صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

تفسیرِ قرآن اور آج کی سائنس

0 389

تفسیر ماثوربالررائے اور سائنسی علوم کا عمل دخل:
پچھلی صدی عیسوی کے آخری ربع سے قرآنی تفسیر میں سائنسی انکشافات اور حوالہ جات بہت جگہ لے رہے ہیں .کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا تفسیر اور تعبیر و تشریح سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے مگر قرآنی حقائق کو کھینچ تان کر جدید علوم سے ہم آہنگ کرنے کی سعی لا حاصل کی جاتی ہے اور انہیں قرآنی اوراق میں لکھا جا رہا ہے ،جس سے مرادِ کلام اور مقاصدِ شریعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے. اس ضمن میں ڈاکٹر میاں محمد صدیقی نے
١٩٩٠ عیسوی میں ایک مضمون سہ ماہی فکرو نظر میں بھی لکھا تھا اور اس طریقہ کار پر کڑی تنقید بھی کی تھی . انہوں نے اس عمل کو قرآن مجیدکے حقیقی مقصد کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا .اس حوالہ سے ہم مختصر سا مضمون یہاں پیش کر رہے ہیں ، اور دیکھتے ہیں کہ کس حد تک جدید علوم کا تفسیر قرآن میں بیان کیا جانا فائدہ مند ہے اور اس سلسلہ میں غلو کس حد تک نقصان دہ ہے، لیکن اس سے پہلے "تفسیر" اور "تاویل" کے الفاظ کا لغوی معنی اور مفاہیم جاننے کی کوشش کرتے ہیں.
تفسیر کا مادہ سہ حرفی لفظ "فسر" ہے جس کے لغوی معنی ہیں واضح کرنا، کھول کر بیان کرنا -قرآن حکیم میں ہے.وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَـٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًاoترجمہ-وہ جو بھی مثال آپ کے سامنے لائیں گے ہم اس کے عوض آپ کے پاس حق اور اس کی بہترین تفصیل لائیں گے..( سورۃ الفرقان ایت 33)اس آیت میں "تفسیر" سے مراد تفصیل اور وضاحت ہے - لسان العرب میں ہے "فسر" کے معنی ہیں اظہار و بیان -اس کا فعل باب ضرب اور نصر دونوں سے آتا ہے تفسیر کا مفہوم بھی یہی ہے. مزید کہتے ہیں .
"فسر" بے حجاب کرنے کو کہتے ہیں ،تفسیر کرتے وقت بھی مشکل الفاظ کے مفہوم و معانی کو ایک طرح سےبے حجاب کیا جاتا ہے.
مشہور مفسر اور نحوی ابو حیان کہتے ہیں. "سواری کا پلان اتار کر اس کی پیٹھ ننگی کرنے کو بھی"تفسیر" کہتے ہیں" . ظاہر ہے کہ ننگا کرنے میں میں کشف و اظہار کا مفہوم پایا جاتا ہے . اس لیے کہ زین اتارنے سے پیٹھ کھل کر اور ننگی ہو کر سامنے آجاتی ہے.
،مذکورہ بالا تشریحات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ تفسیر محسوسات اور معقولات دونوں کے کشف و اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے. البتہ عقلی اور غیر مادی اشیاء کے سلسلے میں اس لفظ کا استعمال زیادہ عام ہے . (فکرونظر-ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد -دسمبر -١٩٩٠ -ص-٧٩،)
تفسیر الله تعالیٰ کے کلام کے مطالب بیان کرنے ،واضح تشریح کرنے، جس میں الله تعالیٰ کی منشاء کو مدنظر رکھا گیا ہو ، کا دوسرا نام ہے . علامہ زر کشی کہتے ہیں کہ:-
"تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعے اللہ کی کتاب کے جو کہ نبی کریم(ﷺ)پڑ نازل ہوئی کے مطالب ،احکام،اور حکمت سمجھی جاتی ہے"۔یہ علم لغت و ادب،فقہ و اصول فقہ،علم تجوید و قرا ءت کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے. تفسیر کے لیے آیت کی شان نزول ،اور ناسخ و منسوخ کا علم بھی ضروری ہے.(الاتقان فی علوم القرآن).
شرح کے لیے تفسیر کے علاوہ "تاویل" کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے ،جس کے معنی رجوع کے ہیں . گویا متعدد ،اور چند محتمل معانی میں سے کسی ایک کی طرف رجوع کرنا،تاویل کہلاتا ہے.
امام راغب الاصفہانی کہتے ہیں کہ"تفسیر،تاویل سے عام ہے-تفسیر کا اکثر استعمال الفاظ و مفردات میں ہوتا ہے،اور تاویل کا غالب استعمال معانی اور جملوں میں،نیز کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے معانی ،اور مراد واضح اور بیان کرنے کو تفسیر کہتے ہیں،خواہ باعتبار معنی ظاہر ہو،یا باعتبار معنی خفی،اور تاویل ،کلام تام اور جملوں کا مفہوم متعین کرنے کو کہتے ہیں"۔
(بعض نے کہا ہے کہ "تفسیر کا تعلق روایت سے ہے،اور تاویل کا تعلق درایت سے)
امام ابو نصر قشیری کے مطابق"تفسیر موقوف ہے سماع اور اتباع نبی(ﷺ) پر. اور تاویل،اجتہاد و استنباط کا نام ہے ".امام ماتریدی کے نزدیک ،تفسیر کے معنی یہ ہیں ،کہ کسی ایک مفہوم پر یقین کر لیا جائے کہ الله تعالیٰ کی مراد یہی ہے اور تاویل یہ ہی کہ چند محتمل معانی میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیا جائے .
علم تفسیر کی تعریف اصول تفسیر کی کتابوں میں اس طرح کی گئی ہے .
علم تفسیر اس علم کو کہتے ہیں جس میں طاقت بشری کی حد تک،قواعد عربیہ اور قوانین شرعیہ کے مطابق نظم قرآن کے معنی سے بحث کی جائے.
کشف الظنون میں ہے کہ.
"تفسیر وہ علم ہے جس میں بشری طاقت کی حد تک عربی زبان کے قواعد کے مطابق نظم قرآن کے معنی سے بحث کی جائے،علم تفسیر کے موقوف علیہ علوم یہ ہیں -علوم عربیہ ،اصول کلام ،اصول فقہ اور مناظرہ و خلافیات،نیز ان کے علاوہ بعض دیگر علوم.
علم تفسیر کی غرض و غایت یہ ہے کہ اس کے ذریعے کلام الله کے معانی معلوم کیے جائیں ،اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ صحیح طریقے پر احکام شریعہ کے استنباط پر قدرت حاصل ہو سکے،اس کا موضوع الله تعالیٰ کا کلام ہے جو ہر حکمت کا منبع اور ہر فضیلت کا معدن ہے. اس علم کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا و آخرت کی سعادت اور فوز و فلاح کا حصول اس پر موقوف ہے.(فکرونظر حوالہ بالا )
حوالہ جات کے بعد ڈاکٹر میاں محمّد صدیقی ،لکھتے ہیں.
خلاصہ یہ ہے کہ جو وجوہات اور تشریح ،ظاہر کے مطابق ہو،اور قطعی ہو،وہ تفسیر ہے. خواہ کلام معصوم سے ہو یا کلام غیر معصوم سے. اور جو تشریح تو ضیح ظاہر کے خلاف ہو مگر قواعد اور قرائن سیاق و سباق کے مطابق ہو،وہ تاویل ہے.(ایضا)
ڈاکٹر صدیقی تفسیر قرآن میں دوسرے علوم اور انکشافات کے بے جا استعمال اور پیوندکاری پر سخت تنقید کرتے ہیں .انکا کہنا ہے کہ قرآن کی توضیح و تشریح میں ایسے امور کو بیان کرنا جن کا قرآن کے اساسی اغراض و مقاصد سے کوئی تعلق نہیں، تفسیر نہیں کہلاسکتا . مثلاّ کوئی شخص قرآنی آیت "وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَـٰهَـٰمَـٰنُ ٱبۡنِ لِى صَرۡحً۬ا لَّعَلِّىٓ أَبۡلُغُ ٱلۡأَسۡبَـٰبَo ترجمہ:اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں۔ (سورۃ المومن ایت 36) کی وضاحت میں انجینئرنگ اور فن تعمیر کے اصول اور اس کی جزئیات سے بحث شروع کر دے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے ہو گا جیسے کوئی طب کی کتاب میں فن تعمیر کا جوڑ لگانے کی کوشش کرے. ہر فن اپنی اپنی جگہ معقول اور مفید ہے.

تفسیر کا موضوع،اور تفسیر کے مضامین وہی کہلائیں گے جو قرآن کے بنیادی مقاصد سے تعلق رکھتے ہیں،اور اس کا منتہائے فکر ہیں . سائنسی اور صنعتی ترقیات و ایجادات کو مضامین قرآن کے ضمن میں زیر بحث لانا،قرآن کے اعلیٰ و ارفع اصول ہدایت ،اور مقاصد فوز و فلاح سے روگردانی کے مترادف ہے.....قرآن حکیم نے جس دنیوی زندگی کے انہماک سے انسانوں کا رخ اخروی زندگی کی طرف پھیرا تھا،اور" وانیبوا الی ربکم " کی بار بار کی صداؤں سے اس کا رخ صحیح منزل کی طرف موڑدیا تھا اس قسم کی تحقیقات اس رخ کو غلط ثابت کر کے اسے پھر دور جاہلی کی طرف لوٹا دیں گی.
سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ اس طرز اور اسلوب کو معیار بنانے سے رسول الله (ﷺ) اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیاں ہی قرآن کے مفہوم و معانی سے مختلف اور بے تعلق نظر آئیں گی . اگر محض سائنسی علوم و تحقیقات کا محور قرار دے دیا جائے تو قرآن سے سب سے زیادہ ناواقف صحابہ ہی نظر آئیں گے. قرآن نہ تو فلسفہ کی کوئی کتاب ہے اور نہ سائنسی تحقیقات کا مجموعہ -وہ تو طب روحانی کی آخری اور بے مثل کتاب ہے جس میں بنی نو ع انسان کی روحانی اور قلبی بیماریوں کے لئے داروئے شفا ہے (ایضا).
لیکن اس احتیاط کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تفسیر قرآن جیسا اہم کام جدید علوم کی روشنی سے دور رکھا جائے. ڈاکٹر مورس بوکائے نے اپنی کتاب، جو کہ بنیادی طور پر مکمل قرآنی تفسیر تونہیں ہے مگر ضروری مباحث پر مبنی ہے،میں بہت سے قرآنی حقائق کو جدید علوم کی روشنی میں واضح کیا ہے جس نے پوری دنیامیں نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلمانوں کو بھی بہت حد تک متاثر کیا ہے. لیکن ڈاکٹر موصوف اپنے اس تمام تر کام میں کافی محتاط نظر آتے ہیں.

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی