صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

عابد حسین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

0 50
پاکستان

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین 19ویں صدی میں برصغیر میں انگریزوں کے رائج قوانین کے مرہون منت ہیں۔ تقسیم ہند سے تقریباً ایک صدی قبل 1860 میں انگریزوں نے مذہبی نوعیت کے بڑھتے ہوئے مذہبی جرائم کے سبب دفعہ 295، 296 اور 298 کے نام سے تین نئے قوانین انڈین ضابطہ تعزیرات میں شامل کیے تھے۔ان کے تحت کسی عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنا، مذہبی تقریب میں خلل ڈالنا اور مذہبی جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

انگریزوں کے بنائے گئے یہ قوانین کسی مخصوص مذہب کے لیے مختص نہیں تھے اور نہ ہی ان میں سے کسی قانون میں موت کی سزا متعین کی گئی تھی۔ان قوانین کے لاگو ہونے کے بعد 1860 سے لے کر 1947 تک بر صغیر میں توہین مذہب کے پانچ مقدمے درج ہوئے تھے جب کہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر 1980 تک ملک بھر میں توہین مذہب کے آٹھ مقدماعت درج ہوئے جن میں سے کوئی بھی مقدمہ گستاخی رسول یا قرآن کی بے حرمتی کا نہیں تھا۔

پاکستان بننے کے 30 سال بعد 1977 میں حکومت کا تختہ الٹنے والے آمر جنرل ضیا الحق نے اپنے 11 سال کے دورِ حکومت میں ملک کے آئین میں مزید تبدیلیاں کیں جن میں سے پانچ شقیں توہین مذہب کے قانون میں شامل کی گئیں۔ان ترامیم میں شامل 295-B کے تحت قرآن کی بےحرمتی کرنے پر عمر قید کی سزا مقرر کر گئی جبکہ سب سے اہم ترمیم، 295-سی کے تحت پیغمبرِ اسلام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی سزا موت یا عمر قید بشمول جرمانہ مقرر کی گئی۔

1990 میں ضیا الحق کی ہی قائم شدہ وفاقی شرعی عدالت نے حکم سنایا کہ دفعہ 295-C کے تحت توہین رسالت کی سزا صرف موت ہوگی۔انگریزوں کے نافذ کردہ قوانین کے برعکس ضیا الحق کے دور میں شامل توہین مذہب کی ترامیم میں توجہ صرف دینِ اسلام سے متعلق بےحرمتی اور گستاخیوں پر تھی۔دوسری اہم تبدیلی اس حوالے سے تھی کہ نئے قوانین کے تحت غیر دانستہ طور پر توہین مذہب کرنا بھی اب جرم قرار پایا تھا۔

توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہب سے متعلق جرائم کی سزاؤں کی ابتدا برٹش انڈیا، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو آج پاکستان ہیں، کے نوآبادیاتی دور میں ہوئیں۔ اس کا جواز یہ تھا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تشدد کو روکا جاسکے۔ ان میں سیکشن 295، 296، 297 اور 298 شامل تھے جو 1860 میں متعارف کروائے گئے۔ 295-اے بعد میں 1927 میں شامل کیا گیا تھا۔

فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق (1977-1988) کے مذہبی طور پر قدامت پسند دور میں توہین مذہب کے خلاف اضافی قوانین متعارف کروائے گئے جو خصوصی طور پر اسلام سے متعلق تھے۔ ان میں واضح طور پر احمدی مسلم اقلیت کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سیکشن 295۔بی (1982)، 295۔سی (1986)، 298۔اے (1980)، 298۔ بی اور 298۔ سی (دونوں 1984) میں شامل ہیں۔

آج پاکستان کے پینل قانون میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون سیکشن 295۔اے (مذہبی جذبات ابھارنے، غم و غصہ پھیلانے)، 295۔ بی (قرآن کی بےحرمتی کرنا)، 295۔ سی (پیغمر اسلام کے نام کی بےحرمتی) اور 298 ۔ اے (پیغمبر اسلام کے خاندان، ان کے ساتھیوں یا کسی بھی خلیفہ کی بےحرمتی) ہیں۔ ان میں سے اکثر قوانین کے تحت جب الزام عائد کیا جاتا ہے تو پولیس کو اختیار ہے کہ وہ ملزم کو گرفتار کرسکتی ہے کسی وارنٹ کے بغیر اور اپنی تحقیقات مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم کے بغیر تحقیقات کا آغاز کرسکتی ہے۔

جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں وفاقی شرعی عدالت 1980 میں قائم کی گئی تاکہ وہ 'جائزہ لے سکے اور اس بات کا فیصلہ کرسکے کہ کوئی قانون یا اس کا پہلو اسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں ہے۔' جب تک حکومت سپریم کورٹ کی شریعت ایپلیٹ کورٹ میں کامیاب اپیل نہیں کرتی، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے حتمی ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت نے 1990 می جماعت اسلامی کی ایک درخواست کے جواب میں فیصلہ دیا کہ 295 ۔ سی کے قانون کے تحت سزائے موت لازم ہے۔ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کی مذہبی طور پر قدامت پسند حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی تھی جس سے یہ پاکستان کی تمام عدالتوں میں لازم قرار پائی تھی۔

سعودی عرب

سعودی عرب میں ملک کے قوانین شرعی نظام کے تحت لاگو ہوتے ہیں۔سعودی عرب میں نافذ شرعی قوانین کے تحت توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والا فرد مرتد قرار دیا جاتا ہے جس کی سزا موت مقرر ہے۔2014 میں حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیا قانون جاری کیا جس میں لادینیت کو بھی دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔اس قانون کی دفعہ ایک میں دہشت گردی کی تشریح کرتے ہوئے واضح طور کر کہا گیا ہے ’لادینیت کا کسی بھی شکل میں پرچار کرنا اور اسلام کے بنیادی ارکان جن پر یہ ریاست قائم ہے، ان کے بارے میں سوالات اٹھانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

 

ایران

ایران کا ضابطۂ تعزیرات 2012 میں نئے سرے سے تشکیل دیا گیا تھا جس میں توہین مذہب کے لیے ایک نیا باب بنایا گیا ہے۔ اس نئے باب میں مرتد اور توہین مذہب کرنے والے شخص دونوں کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔نئے ضابطے کی شق 260 میں قانون کے تحت کوئی بھی شخص اگر رسولِ خدا یا کسی اور پیغمبر کی گستاخی کا مرتکب ہو اسے ’سب النبی! تصور کیا جائے گا اور اس کی سزا موت ہوگی۔اسی شق کے مطابق شیعہ فرقے کے 12 اماموں اور پیغمرِ اسلام کی بیٹی کی شان میں توہین کرنے کی بھی سزا موت ہے۔

اس نئے ضابطے میں ایک تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اس میں سے جملہ ’اسلام کی مقدس اقدار کی توہین‘ کو حذف کر دیا گیا ہے البتہ پرانے ضابطۂ تعزیرات کی شق 513 کو ابھی بھی قانونی حیثیت حاصل ہے جس میں یہ جملہ بدستور شامل ہے۔ ان دونوں قوانین میں توہین مذہب کی سزا موت ہے۔ان دو مخصوص قوانین کے علاوہ ایرانی آئین میں توہین مذہب کا جرم صرف ’سب النبی‘ ہی نہیں بلکہ فساد فی الارض کے بھی زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے تحت کوئی مخصوص سزا متعین نہیں ہے۔ البتہ جرم کرنے والے کو سزائے موت اور جیل قید دونوں ہو سکتی ہے۔

 

مصر

مصر کے آئین میں عرب سپرنگ کے بعد 2014 میں ترامیم کی گئیں جن کے بعد اسلام کو ملک کے مرکزی مذہب کا درجہ دیا گیا جبکہ صرف دیگر الہامی مذاہب کو جائز تصور کیا گیا۔مصر کی تعزیرات کے مطابق آئین کے قانون 98-f کے تحت توہین مذہب پر مکمل پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

انڈونیشیا

دنیا کے سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کی ریاست کے سرکاری نظریے کے مطابق صرف 'ایک خدا پر یقین' کیا جا سکتا ہے۔1965 میں سابق صدر سوئیکارنو نے میں ملک کے آئین میں توہین مذہب کے قانون 156-A کے مسودے پر دستخط کیا تھا لیکن اس کا اطلاق 1969 میں صدر سوہارتو کے دور میں ہوا۔اس قانون کے مطابق ملک کے سرکاری مذاہب، اسلام، عیسایئیت، ہندومت، بدھ مت اور کنفیوشنزم سے انحراف کرنا، یا ان مذاہب کی شان میں گستاخی کرنا، دونوں توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے جس کے زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال قید ہے۔

توہین مذہب کے قانون کے مطابق کسی شخص پر مقدمہ درج کرنے سے پہلے تنبیہ کرنا ضروری ہے لیکن اگر وہ شخص دوبارہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ملک میں قانونی طور پر آزادی رائے کی اجازت ہے لیکن مذاہب پر تنقید کی سختی سے ممانعت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لادینیت اور اس کے پرچار پر بھی مکمل پابندی ہے۔صدر سوہارتو کا 32 سالہ اقتدار 1998 میں ختم ہوا جس کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمات کی تعداد میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے 2016 کے اختتام تک 106 افراد پر توہین مذہب کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔

2010 میں ملک کے قوانین کے لیے کیے جانے والے عدالتی جائزے کے مطابق توہین مذہب کے قوانین میں 12 اضافی ترامیم کی تجویز دی گئی تھیں جن کو 2011 میں مذہب کے بل میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن ابھی تک وہ قانون کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

 

ملائیشیا

ملایئشیا کا ضابطہ تعزیرات پاکستان کے طرز پر انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کی شکل میں ہے اور دونوں ممالک میں توہین مذہب کے لیے بنائے گئے قوانین بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔ملائیشیائی قانون کے تحت شق 295, 298 اور 298-A توہین مذہب کے جرائم کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں جن کے مطابق بالترتیب کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کی بےحرمتی کرنا، دانستہ طور پر کسی بھی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے درمیان پھوٹ پڑوانا یا اشتعال دلانا جرم قرار پائے گا جس کے تحت زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور جرمانے کی سزا ملے گی۔اس کے علاوہ ملائیشیا کی ایک عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں غیر مسلم افراد پر ان کی مذہبی کتب میں لفظ 'اللہ' استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔

اس کے علاوہ ستمبر 2015 میں بھی ایک وفاقی عدالت کے حکم کے تحت کوئی بھی مسلمان اگر ایسی کتب شائع کرتے ہوئے پکڑا گیا جس میں مذہبی قوانین کے خلاف مواد ہو، تو اس پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی