صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

بین المذاہب مکالمہ

Religion confusion
0 1,410

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اہل کتاب سے تعامل بڑھ گیا ہے۔ ہم ان کی طرف سے فکری یلغار کا بھی شکار ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اہل کتاب سے مکالمہ کے لیے اصول مرتب ہونا ایک نہایت سنجیدہ اور گہرائی سے مرتب کیا جانے والا مسئلہ بن جاتا ہے۔مذاہب کے درمیان مکالمے کا اصطلاحی اور جدید مفہوم اپنے اندر خاصی الجھنیں رکھتا ہے۔ موقع و محل کے لحاظ سے مذاہب کے درمیان مکالمہ مختلف صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے جب تک مکالمے کا صحیح اور غیر صحیح مفہوم واضح نہ کر دیا جائے تو اُس وقت تک بین المذاہب مکالمے کی اصطلاح سے کوئی کارآمد نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔

اسلام کے نقطہ نظر دوسرے مذاہب کے ساتھ گفتگو از حد ضروری قرار پاتی ہے لیکن اپنے مفہوم کے ساتھ تاکہ مخاطب کو اسلام کے عقائد، تصورات، آداب اور شریعت سے آگاہ کیا جاسکے۔ اسلام میں مکالمہ دعوت کے باب سے ہے جس میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بالعموم اور اہل کتاب کو بالخصوص اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ پوری انسانیت کو اللہ کی طرف بلانا اسلام کی دعوت ہے اور حق پر لوگوں کو اطمینان دلانا شریعت کے فرائض میں سے اہم فریضہ ہے۔

انبیاء کرام ؑ مکالمے کے ذریعے ہی اپنی قوم کو دین حق کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ لیکن مکالمے کی یہ صورت وہ صحیح صورت تھی جس کی آج بھی ضرورت ہے۔ انبیاء کرامؑ مکالمہ کے لیے طرح طرح کے اسلوب اختیار کرتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس مکالمے کے لیے نہایت ٹھوس بنیادیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کا دین ربانی دین ہے۔ ایسا دین جو نہ صرف انسان کی تعقل پسندی کے ساتھ نباہ کر لیتا ہے بلکہ اس کے وجدان کے لیے اطمینان کی جگہ بھی یہی دین ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ) ’’
ترجمہ: کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اور با خبر ہے۔‘‘

ہمارے زمانے میں البتہ بین المذاہب مکالمہ ایک نہایت پیچیدہ مبحث کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں باطل افکار کی آمیزش بھی ہے اور انصاف پسندی کے علاوہ دوسرے مقاصد بھی ہیں۔ بین المذاہب مکالمہ سے فی زمانہ صحیح مفہوم نکالنا امر دشوار ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اس رویے کو درست نہیں کہہ سکتے کہ مکالمے کا بہ غرض باطل استعمال اس کے صحیح استعمال میں مانع ہے۔ درست منہج یہ ہے کہ مکالمے کے عمل سے باطل عنصر کو نکال دیا جائے اور اس کا صحیح معنی رائج کیا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اسلام نے مکالمے کو ہی ذریعہ بنایا ہے۔
مکالمے کے شرعی مفہوم کے عام نہ ہونے کی وجہ سے ہی مکالمے میں ہمارے لیے اشکالات پیدا ہوئے ہیں۔ اگر مکالمے کا شرعی مفہوم واضح ہو جائے تو پھر اس اصطلاح کے باطل استعمال سے ہم چوکنا رہیں گے۔
عالم اسلام میں اس وقت جو ادارے اور مراکز ’بین المذاہب مکالمے‘ میں شریک ہوتے ہیں انہوں نے مکالمے کا غیر شرعی اسلوب اختیار کیا ہوا ہے اور کوئی ایک بھی قابل ذکر ادارہ ایسا نہیں جسے استثناء ہو۔ اس کے متعدد اسباب ہیں:

  • بین المذاہب مکالمہ‘ کی ابتداء نصاریٰ نے کی ہے مسلمانوں نے نہیں کی۔ عیسائی اداروں کا اس عنوان کے تحت حق کے لیے دلائل کو زیر بحث لانا مقصد ہی نہیں ہے۔ نصاریٰ نے مذاہب کے درمیان مکالمہ اپنے خاص اہداف کے لیے شروع کیا ہے نہ کہ سچائی کی تلاش کے لیے۔ ’بین المذاہب مکالمہ‘ کی ساری سرگرمیوں کا محور اس وقت ایسے مشترکہ مقاصد اور مفادات کو زیر بحث لانا بن گیا ہے جو ہمیشہ سے ہی قوموں کے درمیان دنیاوی اغراض کے لیے مشترک رہے ہیں۔

مذاہب دراصل دنیاوی امور سے بحث نہیں کیا کرتے بلکہ مذہب کا موضوع ایمان ہے جس کا جدید ’بین المذاہب مکالمہ‘ کے پلیٹ فارم پر کوئی تذکرہ نہیں ہوتا ، نیز آخرت کو زیر بحث لانا بھی مذاہب کا بنیادی ترین موضوع رہا ہے۔ یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام میں دنیا اور آخرت کی ایسی تقسیم نہیں ہے جیسی دوسرے اقوام عالم کے مذاہب میں پائی جاتی ہے بلکہ اسلام دنیا و آخرت دونوں کو شامل ہے۔ اسی طرح اسلام ،ایمان اور عمل دونوں کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور تمام انسانی رویوں کو اپنا موضوع بناتا ہے۔
اسلام میں مکالمے کا شرعی مفہوم بیان کرنے سے پہلے میں چاہوں گا کہ کفار کے ساتھ مکالمہ کی دو جوانب واضح کر دی جائیں اور ان کا فرق بھی:

  • خالص دنیاوی معاملات پر گفتگو کرنا جو کہ دراصل سیاست کا موضوع ہے اور جسے شریعت کی اصطلاح میں ’سیاسیہ شرعیہ‘ کہتے ہیں۔ دنیاوی معاملات میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے جو ملاقاتیں کی جاتی ہیں اس کے لیے ’’مذاکرات‘‘ کی اصطلاح رائج ہے مکالمہ کی نہیں۔ یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ’ سیاسیہ شرعیہ‘ کے باب میں اگر کبھی کسی چیز سے دست برداری پائی جاتی ہے تو اس سے یہ مفہوم اخذ کرنا غلط ہو گا کہ عقائد اور ایمانیات بھی دنیاوی مفادات کی طرح ہوتے ہیں جس سے وقتی طور پر دست بردار ہونے سے بڑا فرق نہیں پڑتا۔ علاوہ ازیں اگر دنیاوی معاملات ایسے خلط ملط ہو جائیں کہ اس سے فکر میں ہم آہنگی لازم آتی ہو یا دینی امور میں سے کسی سے دست برداری یا اس کے مفہوم میں تبدیلی لازم آتی ہو تو ایسے سیاسی مذاکرات خالص دنیاوی نہ رہے بلکہ اب ان میں دین کے عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں اس لیے ایسے معاملات پھر ’مکالمے‘ کے تحت زیر بحث لائیں جائیں نہ کہ ’سیاسہ شرعیہ‘ کے عنوان سے۔

 

  • دینی امور میں مکالمہ: اس میں دین کے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ جیسے عقائد اور دوسرے دینی امور جو کہ بیحد متضاد اور ایک دوسرے کے مخالف ہیں جیسے عقیدہ توحید، ایمان اور مرنے کے بعد جی اٹھنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا وغیرہ۔ دینی مباحث میں خالص دنیاوی امور اگر بین المذاہب مکالمہ میں گھسیڑ دیے جائیں اور یہ تاثر قائم کیا جائے کہ شرکاء میں مذاہب کے موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں تو اس سے بڑھ کر خلط مبحث اور کیا ہو سکتا ہے۔ خالص دنیاوی امور پر تبادلہ خیال کو اگر بین المذاہب مکالمہ سے تعبیر کرنا ہو تو پھر سیاسی مذاکرات اور مکالمہ ایک دوسرے کے مترادف ہوئے پھر اس کے لیے الگ سے اصطلاح بنانا اور ملکوں کے درمیان سیاست بازی سے اس طرز عمل کو الگ بنانا نری دھونس ہے۔ ’بین المذاہب مکالمہ‘ پر جو ایک قسم کی تشویش اور شبہات پائے جاتے ہیں تو وہ اسی وجہ سے ہیں کہ اس پلیٹ فارم پر مذہب کے مسائل زیر بحث لائے ہی نہیں جاتے۔ صورت حال کچھ یوں بنتی ہے کہ طرفین یا کئی مذاہب کی مذہبی شخصیات خالص دنیاوی امور پر گفت و شنید کرتی ہیں اور اسے کہا جاتا ہے ’بین المذاہب مکالمہ‘۔ شاید اس لیے کہ یہ ملاقاتیں سیاست دانوں کی بجائے دینی شخصیات کے مابین ہوتی ہیں!

تاہم یہ جان لینا ضروری ہے کہ مذکورہ بالا خلط مبحث مغرب کے نزدیک بذات خود مطلوب ہے تاکہ :

(الف) ایک فریق جو زیادہ چالاک ہے اور بڑی سوچ بچار کے بعد دوسرے فریق کو یہاں لایا ہے وہ اس قسم کے مذاکرات سے اپنا دینی مقصد حاصل کرلے۔ یہ چالاکی استعماری ممالک اور کیتھولک چرچ پوری ہوشیاری سے اپنے سیاسی اور دینی مقاصد کے لیے دکھاتے ہیں۔

(ب) دوسرا فریق سادہ لوحی سے یہ سمجھ کر ایسے مذاکرات میں شریک ہوتا ہے کہ اس سے وہ اپنی امت کے لیے کوئی مصلحت حاصل کر لے گا۔ حسن نیت رکھنے والا یہ فریق عالم اسلام کی مذہبی شخصیات ہیں جو انسانوں کے درمیان مشترک اصول پر بات چیت کرکے یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس سے عالم اسلام کے مسلمانوں کو بھی بہرالحال فائدہ پہنچے گا۔ اور وہ اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ امت کے لیے خیر لانے میں وہ دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔

 

اہل کتاب سے مکالمے کے شرعی ضوابط:
اہل کتاب سے مکالمے کا شرعی اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ انہیں خدا کے دین کی طرف دعوت دی جائے۔ حق کو دلائل اور براہین سے واضح کیا جائے اور اسی طرح باطل کا دلیلوں سے بطلان کیا جائے۔ اس اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے
اللہ تعالیٰ سورت فصلت میں فرماتا ہے:( وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَی اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ)’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کی کی ہو گی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقینامسلمانوں میں سے ہوں‘‘(فصلت:۳۳)
سورت یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(قُلْ ہَذِہِ سَبِیْلِیْ أَدْعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیْرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحَانَ اللّہِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ) ’’آپ کہہ دیجیے میری راہ یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں‘‘ (یوسف:۱۰۸)
رسولوں کو جو دعوت سونپ کر میدان کارزار میں اتارا جاتا تھا تو شریعتوں کے مختلف ہونے کے باوجود تمام انبیاء کرام اور رسولوں کی مشترکہ دعوت کا عنوان یہی تھا کہ خدا کے دین کی طرف دعوت دینا اور باطل کا بطلان کرنا۔ ہر نبی کی دعوت کا عنوان یہ تھا
: (اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرُہُ)’’تم اللہ کی عبادت کرواُس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں‘‘(اعراف: ۵۹)
تمام انبیاء کی دعوت کا اگر استقراء کیا جائے تو سبھی کی دعوت کا عنوان خدا کی طرف پکارنا اور باطل کا بطلان کرنا ہی ثابت ہو گا۔ اسی دعوت کی طرف انبیاء اور رسل اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔ انبیاء کی دعوت میں آپ کو شائبہ تک نہ ملے گا کہ مختلف ادیان کے مشترکہ نقاط کی دعوت اُن کے پیش نظر رہی ہو۔ مشترکہ اہداف کے لیے سعی کرنا اور مخالف نقاط سے پرہیز کرنا ایسا کوئی اندیشہ آپ کو انبیاء کی دعوت میں نظر نہیں آئے گا خصوصاً عقائد اور تصورات کی بابت چپ سادھے رکھنا جو آج کل ادیان کے درمیان مکالمے کا نمایاں ترین بلکہ واحد مقصد رہ گیا ہے، یہ منہج انبیاء کی دعوت سے کوسوں دور ہے۔
سورت کافرون اس پر واضح ترین دلالت کرتی ہے،(قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ)کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے نبی علیہ السلام کے ایک ہی نقطے پر اصرار کی وجہ سے تنگ آکر کہا کہ ایسا کر لیتے ہیں کہ’ ھَلَمَّ فَلنَعبُد مَا تَعبُدُ فتَعبُدُما نَعبُدُ‘(صاحب زادے)ایسا کر لیتے ہیں ہم عبادت کر لیتے ہیں (اُس کی) جس کی تم عبادت کرتے ہو، اور آپ (سے بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ تم) بھی اُس کی عبادت کر لیا کرو جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔
انبیاء کے منہج میں مشترکہ نقاط کے ملغوبے کی طرف دعوت دینا قطعاً نہیں پایا جاتا، ادیان کے درمیان وحدت پیدا کرنا تو دور کی بات ہے۔ انبیاء اپنے دین کی طرف پوری شدت سے دعوت دیتے تھے اور پورے زور سے مخالفین کا رد بھی دلائل و براہین قاطعہ سے کرتے تھے۔ اگلی سطور میں ہم اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کا قرآنی منہج قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔
فی زمانہ اہل کتاب سے ہمارا واسطہ پڑا ہے اور اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ مکالمے کے لیے منہج وضع کیا جائے اور مجھے قرآن مجید اور سنت نبوی کے طریقہ تخاطب کو چھوڑ کر کسی اور منہج کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ گو کہ قرآن مجید میں تمام ہی منکرین اسلام کے ساتھ مکالمہ کیا گیا ہے لیکن اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کی طرف قرآن میں خصوصی طور پر توجہ دی گئی ہے۔ اہل کتاب کو دعوت دینے کے چار مراحل کتاب و سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ یہی چار مراحل باقی ادیان کے پیرو کاروں کے لیے بھی ہیں اس لیے کہ اسلام کی عمومی دعوت ہر دو کو شامل ہے۔
پہلا مرحلہ اہل کتاب کو اسلام کی طرف دعوت دینے کا ہے۔
سورت آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْہَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ) ’’
اے نبی، کہو،اے اہل کتاب، او ایک ایسی انصاف والی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اورنہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کوہی رب بنا لیں۔ اِس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو کہ (ہم صرف خدا کے) مسلم(فرماں بردار) ہیں‘‘(آل عمران:۶۴)
اس آیت کو ہمارے مضمون کے لحاظ سے ’نص‘ کہا جا سکتا ہے۔ ہر وہ شخص جو اہل کتاب سے مکالمہ کرنا چاہتا ہے اُس کے لیے جائز نہیں کہ جتنا لحاظ ملاحظہ مذکورہ آیت میں رکھا گیا ہے اُس سے زیادہ لچک اپنی دعوت میں پیدا ہونے دے۔ اُس کے لیے لازمی ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کے لیے اللہ کے حکم سے عُدول نہ کرے۔
یہ آیت مبارک نبی علیہ السلام کے اُس مراسلے میں تحریر کی گئی تھی جو شاہ روم ھرقل کو بھیجا گیا تھا۔ اس مراسلے (مکالمے) میں واضح طور پر اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ دونوں ادیان کے مشترکہ پہلووں کی طرف دعوت نہیں دی گئی ہے۔ مراسلے کی پیشانی پر آپ علیہ السلام نے یہ تحریر ثبت فرمائی:
منجانب محمد، اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول، روم کے بڑے ھرقل کی طرف۔
سلام ہو ہر اُس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔
امّا بعد: میں تمہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دے رہا ہوں یہی نجات کی ضمانت ہے۔ اللہ کی طرف سے یہ تمہارے لیے دہرے اجر کا بھی موجب ہو گا۔ اگر تم روگردانی کرتے ہو تو تم پر وبال ہو گا (تمہارے) سبھی کھیتی باڑی کرنے والی(رعایا) کا (بھی)۔ یہ تحریر لکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے مذکورہ آیات کی قرات کی (تاکہ اس آیت کو مکتوب میں ثبت کیا جائے)۔
مذکورہ آیت کو معاصر زمانے کی اصطلاح میں ’وفاقی طرز معاشرت‘ پر مبنی معاہدہ عمرانی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس مکالمے میں جس چیز کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اُس کا بیان نہایت جلی اور دو ٹوک ہے کہ عبادت کو تمام دوسرے معبودوں سے پھیر کر اکیلے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے خالص کر لیا جائے، شرک کی ساری صورتوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ مذکورہ آیت میں لفظ ’سواء‘ کی تفسیر میں صحابہ کرامؓ اور اُن کے بعد کے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ۔ بنا بریں اہل کتاب کے ساتھ مکالمے میں دعوتی اسلوب کا شرعی منہج کا جو سب سے نمایاں اور واضح ترین عنوان ہے وہ ہے اللہ کے لیے توحید کو خالص کرنا اور شرک کا ابطال کرنا۔ اس عنوان کو تین زاویوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک اللہ کی توحید اور شرک کا ابطال ۔ دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار اور ان کے لائے ہوئے دین کو اختیار کرنا اور تیسرا ’غلو‘ سے اجتناب کرنا۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے لیے عیسائیت میں جو الوہیت کا تصور پایا جاتا ہے تو یہ نبی کے منصب میں ’غلو‘ ہے جس سے رسول بشریت سے نکل کر الوہیت کے مرتبہ پر خدا کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔
سورت نساء میں تثلیث کے عقیدے کا بطلان ان الفاظ میں مذکور ہے:
اے اہل کتاب، اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجااور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے۔ تو خدا اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور یہ نہ کہو کہ( خدا )تین ہیں۔ باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اُس کے بچہ ہو۔ جو کچھ آسمان میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔ اور خدا ہی کار ساز کافی ہے۔ ‘‘(سورت نساء : ۱۷۱)
 ( یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ إِلاَّ الْحَقِّ إِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِّنْہُ فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَلاَ تَقُولُواْ ثَلاَثَۃٌ انتَہُواْ خَیْْراً لَّکُمْ إِنَّمَا اللّہُ إِلَہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ أَن یَکُونَ لَہُ وَلَدٌ لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَات وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَفَی بِاللّہِ وَکِیْلاً) ’’
مکالمے کا اسلوب
اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کا ایک ہی اسلوب نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کا خوب اہتمام کیا گیا ہے کہ جس سے کلام کیا جا رہا ہے اُس کی خصوصیات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں مختلف لوگوں کے لیے مختلف اسلوب اختیار ہوئے ہے:
(الف) بغیر تمہید کے اسلام کی طرف دعوت دینا اور شرک کا ابطال کرنا۔ اس کی مثال مذکورہ بالا آیت میں گزر چکی ہے۔
(ب) تذکیری اسلوب جیسے سورت بقرۃ کی آیت ۴۷ میں بیان ہوا ہے:(یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ اذْکُرُواْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِیْنَ) ’’اے بنی اسرائیل،میری اثس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔‘‘
(ج) خوشخبری اور ڈراوے والا اسلوب جیسے سورت مائدہ میں مذکور ہوا ہے:
( وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ آمَنُواْ وَاتَّقَوْاْ لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّءَاتِہِمْ وَلأدْخَلْنَاہُمْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ(65) وَلَوْ أَنَّہُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْہِم مِّن رَّبِّہِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِہِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِہِم مِّنْہُمْ أُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ سَاء مَا یَعْمَلُونَ)’’اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی تمام برائیاں معاف فرما دیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے ۔ اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں۔‘‘ (سورت مائدہ:۶۵،۶۶)
(د) اسلوب انکار جیسے( یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ)’’اے اہل کتاب تم (باوجود قائل ہونے کے پھر بھی) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟ اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو ؟‘‘(آل عمران: ۷۱)
سیرت طیبہ میں اہل کتاب کے ساتھ خصوصاً اور دوسرے ادیان کے پیروکاروں کے ساتھ عموماً دعوت کے لیے آپ علیہ السلام نے مختلف قسم کے طریقے اختیار کیے:
(الف) جنہیں اسلام کی دعوت دینا ہو اُن کے پاس خود چل کر ان کے مقام پر جانا جیسے بازار میں، ان کے گھروں میں ملاقاتوں میں یا بیٹھکوں میں خود چل کر جانا۔
(ب) انہیں دارالسلام کی طرف بلانا ۔
(ج) قبائلی زعماء یا سرداروں کو خطوط لکھنا۔
(د) جو کفار کے وفود آپ علیہ السلام کی ملاقات کو آتے تھے ان کا استقبال کرنا۔
(ھ) جہاد کے دوران میں انہیں دعوت دینا۔
(و) ان کی اپنی کتابوں سے اسلام کے حق میں دلائل لانا۔
(ز) قرآن مجید کی تلاوت سے انہیں دعوت دینا۔
اہل کتاب کے ساتھ دوسرا اسلوب ہے مناظرے اور دلائل سے حق کا اظہار۔ اس کے دو طریقے ہیں:
(الف) قطعی دلائل سے حق کی صداقت ثابت کرنا۔
(ب) حق قبول کرنے میں جو شبہات ہو سکتے تھے ان کا ازالہ کرنا۔
یہ درست ہے کہ قرآن مجید میں مناظرے اور جدال کے اسلوب سے ممانعت آئی ہے لیکن یہ ممانعت کسی خاص مناسبت سے ہے۔ دیگر آیات میں مناظرے اور جدال کا حکم مکرر مذکور ہوا ہے جیسے( ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ)’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے۔ ‘‘( النحل: ۱۲۵) ممانعت والی اور جدال کے امر والی آیات کو جمع کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ ممانعت ایسے مناظرے سے ہے جو باطل کے لیے ہو اور حکم ایسے مناظرے کے لیے ہے جس سے حق ثابت ہوتا ہو، جو لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوتے وہ دو طرح سے ہوتے ہیں: ایک صنف وہ ہے جو حق کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہے لیکن ان کا کہیں اطمینان نہیں ہو رہا ہوتا۔ ایسے لوگوں کے لیے دلائل دینے میں نرمی اور حسن سلوک سے کام لینا قرآن کا منشا ہے۔ دوسری قسم کے لوگ معاند اور حق کے دشمن ہوتے ہیں ایسے لوگوں سے مناظرہ کرنا اور دلائل فراہم کرتے چلے جانا درست نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے ساتھ قتال کیا جاتا ہے۔
مکالمے کا منہج
دوسرے ادیان کے ماننے والوں کے ساتھ مکالمے کے لیے درج ذیل منہج کتاب و سنت سے ملتا ہے:
(۱)کفار چونکہ وحی کے منکر ہوتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ عقل عام کے ذریعے حق کا بیان کیا جائے۔ قرآن مجید عقل عام کو اسلام قبول کرنے کے لیے متاثر کرنے والے بیشمار دلائل فراہم کرتا ہے خصوصاً عقائد اور تصورات کو توحید پر لانے کے لیے قرآن میں عقلی دلائل پوری طرح موجود ہیں۔ اُس کی وجی یہ ہے کہ قرآن جیسا کلام کوئی مرتب کرکے نہیں دکھاسکتا۔ عقل عام کو متاثر کرنے کے لیے کسی نئی اپج کی بجائے قرآن کے منہج کا تتبع لازم پکڑا جائے۔ اور اس لیے بھی کہ:
(ب)قرآن میں غیبی امور کی ایسی اطلاع موجود ہے جو پوری طرح روپزیر ہوتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ قرآن مجید کو محفوظ کر لیا جائے گا۔ عالم اسلام میں وحی کے آغاز سے لے کر اب تک اور تا قیامت قرآن مجید کو مسلمان لفظاً و معناً محفوظ کرتے چلے آرہے ہیں تو وہ اسی پیش گوئی کے مصداق ہے۔ اسی طرح سائنس نے فزکس، فلکیات یا میڈیکل میں جو انکشافات کیے ہیں وہ قرآن مجید کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔
(۲) نبوت پر دلالت کرنے والے معجزات کے ذریعے نبی آخر الزمان کی نبوت کا اثبات کیا جائے۔
(۳) نبی علیہ السلام کی سیرت اور اخلاقیات سے ان کا نبی ثابت ہونا جیسے ہرقل نے ابوسفیان سے آپؐ کی سیرت کے متعلق سوالات کے بعد کہا تھا کہ ایسی ہی ہستیاں نبی ہوا کرتی ہیں۔
یہ بھی امر واقع ہے کہ اسلامی بنیادی تصورات سب کے سب عقل عام سے ثابت کیے جا سکتے ہیں۔
دوسرے ادیان کے ساتھ مکالمے میں جس اصول کی تاکید کی گئی ہے خصوصاً اہل کتاب کے ساتھ وہ ہے :إِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ(العنکبوت : 46) یعنی قول اور فعل میں بلند اخلاق اور ادب کے ساتھ دلائل پیش کیے جائیں۔ حسن اداء سے دوسرے کے دل میں احترام پیدا ہوتا ہے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ جو شخص اڑیل اور حق کا دشمن ہے اس کے ساتھ دلائل کے ذریعے گفتگو نہ کی جائے۔ ایسا شخص یا گروہ جو موقع ملتے ہی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں ذرا بھی تردد کرنے والا نہ ہو۔
تیسرا مرحلہ ہے مباہلہ کا۔ سورت آل عمران میں اس اسلوب کو مشروع ٹھہرایا گیا ہے:( فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِن بَعْدِ مَا جَاء کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاء نَا وَأَبْنَاء کُمْ وَنِسَاء نَا وَنِسَاء کُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَۃَ اللّہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ)’’اس لئے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آو ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کواور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلالیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں‘‘(آل عمران : ۶۱) ’نبتھل‘ سے مراد ہے جھوٹے پر خدا کی پھٹکار کے لیے گڑگڑا بد دعا کرنا۔
مباہلے کا اسلوب معاند اور حق کے دشمن کے ساتھ شریعت میں روا رکھا گیا ہے۔ اُس پر حق واضح ہے مگر وہ ہٹ دھرمی اور اعراض کی وجہ سے حق کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ مباہلہ حق کے خلاف معاندانہ رویہ رکھنے والے کے حق میں سنت ہے اور آپ علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد کسی بھی معاند کے خلاف ’مباہلہ‘ نہیں ہو سکتا۔
مباہلے کے مشروع ہونے میں کئی حکمتیں ہیں: ایک یہ کہ مباہلے کی دعوت دینے والے کو اپنے دین کے برسرحق ہونے پر پورا اعتماد ہے۔ داعی کا یہ اعتماد مخالف کو سوچنے پر ترغیب دے سکتا ہے کہ وہ حق کی قوت کو محسوس کرے۔
دوسرا جھوٹے پر خدا کی پھٹکار کے لیے جو اس قدر سنجیدہ اہتمام کیا جاتا ہے، مخالف یا معاند ہو سکتا ہے اس سنجیدگی سے خدا کی لعنت کے خوف کو محسوس کرلے اور باطل کے لیے خوامخواہ حجت بازی سے باز آجائے۔
مکالمے کا چوتھا اسلوب دوری اور برأت اختیار کرنا:
یوں تو اہل اسلام اور اہل کفار میں برأت کا ہی رشتہ دین اسلام میں داخل ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور یہ برأت واجب ہے۔ یہاں ہم ایک خاص قسم کی برأت مراد لے رہے ہیں۔ اس سے مراد ہے، دلائل کے تبادلے بہت ہو چکے۔ اس کے بعد اب مزید ایسی کوئی سبیل نظر نہیں آتی کہ حق تک پہنچنے میں رکاوٹ ’دلائل ‘ رہ گئے ہیں۔ جب داعی مخالف کے بارے میں پورا اطمینان کرلے کہ اب وجہ دلائل نہیں کوئی اور ہے تو وہ یہاں دلائل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے برأت کا اظہار کرتا ہے جسے قرآن مجید اس طرح پیش کرتا ہے: (فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْہَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ) گزشتہ سطور میں آل عمران ، آیت ۶۴ کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
بنا بریں دعوت کے دستیاب اسلوب استعمال کرنے کے بعد اور مخالف کے شبہات اور اعتراضات کے شافی جواب دے چکنے کے بعد جبکہ اتمام حجت ہو چکا تو اب مخالف کے لیے یا تو اسلام قبول کرنا رہ جاتا ہے یا پھر حق کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھنا وہ اپنے لیے اختیار کر لیتا ہے۔ اس موقع پر ہمارا جواب یہی سب سے مناسب ہے کہ پس تم گواہ رہو کہ ہم نے اپنا آپ خدا کے سپرد کر رکھا ہے۔ ’ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ‘ اور ہمارے سوا ء اور لوگ خدا کی فرمانبرداری میں جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔
اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ خدا کا دین کسی نتیجے پر معاملات کو پہنچائے بغیر خاموشی سے کوئی واقعہ رونما کیے بغیر صلح جوئی سے رہنے کا نہیں۔
مذکورہ بالا آل عمران کی آیت ۶۴ کو ہمارے دانشوروں نے اُس طرح نہیں سمجھا جیسا کہ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین نے اسے سمجھا اور دوسرے ادیان کے ساتھ مکالمے میں وہ اسے فیصلہ کن اہمیت دیتے رہے۔ بیشتر دانشوروں نے اس آیت سے ایک سطحی سا مفہوم اخذ کیا ہے کہ یہ آیت ہر فریق کو رائے رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ معاملہ رائے رکھنے سے زیادہ اعتقاد، ایمان اور حق اور باطل کا ہے۔
آل عمران کی مذکورہ بالا آیت کا صحیح مفہوم وہ ہے جو صحابہ کرامؓ سے ماخوذ ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
آیت مذکورہ میں اہل کتاب کو دعوت دی گئی ہے۔
یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ ساتھ دوسرے ادیان کے پیروکاروں کے لیے بھی بنیادی آیت ہے۔
اس آیت میں جسے دعوت دی جا رہی ہے اُسے خالص توحید کی طرف صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی طرف بلایا جا رہا ہے۔
آیت مبارکہ میں لفظ ’سواء‘ سے مراد ’لا الہ الا اللہ‘ ہے کیونکہ آیت میں خود اس لفظ کی تفصیل مذکور ہے کہ(أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئا)ً الی آخرہ۔
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب توحید پر نہیں ہیں اس لیے انہیں توحید خالص کی طرف دعوت دینے کی ضرورت پیش آئی ہے۔
معاصر دانشوروں نے’ سواء‘ سے یہ مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہمارے درمیان مکالمے سے پہلے ایک مشترکہ اصول طے پا جائے اور وہ ہے خدا کی وحدانیت۔
مسلمانوں میں اور اہل کتاب میں خدا کی وحدانیت کو قدر مشترک قرار دینے کی بجائے آیت واضح طور پر غیراللہ کی عبادت سے باز رکھنے کے لیے وارد ہوئی ہے۔ اگر وہ پہلے سے ہی غیراللہ کی عبادت نہ کرتے ہوں تو پھر انہیں دعوت کس چیز کی طرف دی جا رہی ہے!
علاوہ ازیں آیت میں لفظ ’سواء‘ کے بعد جو لفظ ’أَلاَّ نَعْبُدَ‘ آیا ہے تو یہ دراصل ’أَن لا‘ ہے۔ اس میں أن حرف تفسیر ہے۔ سواء کی تفسیر یہ ہے کہ لا نعبد الا اللہ کہ ہم نہ عبادت کریں کسی کی بھی مگر صرف اکیلے اللہ کی۔
اگر توحید ہی فریقین میں مشترک ہے تو پھر مکالمے کا فائدہ کیا ہے۔
جہاں تک اہل کتاب کا تصور دین ہے تو اُس میں شرک کا پایا جانا ایک معلوم حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ شرک کے علاوہ اہل کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بھی منکر ہیں۔ ڈاکٹر سلمان عودہ اہل کتاب کے ساتھ مکالمہ کے اصول و ضوابط بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آل عمران کی آیت میں جن مشترکہ نقاط کو مکالمے کی اساس قرار دیا گیا ہے وہ ہیں: نبوت کا واقع ہونا (یعنی انسانوں کی فلاح کے لیے انبیاء مبعوث ہوا کرتے ہیں یہ خدائی ضابطہ ہے) خدا کی طرف سے وحی نازل ہونا اور انبیاء کرام کی اتباع کو لازم جاننا۔ مکالمہ میں اساس یہی بنیادی نقاط ہونا چاہییں جو مذکور ہوئے ہیں۔ یہی وہ قدر مشترک ہے جو آسمانی ادیان میں پائی گئی ہے۔
میں( مصنف ) ڈاکٹر سلمان کی بات کو بیحد اہم سمجھتا ہوں لیکن اس کے باوجود میرا اصرار ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں جس طرف ڈاکٹر صاحب توجہ دلانا چاہ رہے ہیں وہ آیت کا معنی نہیں ہے بلکہ آیت ترک شرک اور خالص توحید کے لیے خصوصی طور پر وارد ہوئی ہے۔
بعض معاصر دانشوروں نے ’سواء‘ کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد ہے: انسانیت کے لیے فائدہ مند چیزوں کو بروئے کار لانا اور سرکشی کے آگے بند باندھنا، دوسرے فریق کا احترام کرنا اور فریقین میں جو خصوصیات پائی جاتی ہیں کوئی فریق بھی ان سے دست برداری پر اصرار نہ کرے اور اس کے ساتھ ہر فریق دوسرے کو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرے۔
لفظ ’سواء‘ کی یہ تاویل جو اوپر مذکور ہوئی ہے وہ آیت کے معنی اور دلالت سے بہت دور ہے۔ آیت پر غور کرنے والا بہ آسانی معلوم کر سکتا ہے کہ آیت میں لفظ ’سواء‘ کی تفسیر پہلے سی ہی موجود ہے۔ یہ لفظ مطلق معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ اگلے الفاظ اسی لفظ کے بیان کے لیے لائے گئے ہیں۔ لفظ ’سواء‘ کا معنی متعین کرنے کے لیے قاری کے لیے گنجائش ہی نہیں رکھی گئی ہے۔ اگلے الفاظ سے خود ہی وضاحت ہو جاتی ہے۔
’سواء ‘ کی ہر دو تفسیر سے بہت بڑا فرق پیدا ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ اہل کتاب کو توحید کی طرف دعوت دی جارہی ہے تاکہ ایک عظیم غایت پر پہنچا جائے جو کہ ترک شرک اور توحید کا اثبات ہے۔ دوسری تفسیر کی رو سے توحید ہی فریقین میں مشترک صفت ٹھہرتی ہے۔ مکالمہ کی غرض پھر اس صورت میں صرف یہ رہ جاتی ہے کہ توحید کے علاوہ جو باطل ان کے ہاں پایا جاتا ہے اُس کا رد کیا جائے یا پھر آیت کا یہ مفہوم لینا پڑے گا کہ دونوں فریق مل کر انسانیت کی فلاح کا بیڑا اٹھائیں۔ اگر اس دوسرے مفہوم کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر نبی علیہ السلام کا اہل کتاب کا ساتھ جو مکالمہ تھا اس کی آپ کو کیا توجیہ کرنا پڑے گی جو کہ اہل کتاب کو ترک شرک اور توحید کے اثبات کی طرف بلانے کے لیے ہوا تھا۔ اگلی سطور میں ہم اہل کتاب کے ساتھ مکالمہ کے اصول و ضوابط نہایت اختصار سے پیش کریں گے۔
اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کے اصول نہایت اختصار سے
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اہل کتاب سے تعامل بڑھ گیا ہے۔ ہم ان کی طرف سے فکری یلغار کا بھی شکار ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اہل کتاب سے مکالمہ کے لیے اصول مرتب ہونا ایک نہایت سنجیدہ اور گہرائی سے مرتب کیا جانے والا مسئلہ بن جاتا ہے۔ علاوہ ازیں عالم اسلام پر ان کی طرف سے فکری یلغار کے علاوہ مسلح حملہ بھی کیا جا چکا ہے۔ اب افکار ایک جگہ سے دوسری جگہ تک سریع الحرکت بھی ہیں۔ اگر ہم نے پہل کرکے مکالمے کے اصول مرتب نہ کیے تو دوسرا فریق سبقت لے کر اصول طے کر دے گا جبکہ وہ اس سے پہلے اپنے دین میں تحریف کے مرتکب ہو چکے ہیں تو یہاں بھی وہ اصول مرتب کرتے ہوئے جانب داری کے مرتکب ہوں گے۔ ہماری آنے والی نسلیں بھی پھر اسی ڈگر پر اہل کتاب سے مکالمہ کریں گی جو ایک مرتبہ جانب داری سے انہوں نے مرتب کر لیے۔ بنا بریں مکالمے سے پہلے قواعد کا مرتب ہونا بیحد ضروری ہے۔ ان قواعد میں سے اہم ترین یہ ہیں:
(الف) مکالمے کا مقصد کیا ہے:
مقصد کو متعین کرنے کے لیے ہمیں اُن تمام جوانب کو الگ کرنا ہو گا جو ہماری شکست خوردگی کی وجہ سے مکالمے کے مقصد اور اہداف میں داخل کر دیے گئے ہیں۔ مکالمے کی اصل غرض و غایت کے علاوہ دیگر بہت سی باتوں نے مکالمے کے اصل ہدف کو نہایت پیچیدہ بلکہ غیر اہم بنا کر رکھ دیا ہے۔ مکالمے کا ربانی ہدف ہے اہل کتاب کو خدا کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دینا۔ انہیں اسلام میں داخل کرنے کی تمنا رکھنا۔ اہل کتاب کے سامنے اسلام کی وہی تصویر رکھنا جس کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفات کے لیے اُس اسلوب کو ہرگز اختیار نہ کیا جائے جو دنیا کے امور کو جاننے کے لیے کسی علم سے دریافت ہوئے ہیں۔ اللہ اس بات سے بہت بلند اور عظیم ہے کہ اُس کی صفات کو اُس کے اپنے بنائے ہوئے منہج کے علاوہ کسی دنیاوی منہج سے پہچان لیا جائے۔
(۲) دین اسلام کے علم پر دسترس نہ ہونے کی صورت میں مکالمے کے لیے جلد بازی بیحد نقصان دہ ہے۔ اگر اسلام کو صحیح طریقے سے پیش کرنے کا ملکہ حاصل نہیں ہوا تو اس میدان میں نہ اترنا چاہیے۔ اہل کتاب سے مکالمہ کرنا ہر مسلمان پر کب واجب ہو گیا ہے! مکالمہ وہ کرے جو اس میدان کا شہ سوار ہے۔ علم کے ذریعے اور دلائل کے ذریعے۔ ہاں اگر سامنے اہل کتاب کا عام آدمی ہو تو پھر اسلام کے فضائل اور حقانیت ہر مسلمان بیان کر سکتا ہے مگر اس میں علمی پہلو ہرگز نہ آنے پائے بلکہ تذکیری پہلو سے ہی کام لیا جائے۔ اسلام کی عمومی دعوت ہر مسلمان ہی سے مطلوب ہے۔
(۳) اہل کتاب کے ہاں اللہ کے وجود اور نبوت کے بارے میں جو اثبات پایا جاتا ہے اسی سے ابتداء کرنا چاہیے۔ اسی طرح آخرت پر جو عمومی اثبات پایا جاتا ہے اُسے الجھایا نہ جائے بلکہ اس کو ہر ممکن طریقے سے بنیاد بنائیں۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان بنیادی تصورات میں اہل کتاب میں درجہ بندی ہے۔ علاوہ اس کے کسی پر ایک فرقے کی چھاپ ہے تو کسی اور پر اہل کتاب کے کسی دوسرے فرقے کی چھاپ ہے۔ داعی پر مختلف فرقوں کا جو جوہری فرق ہے اُسے معلوم ہونا چاہیے۔ کچھ تو ایسے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء کی طرح نبی مانتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ آپ صرف عرب کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے شخص کے ساتھ دعوت کا کام نسبتاً اُس شخص کی بابت آسان ہے جو ابتداء سے ہی نبوت جیسے کسی منصب کا منکر ہے۔
(۴) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لیے عقلی دلائل فراہم کرنا۔
اگروہ ایسی صنف میں سے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہیں مگر صرف عربوں کے حق میں تو اُسے کہا جائے کہ اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہو تو پھر تمہیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ انبیاء جھوٹ سے پاک ہوتے ہیں۔ جب وہ اس مقدمے کو مان لے تو پھر اُس سے کہا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تمام بنی آدم کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ نبی علیہ السلام کے ایسے ثابت شدہ اقوال اُس کے سامنے لائے جائیں اور اُسے نبی علیہ السلام پر ایمان لانے کی ترغیب دی جائے۔ اگر وہ نبی علیہ السلام کا یہ دعویٰ قبول نہ کرے تو اُس سے کہا جا سکتا ہے کہ تم کسی نبی کے حق میں طعن کر رہے ہو جو کہ بہت بڑا پاپ ہے۔
یہاں میں قاری کی توجہ اس طرف موڑنا چاہوں گا کہ اہل کتاب کے سامنے عقلی دلائل کے لیے قرآن کریم سے رہنمائی لی جائے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ داعی کا مخاطب قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتا۔ مکالمے میں قرآن میں موجود عقلی دلائل سے ہمارے مراد یہ ہے کہ قرآن سے رہنمائی لے کر انہیں گویا اپنی طرف سے بیان کیا جائے۔ جہاں مناسب خیال کرے وہاں اشارہ کر بھی دینا چاہیے کہ یہ دلیل قرآن میں مذکور ہوئی ہے۔ مکالمے میں قرآن کے عمومی دائرے میں رہتے ہوئے دوسرے عقلی دلائل سے بھی مدد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ دین میں معلوم کسی چیز کا ابطال نہ ہو۔ علم کلام سے شغف رکھنے والے اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قرآن میں عقلی دلائل نہیں ہیں یہ تو اُسے خود ڈھونڈنا ہوتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں صرف خبری دلائل ہیں۔
اس غلط فہمی کی وجہ سے انہیں عقلی دلائل خود سے لانے کی زحمت اٹھانا پڑی۔ اگرچہ علم کلام سے مدد لینے کا مقصد دین کی نصرت تھا لیکن دلائل از خود فراہم کرنے سے اسلام کے بعض عقائد میں اس علم کی وجہ سے تحریف واقع ہوئی ہے۔ قرآن کے استدلال منہج کو چھوڑنے سے آیات کی ایسی تفسیر ان کی مجبوری ہو گئی تھی جس سے ان کا منہج تو سرخرو ہوتا تھا لیکن آیات کی غلط تاویل اُس سے لازم آتی تھی۔
(۵) پانچواں اصول یہ ہے کہ انبیاء کرام نے جس طرح اپنی قوم کو دعوت دی تھی اس کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا جائے خصوصاً انبیاء کرام کے اس سلسلے کا جس کا نبی آخر الزمان پر خاتمہ ہوا ہے۔ ان کی دعوت کا نہایت دقیق نظر سے جائزہ لیا جائے۔
(۶) علمائے اہل سنت نے جس طرح اہل کتاب کے ساتھ مکالمہ کیا ہے اُس کا بھی نہایت باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نیز اہل کتاب سے مکالمے میں اہل بدعت جو اسلوب اختیار کرتے ہیں اُس سے مکمل طور پر متنبہ رہا جائے۔
(۷) اہل کتاب پر ثابت کیا جائے کہ ان کی کتابیں ایک دوسرے کا رد کرتی ہیں اور اُن کے دین میں تحریف ہونے کے سبب وہ قابل اعتماد دین نہیں رہا ہے۔ اس موقع پر اُن کی کتب میں جو قول وسط جستہ جستہ پایا جاتا ہے اس موقع پر اُس کا اثبات مناسب نہیں کیونکہ مکالمے کا مقصد انہیں ان کے دین سے برگشتہ کرکے اسلام کے دائرے میں لانا ہے۔
(۸) جہاں کتب اہل کتاب میں تضادات کی طرف ان کی توجہ دلانا ہے وہاں موجود کتب(اناجیل) کی تعلیمات کا خلاف عقل ہونا بھی ثابت کرنا فائدہ مند ہے۔ نیز جدید علوم نے جس طرح اہل کتاب کی کتابوں کوخلاف مشاہدہ ثابت کیا ہے اور انسانی فطرت سے جس طرح ان کتابوں کی تعلیمات ٹکراتی ہیں انہیں بیان کیا جائے۔
یہاں ہم ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے۔ اسلامی فکر کے بعض گوشوں میں ایک تاریخ ساز معرکہ لڑا گیا ہے اور وہ ہے انسانی عقل اور وحی میں تعارض۔ اہل کتاب سے خصوصاً اور دوسرے ادیان کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے ہمیں اس اعتقاد کو پختہ کرنا ہو گا کہ وحی اور عام عقل انسانی میں نہ تضاد ہے نہ تصادم بلکہ دو نوں میں فطری موافقت پائی جاتی ہے۔
یہاں ایک تنبیہ بھی ضروری ہے۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وحی اور عقل عام میں موافقت ہے تعارض نہیں تو اس سے ہماری مراد ہے وحی کی وہ تاویل یا تفسیر یا توجیہ جسے اہل سنت صحابہ کرام کے منہج پر ثابت قدم رہتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ اہل سنت کے علاوہ اہل بدعت کے منہج میں سے انسانی عقل عام سے متصادم ہزاروں باتیں مل جائیں گی۔ بدعت پر مبنی تصوف اور شیعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمان دانشوروں سے یہ بات عام سننے کو ملتی ہے کہ’ نصاریٰ کی خرافات ہمارے اسلامیوں کی خرافات سے پھر کہیں بہتر ہیں‘۔ عقل اور نقل میں توافق کا قرینہ اور برتہ صرف اہل سنت رکھتے ہیں۔
حسنِ تعامل: جب تک داعی کے پیش نظر مکالمے کا مقصد مخاطب کو ہدایت پر لانا ہو گا تو وہ نہ مرعوب ہو کر مداہنت کرے گا اور نہ طیش میں آکر انہیں چغد کہے گا۔ بہترین طرزِ تعامل ان دونوں انتہاؤں کے وسط میں ہے۔ اس اصول کو بنیاد بنا تے ہوئے اہل کتاب کے دین کو معتبر کہنا، ان کے لیے اچھے لفظ بول لینا دعوت کے مقصد کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ سمجھنا گمراہ کن ہے کہ اسلام اور اہل کتاب کے دین میں فرق اصولی نہیں نقطۂ نظر کا ہے۔ اسی طرح پہلے سے طے کر لینا کہ اسلام تو انہوں نے قبول کرنا نہیں اس لیے جلی کٹی سنا کر کارروائی پوری کر لی جائے، دونوں ہی غلط رویے ہیں۔
نبی علیہ السلام کی سیرت سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل کتاب سے مکالمے کا مقصد انہیں دائرہ اسلام میں لانا ہے اور اسلام کے برسرِحق ہونے کے لیے دلائل فراہم کرنے ہیں۔ مخالف کے دین کو باطل پر سمجھنا اور سمجھانا ہے اور دوسرے دین کے بطلان پر دلائل فراہم کرنا ہیں مگر اس کے لیے حسنِ ادب اور علمی اسلوب اختیار کرنا ہے۔
مل جُل کر رہنا: مکالمے کی ایک قسم اوپر مذکور ہوئی ہے اور اُس کا مقصد دوسرے ادیان کے پیروکاروں کو اسلام میں لانا اور ان کے دین کے بطلان کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس مکالمے کو دعوت کہتے ہیں۔ فی زمانہ مکالمے سے مغرب جو چیز مراد لیتا ہے یا جس پر عملی طور پر کیتھولک چرچ عمل پیرا ہے وہ ہے دین اسلام کے ماننے والوں میں تشکیک پیدا کرنا اور ان کے ایمان کو متزلزل کرنا نیز نصرانیت کو تحریف کے باوجود نجات والا دین قرار دینا۔
مکالمے کے عمل میں مغرب نے ایک یہ طرز عمل بھی اختیار کر رکھا ہے کہ یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ وہ دوسرے کے دین کو چھیڑے بغیر انسانی فلاح کے کاموں میں تعاون کرنے اور خوشگوار ماحول پیدا کرنے میں سنجیدہ ہیں اور جو اس وقت انسانوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اسلامی تعلیمات میں دوسرے ادیان کے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ یہ حق اہل کتاب کے مطالبے سے پہلے خود ہمارے دین میں موجود ہے۔( لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ)(ممتحنہ: 8)’’جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ مغرب جب حق تعایش (مِل جُل کر رہنا) کہتا ہے تو اس کا تاریخی مدلول ہے۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء کی مصر اسرائیل جنگ میں عربی ممالک نے ۱۷ اکتوبر کوامریکہ کے لیے معدنی تیل کی بندش کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی مغربی غیر ملکیوں کو وطن عربی سے نکال دینے کی سنجیدہ کوشش شروع ہو گئی۔ اور عرب ممالک کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا کہ فلسطینیوں کے حقوق واپس کیے جائیں۔ مغرب نے حق تعایش کی اصطلاح دراصل انہیں دنوں میں استعمال کی تھی۔
اس سے مغربی ممالک کو جو اقتصادی نقصان ہو رہا تھا اُس کا مداوا مقصود تھا۔ ہم یہاں قاری پر واضح کرنا چاہیں گے کہ حق تعایش سے کسی اخلاقی قدر کی عزت افزائی مقصود نہیں ہے بلکہ اس اصطلاح کی ایک واضح تاریخی دلالت ہے اور وہ خالص سیاسی ہے خصوصاً آج کل جبکہ امریکہ نے خلیج میں اپنی فوجیں اتار رکھی ہیں۔
معدنی تیل کی بندش کی دھمکی پر عرب ممالک نے استقامت نہ دکھائی لیکن مغرب نے اس امکان کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنائی ہے۔ عربوں کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر معاملات کرنا ممکن نہیں رہا ہے خصوصاً نائن الیون کے بعد جب امریکہ بھپرا ہوا تھا، حق تعایش کے پر عالم اسلام میں خاصی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔
اسلامی تنظیم ISESCO(ایسسکو) برائے تربیت، سائنس اور ثقافت اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے حق تعایش کا جو معاصر معنی ہے اُس میں فکری مباحث، ثقافتی اور تمدنی مسائل اور معاشرتی قضایا سب شامل ہیں۔
یونیسکو نے حق تعایش کی تعریف یہ کی ہے کہ:
دوسرے کا احترام، آزادی، اور یہ کہ افراد میں اختلاف کا تنوع ایک فطری امر ہے اور اسے قبول اور برداشت کرنا چاہیے کیونکہ یہ ثقافتی مظاہر ہیں نیز دوسرے افکار اور فلسفوں کے لیے گنجائش پیدا کرنا تاکہ علم میں ترقی ہو اور انہیں مسترد کر دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو خواہ وہ پہلے سے معلوم نہ بھی ہوں۔
اس تعریف کی مزید وضاحت اگلی سطور میں آتی ہے۔
حق تعایش ایک شعار ہے جو شروع میں سیاسی مقاصد کے تحت وجود میں آیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک منظم ادارہ بن گیا جسے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو اور اسلامی ادارے ایسسکو کا تعاون حاصل ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد پھر یہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونا شروع ہوا تاکہ مغربی اُبال کے لیے فضا ہموار ہو سکے۔
چونکہ حق تعایش پر مغربی ممالک کے سیاسی مقاصد کی واضح چھاپ ہے اس لیے اس فورم سے مکالمے کا جاری رہنا ہمارے گہرے مطالعے اور واضح نقاط کے بعد ہونا چاہیے۔ جہاں تک حق تعایش کا غیر دینی کردار ہے جس کے نقاط درج ذیل ہیں:
(الف) ایسے مکالمے کا دین سے کچھ سروکار نہیں۔
(ب) مختلف ادیان کے درمیان معاشی مسائل کو زیر غور لانا۔
(ج) عقیدہ ولاء و براء یا کسی دین سے محبت یا نفرت اس فورم کا موضوع نہیں ہے۔ نہ کسی دوسرے دین کے بارے میں اچھی رائے دینا ہے نہ بری رائے دیناہے بلکہ دنیاوی امور پر تبادلہ خیال اس کا مقصد ہو گا۔
(د) اس فورم کے ذریعے کسی فریق کے لیے اپنے عقائد سے جزوی یا کلی دست برداری کے لیے کوئی ترغیب نہ ہو گی۔ نہ اسلام کی کوئی ایسی صورت پیش کی جائے گی جس سے متاثر ہو کر قیاس کیا جائے کہ اسلام قبول کرنے کی دعوت اس اسلوب میں متضمن ہے۔
اگر اس مفہوم میں وہ خدشات نہ ہوں جو پیچھے ہم بیان کر آئے ہیں تو ایسے فورم پر جا کر دنیاوی اغراض کے لیے تبادلہ خیال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سیاست شرعیہ کا باب ہے اور اس میں اسلام کی جانب سے جہاندیدہ اہل حل و العقد کا شریک ہونا کچھ قباحت نہیں رکھتا۔ نبی علیہ السلام نے یہودیوں سے بھی معاہدے کیے تھے اور مشرکین کے ساتھ بھی۔ آپ علیہ السلام کے بعد صحابہ کرامؓ بھی ایسے معاہدے کرتے رہے ہیں۔ اسلامی مکتبہ ایسی کتابوں سے بھرا پڑا ہے جن کا موضوع ’مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان تعلقات‘ سے بحث کرنا ہے۔
حق تعایش کا معاصر مفہوم:
اس مفہوم کے تحت ادیان میں تقارب پیدا کرنا ہے۔ اس مفہوم کے تحت حق تعایش کے نقاط درج ذیل ہیں:
(الف) دین اختیار کرنے کی آزادی جس میں دین تبدیل کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ اس مفہوم کے تحت اسلام میں موجود ارتداد کی حد کے خلاف فضا بنانا ہے۔ نیز اس مفہوم کے تحت تمام ادیان مساوی قرار پاتے ہیں۔
(ب) دین کے عنوان سے ہر قسم کی کارروائی کی ممانعت۔ اس اصول کے تحت صرف اسلام میں دفاعی جہاد رہ جاتا ہے مگر اقدامی جہاد کے خلاف یہ شق رکھی گئی ہے۔
(ج) دین کے اعتبار سے نفرت کو ختم کرنا اور روئے زمین کے انسانوں میں انسانی رشتے کی بنیاد پر اخوت پیدا کرنا۔
(د) اسلامی ممالک میں (اقلیات) غیر مسلم قوموں کو مساوی حقوق دینا۔ تمام معاملات شہریت کی بنیاد پر طے کیے جائیں اور دینی وابستگی کا کوئی عمل دخل حقوق و فرائض میں معتبر نہ سمجھا جائے۔ اس اصول کے تحت اسلامی ممالک کا دستور سیکولر ہونا چاہیے۔
(ھ) تمام آسمانی ادیان مساوی ہیں۔ اسلام کی یہ برتری کہ اُس میں تحریف نہیں ہوئی اور باقی ادیان محرّف شدہ ہیں، سے باقی ادیان پر اسلام فائق ہو جاتا ہے جو قابل قبول نہیں۔
(و) مادی یلغار کے بعد انسانی نفوس میں تزکیہ پیدا کرنے کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے خصوصاً نوجوانوں نسل میں۔
(ز) دین کے نام پر تشدد کی حوصلہ شکنی کرنا۔ اسی طرح دوسرے کی تکفیر کے باب کو مطلق طور پر بند کرنا۔ دوسرے کے دین میں دخل اندازی نہ کرنا کیونکہ یہ باہمی احترام کے اصول کے خلاف ہے۔
ان نقاط کاشرعی حکم:
مندرجہ بالا نقاط سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حق تعایش کا پہلے جو مادی (دنیاوی) مفہوم تھا اُس کی بجائے یہ ایک فکری اور نظریاتی مبحث بن گیا ہے۔ اس میں ممالک کے درمیان مکالمے سے ایک خاص ہدف تک پہنچنا مقصود ہے اور وہ ہے تقارب ادیان۔
ان نقاط سے دین کے کئی ایسے امور معطل ہو جاتے ہیں جن کا معلوم ہونا دین کے بنیادی خصائص میں سے ہے۔
اس سے جہاد کا فریضہ معطل ہو جاتا ہے۔ عقیدہ ولاء اور براء کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ مرتد کی حد موقوف کر دی گئی ہے۔ اور کافر کو اسلامی سوسائٹی میں اپنے کفر کے اظہار کے لیے ابلاغی ذرائع اختیار کرنے کا حق سونپ دیا گیا ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو یقینی کفر ہیں اور جس کا مرتکب کافر ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان بنیادی امور کے متعلق جو مسلمان تاویل سے کام لیتے ہیں تو ان کا حکم ان کی تاویل کے مطابق ہو گا۔ اگر انہیں کہیں شبہہ لگا ہے تو شبہات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اگر شبہے کی ایسی نوعیت ہوئی جسے لغوی معنی کہا جاتا ہے تو یہ عذر بنتا ہے مگر ایسا شخص بدعت کا ضرور مرتکب قرار پائے گا جیسے خوارج اور معتزلہ تھے۔ اگر تاویل خاصی بعید ہے ۔ لغت کی رو سے اس کی گنجائش بھی نہیں نکلتی تو ایسا شخص غیر معذور ہے خواہ جس درجے کا بھی عالم ہو مگر یہ حکم، حکمِ عام ہے۔ حکم متعین کے اور اصول اور ضوابط ہیں جس کا یہ موقع نہیں ہے۔
تقارب ادیان کا حکم:
تقارب کا لفظ ’قرب‘ سے ماخوذ ہے او ریہ دو فریقین کے درمیان نسبی قرب کا متحمل ہے۔ یعنی کبھی یہ قربت بڑھتے بڑھتے وحدت تک چلی جاتی ہے اور کبھی قربت صرف ظاہری ہوتی ہے۔ نیز وحدت اور ظاہری قربت کے درجوں کے درمیان پھرکئی درجے ہیں جن کا حکم ہر درجے کے لحاظ سے مختلف ہو گا۔ یہ سارے درجات ہی جدید اصطلاح میں تقارب کہلاتے ہیں۔
بین المذاہب مکالمے کی نسبت یہ نئی اصطلاح ’تقارب ادیان‘ وسیع تر مفہوم لیے ہوئے ہے اور زیادہ شہرت اب اسی اصطلاح کو حاصل ہے۔ بین الاقوامی کانفرنسیں بھی اس اصطلاح کے تحت منعقد ہوتی ہیں۔
تقارب ادیان کے خصائص:
تقارب ادیان میں اگر وحدت بین الادیان کے مفہوم کو شامل نہ کیا جائے تو پھر تقارب ادیان کی جو صفات بنتی ہیں وہ درج ذیل ہیں
(الف) یہ اعتقاد رکھنا کہ دوسرا فریق بھی صاحب ایمان ہے خواہ وہ آپ کے لحاظ سے مکمل ایمان کی تعریف میں نہ بھی آتا ہو۔ جہاں تک دوسرے فریق کو کافر قرار دینا ہے تو اس مسئلہ میں کچھ حضرات جو ایسی کانفرنسوں میں عالم اسلام کی طرف سے نمائندگی کرتے ہیں صراحت سے تکفیر کے مبحث کو تقارب ادیان کا موضوع قرار دیتے ہیں لیکن اکثر تکفیر کے مبحث کا انکار کرتے ہیں۔
(ب) (مذاہب کی شناخت قائم رکھنے کے لیے) مذاہب کے عناصر سے کوئی ملغوبہ بنانے سے احتراز کیا جائے نیز مذاہب میں عقائد کے اُن پہلوؤں سے اجتناب کیا جائے جو شک پر منتج ہوتے ہیں۔
(ج) ہر فریق کا تعارف اِس طرح کرایا جائے جیسا وہ خود چاہتا ہے۔
(د) ماضی کو فراموش کر دیا جائے اور اس کے موجودہ اثرات سے گلو خلاصی کرائی جائے نیز ماضی کی غلطیوں پر معذرت کی جائے۔
(ھ) ادیان میں اتفاقات کو نمایاں کیا جائے اور اختلافات کو ترک کیا جائے۔
مشترکہ قدروں کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
مشترکہ قدریں جن کو متحقق کرنے کے لیے ادیان کے درمیان تعاون ہو گا وہ درج ذیل ہیں:
(الف) عقیدے سے الحاد کے رویے کی بیخ کنی۔
(ب) اباحیت کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرنا۔
(ج) عدل اور انصاف نیز کمزوروں کے لیے یا جن کا استحصال کیا جا رہا ہے یا جن ملکوں پر بیرونی قبضہ ہے اورغربت اور بیماریوں کے خلاف آپس میں تعاون کیا جائے۔
(ھ)دوسرے ادیان کے پیروکاروں کا اعتبار ہونا:
اس عنوان کے تحت جن امور کی سفارش کی گئی ہے وہ ہیں:
دوسرے کے عقائد اور مذہبی شعارات کا احترام، مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں گاہے بگاہے ملاقاتوں کی حوصلہ افزائی، مذہبی تہواروں کے لیے نرم گوشہ رکھنا اور ممکن ہو تو دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں شرکت کرنا۔ اس میں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ محبت اور دلجوئی کی فضا قائم ہوجس سے باہمی احترام، اخوت، وفاداری اور اعتماد کو فروغ ملے۔
تقارب ادیان میں جو بات مجھ پر عیاں ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی دعوت ہے جس کے کئی درجات ہیں۔ وحدت ادیان سے لے کر اس کے عام مفہوم تک یعنی مل جل کر رہنا۔
شرعی حکم:
جیسا کہ بیان ہوا ہے تقارب ادیان کے درجات ہیں نیز عالم اسلام میں اس کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو یہود و نصاریٰ کی تکفیر کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی تقارب ادیان کے مذکورہ بالا نقاط پر مشتمل ایجنڈے میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ اس گروہ کا حکم یہ ہے کہ وہ بدعت پر ہیں جبکہ دوسرا گروہ مذکورہ بالا نقاط کے ایجنڈے میں شریک ہونے کا ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی تکفیر بھی نہیں کرتا تو ان کا یہ قول کفر ہے کیونکہ یہ گروہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ ایک حکم کی تکذیب کر رہا ہے۔ ہمارا یہ حکم متعین اشخاص پر نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے دیگر اسباب کا پایا جانا ضروری ہے اور یہ ہمارا موضوع بھی نہیں ہے۔
جہاں تک دوسرے ادیان کے لیے محبت اور مودت کا ہونا ہے تو اگر یہ دل سے ہو اور ان کے اُس دین کی وجہ سے ہو جس کے وہ پیروکار ہوں تو یہ کفر اکبر ہے۔ جس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر دنیاوی معاملات میں اُس کے حسن سلوک کی وجہ سے محبت یا مودت ہو تو اگر یہ اتنی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کا ساتھ دینے پر اُسے آمادہ کر دے تو اس صورت میں اس کا حکم ان کبائر میں سے ہے جو کفر کے درجے پر نہیں پہنچے۔
بنا بریں تقارب ادیان کے فورم میں جا کر مکالمہ کرنا اصول الدین اور نبی علیہ السلام کی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ اس سے کفار سے موالات کا اثبات ہوتا ہے اور عقیدہ الولاء اور البراء کی اس میں مخالفت پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ سورت مجادلہ کی آیت ۲۲ میں مذکور ہے۔
ایسے فورم پر آپ کو ہمیشہ محبت، مودت اور ایثار کے الفاظ میڈیا کے ذریعے سننے کو ملیں گے جو دراصل ایسے مکالمے کا سب سے نمایاں ترین شعار ہے۔
تقارب ادیان میں ایسے مکالمہ کا خلاف سنت ہونا بھی ثابت ہے۔ نبی علیہ السلام کا منہج غیر ادیان کے پیروکاروں کو اگر وہ معاند ہٹ دھرم نہ ہو تو ادلہ صحیحہ کے ذریعے ایسے شخص کو دین اسلام میں داخل کرنا ایسے مکالمے کا مقصد ہوتا تھا۔ چناچہ جو نبی علیہ السلام کے طریقے اور منہج کی اتباع نہیں کرتا تو اس کا حکم سورت نساء کی آیت ۱۱۵ میں بیان ہوا ہے:( وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء تْ مَصِیْراً)’’جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔‘‘
تقارب ادیان کے منہج میں اختلافات کو سامنے لانا ممنوع ہے خصوصاً عقیدے کے بنیادی مباحث اور یہی اسلام کی اصل دعوت ہے۔ نبی علیہ السلام نے اہل کتاب سے مکالمہ کیا ہے اور اُس کا ایک ہی عنوان رہا کہ توحید کو قبول کرتے ہوئے شرک کے تمام مظاہر سے جھگڑا مول لے لینا۔
اِسی طرح دوسرے ادیان کی عبادات میں شریک ہونا کفر اور ارتداد ہے۔
چناچہ وحدت الادیان کی دعوت کی ابتداء اگر کوئی مسلمان کرے تو یہ صریح کفر اور ارتداد ہے۔
جہاں تک ایسے مکالمے کا تعلق ہے جسے حق تعایش ہم نے کہا ہے تو اس میں باطل بھی ہے اور جائز نقاط بھی ہیں۔ اگر حق تعایش سے مراد وہ امور ہوں جسے شریعت نے برقرار رکھا ہے جیسے دوسرے پر احسان کرنا، صلہ رحمی کرنا جبکہ یہ شریعت کے دائرے میں رہ کر ہوں۔ نیز کفار سے موالات لازم نہ آئے، نہ ہی شریعت کے معلوم فرائض معطل ہوں جیسے جہاد، ارتداد کی حد اور کفار سے بغض تو ایسے مکالمے میں کسی انسانی ہدف کے حصول میں مضائقہ نہیں ہے۔
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی