صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

چین کے عزائم

0 142

عالمی سیاست و معیشت میں چین تیزی سے ابھر رہا ہے۔ اس نے ایک ایسے ملک کی حیثیت اختیارکرلی ہے، جو امریکا اور یورپ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ابھرتے ہوئے ممالک کا ساتھی اور معاون بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین خود بھی مضبوط تر ہوتا جائے گا اور کئی دوسرے ابھرتے ہوئے ممالک کو بھی ساتھ ملاکر عالمی سیاست و معیشت پر متصرّف ہوتا چلا جائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین نے کوئی طویل المیعاد حکمتِ عملی ترتیب دی ہے؟ چین کے دانشور اس نکتے پر بحث کرنے لگے ہیں کہ آگے چل کر دنیا کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کے حوالے سے چینی قائدین نے کیا سوچ رکھا ہے۔ کئی خطے ہیں جو چین کی طرف سے کسی واضح اشارے کے منتظر ہیں۔ اس معاملے میں افریقا کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔

۲۰۱۱ء میں پیکنگ یونیورسٹی میں اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین وانگ جیسی نے کہا تھا کہ ہر ملک طویل المیعاد بنیاد پر کامیابی سے ہمکنار رہنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپناتا ہے۔ یہ حکمت اس کے مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ تمام ممکنہ خطرات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے ان کا بہتر انداز سے سامنا کرنے اور مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ چین نے ایسی کوئی حکمتِ عملی تیار کی ہے یا نہیں، اس سوال پر بحث ہوسکتی ہے۔ اور یہ کہ چین کی قیادت نے اب تک ایسی کوئی دستاویز طشت از بام نہیں کی ہے جسے چین کی عظیم حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا اور پرکھا جاسکے۔

تب سے اب تک چین نے علاقائی اور عالمی میدان میں بہت کچھ کیا ہے، جس سے اس کے عزائم کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ چینی قیادت کے بیانات اور مباحث سے بھی بہت کچھ کھل کر سامنے آرہا ہے مگر اب تک حکومت کی اعلیٰ ترین سطح سے ایسی کوئی جامع دستاویز پیش نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ چین دو یا تین عشروں میں مجموعی طور پر کیا کرنا چاہتا ہے۔

چینی اسکالر بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو ایسی جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جو مفادات کا تعین کرتی ہو، ملکی سیاست کے تقاضے پورے کرتی ہو اور خارجہ امورکے حوالے سے قیادت کی بھرپور اور بروقت راہ نمائی کرتی ہو۔ بنیادی طور پر، جیسا وانگ جیسی نے بیان کیا، یہ طے کیا جانا ہے کہ چین کی معاشی و عسکری قوت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کس طور ممکن ہے، سفارت کاری کے میدان میں ملک کس طور آگے بڑھے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاست، سفارت، معیشت اور عسکری قوت کے حوالے سے مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ کس طور فراہم کیا جاسکے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کے پیش نظر امریکا کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گا۔ امریکا کو اس پورے معاملے میں کلیدی نکتے کی حیثیت حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا ایک طرف تو چین کا واضح حریف ہے اور دوسری طرف اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ دونوں ممالک اگر عالمی سطح پر بالا دستی کے حوالے سے معرکہ آرائی کریں گے تو معاملات بہت الجھیں گے کیونکہ دونوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے محاذ پر بھی بہت کچھ مشترکہ ہے۔ چین نے امریکا میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ سب کچھ راتوں رات ختم نہیں کیا جاسکتا۔

چائنا یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لا کے اسکالر کائی تُو کہتے ہیں کہ عالمی سیاست و معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق چینی قیادت کے عزائم کے حوالے سے بحث چین کے دانشوروں نے ۲۰۰۵ء میں شروع کردی تھی۔ ان ۱۳برس میں بہت کچھ سوچا اور کہا گیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ چین کے لیے اب اپنے علاقے تک محدود رہنا ممکن نہیں رہا۔ وہ عالمی سیاست، معیشت اور سفارت میں بلند تر مقام اور زیادہ نمایاں کردار چاہتا ہے۔ چین نے عسکری قوت میں اضافے پر توجہ دی ہے۔ یہ سب کچھ بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں وہ تمام ممالک چوکنّے ہوگئے ہیں جنہیں چین کے عزائم سے اپنے مفادات خطرے میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چین کا سب سے بڑا ہتھیار معاشی قوت کا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات نے کئی ممالک کی معیشت کو انتہائی خطرناک صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کے سالانہ جریدے ’’ریویو آف چائناز انٹر نیشنل اسٹریٹجی‘‘ سے بھی چین کی طویل المیعاد حکمتِ عملی کے حوالے سے بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے۔

۲۰۱۳ء میں شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے چین اندرونی اور بیرونی سطح پر بہت سی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ چینی اسکالر طویل المیعاد حکمتِ عملی کے حوالے سے بحث کو وسعت دیں گے۔ اب اچانک چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹیو (بی آر آئی) شروع کیا ہے۔ اس کے تحت نئی شاہراہِ ریشم معرضِ وجود میں لائی جارہی ہے۔ چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) بھی اسی کا حصہ ہے۔ چین کی نئی جامع حکمتِ عملی میں بحری امور کو بھی خاطر خواہ اہمیت دی گئی ہے۔ چین عالمی بحری راہداریوں میں اپنے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں چاہتا۔ اس کی بحری تجارت اس امر کی متقاضی ہے کہ کوئی بھی قوت راستے میں دیوار کھڑی نہ کرے۔

چین کے سامنے سب سے بڑی دیوار امریکا ہے۔ چینی قیادت کو جو کچھ بھی کرنا ہے امریکا کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کرنا ہے۔ چینی قیادت بحری معاملات میں وسیع تر کردار چاہتی ہے۔ چین کی بحریہ بھی علاقائی معاملات سے ہٹ کر بحرہند میں بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ کئی ممالک سے چین کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ان سے تجارتی روابط بھی ہیں اور چینیوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ ان تمام ممالک کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ ابھرنے کی صورت میں چین کو تیار رہنا ہے تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ مصیبت کی گھڑی میں چین ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا، دلچسپی بھی لیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چین اب بحری معاملات میں زیادہ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ وسعت دے کر چین اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر بحری قوت میں اضافے کا پابند ہے۔

چین کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی ترقی کا سفر خاموش رہا ہے۔ اس نے اپنی معاشی قوت میں اضافے کا سفر اس طور جاری رکھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ کے دور میں اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ چین کی معاشی قوت میں غیر معمولی اضافے کے لیے کچھ سوچا جائے، طویل المیعاد حکمتِ عملی تیار کی جائے۔ تب تک چینی معاشرہ بند تھا۔ فولادی پردے بہت حد تک پڑے ہوئے تھے۔ باہر کی دنیا کو چین کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہ تھا۔ ایسے میں لازم تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چینی معاشرے کے دروازے کھولے جائیں۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ کے دور ہی میں چین کو باقی دنیا سے بہتر مراسم کے قابل بنانے کے بارے میں سوچنے کا آغاز ہوا۔ یہ سب کچھ وقت کا تقاضا تھا۔ چین کے لیے باقی دنیا سے زیادہ لاتعلق رہنا ممکن ہی نہ تھا۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں کہ چین نے عشروں کی محنت کے ذریعے اپنے ہاں ہنر مندوں کی ایک فوج تیار کی تھی۔ یہ لوگ مقدر آزمانے کے لیے کہیں بھی جانے کو تیار اور بے تاب تھے۔ اس کے لیے چینی معاشرے کو کو کھولنا لازم تھا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے البتہ اس نکتے پر زور دیا کہ بین الاقوامی معاملات میں زیادہ گرم جوشی دکھانے کے بجائے مرحلہ وار آگے بڑھا جائے تاکہ اندرون ملک کوئی بڑی خرابی پیدا نہ ہو۔ دنیا بھر میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ان کے اثرات چینی معاشرے پر بھی مرتب ہونے لگے تھے۔ لازم تھا کہ لوگوں کی سوچ کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی امور میں کچھ مدت کے لیے low profile کی پالیسی اختیار کی جاتی اور وہ اختیار کی گئی۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں سیاسیات کے استاد اور فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (فلاڈیلفیا) میں سینئر فیلو ایوری گولڈسٹین کہتے ہیں کہ ۱۹۹۰ء کے عشرے کی آمد کے ساتھ ہی چین میں اعلیٰ ترین سطح پر محسوس کیا جانے لگا تھا کہ اب ایک ایسی جامع اور ہمہ گیر حکمتِ عملی تیار کرنا پڑے گی جو اگلے ڈھائی تین عشروں کے حوالے سے اہداف اور مقاصد کا تعین کرے اور اس حوالے سے قوم کو تیار کرنے کی راہ بھی سُجھائے۔ محض معاشی قوت میں اضافے سے ہٹ کر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔ چین جدید ترین علوم کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ ملک میں نوجوانوں کی فوج تیار تھی جو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے بے تاب تھی۔ چین کے ہنر مند پوری دنیا میں پھیل کر زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کمانا چاہتے تھے تاکہ قومی معیشت قابلِ رشک حد تک مستحکم ہو۔

۱۹۹۰ء کے عشرے کی ابتدا نے چین میں اصلاحات کا عمل بھی شروع کیا۔ عوام نے محسوس کیا کہ حکومت انہیں کچھ دینا چاہتی ہے۔ میڈیا پر عائد پابندیوں کو ہلکا کیا گیا۔ لوگوں کو زیادہ کھل کر زندگی بسر کرنے کے قابل بنانے کا عمل شروع کیا گیا۔ دنیا بھر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ سوویت یونین کی تحلیل سے سرد جنگ بھی ختم ہوئی۔ اس جنگ کے ختم ہونے سے مغرب کی بالا دستی کا نیا دور شروع ہوا۔ امریکا واحد سپر پاور تھا۔ یورپ اس کے ساتھ تھا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا میں دونوں نے مل کر معیشت، سیاست اور سفارت کے میدان میں خوب فوائد بٹورے۔ عالمی مالیاتی نظام کو اپنی مٹھی میں کرنے کے بعد امریکا اور یورپ نے دنیا بھر میں اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کیے اور جن ممالک نے بات ماننے سے انکار کیا اُن پر جنگ مسلط کردی گئی۔ مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے پر توجہ دی گئی۔ اس کا ایک مقصد تو اس خطے کو ابھرنے سے روکنا تھا اور ضمنی مقصد چین اور دیگر ابھرتی ہوئی قوتوں کو ایک خاص حد تک رکھنا بھی تھا۔

ایوری گولڈسٹین کہتے ہیں کہ چین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ اس کی ابھرتی ہوئی قوت امریکا اور یورپ کو پریشان نہ کرے اور بھارت کو بھی مشتعل کرنے سے باز رہے۔ وہ بہت خاموشی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ علاقائی ممالک میں سرمایا کاری بڑھانے کے حوالے سے اس نے غیر معمولی احتیاط سے کام لیا۔ چینی قیادت جانتی تھی کہ اگر ملک تیزی سے آگے بڑھے گا تو امریکا اور یورپ ملک کر علاقائی اور عالمی دونوں ہی سطح پر مشکلات پیدا کریں گے۔ بھارت جنوبی ایشیا میں چین کا سب سے بڑا حریف رہا ہے۔ چین کے عزائم بھانپنے کی صورت میں بھارتی قیادت کے بدکنے کا بھی خطرہ تھا۔ چین کے لیے لازم تھا کہ ایسا کوئی اشارا نہ دے جس سے کسی بھی ملک کو خطرات محسوس ہوں۔ چینی قیادت کے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج تھا۔

سنگہوا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل اسٹریٹجک اینڈ ڈیویلپمنٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور CSCAP چائنا نیشنل کمیٹی کے رکن چُو شُو لونگ کہتے ہیں کہ ۱۹۹۷ء میں چینی قیادت نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئی سوچ اپنائی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بحیرۂ جنوبی چین اور اس سے ملحق سمندر میں من مانی کرنے سے روکنے کے لیے نئی سیکیورٹی ڈاکٹرائن کا اپنانا لازم تھا۔ چین کو ایشیا و بحرالکاہل کے لیے ایسا سیکیورٹی کا نظام درکار تھا جو ایک طویل مدت تک کارگر ثابت ہو اور کسی بھی بڑی طاقت کے اثرات سے محفوظ ہو۔

اب تک الگ تھلگ رہنے والے چین نے حالات کے تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے پڑوسیوں سے روابط بہتر بنانا شروع کیے، ایسا کرنا لازم تھا۔ سب سے پہلے اس نے علاقائی سطح پر روابط بہتر بنائے تاکہ آگے چل کر یہی ممالک اس کے بلند تر عزائم سے نہ صرف یہ کہ خوفزدہ نہ ہوں بلکہ اِس کا ساتھ بھی دیں۔ ایک طرف تو چینی قیادت نے جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کی تنظیم آسیان سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دی اور دوسری طرف شنگھائی تعاون تنظیم قائم کرکے علاقائی سطح پر وسیع تر اشتراکِ عمل کی راہ ہموار کی۔ شمالی کوریا کے پیدا کردہ جوہری بحران سے نمٹنے کے لیے چھ فریقی مذاکرات میں بھی چین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اکیسویں صدی میں چین نے اب تک معاملات کو بخوبی چلایا ہے اور قدم قدم پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ چین نے علاقائی سطح پر روابط مستحکم ہوجانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس نے بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور گروپوں میں بھی اپنی موجودگی یقینی بنانے پر خوب توجہ دی ہے۔ ۲۰۰۲ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل جیانگ ژی من نے کہا تھا کہ چین کو اب اپنی حدود سے نکل کر دوسروں کو اپنانا ہوگا اور انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ ہر جگہ موجود ہے۔

چین کے تیزی سے ابھرنے پر دنیا بھر میں پائے جانے والے معاندانہ عزائم اور تشویش کے سدباب کے لیے ۲۰۰۳ء میں وزیراعظم ہو جن تاؤ کے دور میں چین نے ’’پیس فل رائز‘‘ کا نظریہ پیش کیا، جس کا مقصد دنیا کو بتانا تھا کہ چین اگر ابھر رہا ہے تو اس میں کسی کے لیے پریشانی کا سامان نہیں۔ وہ امن پسند ہے اور امن پسند رہے گا۔ کچھ مدت بعد ہو جن تاؤ نے اس تھیم کو مزید نرم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ چین دنیا بھر میں پرامن ترقی کا خواہاں ہے۔

چین کے قومی مفادات پر نظر رکھنے والے ماہرین کائی توؤ اور مین ہونگ وا کہتے ہیں کہ چینی قیادت کو ایسی جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے، جو قومی مفادات کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہو اور بہبودِ عامہ کو اولیت دیتی ہو۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں اس نکتے پر زور دیا ہے کہ چینی قیادت کو ہر معاملے میں قومی مفادات تمام امور پر مقدم رکھنا ہوں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کی جامع حکمت عملی میں یہی سب سے اہم نکتہ ہوا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ چینی معاشرے کی ثقافتی اقدار کے تحفظ پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ چین کی بنیادی اقدار ترقی کی نذر نہیں ہونی چاہییں۔

ایک زمانے تک چین بند معیشت کا علم بردار تھا، پھر زمانہ بدلا۔ عالمی حالات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے چین کو تحریک دی کہ وہ بھی کھلے بازار کی معیشت کی طرف آئے۔ اس کے نتیجے میں ۱۹۹۰ء میں معاشی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ اور یوں چین نے ’’اوپن مارکیٹ‘‘ میں کام شروع کیا۔ تب سے چین کی معیشت غیر معمولی رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

چین جس نوعیت کا معاشرہ ہے اس میں کوئی ایسی جامع تر حکمت عملی تیار کرنا انتہائی دشوار ہے، جس میں قومی مفادات اور اقدار کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہو۔ چین میں سیاسی دانشور مختلف معاملات میں غیر معمولی اختلافات کے حامل رہے ہیں۔ ایسے میں متفقہ جامع حکمت عملی تیار کرنا دردِ سر سے کم نہیں۔ ہو جن تاؤ کی کوششوں کے باوجود اختلافات دور کرنے میں دس بارہ سال لگے ہیں۔ چین کے عزائم کے حوالے سے دنیا بھر میں پائے جانے والے خدشات دور کرنے کے سلسلے میں جو کچھ بھی کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے واضح، جامع حکمت عملی ناگزیر ہے، مگر یہ سب کچھ ایسا نہیں کہ سوچیں اور ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ چینی قیادت اس حوالے سے بہت کام کرتی رہی ہے اور مشکلات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرتی آئی ہے۔ چین چونکہ ایک بند معاشرہ تھا اور باقی دنیا اس کی طرف شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی اس لیے کھلنا اور تیزی سے دنیا کی طرف بڑھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کئی خطے چین کے عزائم کے حوالے سے فکر مند رہا کرتے تھے۔ چینی قیادت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ عزائم سے متعلق خدشات کو دور کرنا تھا۔

چینی دانشوروں نے مل کر جو جامع حکمت عملی تجویز کی ہے، اس کی بنیاد چار نکات پر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ نکتہ ہے کہ چین کو اپنی سلامتی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ سفارت کاری کسی نہ کسی ایشو کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ چین کی تیز رفتار ترقی سے معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو کسی طور نظر انداز نہ کیا جائے اور چوتھا نکتہ یہ ہے کہ چین کی بنیادی اقدار یعنی ’’سوفٹ پاور‘‘ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔

جب سے شی جن پنگ نے اقتدار سنبھالا ہے، چین نے ان چارنکات پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ جامع حکمت عملی ہر اعتبار سے جامع اور متوازن دکھائی دے۔ یعنی کسی بھی ملک یا خطے کو چین کے عزائم کے حوالے سے پریشان ہونے کا موقع نہ ملے۔ چینی قیادت چاہتی ہے کہ دنیا بھر میں ترقیات کا جال پھیلائے اور اس حوالے سے وہ سوفٹ پاور سے مدد لے رہی ہے۔ عسکری مہم جوئی سے گریز کرتے ہوئے اس نے اب تک وہ تمام کوششیں کی ہیں، جو معیشت کے محاذ پر کی جاسکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجہ پالیسی کے میدان میں چینی قیادت اب قدرے سخت گیر موقف کی حامل دکھائی دیتی ہے۔ مگر خیر یہ تبدیلی تو رونما ہونی ہی تھی کیونکہ چین کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مفادات غیر معمولی حجم کے ہیں۔ دنیا بھر میں اس نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ایسے میں یہ کیونکر سوچا جاسکتا ہے کہ چینی قیادت خارجہ پالیسی کے میدان میں اپنے لیے پریشانی کی کوئی گنجائش چھوڑے گی؟

چین اپنے ماضی سے ہٹ کر جینا نہیں چاہتا۔ شی جن پنگ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’چینی خواب‘‘ ماضی کی عظیم اقدار سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں اور یہ کہ چینی قیادت شاندار ماضی کو نئی زندگی دینے کی کوشش میں مصروف رہے گی۔ عالمی سطح پر ابھرنا چین کے لیے نئی بات نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب چین عالمی طاقت تھا۔ چینی قیادت اس بات کو نظر انداز نہیں کرتی۔ وہ اب بھرپور ترقی کے ساتھ ساتھ شاندار ماضی کے احیا پر بھی متوجہ ہے۔ چینی معاشرے کی بنیادی اقدار شاندار رہی ہیں۔ عمومی رہن سہن متوازن ہے۔ اخلاقی بگاڑ بہت کم ہے۔ ایسے میں چینی قیادت چاہے گی کہ دنیا کو بتائے کہ اس کا معاشرہ شاندار تھا اور ہے۔ یعنی کسی کو خواہ مخواہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

شی جن پنگ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ چین کو معاشی اور عسکری حکمت عملی ایک پلیٹ فارم پر رکھنی چاہیے۔ اس معاملے میں دکھائی دینے والی دوئی معاملات کو خراب کیے بغیر نہیں رہے گی۔ وہ چاہتے ہیں کہ چین عسکری سطح پر ایسی حکمتِ عملی اپنائے جو اس کی غیر معمولی معاشی ترقی کے لیے معاون ثابت ہو۔ چین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ امریکا اور جاپان سے نمٹنے کا ہے۔ دونوں طاقتیں چین کے تیزی سے ابھرنے سے پریشان ہیں اور اس ابھار کو روکنے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔ امریکا اس معاملے میں زیادہ جارح ثابت ہوا ہے۔ جاپانی حکومت بھی چین کے عزائم سے پریشان ہے، مگر اس نے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا جس سے اندازہ ہو کہ وہ بدحواسی میں مبتلا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ چینی عزائم سے بے حد پریشان ہیں اور کسی نہ کسی طرح کامیابی کے اس سفر کو روکنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے کئی بیرونی دورے چین کے حوالے سے خوف یا بدحواسی کا مظہر ثابت ہوئے ہیں۔ امریکی قیادت بہت حد تک توازن سے محروم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

شی جن پنگ اس نکتے پر زور دیتے آئے ہیں کہ عالمی سطح پر بڑے منصوبے شروع کرنے سے قبل چین کو اندرونی طور پر اس قدر مستحکم ہوجانا چاہیے کہ کوئی بھی بڑی تبدیلی معاشرے اور معیشت کو ہلا نہ سکے۔ ون بیلٹ ون روڈ، اے آئی آئی بی اور سی پیک جیسے منصوبوں کے شروع کیے جانے سے قبل چین کے لیے لازم تھا کہ اندرونی استحکام قابل رشک بنایا جاتا۔ اس منزل سے گزرنے کے بعد ہی چینی قیادت گھر سے باہر دیکھنے پر آمادہ ہوئی۔ چینی قیادت کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ مغرب کا سانس پھول چکا ہے۔ وہ ترقی کی دوڑ میں اپنا بہت کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ اس پر تھکن سوار ہے۔ مغرب کی تھکن کے نتیجے میں بدنظمی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ چین اس صورتحال سے اسی وقت مستفید ہوسکتا ہے جب وہ اندرونی سطح پر غیر معمولی حد تک مضبوط اور متوازن ہو۔

بہت سی چھوٹی چھوٹی حکمت عملیوں کے مقابلے میں کسی ایک جامع حکمت عملی کو اولیت دی جائے؟ یہ بنیادی سوال ہے جس کا چین کو سامنا ہے۔ چین کے لیے لازم ہوگیا ہے کہ آگے بڑھ کر کوئی ایک جامع اور ہمہ گیر نوعیت کی حکمتِ عملی اپنائے۔ ایسا کرنے سے وہ اپنی طاقت کو کسی خاص سمت موڑ کر مطلوبہ نتائج زیادہ تیزی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ چینی قیادت بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ کوئی جامع حکمت عملی اپنائے بغیر وہ ترقی کی دوڑ میں خود کو شریک رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے گی۔ معیشت کو مضبوط رکھنے کے لیے فوج کو مضبوط رکھنا لازم ہے۔ فوج کو مضبوط رکھنے کے لیے معاشرے کو مضبوط رکھنا لازم ہے۔ معاشرے کا استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔ یعنی تمام معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کوئی جامع حکمت عملی ہی بہتر زندگی کی راہ ہموار کرسکے گی۔

چین کے لیے ایک بڑا مسئلہ خطے میں اور خطے سے باہر بھی مختلف مقامات پر امریکا کی موجودگی ہے۔ امریکا اپنے مفادات کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ایسے میں چینی قیادت کے لیے لازم ہوگیا ہے کہ تمام معاملات کو باریکی سے دیکھے، ان کا بھرپور تجزیہ کرے اور ایسی جامع حکمت عملی تشکیل دے، جس کی بنیاد پر طویل المیعاد ترقی اور پیش رفت یقینی بنائے رکھنا ممکن ہو۔ چین نے اب تک امریکا سے کسی بھی علاقائی و عالمی معاملے پر ٹکرانے سے گریز ہی کیا ہے۔ دوسری طرف امریکی قیادت بھی سمجھتی ہے کہ اس مرحلے پر چین سے ٹکرانا اس کے لیے زیادہ فائدے کا سودا نہیں۔ امریکی فوج پر دباؤ غیر معمولی ہے۔ وہ کئی مقامات پر الجھی ہوئی ہے۔ ایسے میں کوئی ایک غلطی کئی خرابیوں کو راہ دے گی۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

  1. ماخذ : معارف فیچر
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی