بدلے میں نکاح سے آزادی حاصل کر سکتی ہے؟ عدالت نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیا اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر229 کی تشریح کے تحت قرار دیا کہ یہ آیت عورت کی جانب سے شوہر کو مالی معاوضہ ادا کرکے نکاح ختم کرنے کی مسلمہ طور پر اجازت دیتی ہے۔ جسٹس کیکا وس نے قرار دیا کہ ”فان خفتم“ میں خطاب لازمی طور پر حکومت وقت اور عدالتی حکام سے ہے اور ان الفاظ سے خطاب بد ہی طور پر میاں بیوی سے نہیں ہے۔ قاضی کے پاس معاملہ اس وقت لایا جاتا ہے جب بیوی طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر اس مطالبے کو ماننے سے انکار کردے۔عدالت نے اس بات کو یوں سمیٹا کہ قاضی کے پاس معاملہ لایا جانا اسی وقت با مقصد ہو سکتا ہے جب قاضی کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ نکاح کو ختم کر سکے اگر چہ شوہر طلاق دینے کیلئے راضی نہ ہو۔ عدالت نے مولانا مورودی کی رائے پر انحصار کرتے ہوئے اس مسئلے پر جمہور فقہاء کی آراء سے اختلاف کیا ہے اور اپنی رائے وضاحت سے بیان کی ہے کہ عورت کا حق خلع شوہر کے حق طلاق کے متوازی ہے۔ ثانی الذکر کی طرح اول الذکر بھی غیر مشروط ہے۔یہ تو شریعت کا مذاق بنانے والی بات ہوئی کہ ہم خلع کو ایک ایسی چیز سمجھنا شروع کردیں کہ جو یا تو شوہر کی رضامندی یا پھر قاضی کے فیصلے پر موقوف ہو۔ اس حوالے سے خواتین کے حقوق کا جس طریقے سے انکار کیا جاتا ہے اسلامی قانون اس سے بری ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے خورشید بی بی مقدمے میں فیصلہ کرتے وقت لاہور ہائی کورٹ کے دو مساوی بنچوں کے باہم متعارض فیصلوں میں سے بلقیس فاطمہ کیس میں دیئے گئے فیصلے کو اختیار کیا ہے۔جسمیں کہا گیا تھا کہ اگر عدالت تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ زوجین حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر ہی خلع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
1967 ء میں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان جسٹس ایس اے رحمان،فضل اکبر، جسٹس حمود الرحمن، جسٹس محمد یعقوب علی اور جسٹس ایس اے محمود نے بھی خورشید بیگم بنام محمد امین کے مقدمے میں اسی نقطہ نظر کو اختیار کیا۔
(خورشید بیگم بنام محمد امین۔ PLD 1967 S.c 97)
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ماتحت عدالتوں کیلئے قانون کی حیثیت اختیار کرلی اور 1967 کے بعد ہماری عدالتیں خلع کے فیصلے اپنی صوابدید پر کررہی ہیں۔2002 ء میں قانون میں خلع کے مقدمات کو عدالت میں تیز رفتاری سے نمٹانے کیلئے یہ ترمیم کی گئی کہ عدالت زوجین کو مصالحت کا موقع دے اور مصالحت کی ناکامی کی صورت میں عدالت لازمی طور پر عورت کے حق میں خلع کا فیصلہ کردے اور خاوند کی رضامندی ضروری نہیں۔
(The west pakistan family courts act 1964 section 10)
مذکورہ بالا ترمیم پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت میں سال 2005 ء سے 2007 ء کے عرصے میں چھ مختلف ملتی جلتی پٹیشنزمیں چیلنج کی گئی جسکا فیصلہ 25 اگست 2009 ء میں آیا۔یہ فیصلہ سلیم احمد بنام فیڈریشن آف پاکستان کے نام سے 2014 میں رپورٹ ہوا ہے۔
(PLD 2014 FSC 43)
عدالت نے یہ قرار دیا کہ قانون کا متنازعہ حصہ یعنی سیکشن (4)10 قرآن و سنت کے کسی بھی حکم کے ساتھ متصادم نہیں پایا گیا۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ خود کو تقلید کا پابند نہیں مانتی اور اس نے بظاہر اجتہاد سے کام لیتے ہوئے اپنے لئے تین حقوق مانے ہیں۔
1۔ پہلا انکا یہ حق کہ وہ ضرورت کے مطابق قرآن و سنت کی آزادانہ تشریح کر سکیں گے۔
2۔ دوسرا یہ حق کہ وہ مختلف فقہی مکاتب بالخصوص حنفی فقہ کے روایتی مستند ستون سے اختلاف کرسکیں۔
3۔ اور آخری انکا یہ حق کہ وہ اس معاملے میں پریوی کونسل کے فیصلوں کی اتباع نہ کریں۔اس حوالے سے بالعموم یہی سمجھا جاتا ہے کہ پاکستانی اعلیٰ عدلیہ نے اجتہاد سے کام لیا ہے اور انہوں نے بنیادی طور پر فقہاء کی آراء کی بجائے قرآن و سنت پر انحصار کیا ہے۔
پاکستان میں مروج عدالتی خلع کی شرعی حیثیت کے حوالے سے اہل علم مختلف رائے رکھتے ہیں۔
1۔ عدالتی خلع کے بارے میں فتویٰ دینے کا ایک رحجان یہ ہے کہ عدالت اگر اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حقوق شریعت کے مطابق انجام نہیں دے سکتے تو عدالت زوجین کے درمیان خلع کا فیصلہ کردے خواہ خاوند کی رضامندی شامل ہو یا نہ ہو۔ عدالت میں آکر بیوی کا یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ مجھے خاوند سے اسقدر بغض اور نفرت ہے کہ اسکے ساتھ رہنا نا ممکن ہے۔ فتویٰ دینے کا یہ رحجان سیلفی علماء کے ہاں پایا جاتا ہے۔
2۔ پاکستان کے حنفی دارالافتاء عام طور پر مطلقاً عدم جواز کے قائل ہیں۔ نیز دار العلوم دیو بند کا فتویٰ بھی عدم جواز کا ہے البتہ حنفی علماء یہ تجویز کرتے ہیں کہ فرد کو دور کرنے کیلئے خاوند پر جبر کیا جائے کہ وہ از خود طلاق یا خلع دے یعنی حاکم شوہر کو مجبور کرے کہ وہ نان و نفقہ دے اور زوجہ کی خبر گیری کرے ورنہ خلع کرلے یا طلاق دے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات:
خلع کے قانون میں اصلاحات کی تجویز

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل228 کے تحت قیام میں آیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل (1)227 کے تحت کونسل کا کام یہ ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں طے شدہ اسلامی احکامات کے مطابق بنائے اور کوئی بھی نیا قانون قرآن و سنت سے متصادم نہ بنایا جائے۔ کونسل نے خلع کے بارے میں حکومت پاکستان کو جو سفارشات پیش کیں وہ یہ ہیں کہ ہماری نظر میں ملکی سطح پر ایک ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت کسی کاتون کی لکھی ہوئی طلاق کی درخواست پر شوہر کو 90 دنوں کے اندر طلاق دینے کا پابند بنایا جائے، اگر شوہر طلاق دینے سے انکار کرے تو نوے دن گزرنے کے بعد اگر بیوی نے اپنی درخواست واپس نہ لی تو نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔ اس طلاق میں شوہر کو رجوع کا اختیار بھی حاصل نہ ہوگا۔ بیوی بھی شوہر کے مطالبے پر شوہر کی طرف سے دی گئی جائیداد اور اثاثے سوائے مہر اور نان و نفقہ کے شوہر کو واپس کرے گی یا پھر اس قضیئے کے تصضیے کیلئے عدالت سے رجوع کرے گی۔
(حوالہ اسلامی نظریاتی کونسل کی میٹنگ نمبر171 سالانہ رپورٹ 2009-2008)
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کچھ مفروضوں پر مبنی بھی لگتی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئر مین مولانا محمد خان شیرانی نے یہ رائے دی کہ عدالتوں کو خلع کے نام پر فسخ نکاح سے پر ہیز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خلع فریقین کے درمیان ایک رضامندی کا عقد ہے لہذا شوہر کی رضامندی کے بغیر نہ دیا جائے۔
(بحوالہ ایکسپریس ٹریبیون 28 مئی2015)
نتیجہ: اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی قانون میں خلع متاثرہ خاتون کیلئے دستیاب سب سے بہترین دادرسی کی صورت ہے۔ سنت میں ثابت بن قیس کی بیوی حبیبہ بنت سہل کا واقعہ شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کی اہم مثال ہے جبکہ جمہور فقہ خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری قرار دیتے ہیں۔ بہر حال سنت رسول نبی کریم ﷺ ہمارے لئے معیا ر ہے، عورت کا بیان ہی خلع کے جواز کیلئے کافی ہے اور پاکستانی عدالتیں اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے دے رہی ہیں۔چند عدالتی نظائر درج ذیل ہیں۔

خلع سے متعلق عدالتی فیصلے

٭ خلع کی ڈگری کو اگرچہ اپیل کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا ماسوائے چند خاص معاملوں کے۔ موجودہ کیس میں خلع چونکہ قطعی شکل میں نہیں ملی تھی کیونکہ یہ خلع ایک خاص رقم کی ادائیگی سے مشروط تھی جب تک کہ خلع کی وہ رقم شوہر کو نہیں مل جاتی خلع اپنی قطعی شکل کو نہیں پا سکتی۔
(MLD 146 Peshawar 2018)
٭ خاوند کی جانب سے دی گئی طلاق کو طلاق ہی سمجھا جائے گا نہ کہ خلع سمجھا جائے گا۔ بیوی کی آزادانہ رضامندی خلع کیلئے بہت ضروری ہے۔ خاوند نے ثالثی کے فیصلے کے بعد بیوی کی رضامندی کے بغیر طلاق دی تو اسے خلع نہیں سمجھا جا سکتا۔ نچلی عدالتوں نے بالکل درست طور پر فیصلہ دیا کہ خاوند کی جانب سے دی گئی طلاق دراصل طلاق تھی خلع نہیں، اسلئے مہر اور دیگر مفادات وصول کرنے کی حقدار ہے۔
(PLD 2016 1 Peshawar)
٭ خلع ایک ایسی طلاق ہے جس میں بیوی شوہر کو شادی کے بندھن سے رہائی کے بدلے میں بدل ادا کرتی ہے اور اسکو طلاق بائن (ایک طلاق) کہا جاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے خلع کا اعلان ایک طلاق کہلائے گا اور اس میں بیوی بغیر حلالہ کے اپنے شوہر کے ساتھ نکاح کے بعد رہ سکتی ہے۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ(6)7 بیوی کو اسی شوہر سے دوبارہ بغیر حلالہ کے شادی کرنے سے منع نہیں کرتی جس سے اسکی اسی قانون کی دفعہ7 کے تحت طلاق ہو گئی ہو۔
(PLD 88 Lahore HC 2013)
٭ فریقین نے استدعا کی تھی کہ شادی کی تنسیخ کا دعویٰ غلط فہمی کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور اب دونوں دوبارہ سے بغیر حلالہ کے شادی کرنا چاہتے ہیں۔
جواز: مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت طلاق کا بیان کردہ طریقہ بتا دیا گیا ہے۔ فریقین بغیر حلالہ کے آپسمیں شادی کر سکتے ہیں۔ (PLD 209 Karachi HC 2013)
٭ شادی کے وقت بیوی کو شوہر نے مہر ادا نہیں کیا تھا۔ بیوی کی جانب سے خلع کے حق کے استعمال کا انحصار شوہر کی جانب سے مہر کی وصولی پر ہے لیکن یہ اس وقت نافذ العمل ہوگا اگر وہاں الفاظ ”بوقت شادی“استعمال ہوئے ہوں۔ مدعا علیہ کا معاملہ ولسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ(4)10 کے احکامات کے زمرے میں نہیں آتے۔ خاوند کی جانب سے بیوی کو مہر کی واپسی کا لازما نکاح نامہ کے کالم نمبر15 میں لکھی رقم سے مطابق ہو ان حالات میں اائینی درخواست خارج کردی گئی۔
(YLR 105 karachi HC 2014)
٭ دونوں فریقین میں مصالحت ناکام رہی تھی۔ بیوی کا بیان تھا کہ وہ شوہر کے ساتھ رہنے کی بجائے موت کو ترجیح دے گی۔ فیملی کورٹ نے تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کردی۔
(YLR 1240 Lahore 2011)
٭ مدعیہ نے دل میں سخت نفرت رکھی ہوئی تھی اور وہ مدعا علیہ کے ساتھ رہنے کو تیار نہ تھی۔ ضابطہ دیوانی اور فیملی کورٹ کے احکامات لاگو نہیں ہوتے تھے، دعویٰ زائد المیعاد نہیں تھا اور جاری رہ سکتا تھا۔
(Clc 1681 lahore 2010)
٭ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسے ہر گز مجبور نہیں کیا جا سکتا لہذا عورت کی اپیل منظور کرکے فیصلہ دیتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کردی گئی۔
(PLD 2005 Sc 293)
٭ جو شادی قرآن میں بیان کی گئی شادی کی منشا یعنی سکون و محبت اور راحت کے تقاضے پورے نہ کرتی ہو اور ان سے متصادم ہو اور ایک شادی سے اگر ان مقاصد کی تعمیل نہ ہوتی ہو تو کیا اسے قائم رہنا چاہئے گو کہ یہ بے مقصد ہو اور حتیٰ کہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہو تو بہتر ہے کہ اس شادی کی تنسیخ کردی جائے تاکہ ایک ناکام شادی کے مضر نتائج سے گریز کیا جا سکے۔
(PLD 1967 Sc 97)
٭ اگر زوجین آپسمیں ایک دوسرے کو ماریں پیٹیں تو وہ حدود اللہ میں ہر گز نہیں ہوں گے۔خلع کی بنیاد پر جاری ہونے والی ڈگری میں ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کردیا۔
(2000 Clc 2045 A)
٭ جواں سالہ جوڑے کا تعلق بہت کشمکش کا شکار تھا وہ اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے اس وجہ سے میاں بیوی کی شادی صحیح طریقے سے تحلیل کردی گئی خلع کی بنیاد پر۔
(2001 Clc 50)
٭ دفعہ2 کے تحت کسی قسم کی اپیل کا حق نہیں دیا گیا جو کہ شادی کی منسوخی کے بارے میں ہو جوکہ خلع کی بنیاد پر منسوخ ہوئی ہو۔
(2001 Clc 507) (2000 Clc 2012)
٭ میں بیوی کے (ازدواجی) تنازعات اور جھگڑوں کے حل کیلئے ثالث مقرر کر لینا قرآن کریم کی صورت النساء کی آیت نمبر35 میں مرقوم ہے۔
(NLR 1998 Criminal Sc 355)
٭ خلع اسلام میں مسلمہ طلاق کی دوسری راہ ہے۔
(PLJ 1992 AJK 14)
٭ خلع کی ڈگری صادر کی گئی اور حق مہر ترک کیا گیا۔
(2009 MLD 379 419)
٭ خلع کے تحت طلاق کا دعویٰ ڈگری کیا گیا اور حق مہر واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
(2013 MLD 487)
٭ بیوی نے طلاق کا مطالبہ نہ کیا تھا اس سے امید کی ایک کرن پیدا ہوتی ہے کہ دوبارہ سے خانہ آبادی ہو سکتی ہے۔
(2016 PLJ 69 Peshawar)
٭ خلع کے تحت طلاق کیلئے عورت کا اکیلا بیان کافی ہے خلع کے تحت طلاق کی صورت میں عورت کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے۔
(2016 MLD 1183 Islamabad)
٭ خلع کے تحت لی گئی طلاق ایک شمار ہوگی بغیر حلالہ کے رجوع ہو سکتا ہے۔
(PLD 2010 Karachi 131)
٭ گر رخصتی نہ ہو تو خلع کے تحت طلاق لینے کی صورت میں مفادات کی واپسی ضروری نہ ہے۔
(NLR 1986 SCJ 58)
٭ حق مہر ادا ہو یا نہ ہو مفادیا تحفہ کے زمرے میں نہیں آتا۔ خلع کے تحت طلاق کی صورت میں ان کی واپسی ضروری ہے۔
(2003 YLR 70)
٭ بیوی نے شادی کے بعد 16 سال خاوند کے ساتھ گزارے اور حقوق زوجیت ادا کئے۔ خاوند نے ایسے حالات پیدا کئے کہ اس نے طلاق کا دعویٰ دائر کردیا جو کہ خلع کیلئے بدل ہو سکتا ہے۔
(2013 YLR 2616)
٭ بیوی نے خلع میں خاوند پر ظلم کا الزام عائد کیا جسکی وجہ سے وہ اسکے ساتھ نہیں رہ سکتی ہے۔بیوی بغیر واپسی حق مہر خلع کی حقدار ہے۔
(PLD 2007 Lahore 626)
(PLD 2009 Lah 484)
٭ خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کی ڈگری ایک طلاق شمار ہوگی۔ خاوند کو بغیر حلالہ کے نکاح کی رسم کرکے بیوی کے ساتھ دوبارہ شادی کرنے کا اختیار ہے۔
(PLD 2010 Karachi 131)
٭ خاوند نے جواب دعویٰ میں یہ عذر بیان کیا کہ عورت جاتے ہوئے اسکے زیورات اور نقدی لے گئی بس مخصوص مطالبہ نہ کیا ہے کہ خلع کے بدلے میں اسے یہ چیز واپس دی جائیں۔ فیملی کورٹ یہ چیزیں واپس کرنے کا حکم دینے کی پابند نہ ہے۔
(2002 Clc 40)
٭ شہادت حلف پر دی گئی جو کہ خاوند کے خلاف نفرت کا اظہار ہے یہی خلع کیلئے کافی ہے۔
(2002 Clc 113)
٭ بیوی نے تفصیل سے بیان کیا کہ اسے اپنے خاوند کے ہاتھوں جان کا خطرہ ہے اور وہ کسی بھی صورت میں خاوند کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ایسی صورت میں خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو منصفانہ اور درست قرار دیا گیا۔
(1985 Clc 2540)
٭ بیوی نے جہیز/ مہر کی رقم چھوڑ کر خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح طلب کیا تھا۔ شادی کے بعد فریقین چند روز گزارنے کے بعد ہی ازدواجی تعلقات قائم نہ رکھ سکے۔ بیوی کے مطابق اسکی زندگی عذاب ہو چکی تھی۔ خاوند کو تین مواقع دیئے گئے کہ وہ اپنے بارے میں شہادت پیش کرے لیکن وہ شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ایسی صورت میں عدالت ماتحت کی جاری کردہ ڈگری خلع میں عدالت عالیہ نے مداخلت نہ کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا۔
(NLR 1992 CLJ 718)
٭ خلع کی اجازت عورت کی شہادتوں سے عدالت کے مطمئن ہونے کے تابع ہے۔ اگر فریقین اللہ پاک کی مقرر ہ حدود کے مطابق بطور میاں بیوی نفرت رنجش اور حقارت کی وجہ سے نہ رہ سکتے ہوں تو عدالت شہادتوں کے پیش نظر خلع کی اجازت عطا کر سکتی ہے۔ لیکن عدالت عالیہ نے محسوس کیا کہ عدالت سماعت نے صرف عورت کی درخواست کو مدنظر رکھا اور کوئی معقول شہادت نہ ہونے کے باوجود خلع کی اجازت جاری کردی عدالت عالیہ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
(NLR 1992 Civil 112 Lahore)
٭ زوجہ نے اگر مہر وصول نہ کیا ہو تووہ خلع مانگتے وقت اسے وصول کر سکتی ہے اور ایسا بدل ادا کرنے کے بعد جسکا تعین کرے۔
(PLJ 2007 Lah 198)
٭ خلع کی صورت میں عورت کو تحفے واپس نہیں کرنے ہوتے۔فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ(4)10 میں کہیں بیان نہیں کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے آئینی درخواست مسترد کردی۔
(2011 YLR 2625 Karachi)
٭ فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کیا اور بیوی نے خرچہ کا دعویٰ کیا جو فیملی کورٹ نے خارج کردیا۔ بیوی نے مؤقف اختیار کیا کہ جو علیحدگی ظلم کی بنیاد پر ہو اس میں حق واپس کرنے کی بیوی پابند نہیں ہے۔ عدالت میں خاوند کے ظلم کو بیوی ثابت کرنے میں ناکام رہی تھی اس وجہ سے خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی۔ عدالت عالیہ نے 199 رٹ کے اختیار میں متعلقہ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار نہیں دیا جب تک کہ کوئی قانونی غلطی نہ ہو۔
(2013 MLD 537 Peshawar)
٭ بیوی کا حق ہے کہ وہ حق مہر واپس کرکے خاوند سے خلع حاصل کر سکتی ہے۔ جہاں پر دونوں فریقین کا خوشی سے رہنا ممکن نہ ہو کہ وہ احکام خداوندی کے ساتھ رہ سکتی ہے اگر خلع کی گراؤنڈ نہ بھی لی گئی ہو تو عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کا حق دے
سکتی ہے۔ (PLD 2013 Peshawar 12)

 

ماخذ: ماہنامہ القانون

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی