صدائے مسلم
! اس بلاگ کے قیام کا مقصد دینی اور دنیاوی علوم کی نشر و اشاعت ہے ۔ ہمارا بنیادی حدف تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر اعتدال پسندانہ مواد کا انتخاب ہے جس کو پڑھ کر قارئین نہ صرف علم میں اضافہ کریں بلکہ ایک متعدل اور مثبت سوچ سے بھی آراستہ ہوں ۔

اسلامی بینکنگ کا مستقبل

0 143

دنیا کا معاشی نظام جس بینکنگ نظام کا قیدی ہے اس میں وہ محرکات اپنی حیثیت اور اہمیت رکھتے ہیں جن سے اسلام نے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا ہے جس میں سود سب سے اہم ہے اور بینکنگ کی بنیاد ہی سود پر قائم ہے یا یوں کہیں کہ بینکنگ کی عمارت ہی سود پر کھڑی ہے تو غلط نہ ہوگا اس اہم رکن کو دیکھتے ہوئے سن اکہتر میں حضرت مولانا محمد تقی عثمانی نے اس ایشو پر اپنی تحقیق کرتے ہوئے پاکستان کے کچھ بینکوں کے
اشتراک سے اسلامی بینکنگ کی بنیاد رکھی اور اس سلسلے میں اپنی کوششوں اور کاوشوں کو تیز تر کیا اور بالاخر اسلامی بینکنگ کی بنیاد پاکستان میں رکھ دی گئی۔جو ایک خوش آئیند بات تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ جو بات ہر انسان کے لئے سوچنے کا باعث بنی وہ اسلامی بینکنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات تھیں جو صرف اسلامی لیبل کے زیر سایہ اسی سودی بینکاری کو فروغ دیتی دکھائی دے رہیں تھیں۔کیونکہ اسلامی بینکنگ میں کوئی جدت نہیں کی گئی تھی بلکہ انہی اصطلاحات کو اسلامی نام دے کر ہیر پھیر کی گئی تھی جسے اسلام کے پرچم تلے دھوکہ دہی ہی کہا جا سکتا ہے۔ مروجہ اسلامی بینکاری کا ابتدائی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لئے چھ اسلامی ستونوں کا سہارہ لیا گیا وہ چھ ستون یہ ہیں۔

(ایک)مضاربہ (دو) مشارکہ (تین) مرابحہ (چار) اجارہ (پانچ)سلم (چھ) استصناع

پر قائم کیا گیا مگر ان اہم ارکان کے بارے میں اگر ہم تفصیل میں جائیں گے تو ہمیں ان میں اور سودی بینکنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات میں کچھ خاص فرق دکھائی نہیں دے گا۔خیر یہ ایک الگ بحث ہے جس کا تفصیلی ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں۔میں آج جو کہنا چاہتا ہوں وہ توجہ طلب ہے۔بینک کیا ہے اور اسلامی بینک کیا ہے یہ بھی الگ الگ باب ہیں جن کا ذکر کیا جا چکا ہے ہمارا کہنے کا مقصد تو صرف اتنا ہے کہ اسلامی بینکنگ کا مستقبل کیا ہے کیا اسلامی بینکنگ مسلمان ممالک میں اپنی حیثیت اور اہمیت قائم کر سکے گی یا پھر یہ محض ایک حیلہ ثابت ہوگی۔اس سلسلے میں اپنی بات کو اس طرح آگے بڑھاؤں گا کہ اسلام میں فرضی باتوں کی گنجائش نہیں اور کاروباری لین دین میں ہر چیز کو کھول کر بیان کرنا یہاں تک کہ اپنی چیز کو فروخت کرتے وقت اس کی خامیوں تک کو بیان کرنے کا حکم ہے جبکہ آج کل ایسا بالکل دکھائی نہیں دیتا ہم تو اپنی چیز کی اچھائیوں میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ جذبات میں ہم سامنے والے کی اچھائیوں کو بھی برائیوں اور خامیوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔آج اسلامی بینکنگ میں بینک کا ماحول دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی بینکنگ میں اسلام کی باتیں صرف کاغذ کی حد تک ہیں بحیثیت مسلمان ہمارے رول ماڈل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور ان کی سنت ہے آپ ﷺ کی بتائی ہوئی شریعت ہے جبکہ ہمارے سامنے ہم میں موجود کلام الہٰی ہے جس میں ہر چیز واضح موجود ہے۔مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہم عمل کرتے وقت یہ باتیں فراموش کر دیتے ہیں اور اپنے زیر استعمال کاروباری اور معاشی مسائل کو یہود اور کفار کے بنائے ہوئے طریقہ کار اور اصولوں سے جانچتے ہیں یہی وہ خامی ہے جہاں ہم مار کھا جاتے ہیں اور نا چاہتے ہوئے بھی وہ کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کا ہمیں اسلام نے سختی سے منع کیا۔اسلامی بینکنگ میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ اسلامی بینکنگ میں کو نئی چیز ایجاد نہیں کی گئی بلکہ وہ ہی چیزیں اپنائی گئی ہیں جو سودی بینکنگ میں کارفرما ہیں صرف نام تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔شریعہ ایڈوائزر کے طور پر کچھ لوگوں کو چند گھنٹوں کے لئے بٹھا کر اسلامی بینکنگ میں کسی نہ کسی بنا پر آئے ہوئے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پیسہ کما کر اپنی عمارت کھڑی کی جارہی ہے۔اور یہی کچھ سودی بینکنگ میں بھی کیا جاتا ہے جب دوسرے کے پیسے سے بینک کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔

اسلامی بینکنگ کا وجود بھی مفتی محمد تقی عثمانی کی شخصیت پر کھڑا کیا گیا اور لوگوں نے مولانا محمد تقی عثمانی کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے اسلامی بینکنگ میں سرمایہ کاری کی جس بنا پر بینک کو اپنی عمارت قائم کرنے کا موقع ملا۔آج اگر اسلامی بینک کو دیکھا جائے کہ یہ کس کا کاروبار ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں سب شامل ہیں یہ کوئی جواب نہیں اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسلامی بینک کے نام سے یہ کاروبار کیسے شروع کیا کس نے سرمایہ کاری کی اور اس میں کام کرنے والے عملے کے اخراجات اور دیکر اخراجات کیسے ادا کئے جاتے ہیں تو اس کا جواب بھی غیر تسلی بخش ملتا ہے جو ان وسوسوں کو جنم دیتا ہے کہ بینکنگ میں یہودی طرز عمل کو اپنا کر لوگوں کی بچتوں کو یکجاء کرنے کے بعد اس سرمایہ کو کسی ایسے کاروبار میں لگانا جس کی تحقیق بینک کا کلائنٹ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے علم میں یہ بات ہوتی ہی نہیں اور نہ ہی اسے بتایا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ہر چیز کا صاف اور شفاف طور پر پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ بینک کی بنیاد کس نے رکھی ۔بینک کا امین کون ہے۔ اور اگر اس بینک میں کوئی نقصان ہوتا ہے یا کوئی جرم سرسزرد ہو جاتا ہے تو اس کا فرد جرم کس کے کاندھوں پر ہوگا تو اس بات کا جواب کوئی نہیں دیتا مطلب یہ بلوے کا کیس ہوا جہاں مجرم کسی کو نہیں ٹھہرایا جائے گا ۔اور اگر یہ سوال کریں کہ منافع کی تقسیم کس انداز میں ہوگی اور کتنا منافع بینک کے کاروباری سال میں ہو اور اس کاروباری سال میں بینک کے اخراجات کہاں سے ادا کئے گئے ا تو اس کا جواب بھی خفیہ رکھا جاتا ہے بلکہ بتایا ہی نہیں جاتا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی بینکنگ ایسا کاروباری ادارہ ہے جس کا کوئی ولی وارث نہیں ہے یہ چند مفروضوں کی بنیاد پر قائم عمارت لوگوں کی بچتوں پر قائم ہے اور بالکل سودی بینکنگ کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔عام تاثر یہ ہے کہاسلامی بینکنگ کی عمارت مفتی مولانا محمد تقی عثمانی کے کاندھوں پرقائم ہے جن کے دم سے اسلامی بینکنگ کی رونقیں ہیں اب بات کرتے ہیں مولانا صاحب کی تو آپ ایک انسان ہیں اور ہر انسان کو فنا ہے انتہائی معذرت کے ساتھ اگر مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کسی وجہ سے اس بینکنگ سسٹم سے دور ہو جاتے ہیںیا یہودی لابی کے کسی وار کے نتیجے میں اسلامی بینکنگ سے دور کر دئیے جاتے ہیں یا خدا نخواستہ رضائے الہٰی سے کوچ کر جاتے ہیں تو پھر اس بینکنگ کا وجود کہاں کھڑا ہوگا کیونکہ اس اسلامی بینکنگ کی ذمہ داری کو کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔یاد رہے کے لوگوں نے صرف مولانا حضرت محمد تقی عثمانی کی شخصیت ان کی سچائی اور آپ کے اصولوں اور فتووں کو دیکھتے ہوئےآپ کی تحریروں کو پڑھنے کے بعد اسلامی بینکنگ پر یقین کیا اور اس میں سرمایہ کاری کی اگر کسی اختلاف کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے مولانا اس بینکنگ کو دیگر علماء کرام کے اسلامی دلائل سننے کے بعد غلط قرار دیتے ہیں تو ان لوگوں کے گناہ کا سہرہ کس کے سر ہوگا جنہوں نے اسلامی بینکنگ کے نام سے سودی بینکنگ سرانجام دی اور وہ تا حال اسے جائز قرار دے رہے ہیں۔

اب دیکھیں اس سلسلے میں مولانا محمد تقی عثمانی جیسے فقہی عالم نے جس انداز میں بیان کیا وہ یقیناًتوجہ طلب ہے اور اسلامی بینکنگ پر سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے۔مولانا صاحب اپنی کتاب غیر سودی بینکاری میں کہتے ہیں۔غیر سودی بینکاری کا تصور ایک چیز ہے اور اس تصور کو عملاً نافذ کرنے کے لئے جو بینک قائم ہوئے ہیں وہ دوسری چیز ہیں میری تحریریں غیر سودی بینکاری کے نظریاتی پہلوسے متعلق ہیں۔جن میں یہ بحث کی گئی ہے کہ اس غرض کے لئے کون کون سے طریقے اختیار کرنا جائز ہیں ان کی وجہ سے بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں جتنے مالیاتی ادارے غیر سود ی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں میں نے ان سب کے جواز کا فتویٰ دیا ہے یہ بات درست نہیں۔ایسے حالات میں جب یہ دعویٰ بہت زور شور سے کیا جا رہا ہو کہ سود کے بغیر کسی کامیاب معیشت کا چلنا ممکن نہیں ہے اور بینکوں سے سود کا خاتمہ نا ممکن ہے میں نے اپنی تحریروں میں بتایا ہے کہ بینکوں کو کس طرح سود سے پاک کیا جا سکتا ہے اور انہی تحریروں میں وضاحت بھی کی گئی ہے۔

جن کی پابندی عقود و معاملات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اور جب تک اس پابندی کا اطمینان نہ ہومیں کسی ادارے کے ساتھ معاملات کے جواز کا فتویٰ نہیں دیتا لہذا ان تمام اداروں کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی۔یہ بات علامہ صاحب نے کہہ کر اپنی جان چھڑائی ہے مگر اس بات پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ آیا پاکستان میں جو بینکنگ اسلام کے نام پر ہو رہی ہے اس کی وضاحت کون کرے گا کیا اس بینکنگ پر علماء کرام متفق ہیں کیونکہ اس بات سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر جس نے مفتی محمد تقی عثمانی سے فتویٰ نہیں لیا وہ ادارہ مشکوک ہے اور ایسا ماضی قریب میں ہوا بھی ہے جب ایک کمپنی صرف مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے ایک بیان کے بعد بند ہوئی۔خیر اب آگے عثمانی صاحب اپنی اس کتاب میں وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ جن اداروں کے حالات و معاملات کی مجھے خود یا کسی قابل اعتماد عالم کے ذریعے کافی معلومات ہوتی ہیں ان کے بارے میں تو میں جواز کا فتویٰ دے دیتا ہوں لیکن جن اداروں کی مجھے مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں ان کے بارے میں ہاں یا نا میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ ان کے شرعی نگرانی کرنے والوں سے رجوع کرنے کے بارے میں کہہ دیتا ہوں اور جس ادارے میں کسی قابل اعتماد عالم کی نگرانی نہیں ہے لوگوں کو اس سے معاملہ کرنے کا نہیں کہتا اور جن بینکوں سے معاملے کو جائز سمجھتا ہوں ان کے بارے میں کہہ دیتا ہوں کہ اگر آپ بینک سے تمویل کئے بنا کام چلا سکتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اگرچہ آپ تمویل حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہو تو سودی بینکوں کے بجائے ان سے رجوع کریں البتہ جن لوگوں کو بہر حال بینکوں سے واسطہ پڑتا ہی ہے ان کے لئے ایک جائز راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی ہے جو اگر اخلاص کے ساتھ جاری رہے اور اسے تعاون حاصل ہو تو اس سے اسلامی معیشت کے اعلیٰ مقاصد کی طرف پیش قدمی بھی ہو سکتی ہے نیز عوام کی اکثریت جو ان بینکوں میں رقمیں رکھوانے پر مجبور ہے اس کے لئے بھی سود سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔

اس بات پر جب بینک کے شرعی ایڈوائزر کو دیکھتے ہیں تو اسے بینک میں صرف دو گھنٹوں کے لئے موجود پایا جاتا ہے اور ان دو گھنٹوں میں نے زیادہ تر وقت اس شرعی ایڈوائزر کا گفت و شنید میں ہی گزرتا دکھائی دیتا ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اسلامی بینک کا عملہ اس قابل ہے کہ وہ اسلامی پیچیدگیوں کو سمجھ سکے اور بینک کے لین دین کو عین اسلام کے مطابق چلا سکے۔جب بینک کے عملے پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں ایم بی اے حضرات ہی دکھائی دیتے ہیں جنکا رول ماڈل اسلام کے بجائے سودی بینکاری نظام ہی ہوتا ہے اور وہ اس بینکنگ کی اصلاحات کو ہی اسلامی بینکنگ میں ڈھالنے کے حیلے تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ مضاربہ و مشارکہ میں دیکھنے میں آتا ہے اب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا وہ کون سے بینک ہیں جن میں اسلامی اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں جبکہ اسلامی بینکنگ میں جو اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں وہ تو سودی بینکاری میں استعمال ہونے والی اصطلاحاتوں کے حیلے ہیں جنہیں اسلامی نام دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں بس یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ شراب کی بوتل پر اسلامی ٹیگ لگا کر اسے فروخت کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔جوواضح طور پر ایک نا جائز اور حرام چیز کو اسلامی لبادہ پہنا کر حلال اور اسلامی بینک کے نام کی پیکنگ میں خوبصورت بنا کر بازار میں رکھا جانے والا وہ بھیانک غذاب ہے جس کا خمیازہ روز قیامت نہ جانے کتنے کاندھوں پر ہوگا۔
جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا کہ لوگوں نے اسلامی بینکاری نظام کو مفتی تقی عثمانی کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے آپ کے فتووں کی روشنی میں اعتماد کیا اور اپنی بچتیں اس بینک میں کاروباری طور پر عین اسلام کے مطابق جمع کرائیں اور شراکت کا معاہدہ عمل پذیر ہوا۔

میری نظر میں یہاں بھی ہم اسلام سے بالکل ہٹ کر سودی بینکاری کے بھیانک جال میں جکڑ چکے ہیں کیونکہ اگر ہم نے بینک میں اپنی شراکت قائم کرتے ہوئے کاروبار میں پیسہ لگایا ہے تو ہم جب تک وہ کاروبار مکمل نہ ہو جائے ہم اپنا سرمایہ نہیں نکال سکتے اس طرح منجدھار میں کشتی کو چھوڑنے کا جرم لاگو ہوتا ہے اور اگر بینک میں امانت کے طور پر رقم رکھی ہے تو امانت کی اسلامی شرائط کی پابندیاں ایسا کرنے سے روکتی ہیں جبکہ مضاربہ کی پیچیدگیاں بھی اپنی جگہ قائم و دائم ہیں جن کا تفصیلی ذکر آگے ایک الگ باب میں کروں گا۔ابھی فی الحال تقی عثمانی صاحب کے ایک بیان پر اپنی اس بحث کو ختم کروں گا ۔لوگوں کا خیال ہے جیسا کہ میں نے اوپر بھی تحریر کیا کہ اسلامی بینکنگ میں علامہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو اسلامی بینکاری یا غیر سودی بینکاری کا موجد یا اس کا بانی قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں مولانا صاحب نے اپنی اسی کتاب غیر سودی بینکاری میں ایک تحریری بیان دے کر اسلامی بینکاری کے وجود کی عمارت کو ہلا دیا ہے

آپ کہتے ہیں میں اسلامی بینکاری یا غیر سودی بینکاری کا موجد یا بانی نہیں ہوں غیر سودی بینک جب قائم ہونا شروع ہوئے اس وقت میرا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن تھا جس نے اس موضوع پر رپورٹ تیار کی لیکن شرق اوسط میں دو تین غیر سودی بینک اس سے پہلے قائم ہو چکے تھے۔پھر جب غیر سودی بینکوں کی تعداد بڑہنے لگی اور میں نے محسوس کیا کہ ان میں بیشتر مرابحہ اور اجارہ کی بنیاد پر چل رہے ہیں لیکن ان کے کوئی مدون قوائد نہیں ہیں جن کی وہ اپنے طریق کار میں پابندی کریں اور مجھے خطرہ ہوا ایسی کسی کتاب کی غیر موجودگی میں یہ ادارے شروع ہی سے غلط راستے پر پڑ سکتے ہیں تو اس وقت میں نےAn Introduction of Islamic Financeکے نام سے کتاب لکھی اور انگریزی میں اس لئے لکھی کہ اسے ہر جگہ آسانی سے پڑھا جا سکے جہاں غیر سودی بینک قائم ہو رہے ہیں بعد میں اس کا ترجمہ مولانا محمد زاہد صاحب نے اسلامی بینکاری کی بنیادیں کے نام سے کیا۔کیونکہ شاید یہ پہلی کتاب تھی جس میں اسلامی بینکاری کا احکام کو تفصیل سے بیان کیا گیا اس لئے وہ اللہ کے فضل سے کامیاب ہوئی اس لئے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی بینکنگ کا آغاز میں نے کیا۔جبکہ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جتنے غیر سودی بینک ہیں وہ میری نگرانی میں چلتے ہیں یا میرے مشورے کے تحت چلتے ہیں یہ بات بھی درست نہیں ہے میرا براہ راست تعلق پاکستان میں میزان بینک بینک اسلامی اور خیبر بینک سے رہا ہے۔ جبکہ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ میں ان بینکوں کا بانی ہوں یا مالک ہوں یا پھر شیئر ہولڈر ہوں یہ بات بھی درست نہیں ہے۔یہ بات کہنے کے بعد مفتی تقی عثمانی صاحب کی نظر میں یہ مندرجہ بالا تین بینکوں سے آپ کی وابستگی کا اعلان انہیں درست اور اسلامی قرار دیتا ہے کیونکہ آپ کا تعلق ان سے ہے جسکا آپ نے اعتراف کیا تو کیا بینک نام اسلام کے عین مطابق ہے کیونکہ بینک یا کمپنی کے انداز کی کاروباری شکلیں اسلام میں کہیں نہیں ملتیں۔

اسلام میں تو ملکیت کا دعوی دار ہی چیز کو فروخت کر سکتا ہے یا اس پر کوئی تمویلی کام سر انجام دے سکتا ہے جبکہ بینک تو شراکت کی بنیاد پر قائم ہے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ کوئی نہیں کرتا ۔اور پاکستان میں غیر سودی بینکنگ کے بانی تصور کئے جانے والے مفتی محمد تقی عثمانی بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں اسلامی بینکنگ کے موجد نہیں ہیں بلکہ ان سے پہلے اسلامی بینکوں کا وجود عمل میں آچکا تھا ان کے اس بیان کی روشنی میں ایک سوال میرے ذہن میں مچلتا ہے کہ آیا وہ بینک جو بقول مفتی صاحب کے اسلام کے نام پر پہلے ہی وجود میں آچکے تھے وہ کون سے ہیں اور انہیں کس نے متعارف کرایا کہیں ایسا تو نہیں کہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کو الجھانے کے لئے یہ یہودی لابی ہی کی کوئی سازش نہ ہو اس کی تحقیق بھی علماء کرام پر واجب ہو جاتی ہے کہ آیا اسلامی بینکنگ کا بیج کس نے بویا اور کیوں بویا گیا۔کہیں اسلامی بینکنگ بھی غذائی اشیاء کا کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں جو کہ خالصتاً یہودی لابی کی ملکیت ہیں کی اس سازش کا حصہ تو نہیں جب انہوں نے غذائی اشیاء پر حلال لکھ کر انہیں اسلامی ممالک میں فروخت کرنے اور وہاں سے سرمایہ سمیٹنے کے لئے رچی تھی یہ بات بھی غور طلب ہے جس کا ذمہ علماء کرام کے کاندھوں پر آتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی تحقیق کے سلسلے کو وسیع کریں اور کسی ایک پلیٹ فارم پر متفق ہو کر ایک مشترکہ فتویٰ جاری کریں جس سے مسلمان فائدہ اٹھا سکیں اور اب سودی اور غیر سودی بینکنگ بھی اسی قسم کی ایک سازش کے تحت عمل پذیر ہوئی ہے یہ تمام باتیں مفتی تقی عثمانی صاحب کے اس بیان کو پڑہنے کے بعد میرے ذہن میں گردش کرنے لگیں جو میں نے اور تحریر کیا ہے بظاہر اسلامی بینکنگ مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر موجودہ غیر سودی بینکنگ نام کی تو اسلامی ہے مگر موجودہ غیر سودی بینکوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات بھی سودی بینکوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحاتوں کے زیر اثر ہیں یا یہ کہیں کہ ان سودی اصطلاحاتوں پر اسلامی نام کا لیبل لگا کر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ان تمام باتوں کی روشنی میں اسلامی بینکوں کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان ہیں جن کے جواب موجودہ اسلامی بینکنگ کی عمارت میں دراڑیں ڈال سکتے ہیں اور یہ کھوکھلی عمارتیں زمین بوس ہو سکتی ہیں کیونکہ دراصل اسلامی بینکوں نے کوئی الگ سے تمویلی طریقہ بنائے ہی نہیں ہیں بلکہ جو بھی طریقے اختیار کئے گئے وہ بلاشبہ سودی بینکوں میں رائج طریقے ہیں جنہیں صرف اور صرف اسلام کا نام دے کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔جو بالاخر دنیا کے سامنے آجائے گا اور اسلامی بینکنگ کے نام پر شروع یہ کاروبار اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔

بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
بلاگ کی تحاریر بذریعہ ای میل حاصل کریں
اس سہولت کو حاصل کرنے سے آپ کو تمام تحاریر ای میل پتہ پر موصول ہونگی