کوانٹم فزکس کی تاریخ، زمان و مکان کی الیٰ غیرِ نہایت تقسیم کا راز

0 132

قدیم یونانی فلسفی زینو کے پیراڈاکسز مشہور ہیں۔زینو حرکت کا مُنکر ہے۔زینو کے نزدیک حرکت کا امکان نہیں کیونکہ ہمیں نقطہ اے سے نقطہ بی تک سفرکرنے کے لیے، پہلے اُن دونوں نقاط کا نصف فاصلہ طے کرنا ہوگا۔ اُن دونوں نقاط کا نصف فاصلہ طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس نصف کا نصف پہلے طے کریں، علی ھٰذالقیاس۔ یہاں تک کہ آخر ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ دو قریب ترین نقاط کے درمیان بھی چونکہ لامتناہی نقاط موجود ہیں اس لیے ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم لامتناہیت کو عبور کرسکیں۔
کوانٹم والوں کو بلیّاں پسند ہیں اور غالباً فلسفے والوں کو کچھوے۔زینو بھی ایک کھچوے کا ذکر کرتاہے۔ یعنی اوپر پیش کیے گئے پیراڈاکس کو وہ ایک اور طریقے سے بھی بیان کرتاہے۔زینو کہتاہے کہ ہم ایک کچھوے سے کبھی بھی آگے نہیں جاسکتے اگر اس نے ہم سے پہلے سفر شروع کیا ہے۔کیونکہ اس سے آگے جانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان نقاط کوعبور کرنے کے اہل ہوں جنہیں کچھوا عبور کرچکاہے۔ہم جونہی کچھوے کی جانب ایک نقطہ آگے بڑھیں گے کچھوا بھی ایک نقطہ آگے بڑھ چکاہوگا۔ ضروری ہے کہ کچھوے تک پہنچنے او رپھر اس سے آگے نکلنے کے لیےہم سپیس کے وہ تمام نقاط عبور کریں جو کھچوا ہم سے پہلے عبور کرچکاہے۔ اس مقصد کے لیے سپیس کو بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا پڑتاہے۔ہم سپیس کو جتنا چھوٹا کرتے چلے جاتے ہیں نقاط کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم فی الاصل کھچوے سے کبھی آگے نہیں جاسکتے۔

زینو کے اس پیراڈاکس میں جو سب سے بڑانقص ہے وہ یہ ہے کہ زینو سپیس یعنی مکان کو اِلٰی غیرِ نہایت قابلِ تقسیم سمجھتاہے۔یعنی مکان کو اگر تقسیم درتقسیم کے عمل سے گزارا جائے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یہ نقص بنیادی طور پر ’’خالص ریاضی‘‘ (Pure Math) کے تصورات سے برآمد ہورہاہے۔ خالص ریاضی میں ہم دو قریب ترین اعداد کو مزید تقسیم کے عمل سے اِس طرح گزارسکتے ہیں کہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ ہندسہ ایک(1) اور ہندسہ دو(2) کے درمیان اِلیٰ غیرِ نہایت تقسیم کا سلسلہ موجود ہے۔اگرہم بہت گہرائی میں جاکر اِن دو ہندسوں کو تقسیم کرلیں تو نہایت نِچلی سطح پر بھی دوقریبی اعداد قابلِ تقسیم رہتے ہیں۔ مثلاً ہم اعشاریہ زیروزیروزیرو ایک (0.0001) اور اعشاریہ زیروزیروزیرو دو (0.0002)کے درمیان بھی غیرمختتم سلسلہ ٔ اعداد پیدا کرسکتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خالص میتھ کی یہ مشق ہمارے سامنے موجود کائنات پر بھی ویسی ہی منطبق ہوتی ہے؟ مکان کے نقاط کو تقسیم درتقسیم کے عمل سے گزارا جائے تو کیا واقعی خالص ریاضی کی طرح مکان کبھی نہ ختم ہونے والے نقاط میں تقسیم کیاجاسکتاہے؟

کوانٹم کی پیدائش کے ساتھ ہی اِس سوال کا تسلی بخش جواب مل گیا تھا۔ اور وہ جواب یہ تھا کہ ، ’’نہیں! ہم کبھی نہ ختم ہونے والے نقاط کی شکل میں مکان کو تقسیم نہیں کرسکتے‘‘۔ یہ جواب اور پارٹیکل کے بارے میں کوانٹم کے دیگر تصورات پڑھ کر اِس بات پر شدید حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان فلسفیوں نے کوانٹم فزکس سے لگ بھگ ایک ہزار سال پہلے بعینہ یہی نظریہ پیش کیا تھا۔ یہ تصور ہی کتنا حیران کُن ہے کہ آج سےایک ہزار سال پہلے موجودہ کوانٹم کے اسّی فیصد خیالات مسلمان فلسفیوں بالخصوص اشاعرہ نے بعینہ ایسے ہی لکھ دیے تھے جیسے آج لکھے جاچکے ہیں۔حق تو یہ ہے کہ اب وقت ہے اشاعرہ کی ’’تھیوری آف پارٹیکلز‘‘ پر ازسرِ نوغورکرنے کا۔لیکن نہایت افسوس سے کہناپڑتاہے کہ کم ازکم مسلمانوں میں اِس وقت ایسا کوئی شیردِل موجود نہیں جو ایسے اہم ترین موضوع پر تحقیق کا بِیڑا اُٹھائے اور موجودہ کوانٹم تھیوری کے ساتھ اشاعرہ کی کوانٹم تھیوری کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کم ازکم اہلِ علم کو اس محیّرالعقول دنیا کے اصل خالقین سےمتعارف کروائے۔ یہی نہیں، ’’نیوٹن کا پہلا قانون،بوعلی سینا کا پروجیکٹائل موشن کا قانون ہے‘‘۔ اِسی طرح ابھی دنیا کو یہ بتانے کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ’’کوآرڈی نیٹس ‘‘ کے تصور کا خالق ’’رینے ڈیکارٹ‘‘ نہیں بلکہ ’’ابن الیثم‘‘ ہے ۔ یا یہ کہ ’’سپیس خالی نہیں ہے‘‘ کے تصور کا خالق نوبل پرائز ہولڈر ’’پیٹرہِگز‘‘ نہیں بلکہ ’’الفارابی‘‘ ہے۔ یا روشنی کے پارٹیکلزکا تصور آئن سٹائن کا نہیں بلکہ’’بوعلی سینا‘‘ اور ’’ابن الیثم‘‘ کا ہے۔ غرض کتنے ہی ایسے کریڈٹس ہیں جو فقط اور فقط مسلمان سائنسدانوں کا حصہ ہیں لیکن اٹھارویں اور اُنیسویں صدی کے مستشرقین کی بدباطنی کی بدولت آج وہ مغربی فلسفیوں اور سائنسدانوں کا کریڈٹ ہیں۔

تقریباً تمام قارئین کی شدید خواہش ہوگی کہ اوپر پیش کیے گئے دعوں کی سند بھی فراہم کی جائے۔ باقی دعوے تو موضوعِ حاضر کا حصہ نہیں چنانچہ ان کی اسناد میں اُن سے متعلقہ مضامین کے لیےاُٹھا رکھتاہوں البتہ پہلا دعویٰ یعنی یہ دعویٰ کہ ’’کوانٹم تھیوری‘‘ کے اصل بانی اشاعرہ ہیں زیرِ نظر موضوع کا حصہ ہےچنانچہ میں پروفیسرمیکڈونلڈ کی کتاب، ’’ڈیولپمنٹ آف مسلم تھیالوجی، جُورِس پرُڈینس اینڈ کانسٹی ٹیوشنل تھیوری‘‘ (Development of Muslim Theology, Jurisprudence and Constitutional Theory) کا حوالہ پیش کرتاہوں۔پروفیسر’’ڈَن کین بلیک میکڈونلڈ‘‘ (Duncan Black MacDonald) 1863 میں پیدا ہوا اور 1943 میں وفات پائی۔ پروفیسر میکڈونلڈ کے کریڈٹ پر بہت سی دریافتیں ہیں جن میں سے ہرایک کا تعلق مشرقی اور اسلامی علوم وفنون کے ساتھ ہے لیکن اُن کی مذکورہ بالا کتاب میں پروفیسر میکڈونلڈ نے اشاعرہ کی ’’پارٹیکل تھیوری‘‘ سے متعلق جس حیرت کا مظاہر ہ کیا وہ قابلِ دید ہے۔ پروفیسر میکڈونلڈ کے الفاظ میں،

’’لیکن یہ شخص، قاضی ابوبکر باقلانی متنازعہ ہونے سے بھی کچھ زیادہ ہے۔یہ اُس کا اعجاز ہے کہ اُس نے ، ’’متعین صورت‘‘(Fixed Form) میں نہایت اہم عناصر کااضافہ کیاجوشاید بہترین اور جرأت مندانہ مابعدالطبیعاتی حکمت عملی ہے اور یقینی طورپرسب سے مکمل اور بھرپور تھیولوجیکل منصوبہ بھی‘‘

ذرا سا آگے چل کر میکڈونلڈ مجموعی طور پر اشاعرہ کے بارے میں لکھتاہے،

’’اور جب انہوں نے ارسطو کے نکتۂ نظر کو مسترد کردیا جو کہ ’’مادہ اورصورت کی وصولی‘‘ (1)سے متعلق تھا تو ان کی راہِ ضرورت نے خود بخود ’ایٹامزم‘‘ کی طرف اُن کی رہنمائی کی۔چنانچہ وہ ’ایٹامِسٹس‘‘ بن گئے۔ اور ایسے ایٹامسٹس بنے کہ ہمیشہ کی طرح اپنے ہی (الگ) فیشن کو اختیارکیا۔وہ سپیس کوبھی ایٹمامک مانتے ہیں (2)اور ٹائم کو بھی۔ کائنات کے سپس اور ٹائم میں موجودتمام مشہودات کی بنیاد، چاہے وہ ذہنی ہوں یا جسمانی ، موناڈز کے مجموعے ہیں(3)۔ہر موناڈ کی مخصوص خصوصیات ہیں لیکن کسی میں پھیل جانے کی صلاحیت نہیں ہے، نہ سپیس میں اور نہ ہی ٹائم میں۔بس اُن کی فقط پوزیشن ہوتی ہے۔وہ ڈھیر کی صورت نہیں ہیں اور ایک دوسرے کو چھُوتے بھی نہیں ہیں۔اُن کے درمیان مطلق خلا ہے۔اِسی طرح ٹائم کے جواہر بھی ہیں۔ٹائم کے ایٹمز، اگر ایسا کہنے کی اجازت دی جائے تو، وہ بھی اُسی طرح نہ پھیلنے والے جواہر ہیں اور اُن کے درمیان بھی وقت کا مطلق خلا ہے۔سپیس فقط ایٹموں کے ایک سلسلے کا نام ہےاور ٹائم بھی اِسی طرح اَن چھُوئے لمحات کا تواتر ہے‘‘

تھوڑا آگے چل کر میکڈونلڈ لکھتاہے،

’’اُن کے موناڈز ، لائبنز (4) کے موناڈز سے مختلف ہیں کیونکہ اُن میں، اُن کی کوئی نیچر نہیں ہے۔اُن میں مخصوص خطوط میں ارتقأ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔مسلم موناڈز یا تو ہوتے ہیں اور یا نہیں ہوتے۔ دنیا میں تمام تر ’تغیر اور عمل ‘ اُن کے وجود پذیر ہونے اور پھر عدم میں گِر جانے کی وجہ سے ہے ، نہ کہ اُن میں خود کسی تبدیلی کی وجہ سے‘‘

تھوڑا سا اور آگے چل کر میکڈونلڈ لکھتاہے،

’’اِس علّت کو پھر انہوں نےخدا کی آزادنہ خودمختاری میں ڈھونڈا۔جوکسی مادے کے بغیراورکسی قسم کے قوانین یا ضروریات سے متاثر ہوئے بغیر کام کرتاہے۔وہ ایٹموں اور ان کی خصوصیات کو پیدا کرتاہے اور فنا (annihilate)کرتاہے جس کی وجہ سے دنیا میں تمام تر حرکت اور تبدیلی کاوجود ہے۔یہ جواہر ہمارے حواس میں وجود نہیں رکھتے۔جب ہمیں کوئی شئے حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو اس کا اصل میں مطلب یہ ہوتاہے کہ خدا نے اِن جواہر کوفنا کردیا یا وجود سے نکال باہر کیا ۔یعنی ایک منظر میں شئے کے جواہر فنا ہوگئے اور دوسرے منظر میں نئے پیدا ہوگئے ۔اور اس خط پر ، جس پر کہ شئے حرکت کررہی ہے جواہر باربار پیدا اور فنا ہوتے چلے جاتے ہیں‘‘

اگر ہم غور کریں تو بعینہ یہی خیال روسی مفکر اورریاضی دان ’’اوس پنسکی‘‘ کی فورتھ ڈائمینشن میں پایا جاتاہے جس نے آئن سٹائن کی سپسٹائم کو سمجھاتے ہوئے تصور کیا کہ ایک مادی شئے ہرآن نئی صورت کے ساتھ نمودار ہوتی اور پچھلی صورت غائب ہوتی چلی جاتی ہے اور یوں بہت سی سہ بُعدی (تھری ڈائمینشنل) اشکال سے مل کر چوتھی ڈائمینشن کا ظہور ہوتا چلا جاتاہے۔جیسے بہت سی دو بُعدی (ٹُوڈائمینشنل) اشکال کو ملانے سے تھری ڈائمینشنل شئے کا ظہور ہوتاہے(5)۔

خیر !یہ تو ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے اور ضرور کسی محقق کو چاہیے کہ ’’کوانٹم میکانکس اور اشاعرہ کے نظریہ ٔ جواہر کے تجزیاتی و تقابلی مطالعہ‘‘ پر پی ایچ ڈی یا پوسٹ ڈاکٹرل مقالہ لکھے لیکن سرِ دست اتنا کہنا ناکافی نہ ہوگا کہ میکس پلانک سے بہت پہلے اشاعرہ نے پوری قطعیت کے ساتھ کہہ دیا تھا کہ زینو کا خیال غلط ہے اور سپیس الیٰ غیرِ نہایت قابل ِ تقسیم نہیں ہے۔انہوں نے پلانک سے بہت پہلے ہی زمان و مکاں کی نہایت باریک اجزأ کی حد مقرر کردی تھی۔اور ہم جانتے ہیں کہ بابائے کوانٹم فزکس میکس پلانک نے جب یہ حد خاص ریاضیاتی طور پر مقرر کردی تو کس طرح سائنس کی دنیا میں ایک انوکھاانقلاب برپا ہوا۔مثلاً اگر پلانک یہ حد مقرر نہ کرتا تو ’’الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی‘‘ کا حل کبھی بھی نہ مل پاتا۔

الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی کیا ہے؟ آپ نےدہکتاہوا انگارہ تو دیکھاہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم جب کسی چیز کو گرم کرتے ہیں تو ایک وقت آتاہے کہ وہ روشن ہوجاتی ہے۔ایسی روشنی کے لیے انگریزی میں تو لفظ ہے ، لیکن اُردو میں نہیں ہے۔ انگریزی میں اِسے ’’گلو‘‘ (Glow) کہتے ہیں۔دہکنا، چکمنا، دمکنا وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو اس طرح کی روشن اشیأ کا ٹھیک ٹھیک احاطہ نہیں کرسکتے۔لیکن چونکہ ہم لفظ ’’گلو‘‘ کو اردو میں فعل کے طور پر استعمال نہیں کرسکتے اس لیے میں یہاں انگارے اور سورج کے دہکنے سے ، لفظ ’’دہکنا‘‘ ہی مستعارلے رہاہوں۔ہم چیزوں کو دہکتاہوا دیکھتےہیں اور ہم جانتے ہیں کہ چیزیں بہت زیادہ گرم کردینے سے دہکنے لگتی ہیں۔مثلاً لوہار جب لوہے کو بھٹی میں ڈالتاہے تو وہ لوہا روشن ہوجاتاہے یعنی دہکنے لگتاہے۔اِسی طرح پگھلتاہوا شیشہ یا گرم لاوہ بھی دہکتاہے۔آج سے لگ ایک صدی قبل ’’لارڈ ریلی‘‘ (John William Strutt, 3rd Baron Rayleigh) دہکتی ہوئی چیزوں کے مختلف رنگوں کی وجوہات جاننے کی کوشش کررہا تھا جب پہلی بار’’ الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی‘‘ کا قضیہ سامنے آیا۔مثلاً سُورج کی سطح پرپچپن سو(5500) ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہے جس کی وجہ سے سورج کئی رنگ کی روشنیاں خارج کرتاہے جو تمام کی تمام آپس میں مل کرہمیں سفید روشنی کی صورت دکھائی دیتی ہیں۔ یہ کئی روشنیاں دراصل سات بنیادی رنگوں کی شعاعیں ہیں جنہیں ہم بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سکول کی لیبارٹریوں میں رکھے، عام سے منشور(Prism) کو استعمال کرتے ہوئے ہم ساتوں رنگ کی شعاعیں دیکھ سکتے ہیں یا قوسِ قزح کی شکل میں۔چنانچہ ریلی کو معلوم تھا کہ سُورج کا دہکنا بھی شدید قسم کے درجہ حرارت کی وجہ سے ہے۔

ہم انسان بھی دہکتے ہیں۔ ہم انسانوں کے جسموں میں سینتیس (37) ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت ہے۔یہ درجہ حرارت کم ہے اس لیے ہمارادہکنا ہمیں نظر نہیں آتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے جسم دہک نہیں رہے یعنی روشن نہیں ہیں۔ ہمارے جسم بھی روشن ہیں۔ ہمارے جسم انفراریڈ شعاعیں خارج کرتے ہیں۔ یہ کم طاقت کی شعاعیں ہیں اور انسانی آنکھ اِن شعاعوں کو براہِ راست نہیں دیکھ پاتی لیکن سانپ ایک میٹر کے فاصلے سےدیکھ سکتاہے۔

یعنی ہم بھی دہک رہے ہیں ۔ ہم آگ کے بھی بنے ہوئے ہیں۔ہمارے جسم سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہیں اور اِس گرمائش کی وجہ سے ہمارے جسم بھی ’’گلو‘‘ (Glow) کرتے یعنی دہکتے یا چمکتے دمکتے ہیں۔

ریلی کی تحقیق اسی نکتے پر مرکوز تھی کہ مختلف رنگوں کا گلو (Glow) یا دہکنا کس درجے کی حرارت سے ممکن ہوتاہے۔وہ روشنی کے سات رنگوں سے واقف تھا۔روشنی کے اِن سات رنگوں کو روشنی کا سپیکٹرم کہتے ہیں۔ریلی کورنگوں سے اتنی دلچسپی تھی کہ یہی وہ سائنسدان ہے جس نے دنیا کو سب سے پہلے بتایا کہ آسمان کا رنگ نیلا کیوں ہے؟ ریلی کو آسمان کے نیلے رنگ کی وجہ کیسے معلوم ہوئی؟ دراصل وہ جانتاتھا کہ ہم جس کسی شئے کو بھی دیکھتے ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ کی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ شفاف(Transparent) ہونا بھی ایک رنگ ہے۔ وہ اس اصول سے بھی واقف تھا کہ کوئی شئے کسی خاص رنگ میں کیونکر دکھائی دیتی ہے؟

دراصل روشنی کی شعاع جو کہ خود سات رنگ کی شعاعوں کا مجموعہ ہے ، جب کسی مادی شئے پرپڑتی ہے تو یہ اُس مادی شئے پر منحصر ہے کہ وہ اُن سات شعاعوں میں سے کتنی شعاعوں کو جذب کرلے اور کتنی شعاعوں کو ریفلیکٹ یعنی منعکس کردے۔مثلاً اگر شئے سفید نظر آتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتاہے کہ اس شئے نے روشنی کی شعاع کے ساتوں کے ساتوں رنگوں کو منعکس کردیاہے۔ اسی طرح اگر کوئی شئے سیاہ نظر آتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اُس شئے نے روشنی کی شعاع کے ساتوں کے ساتوں رنگوں کو جذب کرلیا ہے۔اسی اصول کی بنا پر ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ مثلاً ایک شئے ہمیں سبز نظر آرہی ہے تو ہم جانتے ہیں کہ سبز رنگ دراصل پیلے اور نیلے رنگ کو ملانے سے بنتاہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ شئے جو سبز نظر آرہی دراصل روشنی کی شعاع کے سات رنگوں میں سے پانچ رنگوں کو تو جذب کررہی ہے اور صرف دو قسم کی شعاعوں یعنی نیلی اور پیلی شعاعوں کو منعکس کررہی ہے اور وہ دونوں شعاعیں آپس میں مل کر ہمیں اُس شئے کا رنگ دکھا رہی ہیں۔اسی طرح ایک سیب ہمیں اس لیے سرخ نظر آتاہے کیونکہ روشنی کی چھ شعاعیں تو سیب کے مادے میں غائب ہوجاتی ہیں اور صرف انفراریڈ شعاع منعکس ہوتی ہے جس کی وجہ سے سیب سرخ نظرآتاہے، یا ہرسرخ چیز سُرخ نظرآتی ہے۔

لیکن اشیأ فقط روشنی کی شعاع کو جذب یا منعکس ہی نہیں کرتے بلکہ روشنی کی شعاع کسی بھی شئے پر پڑے تو وہ شئے تین قسم کے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔

نمبر۱۔ روشنی کی شعاع کسی شئے پر پڑے اور اس کے اندر نہ جاسکے ، بلکہ منعکس ہوجائے۔
نمبر۲۔ روشنی کی شعاع کسی شئے پر پڑے اور اُس کے اندر گھس جائے اور غائب ہوجائے یعنی جذب ہوجائے۔
نمبر۳۔ روشنی کی شعاع کسی شئے پر پڑے اور اس کے اندر داخل ہوکر مالیکیولوں کے بیچوں بیچ سے ہوتی ہوئی کسی اور طرف سے نکل آئے یا نمودار ہوجائے۔

اس تیسرے عمل کے لیے انگریزی میں لفظ موجود ہے لیکن اردو میں کوئی لفظ مجھے نہیں مل سکا۔ لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہمارے دور کی میٹرک کی فزکس میں اس عمل کے لیے انتشار کا لفظ استعمال ہوا تھا۔بہرحال اِس عمل کو انگریزی میں ’’اِمِٹنگ‘‘ (Emitting) کہتے ہیں۔ریلی کو کسی ایسے آبجیکٹ کی تلاش تھی جو شعاعوں کو جذب کرتاہو اور اِمِٹ کرتاہو لیکن منعکس نہ کرتاہو۔سورج سے روشنی کی شعاعیں ہمارکرۂ فضائی میں داخل ہوتی ہیں تو ہمارے کرۂ فضائی میں انہوں کئی قسموں کی گیسوں کے مالیکیولوں کے بیچوں بیچ سے ہوکر گزرنا پڑتاہے۔ انفراریڈ شعاعوں کی ویولینتھ لمبی ہوتی ہے اور نیلی شعاعوں کی ویولینتھ چھوٹی ہوتی ہے۔ریلے نے معلوم کرلیا کہ ایک خاص قسم کی ویولینتھ والی شعاعیں ہوا کے مالیکیولوں کے بیچوں بیچ میں سے گزر سکتی ہیں۔ اور وہ خاص ویولینتھ ہے، ’’ایک بٹہ کسی بھی ویولینتھ کی طاقت چار‘‘۔ ریاضیاتی طور پر اِسے یوں لکھا جائے گا،

اب سرخ شعاعیں یعنی انفراریڈ شعاعیں لمبی ویولینتھ کی ہوتی ہیں اس لیے وہ زمین تک کم کم پہنچتی ہیں اور نیلی شعاعیں چھوٹی ویولینتھ کی ہوتی ہیں چنانچہ باقی شعاعوں کی نسبت وہ سب سے زیادہ زمین پر پہنچتی ہیں۔یہ ایک الگ سوال ہے کہ آسمان کا اتنے بڑے پیمانے پر نیلا رنگ ہمارے لیے زہریلاکیوں نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ نیلی شعاعیں زہریلی ہوتی ہیں۔ چنانچہ سردست ہم اِس سوال کو نظراندازکرتے ہیں۔
چنانچہ ریلی کو ایسا آبجیکٹ مل گیا جو شعاعوں کو جذب کرتاہو یا منتشر (اِمِٹ) کرتاہوں اور منعکس نہ کرتاہو۔ اور ایسا آبجیکٹ تھا ہمارا اپنا کرۂ فضائی۔چنانچہ ریلی کی وجہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ آسمان کا رنگ نیلا کیوں ہے۔ چنانچہ ایسا کوئی بھی آبجیکٹ جو شعاعوں کو جذب کرے اور اِمِٹ کرے لیکن کبھی منعکس نہ کرے، گلو (Glow)کرتاہوا محسوس ہوتاہے۔ایسی کسی شئے کو ہم جب بھی دیکھیں گے تو وہ ہمیں دہکتی ہوئی محسوس ہوگی۔کیونکہ اس شئے میں درجہ حرارت کی وجہ سے ریڈی ایشن کا عمل واقع ہورہاہے۔یہ عمل فقط کسی شئے پر روشنی پڑنے کی وجہ سے ہی وقوع پذیر نہیں ہوتا جیسا کہ ہم نے آسمان کے معاملے میں دیکھا بلکہ کسی شئے کی اندرونی حرارت کی وجہ سے بھی ہوسکتاہے۔ کیونکہ درجہ حرارت کی وجہ سے اشیأ کے اندر سے روشنی نکلتی ہے جسے ریڈی ایشن کہتے ہیں۔ ہمارے اندر سے بھی روشنی نکل رہی ہے جو انفراریڈ شعاعوں پر مشتمل ہے اس لیے ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔
ایسے تمام آبجیکٹس جو باہر سے روشنی وصول نہ کررہے ہوں بلکہ ان کے اندر کا درجہ حرارت روشنی کی کسی شعاع کو باہر پھینک رہاہو فزکس کی زبان میں ’’بلیک باڈی‘‘ (Black Body) کہلاتے ہیں۔اُصولی طور پر دیکھا جائے تویہ اشیأ بلیک باڈی یعنی کالے اجسام نہیں ہوتیں بلکہ یہ اشیأ تو چمک دمک رہی ہوتی اور گلو (Glow) کررہی ہو تی ہیں جو کہ بلیک کے بالکل اُلٹ ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں کسی حقیقی بلیک باڈی کا وجود ممکن نہیں۔ کیونکہ کوئی بھی ایسا جسم نہیں ہے جو تمام روشنی کو جذب کرلے اور پھر اسے ریڈی ایٹ کرسکے۔البتہ سورج جیسے ستاروں کو ہم کسی حد تک حقیقی بلیک باڈیز کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کہنا ادبی اعتبار سے نہایت احمقانہ حرکت معلوم ہوتی ہے کیونکہ آسمان پر موجود وہ واحد ستارہ جو ہمیں اتنا بڑا ہوکر نظر آتاہے کہ فقط وہی روشن دکھائی دیتاہے اور باقی سب مدھم یا اسی کی وجہ سے ہرشئے ہمیں دکھائی دیتی ہے اور ہم اسی کو بلیک باڈی یعنی کالا جسم کہہ کر پکار رہے ہیں۔ شاعرانہ اعتبار سے دیکھا جائے تویہ سب سائنسدانوں کی طرف سے شاعروں ک ساتھ سراسرزیادتی محسوس ہوتی ہے۔

یہ وہ زمانہ ہے جب ماہرین طبیعات ایٹموں اور مالیکیولوں سے ابھی اتنے زیادہ واقف نہیں تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہرشئےچھوٹے چھوٹے ذرّات سے مل کر بنی ہے اور وہ ذرّات ہمہ وقت کسی سپرنگ کی طرح مرتعش رہتے یعنی کانپتے اور تھرتھراتے رہتے ہیں۔لارڈ ریلی اور ان کے ساتھی ’’ جیمز جینز(James Jeans)‘‘ نے تصور کیا کہ بلیک باڈیز ایسی اشیأ ہیں جن میں ہمہ وقت مرتعش پارٹیکلز ہوتے ہیں اور یہ ارتعاش مسلسل روشنی کی صورت ظاہر ہورہاہے۔

چنانچہ اپنے ماڈل میں کسی شئے میں موجود مادے کے ذرّات کے ارتعاش ، اُس ارتعاش کی وجہ سے مادے میں پیدا ہوجانے والی حرارت اور اُس حرارت کا تعلق مخصوص رنگ کی روشنی کی شعاع کے ساتھ قائم کرتے ہوئے ریلی اور جیمز کو معلوم ہوا کہ معاملہ بہت گڑبڑہے۔اسی گڑبڑ کا نام ’’الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی ‘‘ ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ گڑ بڑکیاتھی؟

کسی مادی شئے میں موجود ذرّات اور پھر اُن ذرّات میں ارتعاش فرض کرکے ریلی اورجیمز اس مخمصے کا شکارہوگئے کہ آخر اس ارتعاش کی حد کیا ہوگی؟ کیونکہ کوئی شئے زیادہ سے زیادہ اور پھر مزید زیادہ سے زیادہ بھی تو مرتعش ہوسکتی ہے۔چلو! کسی شئے میں ذرّات کا کم سے کم ارتعاش تو تصور کیا جاسکتاہے اور انہوں نے بھی انفراریڈ شعاعوں کی شکل میں یہ تصورکررکھا تھا لیکن ذرّات زیادہ سے زیادہ کتنا مرتعش ہوسکتے ہیں؟ وہ طلبہ جو آواز کی موجوں یعنی ساؤنڈ ویوز کے بارے میں پڑھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ارتعاش کی حدود کا تعیّن تو بڑی مشکل سی بات ہے۔ ہم انسان بیس سے بیس ہزار ہرٹز تک کی آواز سن سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔لیکن ایک الٹراساؤنڈ مشین کو ہم دیکھتے ہیں جس میں ساؤنڈ ویو ہی استعمال ہورہی ہوتی ہے لیکن وہ موجیں کتنی اونچی سطح پر جاکر وائبریٹ یا مرتعش ہورہی ہے۔آواز کی موجوں کا معاملہ تو اور ہے او رہمارے زیرِ نظر موضوع کے ساتھ اس کا تعلق نہیں لیکن قاری کو وائبریشن یا ارتعاش کے تصور سے متعارف کروانے کے لیے میں نے اس کا بھی ذکر کردیا۔
اس وقت کے سائنسدان سمجھتے تھے کہ ہرشئے جو ٹھوس ، مائع یا گیس ہے، وہ ایٹموں سے مل کر بنی ہے اور ایٹم مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ ہے۔کسی لوہے کے ٹکڑے میں لاکھوں کروڑوں ایٹمز موجود ہیں۔ اگر لوہے کے اس ٹکڑے کو گرم کیا جائے گا تو اس میں موجود ایٹمز کا ارتعاش بڑھتاچلا جائےگا۔ جتنا زیادہ گرم کرینگے ارتعاش اتنا ہی بڑھتاچلاجائےگا۔ یہ ارتعاش کس حد تک بڑھایا جاسکتاہے؟ بالفاظ ِ دگر کوئی آبجیکٹ کتنے بلند درجہ حرارت پر کس رنگ کی شعاعیں خارج کریگا؟ وہ سوچتے اور ریاضی کے ذریعے ارتعاش کی حدود کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے تو ارتعاش کی کوئی حد مقرر ہی نہ ہوپاتی۔ ہر مساوات یہی بتاتی کہ پارٹیکلز کا ارتعاش زیادہ سے زیادہ اور مزید زیادہ سے زیادہ بڑھا جاسکتاہے۔ مثلاً سُورج پیلا دکھائی دیتاہے کیونکہ اس کی چھ ہزار کیلون درجہ حرارت کی بیرونی سطح ، اِس درجہ ٔ حرارت پر یہی رنگ خارج کرتی ہے،

 

لیکن ایک اور ستارہ جس کا نام ’’رائیگل‘‘ (Rigel) ہے اور جس کی سطح کا ٹمپریچر بارہ ہزار کیلون ہے، نیلے رنگ کی شعاعیں خارج کرتاہے۔

چنانچہ کیٹاسٹرافی یہ پیدا ہوگئی کہ ایک بلیک باڈی آبجیکٹ اگر بہت زیادہ گرم ہوتو وہ الٹراوئیلٹ شعاعوں کی لامتناہی مقدار پیدا کرسکتاہے ۔ریلی اور جیمز نے نیوٹن کی فزکس کے تمام قوانین کو اپنے ماڈل پر منطبق کرکے دیکھااور ہربات نتیجہ احمقانہ ہی برآمد ہوا لامتناہی مقدار میں الٹراوئیلٹ شعاعوں کی پیدائش ایک ناممکن سی بات تھی اور ایسی صورت میں کائنات کے وجود کا امکان بھی مشکوک ہوجاتا تھا۔یہی وجہ ہے وائبریشن کو کسی حد میں قید کیے بغیر الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی جیسا خطرناک نتیجہ برآمد ہورہاتھا۔جب کوئی مشاہدہ کسی نظریے کو ثابت نہ کررہاہو تو عموماً یہ نتیجہ اخذ کیا جاتاہے کہ نظریے یا مشاہدے میں کچھ نہ کچھ غلط ہورہاہے۔ کچھ مِسنگ ہے۔ کچھ ایسا جس کا راز ابھی پکڑ میں نہیں آرہا۔


ریلی اور جیمز کے اس مسئلہ کو فزکس میں ’’ایکوی پارٹیشن تھیورم‘‘ (Equipartition Theorem) کے نام سے جانا جاتاہے۔غرض ان دونوں ذہین سائنسدانوں کا ماڈل اپنی بگڑی ہوئی شکل کے بعد یہ صورت اختیار کرگیا تھا جو عقل و حواس دونوں کے لیے قابل ِ قبول نہیں تھی۔

اب وقت ہے کہ ہم اپنے پرانے دوست ’’زینو‘‘ کوآواز دیں۔ مضمون کے شروع میں زینو کا پیراڈاکس پیش کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس کا ذکر دوبارہ اِس مقام پر کیا جائے گا۔ریلی اور جیمز سے جو غلطی سرزد ہورہی تھی وہ بھی بعینہ وہی غلطی تھی جو زینو سے سرزد ہوتی رہی اور اس نے سرے سے حرکت کا ہی انکار کردیا۔وہ بھی سمجھتے تھے کہ سپیس کو الیٰ غیر نہایت تقسیم کیا جاسکتاہے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وائبریشن کو چھوٹی سے چھوٹی جگہ میں بھی تصور کررہے تھے۔ چھوٹی جگہ تو آخر کتنی چھوٹی؟ وہ بھی دراصل زینو کی طرح لامتناہی تقسیم کو ذہن میں رکھے ہوئے تھے اور بار بار اپنی ضربوں اور تقسیموں میں لامتناہی حد تک تقسیم ہوجانے والی سپیس کا حساب کتاب لگاتے چلے جاتے۔ جوں جوں جگہ باریک سے باریک ہوتی جاتی، ارتعاش کی مقدار زیادہ ہوتی چلی جاتی۔ وہ اور باریک جاتے تو ان کی ریاضی بتاتی کہ ارتعاش اور بھی زیادہ بڑھ جائےگا؟ اگر یہ سچ ہوتا تو کائنات کو خطرناک قسم کی گیماریز سے بھرا ہوا ہونا چاہیے تھا اور قانون بقائے انرجی کو بھی غلط ثابت ہوجانا چاہیے تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا تھا نہیں۔ آخر ایک دن تو کوانٹم فزکس نے بھی جنم لینا ہی تھا۔الغرض ریلی اور جیمز بھی زینو کے کچھوے کا ہی تعاقب کرتے چلے آرہے تھے ۔
اِسی سال بابائے کوانٹم میکس پلانک جو ایک جرمن سائنسدان تھا کسی اور مقصد کے لیے ’’بلیک باڈی سپیکٹرم‘‘ کا تعین کرنے میں مصروف تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر حرارت ہمیشہ گرم آبجیکٹ سے ٹھنڈے آبجیکٹ کی طرف ہی سفر کیوں کرتی ہے؟ اسی سوال کا جواب حاصل کرتے ہوئے میکس پلانک نے غیر ارادی طور پر ریلی اور جیمز کی غلطی دور کردی۔اُس نے پہلے فرض کیا کہ ایک بلیک باڈی صرف اور صرف مخصوص مقدار میں ہی روشنی خارج کرسکتی ہے۔اس نے فرض کیا کہ اس کی توانائی ، توانائی کے ایک ’’شمہ‘‘ کی صورت ظاہر ہوتی ہے۔کسی رنگ کی روشنی کا ایک شمہ یعنی ایک چَنک (Chunk of Energy) کس طرح حاصل کیا جاسکتاہے؟

اور یہ حقیقت ہے کہ اس نے تقریباً اتفاق سے ہی وہ سب کچھ دریافت کرلیا جس نے آنے والی دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے کوانٹم ورلڈ میں منتقل کردیا۔وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح فرض کی گئی ’’لامتناہی انرجی سٹیٹ‘‘ کا کوئی ریاضیاتی حل نکالے۔میکس پلانکس نے خود اپنے اُس وقت کو،’’مایوسی کا لمحہ‘‘ کہہ کر پکارا ہے۔بالآخر اس نے ایک قدرے بچگانہ حرکت کی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ فرض کریں پارٹیکل وائبریٹ ہوسکتے ہیں تو صرف اور صرف ایسی توانائیوں کے ساتھ جوریاضیاتی طور پر بعض کم سے کم توانائیوں کا حاصل ضرب ہوں۔

چنانچہ اس نے انرجی سٹیٹس کو کوانٹائزڈ کردیا۔اس نے کہا اِس ’’کم سے کم انرجی‘‘ (Minimum Energy State) کوکسی پارٹیکل کی وائبریشن کی فریکونسی کہاجائے تو زیادہ آسانی رہیگی۔اُس نے کہا انرجی کی اس درجہ پست سطح پر ٹائم ایک بہت ہی چھوٹا عدد بن کر ظاہر ہوگا۔ایک ایسا عدد جو ابھی اُس نے دریافت نہیں کیاتھا۔اوریہی عدد بعد میں ’’پلانک کانسٹینٹ‘‘ کے طورپر سامنے آیا۔یہ صرف ٹائم کے لیے ہی باریک ترین عدد نہیں تھا بلکہ خود بخود سپیس کے لیے بھی باریک ترین عدد تھا اور اِسی نمبر نے بالآخر الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی کا حتمی حل ڈھونڈ لیا۔ایسا کیوں ہوا؟ کیونکہ اس عدد نے دراصل طے کردیا کہ ایک خاص حد سے زیادہ نیچے جاکر یعنی بہت ہی باریک سطح پر نیچے جاکر پارٹیکلز کی وائبریشن کا تصور ہی غیر درست ہے۔ پارٹیکلز وائبریٹ ہوسکتے ہیں تو ٹائم اور سپیس کے ایک مخصوص حد تک تقسیم کی گئی اجزأ میں، نہ کہ زینو کی طرح لامتناہی تقسیم کی صورت میں۔اگر زینو کی سپیس درست ہوتی تو ریلی اور جیمز کی الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی بھی درست ہوتی۔ پلانک کے اس عمل نے فلسفیانہ سطح پر بتادیا کہ مکان اور زمانے کو الیٰ غیرِ نہایت تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ تقسیم درتقسیم کے عمل میں ایک مقام ایسا آتاہے جب سپیس بہت زیادہ باریک ہوجاتے ہیں۔ اتنے باریک کہ اس کے بعد سمتوں کا تعین ہی ختم ہوجاتاہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کچھوا آگے جارہاہے یا پیچھے۔


چنانچہ پلانک کی مساوات نے بلیک باڈی سپیکٹرم کو ٹھیک ٹھیک دریافت کرلیا اور الٹراوائیلٹ کیٹاسٹرافی ختم ہوگئی۔ پلانک کا یہ کارنامہ ’’پلانک کے قانون‘‘ کے طور پر سائنسی دنیا پر راج کرنے لگا اور میکس پلانک کو 1918 میں فزکس کا نوبل پرائز بھی دیاگیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میکس پلانک نے ایسا سوچا نہیں تھا۔ اس نے تو سوچا تھا کہ کم سے کم انرجی سٹیٹ کو صفر اخذکیاجائےگا۔اس کاخیال تھا کہ انرجی کی دو حالتوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی وقفہ دریافت نہ ہوسکے گا اور یہ وقفہ بھی زیرو اخذ کیا جائےگا چنانچہ اُسے توقع تھی کہ مساوات کے آخر میں پلانک کانسٹینٹ کو کالعدم کردیا جائےگا۔لیکن ایسا ہوا نہیں اور پلانک کانسٹینٹ نہایت مضبوطی کے ساتھ پلانک کے قانون کا حصہ بن گیا۔اس قانون نے بات صاف کردی۔ معاملہ سلجھ گیا۔ معلوم ہوگیا کہ انرجی کو فی الحقیقت کوانٹائزڈ کیا جاسکتاہے۔لیکن پلانک کانسٹینٹ کی اصلی مقدار معلوم کرنے کا کام ابھی باقی تھا۔لیکن جونہی پلانک نے بلیک باڈی سپیکٹرم کو ایک ریاضیاتی شکل دی تو یوں ہوا کہ وہ مختلف نمبرز اور اعداد کو استعمال کرتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک نمبر بلیک باڈی ریڈی ایشن کے ارتعاش کی حدود بتانے میں کامیاب ہوگیا۔یوں گویا ایک تھیوری، باقاعدہ سائنسی طریقِ کار سے گزر کر آخر کار درست تسلیم کرلی گئی۔ چنانچہ پلانک کانسٹینٹ ، جسے انگریزی کے حرف ایچ (h) سے ظاہر کیا جاتاہے ، کے مطابق کم سے کم انرجی کی مقدار چھ اعشاریہ چھ تین ضرب دس کی طاقت مائینس چونتیس جُولز سیکنڈہے۔

یہ سب کیا تھا؟ یہ سب فزکس کا مسئلہ بعد میں تھا جبکہ فلسفے کا مسئلہ پہلے تھا۔ کیونکہ یہ فقط انرجی کا لیول طے نہیں ہوا تھا بلکہ سپیس اور ٹائم کے بارے میں ایک حتمی فیصلہ بھی ہوگیا تھا کہ ان دونوں کو الیٰ غیرِ نہایت تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

جب بلیک باڈی ریڈی ایشن سے متعلق پلانک لأ نے حتمی فیصلہ سنا دیا کہ انرجی کی مقدار شدیدترین فریکوئنسی کے لیے بھی متعین ہے توہوا یوں کہ ہرکسی کے لیے یہ معلوم کرنا نہایت آسان ہوگیا کہ کسی جسم میں کتنی حرارت ہوگی تو وہ کس قدر روشنی خارج کریگا۔اگر آپ کو پلانک کا قانون یاد ہے اور کسی شئے کا درجہ ٔ حرارت بھی معلوم ہے تو آپ پلانک کانسٹینٹ کو خود اخذ کرسکتے ہیں۔ بس آپ کو فقط یہ کرناہوگا کہ کسی شئے کے درجہ حرارت سے پیدا ہونے والے گلو (Glow) میں چمکدار ترین حصہ تلاش کریں۔


اگر پلانک کی مکمل طور پر کوانٹائزڈ کرلی گئی وائبریشن یعنی ارتعاشات کا علم وجود میں نہ آیا ہوتا تو آئن سٹائن کے لیے اپنی کوئی بھی تھیوری ڈولپ کرلینا ناممکن ہوتا۔پلانک نے ایک چَنک آف انرجی کی طاقت معلوم کرنے کا طریقہ دریافت کیا تو آئن سٹائن کو بھی یہ سوچنے میں دیر نہ لگی کہ یہ مخصوص چنک آف انرجی کچھ اور نہیں دراصل یہی فوٹان ہے۔ یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے سب سے پہلے روشنی کی توانائی کے اُس مخصوص شمہ(چَنک) کو فوٹان کے طورپرپہچانا اور بتایا کہ روشنی موج تو ہے ہی لیکن اس میں انرجی کے جو پلانکیَن پیکٹس ہیں وہ ذرّات ہیں۔ چنانچہ روشنی کا بنیادی ذرّہ فوٹان ہے۔

آئن سٹائن کے فوٹانز کو متعارف ہونا تھا کہ ماہرین ِ طبیعات تیزی کے ساتھ اس بات پر سوچنے لگے کہ ،
’’تو پھر وہ ایٹمز کیا چیز ہیں جو فوٹانز (Emit) اِمِٹ کرتے ہیں‘‘
اور یہ وہ مقام تھا جب کوانٹم میکانکس نے کرۂ ارض پر پہلی بار اپنے چہرے کا نقاب اُلٹنا شروع کیا۔ایٹمز فوٹانوں کو اُس وقت خارج کرتے ہیں جب ان کے الیکٹرانز اپنی کچھ توانائی کسی وجہ سے ضائع (Lose) کربیٹھتے ہیں۔

سب نے سوچا کہ ایسے ایٹموں کے الیکٹران اپنی توانائی کو بھی ضرور ایسے ہی چَنکس (Chunks) کی شکل میں ضائع کرتے ہونگے۔اِسی چَنک آف انرجی کو ’’کوانٹا‘‘ کہا جاتاہے۔آئن سٹائن نے اپنے مقدمے کو بالآخر فوٹوالیکٹرک ایفکٹ کی شکل میں ثابت کردیا اور اُسے 1921 کا نوبل پرائز بھی اسی کارنامے کی بنا پر دیا گیا کیونکہ یہ کارنامہ فی الحقیقت انسانیت کے لیے مفید تھا ۔ آج ہم جو سولرانرجی استعمال میں لارہے ہیں یہ آئن سٹائن کے فوٹوالیکٹرک ایفکٹ کا براہِ راست فائدہ ہے جو پوری انسانیت کو پہنچ رہاہے۔


خیر! تو اس طرح کوانٹم فزکس کا آغاز ہوا۔ یہ انیس سو بیس کا زمانہ ہے اور گزشتہ صدی کی دوسری دہائی یعنی انیس سو بیس سے انیس سو تیس تک کوانٹم فزکس کے عجائبات کا زمانہ ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ نئے نئے تجربات ہونے لگے اور نئے نئے نظریات متعارف ہوتے گئے۔یہاں تک ایک وقت وہ آیا جب سب ماہرین ِ طبیعات کو تھامس یونگ کےبھولے ہوئے ڈبل سلٹ ایکسپری منٹ کی یاد آئی جو عرصہ ہوا بھلا دیا گیا تھا۔ تھامس یونگ1773 میں پیدا ہوا اور 1829 میں وفات پائی۔ڈبل سلٹ ایکسپری منٹ کے بعد کوانٹم فزکس نے اپنے چہرے سے دوسرا نقاب اُٹھایا اور کوانٹم فزکس عقلِ انسانی سے ماورا ہوتی چلی گئی۔
کوانٹم فزکس سیریز کی اگلی قسط، ڈبل سلٹ ایکسپری منٹ سے شروع ہوگی۔یہاں پہلی قسط کو ختم کیا جاتاہے۔ والسلام

..................................
1۔ارسطو کا مادہ اور صورت کا نظریہ یہ ہے کہ’’ ہر جسم رکھنے والی شئے مادہ و صورت کا مرکب ہے۔اس طرح کہ صورت پہلے ہے اور مادہ بعد میں ہے‘‘۔یعنی مادہ کسی بھی شکل میں نظر آتاہے تو اِس لیے کہ پہلے صورت (کہیں) موجود تھی۔ مادے میں صورت کو اختیارکرلینے کی ایک خاص قسم کی کشش پائی جاتی ہے اور صورت میں مادی شکل اختیار کرلینے کا ایک خاص قسم کارجحان پایا جاتاہے۔
2۔ بابائے کوانٹم میکس پلانک نے بالآخر یہی نتیجہ اخذ کیا ٹائم اور سپیس پلانکیَن سطح پر ایٹامک ہے۔
3۔ موناڈ فلسفے میں ان ذرّات کو کہا جاتاہے جنہیں مزید تقسیم نہ کیا جاسکے۔ فی زمانہ یہ میکس پلانک کا پیمانہ ہے، جسے مزید تقسیم نہیں کیاجاسکتااور جس کی مقدار چھ اعشاریہ چھ تین ضرب دس کی طاقت مائنس چونتیس ہے۔
4۔مشہورفلسفی لائبنز بھی موناڈز کا ایک تصور پیش کرتاہے۔لیکن لائبنز کا زمانہ اشاعرہ سے صدیوں بعد کا زمانہ ہے۔
5۔ بحوالہ ، ٹیرشیم آرگینیوم (Tertium Organum)، مصنف اوس پنسکی

"صدائے مسلم" تحاریر ای میل سروس
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی