صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

آئن سٹائن، تعارف اور حالاتِ زندگی

0 174

البرٹ آئن سٹائن، تاریخ ِ انسانی کا سب سے بڑا ماہرِ طبیعات جس نےبابائے فزکس نیوٹن کے پیچھے آنکھیں موند کر دوڑتےچلے جانے والے بڑے بڑے سائنسدانوں کو نہایت سادہ سادہ باتوں کے ذریعے چونکا دیا اور ایسی ایسی کراماتِ علمی کا مظاہرہ کیا کہ دنیائے سائنس بالخصوص دنیائےفزکس یکایک ایک بالکل ہی نئے جہان میں داخل ہوگئیجسے اصطلاح میں ماڈرن فزکس کا جہان کہا جاتاہے۔ماڈرن فزکس کے بنیادی طور پر دو ستون ہیں۔ نمبر۱ ’’تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی‘‘ نمبر۲ ’’کوانٹم فزکس‘‘۔تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی آئن سٹائن نے خود پیش کی جبکہ کوانٹم فزکس کی پیدائش میں آئن سٹائن کی دریافت ’’ فوٹوالیکٹرک ایفیکٹ ‘‘کا بنیادی ہاتھ ہے۔آئن سٹائن کی ایک اور بڑی پہچان اُس کا’’ ماس انرجی اِکوئیلنس‘‘ کا نظریہ ہےجو اس کی مساوات ’’اِی اِز اِکوَل ٹُو ایم سی سکوئرڈ‘‘ (E=mc2) کی صورت دنیابھر میں مشہور ہے۔اِس نظریہ کی رُو سے مادہ اور توانائی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور اِن کی ایک دوسرے کے ساتھ اَدلہ بدلی کی جاسکتی ہے۔


آئن سٹائن کو ابتدا ہی سے یہ احساس ہوگیا تھا کہ نیوٹن کی فزکس جو میکانیات تھی اور برقی مقناطیسی لہروں کی دریافت کے بعد والی فزکس، جو الیکٹرومیگناٹزم کے نام سے جانی جاتی تھی، دونوں کوایک جیسے قوانین کے تحت سمجھنے کی کوشش کرنا اب مزید کارآمد نہیں تھا۔چنانچہ اس نے روشنی کی شعاع کا، نیوٹن کی فزکس کے قوانین سے ماورا ہوکر مطالعہ اور مشاہدہ شروع کردیا۔اس تفکر نے آئن سٹائن کو’’ خصوصی اِضافیت‘‘ کےعجیب و غریب نظریہ کی تشکیل کی طرف راغب کیا۔جلد ہی آئن سٹائن کو محسوس ہونے لگا کہ’’ خصوصی اضافیت‘‘ کے حیران کن میدانِ تخیل کو کششِ ثقل تک بھی وسیع کیا جاسکتاہے۔ایسے ہی کسی خیال میں ایک روز وہ اپنے آفس میں بیٹھا کھڑکی سے باہر ایک بلندو بالا عمارت کو گھورتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر ایک شخص اِس عمارت سے گرے تو وہ کیا محسوس کرے گا؟ کیا وہ اپنے آپ کو گرتاہوا محسوس کرے گا؟ معاً اُسے خیال آیا کہ اگر ہوا کی رگڑ نہ ہو تو وہ شخص اپنے آپ کوگرتاہوا محسوس نہیں کریگا۔ بس پھر کیا تھا۔ آئن سٹائن مارے خوشی کے پاگل ہوگیا۔بعد میں وہ تمام عمر اِسےاپنی زندگی کے خوشگوارترینخیال کے طور پر یاد کیا کرتا تھا۔1920 میں اُس نے لکھا،
"That-was- the- happiest -thought -of -my -life"

دراصل یہی وہ خیال تھا جس کے بعد آئن سٹائن پرگریوٹی کا راز کھل گیااور اس کی سب سے اہم تھیوری، تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی وجود میں آئی۔1905 میں آئن سٹائن نے تھیوری آف سپیشل ریلٹوٹی پیش کی جبکہ 1916 میں آئن سٹائن نے تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی پیش کی جس کےتین سال بعدیعنی 1919 میں ایک انگریز ماہرِ طبیعات’’ارتھر ایڈنگٹن‘‘ (Arthur Eddington) نے نہایت کامیاب عملی تجربہ کے بعداِس تھیوری کی تصدیق کردی۔
1933 میں جب جرمن ڈکٹیٹرایڈولف ہِٹلر برسراقتدار آیا تو ایک یہودی کے طور پر آئن سٹائن کے لیے جرمنی میں رہنا ناممکن ہوگیا کیونکہ ہٹلر اپنی یہود دشمنی کی وجہ سے بدنام تھا۔ چنانچہ آئن سٹائن امریکہ چلا گیا اور واپس نہ آیا حالانکہ وہ ان دِنوں ’’برلن اکیڈمی آف سائنس‘‘ میں پروفیسرتھا۔تب سے آئن سٹائن امریکہ میں ہی مقیم ہوگیا اور 1940 میں اُسے امریکی شہریت بھی مل گئی۔جنگ ِ عظیم دوم کے آغاز میں آئن سٹائن نے اُس وقت کے امریکی صدر’’فرینکلن ڈی روزویلٹ‘‘ (Franklin D. Roosevelt) کو ایک خط کے ذریعے متنبہ کیا کہ جرمنی ایک نئی قسم کا خطرناک بم بنانے کی کوشش میں کامیاب ہوسکتاہے فلہذا امریکہ کو چاہیے کہ وہ اِس خاص قسم کا بم بنانے کے لیے ریسرچ میں پہل کردے۔آئن سٹائن یہودی النسل تھا جبکہ ہٹلر یہودیو ں کا شدید ترین دشمن تھا۔ ہٹلر نے ہزاروں یہودی خاندانوں کو نہایت بے رحمی سے تہِ تیغ کروادیا تھا۔ یقیناً آئن سٹائن کے لیے اپنے ہم مذہبوں کا یہ قتل ِ عام قابلِ برداشت نہ رہا ہوگا اور اُسے بطور انسان ہٹلر پر ضرور غصہ آتاہوگاکیونکہ آئن سٹائن نے اتحادی طاقتوں کی نہ صرف حمایت جاری رکھی بلکہ امریکہ کو دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار یعنی ایٹم بم بنانے میں مدد بھی دی۔البتہ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ آئن سٹائن نےہمیشہ ایسے خطرناک ہتھیار کے عملی استعمال کی مخالفت کی۔بعد میں آئن سٹائن نے مشہور فلسفی اور ریاضی دان برٹرینڈ رسل کے ساتھ مل کر ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے جس میں نیوکلیئر ہتھیاروں سے دنیا کو لاحق شدید خطرات کو واضح کیاگیا۔
آئن سٹائن نےاپنی زندگی میں تین سو سے زائد سائنسی مقالے لکھے جبکہ آئن سٹائن کی ایک سو پچاس غیر سائنسی تحریرات اور کتابیں الگ ہیں(1)۔

آئن سٹائن کا بچپن اور ابتدائی تعلیم

آئن سٹائن 14 مارچ 1879 کے روز جرمنی کے شہر اُلم (Ulm) میں پیدا ہوا۔آئن سٹائن کے والد کانام’’ہَرمین آئن سٹائن‘‘ (Hermann Einstein)اوروالدہ کانام ’’پاؤلِین کوچ‘‘ (Pauline Koch)تھا۔آئن سٹائن کے والدایک کاروباری آدمی تھے۔ 1880میں آئن سٹائن کا خاندان جرمنی کے شہر میونخ منتقل ہوگیا جہاں آئن سٹائن کے والد اور چچا نے مل کر ایک کمپنی کاآغاز کیا جس کا نام تھا، ’’الیکٹروٹیکنیشے فیبرک جے آئن سٹائن اینڈسی‘‘ (Elektrotechnische Fabrik J. Einstien & Cie)۔یہ ایک بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی تھی۔1894 میں ’’ہرمین اور جیکب کی کمپنی‘‘ کو اُس وقت خسارے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک کاروباری سودے کے مطابق میونخ شہر کو بجلی سپلائی کرنے میں ناکام رہے۔اُن کے پاس ’’ڈی سی کرنٹ‘‘ کی بجلی کو ’’اے سی کرنٹ‘‘ کی بجلی میں کنورٹ کرنے کے لیے سرمایہ کم پڑگیا۔نتیجۃً کمپنی کو ہی بیچنا پڑا۔اتنے بڑے نقصان کے بعد آئن سٹائن کا خاندان میونخ میں مزید قیام نہ کرسکا اور یہ لوگ اٹلی چلے گئے۔ البتہ آئن سٹائن کو میونخ میں ہی، ’’لُوئپولڈ جیمنیزیم‘‘ (Luitpold Gymnasium) میں چھوڑگئے جہاں وہ زیرتعلیم تھا تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے۔ لیکن آئن سٹائن وہاں خوش نہیں تھا۔ اس نے بعد میں لکھا،’’سیکھنے کی سچی رُوح اور تخلیقی فکر تو وہیں مر گئی تھی کیونکہ وہاں رٹّے کے ذریعے پڑھانے کو ترجیح دی جاتی تھی‘‘۔1894کے آخرتک آئن سٹائن نے بھی اپنے سکول سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ذریعے چھٹی لی اور اٹلی چلا آیا۔اٹلی میں اس نے پہلا تحقیقی مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا، ’’مقناطیسی میدان میں ایتھر کی حالت پر تحقیق‘‘
(On the Investigation of the State of the Ether in a Magnetic Field)
1895 میں آئن سٹائن نے سولہ سال کی عمر میں ’’سوِس فیڈرل پولی ٹیکنیک سول‘‘ میں ثانوی تعلیم کا امتحان دیالیکن وہ فیل ہوگیا اور امتحان کے عمومی معیار پر پورانہ اُترسکا۔ البتہ اِسی امتحان میں اس نے فزکس اور ریاضی میں اچھے نمبرلیے۔چنانچہ’’ سوس فیڈرل پولی ٹیکنیک ‘‘کے پرنسپل کی ہدایت پر آئن سٹائن نے اپنی ثانوی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے’’آرگووِیَن کینٹونل سکول‘‘ (Argovian cantonal school) سوئٹزلینڈ میں داخلہ لے لیا۔ جہاں وہ 1895 تا 1896زیرِتعلیم رہا ۔

 

آئن سٹائن کی محبتیں اور عائلی زندگی

اسی دوران، جب آئن سٹائن کاخاندان پروفیسر’’جوسٹ ونٹیلر‘‘ کےساتھ مقیم تھا، آئن سٹائن کو پروفیسر’’جوسٹ ونٹیلر‘‘(Jost Winteler) کی بیٹی ’’میری‘‘ (Marie)کے ساتھ پہلی محبت ہوگئی۔1896میں آئن سٹائن نے والد کی اجازت سےاپنی جرمن شہریت کو مسترد کردیا تاکہ بطور شہری فوج میں فرائض انجام دینے کی ذمہ داری سے بچا جاسکے۔ستمبر1896میں آئن سٹائن نے’’ سو ِس میچورا‘‘ کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کرلیا۔سترہ سال کی عمر میں آئن سٹائن نے ریاضی اور فزکس کے استاد کے طورپر ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے’’زیورِک پولی ٹیکنیک‘‘ میں داخلہ لے لیا۔اس دوران آئن سٹائن کی پہلی محبت ’’مَیری‘‘ ٹیچنگ کی جاب کے لیے سوئٹرزلینڈ کے شہر’’ آلزبرگ‘‘ (Olsberg) منتقل ہوگئی۔آئن سٹائن نے ’’زیورِک پولی ٹیکنیک‘‘ میں داخلہ لیا تو وہاں اس کی ملاقات اپنی دوسری محبت، ’’مِلیوا میرِک‘‘ (Mileva Maric)سے ہوئی۔ مِلیوا میرِک ٹیچنگ کورس میں داخلہ لینے والے کُل چھ طلبہ میں اکیلی لڑکی تھی۔آنے والے چند سالوں میں میرِک اور آئن سٹائن کی محبت پروان چڑھنے لگی۔وہ دونوں مل کر سٹڈی کرتے، کتابیں پڑھتے یا فزکس اور ریاضی کے سوال حل کرتے۔آخر 1900 میں آئن سٹائن نے ’’زیورِک پولی ٹیکنیک ٹیچنگ ڈپلومہ‘‘ حاصل کرلیا البتہ اس کی محبوب ’’مِلیوا میرک‘‘ یہ امتحان پاس نہ کرسکی اور ریاضی میں فیل ہوگئی۔
جنوری 1903میں آئن سٹائن اور میرک کی شادی ہوگئی۔مئی 1904 میں، سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں اُن کے پہلے بیٹے ’’ہینز البرٹ آئن سٹائن‘‘ (Hans Albert Einstien) کی پیدائش ہوئی۔جولائی 1910 میں، زیورِک میں اُن کے دوسرے بیٹے ایڈورڈ آئن سٹائن کی پیدائش ہوئی۔اِن دونوں بیٹوں سے پہلے آئن سٹائن اور میرک کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی تھی جس کانام’’ لائزرل‘‘ (Lieserl) تھا اور جو غالباً یا تو بخار لال بخار (Scarlet Feverکی وجہ سے وفات پاگئی یا آئن سٹائن اور میرک نے اُسے کسی اور خاندان کے سپرد کردیاجہاں وہ بیماری سے محفوظ رہ پاتی۔ دراصل آئن سٹائن کی اِس بیٹی کی بابت سوانح نگاروں کو 1986 تک علم ہی نہیں تھا۔پہلی بار لائزرل کا ذکر اُس وقت سامنے آیا جب آئن سٹائن کی پوتی اور ’’ہینز البرٹ آئن سٹائن‘‘کی بیٹی ’’ایوی لین‘‘ (Evelyn) نے آئن سٹائن کے کچھ خطوط دریافت کیےجواس کے دادا اور دادی کے درمیان مراسلت کے سلسلہ پر مشتمل تھے۔ ان خطوط سے پتہ چلا کہ یہ بچی 4فروری 1902 سے کچھ پہلے پیدا ہوئی ہوگی ۔ بیٹی کی پیدائش سے پہلے خطوط کے ذریعے آئن سٹائن اور میرک میں لڑکی یا لڑکے کی پیدائش اور نام سے متعلق بحث سے ثابت ہوتاہے کہ دونوں کو پہلی اولاد کی کتنی شدید خواہش تھی۔ لیکن انہی خطوط سے پتہ چلتاہے کہ بچی پیدائش کے بعد لال بخار کا شکار ہوگئی۔ البتہ خطوں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بچی بعد میں فوت ہوگئی یا کسی اور خاندان کو دے دی گئی جہاں اس کی اچھی پرورش ہوپاتی۔
اپریل 1910 میں آئن سٹائن اور میرک بچوں سمیت برلن منتقل ہوگئے لیکن میرک چند ماہ بعد بچوں سمیت واپس ’’زیورِک‘‘ آگئی، جب اُسے پتہ چلا کہ آئن سٹائن کو اب اپنی فرسٹ کزن ’’ایلسا‘‘ (Elsa)کے ساتھ محبت ہوگئی تھی۔ یہ آئن سٹائن کی تیسری محبت تھی۔14فروری 1919کو پانچ سال ایک دوسرے سے دُور رہنے کے بعد آخر دونوں میاں بیوی کے درمیان مکمل علحیدگی یعنی طلاق ہوگئی۔اِن حالات نے آئن سٹائن کے دوسرے بیٹے ایڈورڈ پر بہت بُرے اثرات ڈالے اور وہ مالیخولیا یعنی شیزوفرینیا کا مریض ہوگیا۔آئن سٹائن اپنے دوسرے بیٹے ایڈورڈ کو پیار سے ٹی ٹی کہہ کر پکارتا تھا۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ ایڈورڈ نے والدین کی علحیدگی کا بہت برا اثر لیا اور ذہنی طور پر بیمار ہوگیا۔ بعدازاں ایڈورڈ اتنا شدید بیمار ہوا کہ کئی مرتبہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کروانا پڑا اور بالآخر والدہ کی وفات کے بعد مستقبل طور پر ذہنی امراض کے ہسپتال میں ہی داخل کروادیا گیا۔
2015میں آئن سٹائن کے کچھ اور خطوط دریافت ہوئے جن سے پتہ چلا کہ آئن سٹائن اپنی پہلی محبت ’’میری‘‘ کو کبھی نہیں بھولا تھا۔1910میں اسے ایک خط میں ’’میری‘‘ کولکھا،

’’میں تمہارے بارے میں سوچتاہوں، دل میں محسوس کیا جانے والا ہروہ لمحہ جو مجھے میسر آتاہے ، اُس لمحے میں تمہیں یاد کرتاہوں اور میں بے حد ناخوش ہوں۔ اتنا کہ جتنا کوئی بھی مرد ہوسکتاہے‘‘

حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب آئن سٹائن کی بیوی ’’مِلیوا میرک‘‘ حاملہ تھی اور اُس کے بطن سے ایڈورڈ پیدا ہونے والا تھا۔انہی خطوں میں آئن سٹائن نے اپنی پہلی محبت مَیری کو لکھا کہ وہ ایک’’بے رہبر‘‘ محبت اور ’’ہاتھوں سے پھسل جانے والی زندگی‘‘ جی رہاہے۔
1919 میں آئن سٹائن نےآخر ’’ایلسا لووِنتھل‘‘ (Elsa Lowenthal)کے ساتھ شادی کرلی۔یوں گویا کئی سال تیسری محبت میں مبتلا رہنے اور پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد آئن سٹائن نے دوسری شادی کی۔ایلسا آئن سٹائن کی خالہ کی بیٹی تھی اور والد کی طرف سے سیکنڈ کزن بھی تھی یعنی اس پیدائش کے وقت لفظ ’’آئن سٹائن‘‘ اُس کے بھی خاندانی نام کا حصہ تھا۔1933میں جب آئن سٹائن نے امریکہ ہجرت کی تو ایلسا آئن سٹائن ہی بطور بیوی آئن سٹائن کے ساتھ تھی۔1935 میں ایلسا گردوں اور دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئی اوردسمبر 1936 میں وفات پاگئی۔

نوکری کی تلاش کا مسئلہ

1900میں فزکس اور ریاضی کے ٹیچر کا ڈپلومہ حاصل کرلینے کے بعد آئن سٹائن دوسال تک ٹیچنگ کی جاب کے لیے مارا مارا پھرتا رہا۔آئن سٹائن کو سوئٹزلینڈ کی شہریت تو1901میں مل گئی تھی لیکن میڈیکل وجوہات کی بنا پر اُسے دیر تک قومی خدمات کے قابل نہ سمجھاگیا اور اسی لیے اسے نوکری کے حصول میں دشواری پیش آرہی تھی۔بالآخرآئن سٹائن کو ایک سفارشی نوکری حاصل کرنا پڑی۔آئن سٹائن کے کلاس فیلو اور قریبی دوست ’’مارسیل گروسمین‘‘ (Marcel Grossmann) کے والد کی سفارش سے آئن سٹائن کو ایک معمولی نوکری ملی۔ جو اُس وقت تو آئن سٹائن کو بہت معمولی محسوس ہوئی لیکن اگر آئن سٹائن کے کارناموں پر نظر کی جائے تو معلوم ہوتاہے کہ آئن سٹائن کی فکری زندگی پر سب سے گہرے اثرات اُسی نوکری کے وقت مرتب ہوئے۔یہ’’ دراصل سوئٹزلینڈ کے شہر برن میں فیڈرل آفس فار اِنٹیلکچول پراپرٹی‘‘ میں ’’پیٹنٹ کلرک‘‘ کی جاب تھی۔آئن سٹائن کے زمانے میں سائنسی ایجادات کو اپنے نام کروانے کا بڑا زبردست رواج تھا۔اگرچہ آج بھی ایسا ہی ہے لیکن اٹھارویں،انیسویں اور بیسیویں صدی کے موجدوںمیں یہ مسئلہ کسی وبا کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ چنانچہ جس محکمہ میں آئن سٹائن کو کلرکی ملی وہ محکمہ ہی ایسی ایجادات کو رجسٹر یعنی پیٹنٹ کروانے کے لیے بنایا گیا تھا۔آئن سٹائن وہاں تیسرے درجے کا تجزیہ کار تھا۔اس کے عہدے کا نام ، ’’اسسٹنٹ اِگزامنر لیول تھرڈ‘‘ تھا۔یہاں اُسے لوگوں کی ایجادات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس نے بے شمار آلات، مشینوں اور پرزوں کا نہایت گہرا معائنہ کیا۔مثلاً اسی عرصہ میں آئن سٹائن نے ’’بجری چھاننے کی ایک مشین‘‘اور ایک’’ الیکٹرو کیمیکل ٹائپ رائٹر‘‘ کو پیٹنٹ(Patent) کیا۔
اس کے علاوہ اُسے اِس نوکری کے عرصہ میں سوچنے کے لیے بہت وقت ملا۔ کیونکہ یہ جاب مصروف نوعیت کی نہیں تھی۔ آئن سٹائن اگر کسی موجد کی ایجاد کو پرکھ یا جانچ نہ رہاہوتا تو وہ فقط سوچ رہا ہوتا تھا۔1903 میں آئن سٹائن کی یہ جاب پرمستقل ہوگئی لیکن اپنے عہدے سے ترقی اُسے اُس وقت تک نہ مل سکی جب تک وہ عملی طور پر ایک مکمل مکینکل انجنئر نہ بن گیا۔مشینوں کا اتنا گہرا اور اتنا قریب سے مطالعہ کرتے ہوئے آئن سٹائن کے سامنے دو سوال باربار اوربہت زیادہ نمایاں ہوکر آتے رہے۔

  •  الیکٹرک سگنلز کی ترسیل یعنی ٹرانسمشن، بہتر سے بہتر کس طرح ممکن ہے؟
  • الیکٹریکل اور میکانیکل آلات کی آپس میں ٹائمنگ کا بہترین تناسب کس طرح ممکن ہے؟

پہلا سوال یعنی برقی پیغامات بہتر سے بہتر طریقے سے کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جائیں اور ددوسرا سوال کہ مشینوں اور برقی پیغامات کے درمیان’’ وقت سازی‘‘ کس طرح کی جائے کہ دونوں ، یعنی مشینوں اور برقی پیغامات کی آپس میں سِنکرونائزیشن (synchronization) ممکن ہوجائے۔سنکرونائزیشن سے مراد تھی کہ الیکٹریکل سگنلز اور مشینوں کے درمیان وقت کا ٹھیک ٹھیک تعین ہوسکے کہ کون سے سِگنل کے بعد مشین نے کیا کرناہے۔ان دو سوالوں کی موجودگی میں آئن سٹائن کو پتہ چلا کہ نیوٹن کی فزکس مشینوں کو بنانے اور چلانے میں تو بہت مدد دیتی ہے لیکن برقی یا مقناطیسی لہروں کے بارے میں کچھ خبر نہیں دیتی۔ پس اگر کسی شخص کو ایسی مشین بنانی ہو جس میں برقی یا مقناطیسی لہروں سے پرزوں کو چلایاگیا ہو تو دو طرح کی فزکس کا علم درکار ہوتاہے۔ ایک برقی مقناطیسی لہروں کا علم اور دوسرا نیوٹن کی میکانکس کاعلم۔ برقی مقناطیسی لہروں کا علم آئن سٹائن کے زمانے میں بھی ابھی نومولود تھا۔ آئن سٹائن سے پہلے اگرچہ’’ میکس ویل‘‘ نے برقی مقناطیسی لہروں کے علم پر حتمی نوعیت کی مساواتیں دریافت کرلی تھیں لیکن نیوٹن کی پرانی فزکس اور برقی مقناطیسی لہروں والی نئی فزکس کو آپس میں جوڑنے کا کام ابھی تک کسی نے انجام نہ دیا تھا۔
چنانچہ آئن سٹائن اپنے فارغ اوقات میں انہی نکات پر غوروفکر کرتارہتاتھا۔اوریوں اُسے روشنی کی فطرت، وقت اور مکان کے بارے میں غورکرنے کا سب سے زیادہ موقع اِسی نوکری کے عرصہ میں میسر آیا۔ اپنے غوروفکر کے نتائج وہ اپنے ، برن میں بننے والے چند دوستوں کے ساتھ بھی ڈسکس کرتاتھا۔ اسی وجہ سے1902میں آئن سٹائن نے بزعمِ خود ’’دی اولمپیااکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک مباحثہ گروپ کی بنیاد رکھی۔جہاں یہ لوگ سائنس اور فلسفہ کی بحثیں چھیڑتے، مل کر مطالعہ کرتےاور مختلف نظریات پرگرما گرم گفتگوئیں کیا کرتے تھے۔اُن کے مطالعہ میں’’پوائن کیرے‘‘(Henri Poincare)، ’’ارنسٹ مارچ‘‘ (Ernst Mach) اور ’’ڈیوڈہیوم‘‘ (David Hume)کے افکارونظریات شامل تھےجن کے اثرات آئن سٹائن کے فلسفیانہ تفکر بہت میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

آئن سٹائن کا معجزاتی سال

1905کو آئن سٹائن کا معجزاتی سال (Miracle Yearکہاجاتاہے۔اگرچہ اس سے پہلے آئن سٹائن اپنا پہلا تحقیق مقالہ، ’’کیپِلیرِٹی مظہر کے نتائج‘‘ 1901میں پیش کرچکاتھاجوایک بہت ہی اعلیٰ پائے کے جرنل ’’اینالین ڈیرفزیک‘‘ (Annalen der Physik) میں شائع ہوچکاتھا۔لیکن 30اپریل 1905کو آئن سٹائن نے پہلا قابلِ ذکرمقالہ مکمل کیا ، جس پر ’’یونیورسٹی آف زیورِک‘‘ نے اُسے پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کردی۔اِس مقالے کا عنوان تھا، ’’مالیکیولرڈائمینشنز کا نیا تعین‘‘(A New Determination of Molecular Dimensions)۔1905 کے سال کو آئن سٹائن کا معجزاتی سال اس لیے کہا جاتاہے کہ اِسی ایک سال میں آئن سٹائن نے یکے بعد دیگرے چار ایسے مقالے لکھے جو تاریخِ علم انسانی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف اَمر ہوگئے بلکہ آنے والی تمام دنیاؤں،علوم، افکار، جغرافیوں، سرحدات اور تاریخوں کا دھارا ہی بدل دیا۔ 1905کے سال آئن سٹائن نے چار مختلف موضوعات پر پیپرلکھے۔

ان میں سے ہرایک نظریہ گویا کوئی ہوشربائی طلسم تھا یا کوئی سنہرا جادُو جو اُس نے دنیائے علم و حکمت پر پھونک دیا اور جس کے اثر سے’’ متلاشیان حقائق ِ اشیا ٔ ‘‘آج تک نہیں نکل سکے۔ان چار مقالوں کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ آئن سٹائن محض چھبیس سال کی عمر میں ہی آسمانِ علم وحکمت پر کسی روشن ستارے کی طرح جگمگانے لگ گیا۔

اکیڈمک کیرئر

1908تک آئن سٹائن کو صف ِ اوّل کا سائنسدان تسلیم کرلیاگیاتھااور اُس نے پیٹنٹ آفس کی کلرکی چھوڑ کر یونیورسٹی آف برن میں لیکچررشپ شروع کردی تھی۔اگلے سال یونیورسٹی آف زیورِک میں ’’الیکٹروڈائنامکس‘‘ اور ’’ریلٹوٹی پرنسپل‘‘ پر ایک لیکچر دینے کے نتیجہ میں آئن سٹائن کو لیکچرر شپ کے عہدے سے ترقی دے کر ایک ہی سال میں ایسویسی ایٹ پروفیسر بنادیاگیا۔1911میں آئن سٹائن جرمنی کے شہر پراہا (Prague) کی’’چارلس فرڈیننڈ یونیورسٹی‘‘ میں فُل پروفیسری کے عہدے پر ترقی پاگیا۔اس عہدے کوقبول کرنے کے لیے آئن سٹائن کو آسٹروہنگیرین سلطنت کی شہریت بھی قبول کرناپڑی۔چنانچہ آئن سٹائن کاغذی طور پر آسٹریا کا شہری بھی تھا۔پراہا میں اپنے قیام کے دوران آئن سٹائن نے گیارہ ریسرچ پیپر لکھے۔اُن میں سے پانچ پیپر ’’ریڈی ایشن کی ریاضی‘‘ اور ’’سالڈز (Solids)کی کوانٹم تھیوری‘‘ پر لکھےگئے تھے۔جولائی 1912 میں آئن سٹائن واپس اپنے مادرِ علمی زیورک لوٹ آیا۔1912 سے 1914 تک آئن سٹائن سوس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، زیورِک میں تھیوریٹکل فزکس کا پروفیسر رہاجہاں اُس نے اینالیٹکل میکانکس اور تھرموڈائنامکس پڑھائی۔اِسی عرصہ میں اس نے ’’کانٹی نیووَم میکانکس‘‘، ’’حرارت کی مالیکولر تھیوری‘‘اور’’کششِ ثقل کے مسئلہ‘‘ کا مطالعہ کیا۔بطورِ خاص گریوٹی کے مسئلہ پر اس نے اپنے دوست مارسل گروسمین کے ساتھ مل کر کام کیا۔
1914 میں آئن سٹائن ، ’’کائزر وِل ہیلم انسٹی ٹیوٹ فار فزکس‘‘(Kaiser Wilhelm Institute for Physics) کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جرمنی واپس آگیا۔ساتھ ہی اب وہ ’’ہمبولٹ یونیورسٹی آف برلن‘‘ (Humboldt University of Berlin) میں پروفیسر بھی تھا۔جلد ہی وہ ’’پرشیَن اکیڈمی آف سائنس‘‘ (Prussian Academy of Sciences) کا ممبر بن گیا اور پھر1916میں وہ ’’جرمن فزیکل سوسائٹی‘‘ کا صدر بھی بنادیا گیا۔ ’’جرمن فزیکل سوسائٹی‘‘ کی صدارت آئن سٹائن کے پاس 1918تک رہی۔
1911میں آئن سٹائن جن اکتشافات سے گزرا تھا انہوں نے بعد میں عظیم نظریۂ عمومی اضافیت یعنی تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی کی شکل اختیارکرلی تھی۔اُن اکتشافات میں آئن سٹائن نے ایک مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر سپیس اور ٹائم فی الواقعہ کسی فیبرک کی طرح آپس میں ایک دوسرے کے اندر سِلے ہوئے ہیں تو یقینا دوسرے ستاروں سے آنے والی روشنی کی شعاعیں راستے میں جگہ جگہ مُڑجاتی ہونگی۔ 1919 میں ’’سرارتھرایڈنگٹن‘‘ (Arthur Eddington) نے آئن سٹائن کے خیال کی تصدیق کردی۔ جب اُس نے 29مئی 1919کے روز ایک سورج گرہن کی تصویریں حاصل کیں اور اپنے نتائج شائع کیے تو اعلان کیا کہ آئن سٹائن کا خیال درست تھا۔ دوسرے ستاروں سے آنے والی روشنی کی شعاع فی الواقعہ راستے میں مُڑجاتی ہے۔7 نومبر1919کے برٹش اخبار’’دی ٹائمز‘‘ نے شہ سُرخی لگائی،
’’سائنس میں انقلاب، کائنات کا نیا نظریہ، نیوٹن کے تصورات کو پھینک دیاگیا‘‘
چنانچہ 1919کے سال آئن سٹائن دنیا کا مشہورسائنسدان بن گیا۔ 1920 میں آئن سٹائن کو ’’رائل نیدرلینڈز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنس‘‘ کا غیرملکی ممبربنایاگیا۔1922میں آئن سٹائن کو نوبل پرائز دیا گیا۔ یہ نوبل پرائز’’ 1921کا فزکس کا نوبل پرائز‘‘ تھا۔یہ پرائز آئن سٹائن کی نظری فزکس کے لیے خدمات بالخصوص’’فوٹوالیکٹرک ایفکٹ‘‘ کی دریافت پر دیا گیا۔یہ وہ دور تھا جب آئن سٹائن کی ’’تھیوری آف جنرل ریلٹوٹی‘‘ شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ آج سوچا جائے تو بڑا عجیب محسوس ہوتاہے۔ جنرل تھیوری ایک ایسا نظریہ تھا جس نے کائنات کے بارے میں انسان کے تمام سابقہ علم کوبیک جنبشِ قلم مسترد کرکے کائنات کے بارے میں ایک بالکل مختلف اور نیا نظریہ پیش کردیا۔ اب کائنات کوئی جامدوساکت وجود نہ تھی بلکہ اب کائنات بے پناہ متحرک گویا زندہ تھی۔
آئن سٹائن کے نظریات کُلّی طور پر اعتراضات کی زد میں تھے۔اس پر مستزاد آئن سٹائن نے روشنی کے بارے میں جو تصور قائم کررکھا تھا وہ بھی ابھی نئی دنیا کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا 1924 تک سائنسدانوں نے آئن سٹائن کے فوٹانز کو تسلیم نہ کیا یہاں تک کہ ایک ہندوستانی (بنگالی) سائنسدان ’’ست ییندراناتھ بوز‘‘ نے ’’پلانک سپیکٹرم‘‘ کی ریاضی سے ثابت کردیا کہ آئن سٹائن کا ’’تصورِ فوٹان‘‘ درست ہے۔1921 میں آئن سٹائن رائل سوسائٹی آف سائنسزلندن کا غیر ملکی ممبر منتخب ہوگیا۔1925 میں آئن سٹائن کو رائل سوسائٹی کی طرف سے ’’کوپلی ایوارڈ‘‘(Copley Medal) دیا گیا۔
2اپریل 1921 کو آئن سٹائن پہلی بار نیویارک گیا جہاں اُسے سرکاری طور پر خوش آمدید کہا گیا۔آئن سٹائن کا یہ دورہ تین ہفتوں کا تھاجس میں جگہ جگہ لیکچرز اور استقبالیوں کا اہتمام تھا۔ان لیکچرز میں ’’کولمبیا یونیورسٹی کے لیکچرز‘‘ اور ’’پرنسٹن یونیورسٹی کے لیکچرز‘‘ کا ایک سلسلہ تھا۔اسی دورے میں آئن سٹائن وائٹ ہاؤس بھی گیا جہاں ’’نیشنل اکیڈمی آف سائنس‘‘ کے نمائندوںکے ساتھ آئن سٹائن نے کچھ وقت گزارا۔
یورپ واپسی پر بھی آئن سٹائن برطانوی حکومت کا سرکاری مہمان تھا۔لندن میں برٹش سٹیٹس مین اورفلسفی ’’وِسکاؤنٹ ہالڈین‘‘ (Viscount Haldane) کو آئن سٹائن کا خصوصی میزبان مقرر کیا گیا۔انگلستان میں بھی آئن سٹائن کی مختلف سائنسدانوں، فلسفیوں، سیاستدانوں اورمشہورلوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔اِسی دوران’’ کِنگز کالج لندن‘‘ میں آئن سٹائن نے ایک لیکچر بھی دیا۔
جولائی1921میں آئن سٹائن نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا، ’’مائی فرسٹ امپریشن آف دہ یوایس اے‘‘جس میں آئن سٹائن نے امریکیوں کے کچھ وصائف مختصراً بیان کیے۔آئن سٹائن نے لکھا کہ،
’’ایک وزٹر کے لیے جو بات خوشگوار ہے وہ امریکیوں کا زندگی کےبارے میں مثبت رویّہ ہے۔امریکیوں کا انداز دوستانہ ہے، وہ خوداعتمادی کے مالک ، پُراُمید اور حسدسے پاک لوگ ہیں‘‘
1922 میں آئن سٹائن نے ایشیا خصوصاًفلسطین کا سفر کیا۔وہ سنگاپور، سیلون اورجاپان بھی گیا۔جاپان میں آئن سٹائن نے بڑے بڑے سیمیناروں میں لیکچرز دیےجن میں ہزاروں کی تعداد میں جاپانی شہری شریک ہوئے۔اپنے پہلے عوامی لیکچر کے بعدآئن سٹائنشاہِ جاپان کا مہمان ہوا جہاں وہ شاہِ جاپان اور ملکہ ٔجاپان سے ملا۔1922آئن سٹائن کو نوبل پرائز ملنے کا سال بھی ہے۔ چونکہ آئن سٹائن مشرق کے طویل دورے پر نکلا ہوا تھا اس لیے آئن سٹائن نوبل پرائز وصول کرنے خود نہ آسکا۔
فلسطین میں آئن سٹائن نے بارہ دن قیام کیا۔یہاں آئن سٹائن کا شاہانہ طریقے پر استقبال کیا گیا۔ برٹش ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر آئن سٹائن کو توپوں کی سلامی دی گئی۔یہ ایک سائنسدان کا استقبال تھا، کسی حکمران یا تاجور کا استقبال نہ تھا۔ ہزاروں لوگ آئن سٹائن کو دیکھنے اور سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔اپنی تقریر میں آئن سٹائن نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ’’یہود اب دنیا میں ایک طاقت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں‘‘۔
1930 میں آئن سٹائن دوبارہ امریکہ گیا۔اس بار آئن سٹائن دوماہ کے ویزے پر ’’کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ کے ریسرچ فیلوکی حیثیت سے امریکہ وارد ہوا تھا۔

 

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی